PDA

View Full Version : یہ جو گہری اُداس آنکھیں ہیں



سیما
12-09-2011, 05:23 PM
یہ جو گہری اُداس آنکھیں ہیں
ان میں خوابیدہ سب زمانے ہیں
سارے پھول ان کے نام لیوا ہیں
چاند تاروں میں ان کی باتیں ہیں
ان کی باہوں میں سب سمندر ہیں
گیت دریا انہی کا گاتے ہیں
ان سے چلتی ہے عشق کی دنیا
شعر سب ان کی وارداتیں ہیں
آسماں ان کا اک تصور ہے
وقت بے چارہ ان کا نوکر ہے
ان کی ہر بات مے کا پیالہ ہے
ان سے ہر سمت پہ اجالا ہے
ان میں گزرے دنوں کا جادو ہے
ان میں آتی رُتوں کی خوشبو ہے
چاندنی ان میں دھوپ ان میں ہے
حسن کا سارا روپ ان میں ہے
دکھ کی گہرائیاں بھی ان میں ہیں
سکھ کی انگڑائیاں بھی ان میں ہیں
ان میں خوابوں کی وہ کتاب بھی ہے
دل کا ٹوٹا ہوا رباب بھی ہے
میری ساری خوشی انہی سے ہے
دل میں یہ روشنی انہی سے ہے
یہ جو گہری اُداس آنکھیں ہیں

احمد فواد

این اے ناصر
12-09-2011, 07:29 PM
بہت اچھا انتخاب ہے۔ تھینکس فارشئیرنگ۔

ایم-ایم
12-09-2011, 09:01 PM
بہت اچھی شئیرنگ ہے

نگار
12-12-2011, 01:44 AM
ان میں گزرے دنوں کا جادو ہے
ان میں آتی رُتوں کی خوشبو ہے
چاندنی ان میں دھوپ ان میں ہے
حسن کا سارا روپ ان میں ہے
دکھ کی گہرائیاں بھی ان میں ہیں
سکھ کی انگڑائیاں بھی ان میں ہیں
ان میں خوابوں کی وہ کتاب بھی ہے
دل کا ٹوٹا ہوا رباب بھی ہے
میری ساری خوشی انہی سے ہے

احمد فواد


بہت اچھا ہے شکریہ

سیما
12-12-2011, 04:10 AM
بہت بہت شکریہ آپ سب کا:shy: