PDA

View Full Version : مدرسے سے زنجیروں میں جکڑے 57 افراد بازیاب



این اے ناصر
12-13-2011, 04:14 PM
کراچی پولیس نے ناردرن بائی پاس کے علاقے میں ایک مدرسے میں زنجیروں سے جکڑے 57 سے زائد بچوں اور مردوں کو بازیاب کروا لیا ہے۔

سپریٹنڈنٹ پولیس محمد الطاف نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اُنھیں کچھ عرصے سے یہ اطلاعات مل رہی تھیں کہ مدرسے میں بچوں کو باندھ کر رکھا گیا ہے اور قابل عمل معلومات ملنے کے بعد پیر کی شب مدرسے پر چھاپہ مارا گیا۔ ’’جب ہم تہ خانے میں گئے تو وہاں مختلف عمروں کے 57 بچے ملے جن میں چند ایک نوجوان بھی ہیں۔ ان تمام کو زنجیروں میں باندھ کر رکھا گیا تھا۔‘‘

پولیس کے مطابق بازیاب کروائے جانے والوں میں اکثریت بچوں کی تھی۔

بازیاب کروائے گئے ایک نوجوان محمد بشیر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اُنھیں سات ماہ قبل ان کے اہل خانہ یہاں چھوڑ کر گئے تھے۔ ’’گھر والے لے کر آئے تھے کہ چلو تعویز کراتے ہیں کیوں کہ آپ دماغی طور پر صیحح نہیں ہے، باہر حال ہم آپ کے سامنے ہیں کیا ہمارا دماغ غلط ہے یا ہم آپ کوغلط دکھ رہے ہیں۔‘‘

بشیر نے بتایا کہ انھیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا۔ ’’شروع میں ایک مہینے تک ہمارے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے تھے، اس کے بعد ہم لوگوں کو یہ بتایا گیا تھا کہ آپ کے گھر والے آئیں اور اگر ان کے سامنے ایسا ذکر کیا کہ آپ لوگ یہاں تکلیف یا دکھ میں ہیں تو سخت سے سخت سزا ملے گی۔ ایک دفعہ ہم نے نادانی میں گھر والوں کو بتایا کہ یہاں ہمیں بہت تکلیف ہے اور جب وہ (ہمارے گھر والے) چلے گئے تو ہمیں بہت مارا پیٹا گیا۔‘‘
پولیس حکام نے بتایا کہ مدرسے کے باہر نصب بورڈ پر تحریر تھا کہ یہاں نشے کی عادت سے نجات دلانے کا علاج کیا جاتا ہے اور جن بچوں و افراد کو بازیاب کروایا گیا ان کے اہل خانہ خود انھیں مدرسے میں علاج کے لیے چھوڑ گئے تھے۔

چھاپے کے دوران مدرسے کا نگران قاری داؤد فرار ہو گیا تاہم انتظامیہ کے تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مزید تصاویراور ویڈیوکے لیے یہ ربط ملاحظہ فرمائیں۔
Click Here (http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/seminary-students-13dec11-135487773.html)

سیفی خان
12-13-2011, 06:47 PM
اللہ اپنا رحم فرمائے اٰمین

محمدمعروف
12-14-2011, 08:27 PM
مدرسے کے نام کا ذکر نہیں کیا گیا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

گلاب خان
12-14-2011, 09:38 PM
اففففففففففففففف آج کل تو کوی بھی غلط بات ملے سب سے پہلے مدرسے کا نام دیا جاتا ہے تاں کے سب کے دلو مے نفرت بیدا ہو اور یے کام ہم جیسے مسلمان نام کے کر تے ہیں اور ایسے مزمون لگا کر بھت فخر کرتے ہیں کے یہو دیو ہم تم سے کم نھی ہم بھی جتنا نقسان اسلام کو پہنچا سکتے ہیں پہنچاے گے ہم کیو ان سے پیچھے رھے جب ہم تم عسایو کا اوڑنا بچھونا پہنا پسند کر تے ہیں تو اس کام مے کیو پیچھے رہیں شاباش سکولو مے کالجو مے کیا کچھ ہوتا ہے ان کی بات تو کہیں پر نھی ملتی بس مسجد مدرسھ کے نام آے تو سب کے مو کھل جاتے ہیں اگر ادھر غلط ہو رھا تھا اس مے مدرسے کا کیا قسور بھر حال جاری رکھو تاں کے سواب مے کوی کمی نا رھجاے شابش مے ان کی طرف داری نھی کر رھا بس اتنا کہو گا جو غلط ہے اس کو غلط کھو سب کو شمار مت کروآج ہر داڑی والا دھشت گرد بنا دیا گیا جن کی داڑی نھی وہ تو فرشتے ہیں ان مے سے کوی غلط کام کر ہی نھی سکتا واھھ آج ہر ان پڑھ بندا یے ہی سمجھ تا ہے کے یے لوگ تو ٹوپیو والے داڑیو والے نماز پڑھنے والے سب غلط ہیں تو کون اس دین کو مانے گا کون اس دین کی طرف آے گا بھر حال جو کر رھا ہے اچھا کر رھا ہے دیکھنا کوی کمی نا رھ جاے دین کو نقسان پہنچانے مے لگے رھو

