PDA

View Full Version : مصور منظور اعجاز



تانیہ
12-07-2011, 02:24 PM
مصور منظور اعجاز اگست 1961ء میں ریاست فلوریڈا کے شہر ٹیلاہاسی میں پیدا ہوا، اسکے والدین نے اسکے نام کے ساتھ مصور کا اضافہ کیوں کیا، وہ کیا اسے ایک عظیم فنکار بنانا چاہتے تھے، وہ خود تو سائنسدان تھے اسکے والد مجدد احمد اعجاز نے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کے ابتدائی ایام میں اہم خدمات سرانجام دی تھیں، اپنے وطن کے جوہری سائنسدانوں کیساتھ انکے رابطے انکی زندگی کے آخری ایام تک قائم رہے، وہ 1960ء میں امریکہ آنے کے بعد26برس تک ورجینیا ٹیک یونیورسٹی میں نیو کلیئر فزکس پڑھاتے رہے، منصور اعجاز کی والدہ لبنیٰ اعجاز سولر فزکس میں پی ایچ ڈی کرنے والی پہلی خاتون تھیں، انکے آباؤ اجداد کا تعلق مغل حکمرانوں سے بتایا جاتا ہے، مجدد اعجاز نے امریکہ میں رہتے ہوئے پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام کیلئے اہم معلومات مہیا کی تھیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ انکے بیٹے منصور اعجاز نے بعدازاں پاکستان کے جوہری پروگرام کی خفیہ معلومات امریکہ کو دینے کیلئے انتھک کوشش کی، مجدد اعجاز نے سو سے زائد پاکستانی طالب علموں کو امریکی یونیورسٹیوں میں داخلے دلوائے اور کئی رشتے داروں کو امریکہ منتقل ہونے میں مدد دی وہ اپنے بیٹوں منصور اور فاروق کو مذہبی تعلیم دینے کے علاوہ انہیں اسلامی شعائر کی پابندی کی تاکید بھی کرتے تھے ریاست ورجینیا کے شہرBlacks Burg میں ابتدائی تعلیم حاصل کرتے ہوئے دونوں بھائیوں کو گندمی رنگ اور چھوٹے قد کی وجہ سے اکثر ہم جماعتوں کے تعصب کا نشانہ بننا پڑتا تھا۔

منصور اعجاز نے 1983ء میں ورجینیا یونیورسٹی سے نیو کلیئر فزکس میں بی ایس سی کیا وہ دوران تعلیم اپنے کالج کی باسکٹ بال اور ویٹ لفٹنگ ٹیم کا کھلاڑی تھا مجدد اور لبنیٰ اعجاز کے سخت گھریلو ڈسپلن اوررہنمائی میں منصور اعجاز نے 1985ء میں میسا چوسٹ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(MIT) سے میکینکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی، اس دوران تیئس سال کی عمر میں منصور اعجاز کے والدین نے اسکی شادی اپنی پسند سے یاسمین سے کرا دی، بعد ازاں 1990ء میں منصور اور یاسمین اعجاز دوبچوں سمیت نیو یارک منتقل ہوگئے یہاں منصور کو Van Eck Associats میں روس کے چرنوبل نیو کلیئر ایکسیڈنٹ کا سائنسی تجزیہ کرنے کا پراجیکٹ ملا اس کمپنی میں دو سال تک ملازمت کرنے کے بعد اس نے کریسنٹ انوسٹمینٹ مینجمنٹ کے نام سے ایک کاروباری ادارہ قائم کیا، اس ادارے کے لوگو کی ڈیزائننگ مجدد اعجاز نے کی اور اس میں چاند اور ستارے کو شامل کیا۔

