PDA

View Full Version : بینظیر کے قاتل میں بے نقاب کرونگا‘ نواز شریف



سیما
12-12-2011, 04:06 AM
لاڑکانہ(خبرایجنسیاں)مسلم لیگ (ن) کے صدر اورسابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت اپنی چیئرپرسن اور میری بہن بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو 4 سال میں گرفتار نہ کر سکی ¾چور اور ڈاکوکیا پکڑے گی ¾ اقتدار ملا توسب سے پہلے بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو بے نقاب اورکیفر کردار تک پہنچا¶ں گا¾27دسمبر کو بے نظیر بھٹو کو زخمی چھوڑ کر بھاگنے والے آج مشیر اوروزیر بنے بیٹھے ہیں۔وہ ہفتے کی سہ پہر لاڑکانہ میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے جس سے مخدوم جاوید ہاشمی، سید غوث علی شاہ، سلیم ضیا ایڈوکیٹ، بابو سرفراز جتوئی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ نواز شریف نے کہا کہ لاڑکانہ میں بڑے پیمانے پر جوش و جذبہ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ لاڑکانہ بھی کراچی لاہور‘ فیصل آباد اور ملک کے دیگر حصوں کی طرح ہی سوچتا ہے اور یہاں کی آواز پورے ملک کی آواز ہے‘ لاڑکانہ کی فضا اور جذبے کو دیکھ کر میرے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند سال میں میرا بینظیر بھٹو سے صرف سیاسی لیڈروں والا نہیں بلکہ بہت قریبی بہن بھائیوں والا تعلق بن گیا تھا اور میں آج بھی انہیں اپنی بہن سمجھتا ہوں۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ آج پیپلزپارٹی کی حکومت میں کئی وزیر اور مشیر ایسے ہیں جن کا پیپلزپارٹی سے کوئی تعلق نہیںتھا ‘ مجھے علم نہیں کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی جو حکومت ہے وہ بینظیر بھٹو کی پیپلزپارٹی کی حکومت ہے یا کسی اور کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر صحیح کام کرتی تو بڑے پیمانے پر موجود بجلی کی لوڈشیڈنگ 75 فیصد تک کم ہو چکی ہوتی اور کچھ عرصے میں یہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا ‘ہم لاڑکانہ اور پورے ملک کے عوام سے وعدہ کرتے ہیں کہ موقع ملنے پر ہماری حکومت دن رات کوشش کرکے عوام کی خدمت کرے گی اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے مسئلے کو بھی حل کرے گی۔میاں نواز شریف نے کہا کہ ہم ووٹ لے کر بھاگنے والے نہیں ‘ جو کہتے ہیں وہ کرتے بھی ہیں‘ آج سندھ میں اغوا برائے تاوان ڈاکہ زنی لوٹ مار جیسے سنگین جرائم عام ہیں ہندو برادری کے تاجر اور ڈاکٹر بھی اغوا کیے جارہے ہیں ‘اس طرح یہ ملک نہیں چل سکتا‘ ہم اقتدار میں آ کر اس صورتحال کو تبدیل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے‘ پی آئی اے اور دیگر اہم ادارے بند ہو رہے ہیں‘ افسوس ہے کہ ان کو تباہ کر دیا گیا اور بچانے کے لیے حکومت کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اور بینظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے اور وعدہ کیا تھا کہ ملک کی ترقی کے لیے ساتھ مل کر چلیں گے‘ اگر یہ حکومت میثاق جمہوریت پر عمل کرتی تو آج اسے یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ‘ہم مل کر ملک کی ترقی کیلئے کام کرتے غریبوں کی حالت بہتر بناتے اور تمام مشکل حالات کا مل کر مقابلہ کر رہے ہوتے مگر بدقسمتی سے اس حکومت نے ایسا نہیں کیا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لئے بیروزگار گھوم رہے ہیں مہنگائی عروج پر ہے اور نوجوانوںکو اپنا کوئی مستقبل نظر نہیں آ رہا لیکن میں نے فیصل آباد میں بھی اعلان کیا تھا اور آج یہاں بھی کہتا ہوں کہ جن نوجوانوں کے پاس کوئی تجربہ‘ ہنریا تعلیمی ڈگری ہے وہ تیاری شروع کردیں ‘ انشاءاللہ ہماری حکومت انہیں آسان شرائط پر قرضے دے گی تاکہ وہ اپنی دوکان کھولیں ‘کارخانے لگائیں یا کوئی اور کام کر سکیں۔ہم آئندہ بھی غریب ہاریوں میں زمینیں تقسیم کریں گے اور سب کو روزگار فراہم کریں گے۔جلسہ کے بعد میاں نوازشریف نے گڑھی خدابخش میں بینظیر بھٹو کے مزارپر فاتحہ بھی پڑی۔علاوہ ازیں مسلم لیگ کے قائد مہمند ایجنسی میں چیک پوسٹوں پر ناٹو کے حملہ میں شہید ہونے والے میجرمجاہد کے گھر گئے اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کااظہارکیا۔اس موقع پر میڈیاسے گفتگو میں نوازشریف نے کہا کہ کسی بیمار کی بیماری کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے‘صدر زرداری اگر واقعی بیمار ہیں تو اللہ انہیں شفا دے۔
روز نامہ جسار ت