سقراط
12-15-2011, 01:16 AM
میری اطلاع کے مطابق کراچی میں ایک ادارہ ہے جہاں نشے کے عادی لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے اس ادارے کے اتنے سخت اصول ہین کہ جب بھی کوئی کسی مریض کو داخل کرواتا ہے تو ادارہ اس کے وارثوں سے باقاعدہ ایک شرائط نامہ سائن کراتے ہیں
جس کے مطابق تقریبآ دو ماہ تک مریض سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھا جاسکتا اور وہ ادارہ نشے کے عادی لوگوں کو بہت سخت طریقے سے پیش آتے ہیں انکو وہاں زنجیروں تک میں باندھا جاتا ہے انکا علاج گارنٹی شدہ ہوتا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اوپر دی گئی رپورٹ میں حقیقت کو واضح نہیں کیا گیا ہے اور جس کو مدرسے کا نام دیا جارہا ہو شاید وہ بھی اسی طرح کا ادارہ ہو بحرحال بلا تحقیق بات کرنا مناسب نہیں

سرحدی
12-15-2011, 09:57 AM
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
اُمید ہے کہ تمام احباب بخیرو عافیت ہوں گے۔
آج کل موضوعِ بحث پاکستان کے ایک ٹی وی چینل ’’سما ٹی وی‘‘ کی ایک خبر ہے جو کہ کراچی کے مضافاتی علاقہ سہراب گوٹھ میں قائم ایک ادارہ کے متعلق ہے۔
یہاں اس موضوع کے تحت کچھ عرض کرنا پسند کروں گا، میں خود اس وقت کراچی میں مقیم ہوں ، اور اس خبر کے حوالے سے کی گئی معلومات کے جو مجھ تک پہنچی ہیں وہ یہ ہیں کہ سہراب گوٹھ میں قائم افغان بستی افغانستان کے مہاجرین سے آباد ہے۔یہاں پر چوں کہ غیر اخلاقی سرگرمیاں جس میں نشہ سرفہرست ہے بہت عام ہیں۔ انہی افراد کی اصلاح کے لیے ایک سینٹر قائم کیا گیا ہے جس میں نشے کے عادی افراد کو لاکر ان کو اس لعنت سے بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سما ٹی وی کو کراچی کے اس مضافاتی علاقہ میں ایک سینٹر کا علم ہوا اور اس سینٹر پر جاکر انہوں نے وہاں پر جھوٹ اور فریب کا کھیل کھیلا، ایک باخبر ذریعہ کے مطابق سما ٹی وی کی ٹیم کو مدارس عربیہ کو بدنام کرنے کے لیے یہ احکامات کراچی کی ایک بڑی شخصیت کے ذریعہ سے دئیے گئے۔ سما ٹی وی اگر درد رکھتا ہے اور ان کو پاکستان کے عوام سے محبت ہے اور تو ان کو کراچی میں بدنامِ زمانہ جیل، ٹارچر سینٹرز، بھتہ خوری کے مراکز کیوں نظر نہیں آتے وہاں کیوں سما ٹی وی کے کیمرے اور سچائی بند ہوجاتی ہے؟ اور ایک سینٹر جس میں نشہ میں مبتلا افراد کا علاج کیا جاتا ہے کو مدرسہ کا نام دے کر اسلام کو اور اس کے اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ فلک پر تھوکنے والوں کی تھوک انہی کے منہ پر گرتی ہے۔
یہ مرکز چلانے والے مہتمم کا نام مفتی داؤد ہے اور افغانستان کے شہری ہیں۔ نام کی نسبت سے ان کے مرکز کو مدرسہ کا نام دے دیا گیا اور ایک طرح سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی گئی کہ جناب مدرسہ والے اس طرح کرتے ہیں، حالاں کہ ان کا سینٹر نہ تو وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے ملحق ہے اور نہ ہی کسی دوسرے ادارے سے۔ پاکستان میں مدارس دینیہ کے نام پر پانچ وفاق ہیں، ان وفاق والوں نے حکومت پاکستان سے گزارش کی ہے کہ غیر رجسٹر کوئی بھی مدرسہ اگر حکومت کے علم میں آئے تو اس کو متعلقہ وفاق سے رجسٹر کرانے کے لیے کہا جائے ، اگر انکار کرے تو وہ مدرسہ بند کردیا جائے۔
پھر اس ادارے کے وفاق کی سند کے حوالے قاری حنیف جالندھری جو کہ وفاق المدارس العربیہ کے سیکریٹری ہیں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ مدرسہ وفاق سے ملحق نہیں ہے ، پھر کیسے ان بدبخت چینل والوں نے اس کو مدارس دینیہ سے جوڑنے کی کوشش کی ہے!!
جہاں تک یہاں پر ہونے والے علاج کا تعلق ہے اس کے مطابق نشہ میں مبتلا افراد کو یہاں پر لایا جاتا ہے اور جس طرح کسی بھی نفسیاتی ہسپتال میں مریض کے علاج کے لیے مریض کے متعلقین پیسے دے کر داخل کرادیتے ہیں اسی طرح اس سینٹر میں بھی ایسے مریضوں کو ان کے متعلقین لاکر داخل کرادیتے ہیں۔
حیرت کی بات ہے کہ نفسیاتی ہسپتالوں میں یہی کچھ ہوتا ہے اور وہاں پر مریضوں کا مختلف طریقوں سے علاج کیا جاتا ہے ، کبھی انجیکشن ، کبھی زنجیر، کبھی نشہ آور ادویات، کبھی جسمانی اذیت تک دی جاتی ہے لیکن وہاں پر سما ٹی وی کو یہ خیال نہ آیا کہ یہاں پر مریضوں پر ظلم ہوتا ہے، ان کے رشتہ داروں کو روکا جاتا ہے ، ان سے کسی کو ملنے نہیں دیا جاتا۔
مدارس عربیہ کے نام کو بدنام کرنا ہماری میڈیا کا وطیرہ ہے ،غیروں کے گود میں بیٹھ کر اپنی غیرت کا سودا کرکے ان ضمیر فروش چینل والوں کو شرم نہیں آتی۔ خیر ! شرم ان کو آتی ہے جن میں حیا اور غیرت ہو۔
روزنامہ امت کراچی کے 14 دسمبر 2011ء کی اشاعت میں اس پر ایک تفصیلی مضمون لکھا گیا ہے، قارئین سے گزارش کروں گا کہ اس کو پڑھ لیں حقیقت سامنے آجائے گی۔
فجزاکم اللہ احسن الجزاء

مہتاب
12-15-2011, 01:32 PM
مدرسے کے نام کا ذکر نہیں کیا گیا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟


سہراب گوٹھ میں زکریا مسجد سے متصل مدرسہ ہے لیکن مدرسہ کا نام کچھ وجوہات کی بنا پر نہیں بتایا گیا

مہتاب
12-15-2011, 01:35 PM
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
اُمید ہے کہ تمام احباب بخیرو عافیت ہوں گے۔
آج کل موضوعِ بحث پاکستان کے ایک ٹی وی چینل ’’سما ٹی وی‘‘ کی ایک خبر ہے جو کہ کراچی کے مضافاتی علاقہ سہراب گوٹھ میں قائم ایک ادارہ کے متعلق ہے۔
یہاں اس موضوع کے تحت کچھ عرض کرنا پسند کروں گا، میں خود اس وقت کراچی میں مقیم ہوں ، اور اس خبر کے حوالے سے کی گئی معلومات کے جو مجھ تک پہنچی ہیں وہ یہ ہیں کہ سہراب گوٹھ میں قائم افغان بستی افغانستان کے مہاجرین سے آباد ہے۔یہاں پر چوں کہ غیر اخلاقی سرگرمیاں جس میں نشہ سرفہرست ہے بہت عام ہیں۔ انہی افراد کی اصلاح کے لیے ایک سینٹر قائم کیا گیا ہے جس میں نشے کے عادی افراد کو لاکر ان کو اس لعنت سے بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سما ٹی وی کو کراچی کے اس مضافاتی علاقہ میں ایک سینٹر کا علم ہوا اور اس سینٹر پر جاکر انہوں نے وہاں پر جھوٹ اور فریب کا کھیل کھیلا، ایک باخبر ذریعہ کے مطابق سما ٹی وی کی ٹیم کو مدارس عربیہ کو بدنام کرنے کے لیے یہ احکامات کراچی کی ایک بڑی شخصیت کے ذریعہ سے دئیے گئے۔ سما ٹی وی اگر درد رکھتا ہے اور ان کو پاکستان کے عوام سے محبت ہے اور تو ان کو کراچی میں بدنامِ زمانہ جیل، ٹارچر سینٹرز، بھتہ خوری کے مراکز کیوں نظر نہیں آتے وہاں کیوں سما ٹی وی کے کیمرے اور سچائی بند ہوجاتی ہے؟ اور ایک سینٹر جس میں نشہ میں مبتلا افراد کا علاج کیا جاتا ہے کو مدرسہ کا نام دے کر اسلام کو اور اس کے اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ فلک پر تھوکنے والوں کی تھوک انہی کے منہ پر گرتی ہے۔
یہ مرکز چلانے والے مہتمم کا نام مفتی داؤد ہے اور افغانستان کے شہری ہیں۔ نام کی نسبت سے ان کے مرکز کو مدرسہ کا نام دے دیا گیا اور ایک طرح سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دی گئی کہ جناب مدرسہ والے اس طرح کرتے ہیں، حالاں کہ ان کا سینٹر نہ تو وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے ملحق ہے اور نہ ہی کسی دوسرے ادارے سے۔ پاکستان میں مدارس دینیہ کے نام پر پانچ وفاق ہیں، ان وفاق والوں نے حکومت پاکستان سے گزارش کی ہے کہ غیر رجسٹر کوئی بھی مدرسہ اگر حکومت کے علم میں آئے تو اس کو متعلقہ وفاق سے رجسٹر کرانے کے لیے کہا جائے ، اگر انکار کرے تو وہ مدرسہ بند کردیا جائے۔
پھر اس ادارے کے وفاق کی سند کے حوالے قاری حنیف جالندھری جو کہ وفاق المدارس العربیہ کے سیکریٹری ہیں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ مدرسہ وفاق سے ملحق نہیں ہے ، پھر کیسے ان بدبخت چینل والوں نے اس کو مدارس دینیہ سے جوڑنے کی کوشش کی ہے!!
جہاں تک یہاں پر ہونے والے علاج کا تعلق ہے اس کے مطابق نشہ میں مبتلا افراد کو یہاں پر لایا جاتا ہے اور جس طرح کسی بھی نفسیاتی ہسپتال میں مریض کے علاج کے لیے مریض کے متعلقین پیسے دے کر داخل کرادیتے ہیں اسی طرح اس سینٹر میں بھی ایسے مریضوں کو ان کے متعلقین لاکر داخل کرادیتے ہیں۔
حیرت کی بات ہے کہ نفسیاتی ہسپتالوں میں یہی کچھ ہوتا ہے اور وہاں پر مریضوں کا مختلف طریقوں سے علاج کیا جاتا ہے ، کبھی انجیکشن ، کبھی زنجیر، کبھی نشہ آور ادویات، کبھی جسمانی اذیت تک دی جاتی ہے لیکن وہاں پر سما ٹی وی کو یہ خیال نہ آیا کہ یہاں پر مریضوں پر ظلم ہوتا ہے، ان کے رشتہ داروں کو روکا جاتا ہے ، ان سے کسی کو ملنے نہیں دیا جاتا۔
مدارس عربیہ کے نام کو بدنام کرنا ہماری میڈیا کا وطیرہ ہے ،غیروں کے گود میں بیٹھ کر اپنی غیرت کا سودا کرکے ان ضمیر فروش چینل والوں کو شرم نہیں آتی۔ خیر ! شرم ان کو آتی ہے جن میں حیا اور غیرت ہو۔
روزنامہ امت کراچی کے 14 دسمبر 2011ء کی اشاعت میں اس پر ایک تفصیلی مضمون لکھا گیا ہے، قارئین سے گزارش کروں گا کہ اس کو پڑھ لیں حقیقت سامنے آجائے گی۔
فجزاکم اللہ احسن الجزاء



کراچی : سماء کی رپورٹ پر کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ کے مدرسے سے چودہ بچوں سمیت اڑسٹھ افراد کی بازیابی کے بعد پولیس نے پانچ ملزمان کے خلاف حبس بے جا میں رکھنے ، تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکیوں دینے کا مقدمہ درج کرلیا۔
مدرسے سے گرفتاری قاری عثمان سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔ مدرسے کو سیل کرکے مفرور ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی۔
سماء کی رپورٹ پر سہراب گوٹھ افغان بستی کے مدرسے سے زنجیروں میں جکڑے اڑسٹھ افراد کی بازیابی کے بعد گلشن معمار پولیس نے مدرسے کے سربراہ مفتی داؤد ، مولانا فخرالدین ، قاری قدرت اللہ ، مولانا عبداللہ اور قاری عثمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
طالب علموں کو حبس بے جا میں رکھنے ، تشدد اور جان سے مارنے کی دھمکیوں پر مقدمہ نمبر دو سو تہترجرم دفعہ تین سو بیالیس ، تین سو چوالیس ، پانچ سو چھ بی ، تین سو سیتیس اے ، چوتیس کے تحت ایس ایچ او احسان اللہ مروت کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
پولیس نے گرفتار ملزم قاری عثمان کے قبضے سے ایک پستول اور تین گولیاں برآمد کر لی ہیں۔ جس پر ایک اور مقدمہ نمبر دو سو چوہتر درج کیا گیا۔
پولیس نے مدرسے اور مسجد کو سیل کردیا ہے اور ڈی آئی جی شرقی نعیم اکرم بروکا نے سماء کو بتایا کہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے پانچ رکنی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔
سماء

سرحدی
12-15-2011, 03:04 PM
اس خبر کے متعلق وضاحت کے ساتھ پیش کی گئی روزنامہ اُمت کراچی کی رپورٹ ملاحظہ کریں

http://ummat.com.pk/2011/12/14/images/story1.gif

محمدمعروف
12-16-2011, 12:19 AM
سرحدی بھائی وضاحت پیش کرنے کا بہت بہت شکریہ

سرحدی
12-16-2011, 11:35 AM
شکریہ معروف بھائی!
اصل میں لادین قوتوں اور منکرین ختم نبوت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بننے والے دینی مدارس کے خلاف وقتا فوقتا ایسی سازشیں ہوتی رہتی ہیں۔
لیکن بس دکھ کی بات یہ ہےکہ ہم بغیر تحقیق کیے میڈیا رپورٹس پریقین کرلیتے ہیں اور یہ سوچتے ہی نہیں کہ میڈیا اور اس کا کردار کیا ہے؟
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے اصل کو چھوڑ کر غیروں کے طریقوں میں لگ گئےہیں، جس کا نقصان ہمیں ہی اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اےکاش! ہم اپنے ماضی کو یاد رکھتے اور اپنے اسلاف کی سوچ کے حامل ہوتے جو کسی بھی قسم کے واقعہ کو رونما ہوتے دیکھ کر فوراً اس کو اسلام کے ترازو میں تولتے ، اگر شریعت کے مطابق ہوتا تو یقین اور عمل کرلیتے ورنہ تو اس سے کنارہ کشی اختیار کرلیتے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق ، ہمت عطا فرمائے اور ہمیں دین اسلام پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین

نورمحمد
12-16-2011, 04:21 PM
شکریہ سرحدی بھائی

گلاب خان
12-16-2011, 07:25 PM
[color=#000080][size=x-large] میری درخاست ہے سب سے آیندھ جو مزمون لگایں پہلے اس کی مکمل تحقیق کریں پہر اس کو ادھر لگایں ادھر الحمد للہ سب مسلمان یوزر ہیں سب دین سے محبت کرنے والے ہیں اور یے فورم خالصتن دین کے لیے بنا یا یو نس بھای نے ماشااللہ سب ساتھی بھت اچھے طریقے اور دل جوی سے کام کر رھے ہیں بس میری درخست ہے اس طرح کے غلط مزمون دین کو بدنام کرنے والے اس طرح کا کوی مزمون ادھر نا لگایں خد بھی بچیں اور ہم سب کے جزباط سسے مت کیہلے شکریہ امید کرتا ہو ہر یوزر اس پر دیھان دے گا پہلے تحقیق کریں مزمون کا مقسد کیا ہے پہر اس کو لگایں شکریہ

تانیہ
12-17-2011, 09:29 PM
سیما جی اپ نے بالکل ٹھیک کہا کیونکہ ایک خبر یہاں لگائی گئی اسکو سب سے شیئر کیا گیا پھر اسکے سچا و جھوٹا ہونے کی تصدیق بھی ہو گئی اور سب صارفین نے اسکے بارے اپنی رائے کا بھی اظہار کر دیا اور خبر بھی سب تک پہنچ گئی باقی ضروری نہیں کہ ہر خبر سچ ہو اچھا ہے کہ یہاں سب نیوز اور تمام طرح کے مضامین شیئر ہوں تا کہ سب کے علم میں اضافہ ہو اور سچائی بھی سب کے سامنے آئے

سقراط
12-18-2011, 12:16 AM
سرحدی بھائی آپ نے بہت واضح طریقے سے سمجھایا اور بہت معلومات ہم تک پہنچائیں میں آپ سے متفق ہوں کیوں کے کراچی میں ایسے دو تین علاج گاہیں ہیں جہاں زنجیروں میں جکڑ کر نشے بازوں کا علاج کیا جاتا ہے
اور گلاب خان میں آپ سے بھی سو فیصد متفق ہوں کیوں کہ دین سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور کوئی غلط بات سننا نہیں چاہتے اور ایک مسلمان کو ہونا بھی ایسا ہی چاہیئے
جزاک اللہ سرحدی بھائی اور گلاب دوست

عبادت
12-18-2011, 02:44 AM
اسلام علیکم

جزاک اللہ سب نے اچھی اچھی معلومات شیٰر کی سرحدی ویر نے
ساری بات کا نچوڑ پیش کیا نچوڑ مطلب جوس
گلاب بھائی کا گلہ شکوہ اپنی جگہ درست ہے
ناصر بھائی اپنی جگہ بلکل پرفیکٹ یعنی درست ہیں
اور میرے خیال کے مطابق تو ایسی خبر کو لگانا چاہیے گلاب بھائی اس سے ہو سکتا ہے ہمیں سچ جھوٹ کا پتہ چلے جیسے کے اب والی خبر
اس خبر کو سن کر کچھ لوگوں مولوی حضرات کو برا اور کچھ اچھا سمجھتے ہوں گے لیکن اب خبر کی اصلیت جان کر سب کو علم ہوا سچا کون اور جھوٹا کون
سارے دوست اپنی اپنی جگہ جس جس ویو سے وہ سوچتے ہیں بلکل درست ہیں

سیما اور تانیہ یہ دونوں تو جھلیاں ہیں ان کو چھوڑ :P:P
:breakpc: ایسے مت مارنا اچھا دونوں
سردیوں میں تو درد بھی بہت ہوتی ہے درد بھی پورا پورا ہفتہ نہیں جاتی:-)

تانیہ
12-18-2011, 03:11 PM
گلاب خان میں آپ سے بھی سو فیصد متفق ہوں کیوں کہ دین سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور کوئی غلط بات سننا نہیں چاہتے اور ایک مسلمان کو ہونا بھی ایسا ہی چاہیئے


سقراط جی آپکے کہنے کا مطلب یہ تو نہیں کہیں کہ گلاب جی دین سے بہت محبت کرتے ہیں اور وہ کچھ غلط نہیں سن سکتے جبکہ ہماری محبت کمزور ہے یا کم ہے اور ہمیں کوئی کچھ بھی کہے دین کے لیے تو ہم چپ چاپ سن لیں گے۔۔۔
اگر ایسا ہے تو بہت غلط فہمی ہے آپکو
کیونکہ گلاب جی بہت محدود نظر سے اس چیز کو دیکھ رہے ہیں
دین کے لیے غلط کوئی بھی برداشت نہیں کرتا خاص طور پہ کوئی بھی مسلمان چاہے وہ گلاب جی ہوں ، سقراط جی ہوں ،سیما جی ہوں یا تانیہ
لیکن یہاں یہ بات ہوئی ابھی کہ ضروری نہیں یہاں لگنے والی ہر خبر سچی ہو ، یہاں شیئرنگ کا مطلب ہی یہ ہے کہ ایک خبر کو سب کے سامنے لایا جائے پھر ہر کوئی اس پہ اپنی علم و عقل کے مطابق رائے دے اور اس نیوز کے بارے جسکو جتنا سچ پتہ ہو وہ بھی شیئر کرے تا کہ سب کے علم میں اضافہ ہو باقی مولویوں سے یا دینی مدارس سے نہ تو مجھے کچھ ذاتی دشمنی ہے اور نہ ہی سیما جی کو
اسی لیے میں چاہتی ہوں یہاں پہ ہر طرح کی خبر شیئر کی جائے خاص برننگ نیوز جسکو سب سننا و جاننا چاہتے ہیں سو اگر موجودہ خبر یہاں شیئر کی گئی تو بھی کچھ خرابی نہیں
اسی موضوع پہ ایک دوسرے فورم ہماری اردو پہ جو ڈسکشن ہوئی وہ میں یہاں لگانا چاہونگی تا کہ سب کے علم میں مزید اضافہ ہو
http://www.oururdu.com/forums/showthread.php?p=491167#post491167
دعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالی گلاب جی کی دین کی محبت میں مزید اضافہ فرمائے اور ہم گنہگاروں کو بھی سیدھے و سچے رستے پہ چلائے ۔۔آمین



سیما اور تانیہ یہ دونوں تو جھلیاں ہیں ان کو چھوڑ :P:P
:breakpc: ایسے مت مارنا اچھا دونوں
سردیوں میں تو درد بھی بہت ہوتی ہے درد بھی پورا پورا ہفتہ نہیں جاتی:-)

اور عبادت جی ہم دونوں جھلیاں ہیں تو ہم سے کسی عقلمندی کی امید مت رکھنا ، آپکو مارینگے ضرور لیکن آمنے سامنے ہو جاؤ تب :cool:

گلاب خان
12-18-2011, 08:23 PM
اسلام علیکم شکریہ سب کا جہاں تک بات میری ہو رہی ہے مجھے بھت دین سے محبت ہے مجھے سمجھ نھی آرھا مے کیا کہو بھر حال تانیہ اور سیما کا خیال درست ہے مے محدود نزر سے دیکھتا ہو زاھری بات جتنی عقل اتنی سوچ ہی ہو گی میری مجھے اس بات سے کوی سروکار نھی مجھے کوی اچھا سمجھے یا بورا کھے جہاں تک مدرسے یا مسجد کا خیال ہے مے اب بھی یے ہی کہو گا اس پر مکلمل تحقیق کے بعد اس مزمون کا لگا جاے اگر ایسی کوی بات ہو بھی جاتی ہے ان ادارو مے اس مے مدرسے یا مسجد کا کوی قسور نھی اس بات پر میری سوچ ادھر ہی ہے سیما جی آپ جتنے بھی مزمون لگاتی ہیں ان مے سچای ہے یا نھی آپ بے شک لگایں اور حزرات بھی جو لگانا چا ہیں لگایں مجھے اس سے کوی مطلب نھی میری محدود سوچ کو تانیہ جی گھرای سے دیکہیں گی تو آپ کو میری عدنا سوچ کی سمجھ آجاے گی بے شک لگایں جو دل مے آے کریں لیکن مسجد اور مدرسے کا نام نھی آنا چا ہیے شکریہ باقی میری ان باتو کو آپ کس نزر سے دیکہیں گی یے آپ کی اپنی سوچ امید ہے میری بات سمجھ آجاے گی ہم سب مسلمان ہیں جتنی مجھے دین سے محبت ہے اس زیادھ آپ سب کو ہے اللہ ہم سب کو دین کو سمجھنے اس پر چلنے کی تو فیق دے آمین آپ سب مجھ سے حزار درجے بھتر ہیں ماشااللہ سب تعیلم یافتہ ہیں آپ سب بھت اچھے مے سب کی عزت کرتا ہو

گلاب خان
12-18-2011, 08:45 PM
انسان بورا ہوتا ہے مسجد مدرسہ نھی داڑھی بوری نھی ہوتی وہ تو سنت ہے انسان خد بورا ہوتا ہے پر ہم لوگ انجانے مے ایسی بات کرجاتے ہیں اگر کیسی داڑھی والے سے کوی گناھ ہو گیا تو ہم اس کا نام نھی پکارتے بلکے یو کھتے ہیں داڑھی والا اس نے یے کیا اب اگر ایک داڑھی منا گناھ کرے گا تو کیا کھتے ہیں اس کا ناام لے تے ہیں اس طرھ مسجد مے کوی بورای کر تا ہے تو اس کا نام نھی لیں گے بلکے مسجد والو نے یے کیا اب جس نے کیا اس کا نام لینا چا ہیے نا امید ہے میری بات کی سمجھ آجاے گی قسو وار صرف انسان ہو تا ہے مدرسہ مسجد داڑھی نھی