کریسنٹ کمپنی کو ترقی دینے کیلئے منصور نے اسلامی ممالک کے دورے شروع کئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پاکستان اور خلیجی ریاستوں کیساتھ کاروبار کے ذریعے ڈھائی ارب ڈالر کے اثاثے اکٹھے کرلئے، اسی دوران1992ء میں مجدد اعجاز برین کینسر کی وجہ سے رحلت فرما گئے، وہ آخری لمحات میں منصور کیساتھ رابطہ نہ کر سکے اسلئے انہوں نے ویڈیو پر جو وصیت ریکارڈ کرائی اس میں انہوں نے اپنے بیٹے کو اسلامی ممالک کے لوگوں کی خدمت کرنے کی تاکید کی تھی۔
بہت کم عرصے میں بڑا سرمایہ اکٹھا کرنے اور اسلامی ممالک کے دوروں کی وجہ سے منصور اعجاز امریکی خفیہ اداروں کی راڈار سکرین پر آگیا، اسکی ایک وجہ اسکا ڈیمو کریٹک پارٹی میں نمایاں حیثیت حاصل کرلینا بھی تھا، یہ صدر بل کلنٹن کی پہلی مدت صدارت کا زمانہ تھا، ان ایام میں منصور اعجاز کا شمار ڈیمو کریٹک پارٹی کوبیش بہا چندہ دینے والے ممبروں میں ہوتا تھا، بل کلنٹن کی آبائی ریاست آرکنساس کے ڈیموکریٹک گزٹ نامی اخبار نے انہی دنوں منصور اعجاز کا سوانحی خاکہ شائع کیا، اس میں منصور کی پاکستان کی نیو کلیئرا سٹیبلشمنٹ سے گہرے تعلقات کا ذکر بھی تھا، اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ منصور کے والد مجدد اعجاز کے دوست اور طالب علم پاکستان کے نیو کلیئر ادارےPinstech میں اہم عہدوں پر فائز تھے، ان وجوہات کی بناء پر منصور اعجاز کو بہت جلد بل اور ہیلری کلنٹن تک رسائی حاصل ہوگئی، صدر امریکہ اور خاتون اول کیساتھ امریکی اخبارات میں تصاویر کی اشاعت کے بعد منصور اعجاز ایک عالمی شہرت یافتہ کاروباری شخصیت بن گیا، اس حیثیت کی چابکدستی سے استعمال کرتے ہوئے اس نے1995ء میں وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کیساتھ خط وکتابت شروع کی۔

ایک انڈین اخبار بھارت رکشاک مانیٹر کے آرٹیکل کے مطابق بے نظیر بھٹو حکومت کے خلاف سازشوں میں منصور اعجاز کی شمولیت کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا، بے نظیر بھٹو حکومت کو گرانے کی منصوبہ بندی1995ء میں پاکستان کے علاوہ امریکہ میں بھی ہو رہی تھی گیارہ جولائی1995ء کو ایک ارب پتی پاکستانی بزنس مین رشید چوہدری نے نیو یارک میں اپنی عالیشان حویلی میں نائب صدر الگور اور انکی اہلیہ ٹپرگور کے اعزاز میں ایک ڈنر کا اہتمام کیا اس محفل میں شریک ہونیوالے 150 افراد میں سے ہر ایک نے ایک ہزار ڈالر چندہ دیکر اس رات بل کلنٹن کی دوسری مدت صدارت کی انتخابی مہم کیلئے ڈیڑھ لاکھ ڈالر جمع کئے اس محفل میں منصور اعجاز اپنے دوست رشید چوہدری اور الگور فیملی کیساتھ بیٹھا تھا اس ضیافت میں سعودی آئل منسٹر عزت مجید، ڈان اخبار کے مالک اور امریکی شہری یوسف ہارون کے علاوہ ایسے ممتاز امریکیوں نے شرکت کی جو بعدازاں صدر کلنٹن کے وائٹ ہاؤس میں اہم عہدوں پر فائز ہوئے امریکی اخبار آرکنساس گزٹ کے مطابق پاکستان کے میڈیا باس یوسف ہارون ان دنوں جنرل علی قلی خان کیساتھ ملکر بے نظیر بھٹو حکومت کو گرانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

اس سازش کی خبر کسی طرح منصور اعجاز تک پہنچ گئی اس نے فوراً یہ اطلاع کلنٹن انتظامیہ کو دیدی وائٹ ہاؤس نے غوروخوض کے بعد اس سازش کی حوصلہ افزائی نہ کرنیکا فیصلہ کیا نائب صدر الگور نے چوہدری رشید کے ڈنر میں منصور اعجاز کی توقعات کے برعکس بے نظیر حکومت کے بارے میں اپنی طویل تقریر میں کوئی بات نہ کی ہوا کے رخ کو دیکھتے ہوئے منصوراعجاز نے لندن میں پاکستانی سفیر شمس الحسن کے ذریعے یہ خوشخبری بے نظیر بھٹو تک پہنچائی کہ اس نے کلنٹن وائٹ ہاؤس کو انکی حکومت کے خلاف کو دیتا کی مخالفت کرنے کا مشورہ دیا تھا، وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے جب اس پیغام کا کوئی جواب نہ دیا تو منصور اعجاز سخت برہم ہوئے اور انہوں نے آرکنساس گزٹ کو بھٹو حکومت کی کرپشن کے بارے میں ایک انٹرویو دیا اسکے بعد انہوں نے امریکی اخبارات میں متعدد مضامین لکھ کر آصف زرداری کی کرپشن کو Unforgivable Conduct یعنی ناقابل معافی طرز عمل قرار دیا، بھٹو حکومت کے خلاف اس اخباری مہم کے ذریعے منصور اعجاز نے پاکستان میں اپنے لئے مستقل دشمنی کی بنیاد رکھ دی، اکتوبر1996ء میں منصور اعجاز نے وال سٹریٹ جرنل میں بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو ’’ ہائی رسک ایڈونچر،، قرار دیا اسکے جواب میں پاکستان کے فارن سیکرٹری نجم الدین شیخ نے اسی اخبار میں ایک آرٹیکل لکھ کر منصور اعجاز کی صحافت کو’’Infantile and vindictive ،،یعنی بچگانہ اور انتقامی کہا اسی دوران منصور اعجاز نے نواز شریف کیساتھ بھی گہرے مراسم استوار کرلئے، پاکستان کے معاملات میں مداخلت کے علاوہ اس امریکی صحافی اور بزنس مین نے سوڈان امریکہ تعلقات پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کی واشنگٹن پوسٹ کی29اپریل1997ء کی ایک رپورٹ کے مطابق اس نے ایک سال میں چھ مرتبہ سوڈان کے صدر لیفٹیننٹ جنرل عمر حسن بشیر کیساتھ ملاقاتیں کرکے اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے عوض خطیر امریکی امداد کی پیشکش کی ان رابطوں میں منصور اعجاز نے سوڈان کے نودریافت شدہ تیل کے ذخائر امریکی حکومت کو اپنی کمپنی کریسنٹ مینجمنٹ کے ذریعے بیچنے کی بات چیت بھی کی۔