تانیہ
12-13-2011, 12:06 AM
واہ رے سیاست
نواز شریف کو پہلے جو چانس ملے حکومت بنائی تب کونسا تیر مار لیا جو اب کچھ کرینگے ۔۔۔سب ایک جیسے ہیں لوٹنے والے ، آتے ہیں اپنی تجوریاں بھرتے ہیں اور چلتے بنتے ہیں ایسے جسے باری ٹھہرائی ہو کہ اس بار پیپلز پارٹی تو اگلی بار مسلم لیگ پھر پیپلز پارٹی پھر مسلم لیگ یہی تماشا چلتا رہتا ہے اور لوٹ مار جاری ہے اب اکتاہٹ ہوتی ہے میرا بس چلے تو ایک ہی لائن میں کھڑا کر کے انکو اڑا دوں جو ایسی گندی سیاست کرتے ہیں عوام تو کیا جنہیں اپنے ملک کا بھی احساس نہیں جو بھی سیٹ پر آتا ہے ملک کا ہی سودا کرنے لگتا ہے نواز شریف شائد بھول گئے کہ کارگل کے معاملے میں انکا کیا کردار رہا اور کیسے یہ امریکی صدر سے ملے ،
پھر سیاست میں ہی چیف آف آرمی سٹاف اور نام نہاد صدر مشرف اور مسلم لیگ ق نے مل کے ایک انتہائی گندی سیاست کی بنیاد رکھی اور مزید سزا یافتہ صدر زرداری صاحب نے تو انتہا ہی کر دی
جو لوگ خود لندن اور دوبئی رہتے ہیں جنکی بال بچے وہیں ہیں ، جنکی جائیدادیں ، انکے اکاؤنٹس سب کچھ ملک سے باہر ہے ، وہ پاکستان میں حکومت کر رہے ہیں ، کیسے سگے ہو سکتے ہیں یہ لوگ پاکستان کے
اصل غدار یہی لوگ ہوتے ہیں
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ تھے جو رات کو جاگا کرتے تھے گلیوں میں گھومتے کہ کوئی بھوکا تو نہی سو گیا اور ایک یہ لوگ ملک میں لوگ ڈینگی سے اور دوسری بیماریوں سے مر رہے ہیں ، غربت بےروزگاری لوڈ شیڈنگ اور کتنی مصیبتوں میں عوام گری ہے صدر کو اپنی بیماری کے لیے دوبئی جانا یاد ہے عوام مرتی ہے تو مرے اور ایسا ہونا کچھ نیا نہیں کچھ عرصہ پہلے جب سیلاب کی آفت میں تھی عوام تب بھی صدر لندن کی سیر پہ تھے ، بےحسی کی بھی حد ہوتی ہے لیکن یہ لوگ ظالم ہیں اور ظلم کماتے ہیں اور بےشک انکو انکا کیا بھگتنا ہی پڑے گا
اللہ تعالی ہم عوام کو بھی یہ ہدایت دے کہ ہم لوگ اچھے اعمال اپنائیں اور سیدھے رستے پہ چلیں تا کہ ایسے لوگ ہمارے حکمران نہ بنیں

نگار
12-14-2011, 05:12 AM
تانیہ سسٹر نے زبردست تبصرہ کیا۔۔۔بھت خوب۔۔شکریہ آپ دونوں کا