عبادت
12-19-2011, 01:56 AM
:scratchchin:

گلاب خان
12-19-2011, 08:15 PM
اسلام علیکم سیما جی آپ کی گفتگو آپ کے انداز بات کرنے کا بھت اچھا پیارا ہے شکریہ تو مے آپ کا ادا کرو گا آپ نے مجھے اتنی ایہمیت دی آپ نے دیکھا ہو گا مے کیسی کے مزمون پر کبھی راے نھی دی اس وجہ سے کے مے اپنے آپ کو اس قابل نھی سمجھتاادھر ماشااللہ سب یوزر مجھ سے زیادھ سینیر ہیں مجھے آپ کی کوی بات بوری نھی لگی مینے جو کچھ لکھا اوپر یے سب میرے اندر کے جزباط تھے مجھ سے رھا نھی گیا مینے اس مزمون پر اپنے کم زھن کے مطابق لکھا اس مے نا تو کوی بڑھا پن یا سینیر یا کچھ اور سمجھ کر نھی لکھا اگر مے اپنے آپ کو کچھ سمجھتا تو مے ہر مزمون پر نقطہ چینی کرتا پر میرے زھن یا سوچ مے کویی ایسی بات نا آی نا آے گی کیو کے مے سمجھتا ہو ادھر ماشااللہ مجھ سے زیادھ پڑھے لکھے سمجھدار یوزر ہیں اور مے جب بھی کوی بات لکھتا ہو سوچ سے نھی دل سے نکلی بات کرتا ہو اگر میرے کیسی الفاظ سے کیسی کو تکیلف پہنچی ہو تو معازرت چا ہو گا بس اپنی اپنی سوچ ہے مینے اس مزمون کو کیسی اور نزر سے دیکھا باقیو نے اپنی سوچ کے مطابق لکھااب مجھے نھی پتا میری سوچ محدود تھی یا میرے جزباط

سقراط
12-19-2011, 10:19 PM
گلاب خان آپ ہماری جان ہو آپ کی معصومیت آپ کا مخلصی آپکو بہت لوگوں سے افضل بناتی ہے آپ کو معلوم نہیں آپ خود کو کسی سے کمتر مت سمجھنا آپ کے پاس وہ صلاحیتیں ہیں جو عام طور پر کم ہوتی ہیں جیو گلاب خان:rose::rose::rose::roseanimr::roseanimr::th_ rose::th_smile::th_smile::th_smile::th_smile:

عبادت
12-20-2011, 01:39 AM
:scratchchin:

اسلام علیکم

ارے میں نے سیما اور تانیہ کو جھلیاں کہا مجھے کیا پتا ان کا ایک بھائی بھی ادھر ہی ہے گلاب خان او ہو اس کو تو میں بھول ہی گیا
واقعی گلاب ویر تم بھی گلاب کی طرح ہو یعنی جیسا نام ویسے ہی ہو سوہنے سوہنے
بزرگوں توسی ہی سنیئر ہو باقی سارے تہاڈے شاگرد
کہو تو بے جی کو بھی اپ کی شاگردی میں ڈال دیں :P:P
اللہ والو کس پاسے ٹر پیے او
جیوندے وسدے رہو نال ہسدے کھیڑ دے رہو

میں تے کل دا سوچ سوچ کے سردائی ہو گیا سی
اے سارے کس پاسے ٹر پے
پر اج دیکھا سارے ٹھیک ہی نے سیما ساریاں نالوں نکی بس میرے نالوں وڈی اے :P
اردو ترجمہ
سیما سب سے چھوٹی بس مجھ سے بڑھی ہے اگے اے:P
گلاب ویر ائی باقی کان وچ اچھا :P