مئی1998ء میں انڈیا کے ایٹمی دھماکے، اسکے فوراً بعد پاکستان کے ایٹم بم بنانے اور پھر اکتوبر 1999ء میں پرویز مشرف کے مارشل لاء کے بعد منصور اعجاز امریکی میڈیا کی ضرورت بن گیا اگلے دس سال میں جنگ دہشت گردی اور عراق جنگ کی حمایت کرکے وہ فاکس نیوز چینل کے تجزیہ نگار کی صورت میں امریکہ کی مشہور میڈیا شخصیتوں میں شامل ہوگیا، واشنگٹن میں اپنے اثر رسوخ کی وجہ سے اس نے انڈیا کی خفیہ ایجنسیRAW کیساتھ بھی مراسم پیدا کرلئے اور پھر مئی 2000ء کے ایک دن جب وہ سری نگر ائر پورٹ پر اترا تو ’’را،، کے افسران اسکے ہمراہ تھے، وہ ان دنوں کشمیر کی حریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کیلئے گفت و شنید کررہا تھا امریکی حکومت کی اس معاملے میں دلچسپی کی وجہ سے وہ یہ جنگ بندی کرانے میں کامیاب ہوگیا تھا، ان دنوں اس نے انڈیا کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو کشمیر تین حصوں میں تقسیم کرنے کا مشورہ بھی دیا تھا انڈیا کی خفیہ ایجنسی را اور امریکی سی آئی اے کے علاوہ منصور اعجاز کے آئی ایس آئی کیساتھ بھی گہرے تعلقات تھے، پاکستانی اخبارات ڈان اور فرائیڈے ٹائمز کی رپورٹوں کے مطابق وہ اکثر اسلام آباد میں آئی ایس آئی کے افسران بالا کیساتھ نظر آتاتھا۔

پاکستان امریکہ تعلقات کو بری طرح متاثر کرنے والے مائیکل مولن قضیے میں سے اگر منصور اعجاز کو نکال دیا جائے تو اس میں کچھ بھی نہیں رہتا یہ سکینڈل بظاہر تو گزشتہ سات ماہ میں پھل پھول کر تناور درخت بنا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ طوفان منصور اعجاز کی پاکستانی سیاست میں دو عشروں پر پھیلی ہوئی مداخلت کا اعجاز ہے، معروف صحافی حامد میر نے 24نومبر کے کالم میں لکھا ہے کہ ’’ کہیں ایسا تو نہیں کہ منصور اعجاز کیساتھ اسکی خدمات کا معاوضہ طے کیاگیا اور معاوضہ نہ ملنے پر اس نے بلیک میلنگ کا راستہ اختیارکیا،،
بات جو بھی ہو مصور منظور اعجاز وہ نیو کلیئر سائنسدان نہ بن سکا جو اسکے والدین اسے بنانا چاہتے تھے وہ البتہ ایک ایسا مصور ضرور بن گیا جسکے ہاتھ میں نظر نہ آنے والے برش نے ایسا شاہکار تخلیق کیا جس نے مجدد اعجاز کے پیارے پاکستان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے مجدد اعجاز نے اپنی تربیت اور وصیت کے ذریعے جو مصور منظور اعجاز تخلیق کرنے کی کوشش کی وہ ہمارے سامنے ہے امریکہ یقینا بہت کچھ بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


عتیق صدیقی

بےباک
12-13-2011, 07:21 AM
http://ummat.com.pk/2011/12/13/images/news-06.gif