سرحدی
12-20-2011, 12:20 PM
السلام علیکم ورحمۃ اللہ !!
اُمید ہے تمام احباب بخیرو عافیت ہوں گے۔
مدرسہ کا نام لے کر پھیلائی گئی جھوٹی خبر پر بحث جاری ہے۔
یہاں پر میں صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ ہر یوزر نے اپنی سوچ و فکر کے مطابق اور معلومات کی بنیاد پر بحث میں حصہ لیا۔
یقیناً یہاں پر موجود ہر یوزر اسلام سے محبت کرتا ہے اور اسلام کے خلا ف کوئی بات برداشت نہیں کرتا ۔ یہ ہونا چاہیے کیوں کہ یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔
لیکن!! اس موضوع کی ابتداء اگر اس طرح کرلی جاتی کہ ’’ایک موضوع آج کل موضوع بحث بنا ہوا ہےاس کی حقانیت پر بحث مطلوب ہے، موضوع درج ذیل ہے‘‘ تو پھر کسی کو کچھ کہنے کا موقع نہ ملتا بلکہ ہر شخص اپنی رائے کا اظہار کرتا۔
ناصر بھائی نے مضمون لگایا جو میڈیا میں چل رہا تھا، اس کا مطلب تھا کہ ناصر بھائی نے میڈیا کی بات کو درست سمجھا اور انہوں نے اس موضوع کو زیر بحث لانے کے لیے فورم پر پیش کردیا۔ میرے خیال میں ناصر بھائی نے بھی اس نیت سے لگایا ہوگا کہ اس کی تصدیق کی جاسکے۔
اب اس پر گلاب خان اور دیگر احباب نے اپنی رائے دی۔ اور یہ رائے دینا اس صلاحیت کی نشاندہی کرتی ہے جو ان حضرات و خواتین کے اندر موجود ہے۔
اسی رائے دینے والوں میں کچھ ایسے بھی شریک ہوئے جو کسی اور فورم پر اسلام کے خلاف اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ اور انہوں نے اس موضوع کو واقعی اس لیے استعمال کیا کہ مدارس کا نام بدنام کیا جاسکے۔
لیکن۔۔۔ بحث نہ ہونا بھی سچائی کو چھپانے کے مترادف ہے، کیوں کہ جب تک موضوع کی سچائی پر بحث نہ ہوگی اس کی صداقت کا لوگوں کو علم نہ ہوسکے گا۔
ایک بات وضاحت کے ساتھ عرض کرنا پسند کروں گا کہ آج کل ہر طرف میڈیا کا دور ہے، جس کو گندہ کرنا چاہے گندہ کرکے پیش کردیتا ہے اور جس کو ہیرو بنانا چاہے وہ ہیرو بن جاتا ہے چاہے وہ حد درجہ کا گِرا ہوا شخص ہی کیوں نہ ہو!!
لال مسجد اسلام آباد کا واقعہ ہمارے سامنے ہے کہ وہاں پر معصوم طالبات اور طلبہ کو دہشت گرد قرار دے کر پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ آپریشن کیا گیا ، میڈیا نے بہت اچھالا اور کئی قسم کی دلیلیں دی، لیکن جب کچھ نہ ملا تو پھر یہی میڈیا ان کو معصوم اور پرویز مشرف کو ظالم کہہ کر پکارنے لگی، یہ منافقت اور دوغلے پن کی واضح مثال ہے، اسی طرح تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں آپ کو بہت سارے موضوعات اس پر مل جائیں گے۔
اس لیے تمام یوزرز سے عرض ہے کہ صبرکے ساتھ محبت کے ساتھ اور ایک دوسرے کے جذبات کا احساسات کا خیال رکھتے ہوئے دلائل کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر پیش کریں، ایسی بات کریں جو سمجھنے سمجھانے کی ہو، فقط میڈیا کی بات کو درست سمجھ کر ڈھنڈورا پیٹنا کی جی ہم ہی درست ہیں عقل مندی کی بات نہیں کہلائی جاتی۔
ہم سب ایک اللہ پر ایمان رکھتے ہیں جب کہ نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تبارک و تعالیٰ کا آخری نبی اور رسول مانتے ہیں( الحمدللہ)۔ پھر کیوں نہ ہم دورِ حاضر میں پیش آنےوالے حالات کا تقابل اسلام کے ذریں اصولوں سے کرکے دیکھ لیا کریں۔ اس کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ بات کو اس وقت تک آگے نہ بڑھا یا جائے جب تک اس کی صداقت پر یقین نہ ہوجائے۔ محض افواہ، میڈیا کی خبر کو ہی حرفِ آخر نہ سمجھا جائے۔ کیوں کہ اگر ایسی کوئی خبر ہماری طرف سے چلی گئی جو صداقت پر مبنی نہ ہو یا اس سے اسلام کے شعائر کو بدنام کردیاجائے تو یقیناً یہ ہمارے لیے خسارے کا باعث ہوگی۔
گلاب خان ، سیما جی، تانیہ جی، عبادت ، معروف جی اور دیگر تمام دوستوں نے جس طرح سے اپنا نقطۂ نظر پیش کیا ہے وہ اپنی جگہ ٹھیک ، لیکن اگر کوئی یوزر سمجھانے میں کامیاب ہوگیا ہے تو پھر میڈیا کی غلط رپورٹ پر فورم پر مذمتی قرار داد بھی پیش کرنی چاہیے اور یہ عظمت کی نشانی ہے نا کہ پستی کی۔۔۔
اُمید کرتا ہوں کہ تمام احباب اس موضوع کو اپنے لیے بحث و مباحثہ اور نفرتوں کا ذریعہ نہیں بنائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایک اور نیک بنائے ۔ آمین

سقراط
12-20-2011, 10:34 PM
اسی رائے دینے والوں میں کچھ ایسے بھی شریک ہوئے جو کسی اور فورم پر اسلام کے خلاف اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ اور انہوں نے اس موضوع کو واقعی اس لیے استعمال کیا کہ مدارس کا نام بدنام کیا جاسکے۔
سرحدی بھائی میں آپ کی بات کا اشارہ سمجھ گیا آپ نقلی چاند کی بات کر رہے ہیں :-):-)