PDA

View Full Version : 16دسمبر پھرآگیا



سیما
12-16-2011, 06:06 AM
کیلنڈرپرنظرپڑی تو دل میں ایک دھماکا ساہوا۔ لو 16 دسمبر پھرآگیا۔ ہماری تاریخ کا المناک ترین دن جوکبھی ذہن سے محو نہ ہوسکے گا ۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم جن حالات سے گزررہے ہیں اس میں تو یہ دن بارباریاد آتاہے۔ آج سے ٹھیک چالیس سال پہلے اس دن نے ہمارا سارا غرورخاک میں ملادیاتھا۔ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت ہونے کا فخر اس دن نے اپنے پاوں تلے مسلسل ڈالاتھا۔ کس قدر بھیانک دن تھا کہ سورج نکل آیا تھا لیکن ہرطرف اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کو اجنبی نظروں سے تک رہے تھے۔ کسی میں پوچھنے کا یارا نہ تھا۔ ابھی کل تک تو ہمیں یہ خوشخبری سنائی جارہی تھی کہ ہماری بہادرافواج نے دشمن کو اپنی مشرقی سرزمین سے پسپاکردیا ہے ڈھاکا کی مسجدوں سے بدستور اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہورہی ہیں اور ہمارا شیردل فوجی کمانڈر بڑے اعتماد سے یہ اعلان کررہاہے کہ دشمن اس کی لاش پر سے گزرکر ہی ڈھاکا میں داخل ہوسکے گا۔ یہ گویا اس بات کا اظہار تھا کہ مشرقی پاکستان کا دفاع مضبوط غیرت مند اور دلیرہاتھوں میں ہے ہمارا کمانڈر جان دے دے گا لیکن سرنڈرنہیں کرے گا۔ لیکن 16 دسمبر طلوع ہوا تو ساری خوش فہمیوں کے تاروپود بکھرگئے۔ مشرقی پاکستان سے ہزاروں میل دوربیٹھے ہوئے پاکستانیوں کو یقین نہ آیا کہ ایسا بھی ہوسکتاہے وہی جرنیل جولوگوں کے دلوں میں ایمان ویقین اور اعتماد کی مشعل فروزاں کیے ہوئے تھا اسی نے آگے بڑھ کر اپنی ایک پھونک سے اسے بجھادیا اور 16 دسمبر یہ اندوہناک خبرلے کرطلوع ہوا کہ اس نے ڈھاکا کے پلٹن میدان میں بھارتی جرنیل اروڑا سنگھ کے آگے سرنڈرکردیاہے ایسا کرتے ہوئے نہ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے نہ مایوسی تھی نہ شرمساری کی کوئی جھلک تھی۔ پوری قوم رورہی تھی نوجوان شدت احساس سے بے قابوہوکر اپنے سردیواروں سے ٹکرا رہے تھے لیکن اس بے غیرت جرنیل کے بارے میں کہاجاتاہے کہ وہ اپنا پستول بھارتی ہم منصب کے حوالے کرتے ہوئے اسے خوش کرنے کے لیے لطیفے سنارہاتھا۔ خبر پھیلتے ہی پاکستان کے مغربی حصے میں سناٹاھاگیا۔ بازاربند ہوگئے۔ سڑکیں ویران ہوگئیں۔ لوگ گھروں میں بیٹھ کر آنسو بہانے لگے ۔ہم ان دنوں لاہورمیں رہائش پذیر تھے۔ جوانی کا عالم تھا اس لیے گھرمیں نہ بیٹھاگیا۔ سائیکل پر سوار ہوکر شاہراہ قائد اعظم پہنچے تو وہاں اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوان جلوس کی شکل میں دھاڑیں مارمارکر رورہے تھے ۔کتنے ہی نوجوان گورنرہاوس کی دیواروں سے سرٹکراکر خودکو زخمی کررہے تھے ان کے چہروں پر لہو بہہ رہا تھا لیکن کسی کو اسے پونچھنے کا پارا نہ تھا۔ نوجوانوں کی یہ وہ تنظیم تھی جس کے کارکنوں نے اپنی مشرقی سرزمین کو دشمن کی یلغارسے بچانے کے لیے سردھڑ کی بازی لگادی تھی جس کے کارکنوں نے اپنے وطن پر اپنا سب کچھ قربان کردیا تھا لیکن اپنوں کی بے وفائی اور غیروں کی سازش نے ایک نہ چلنے دی اور وہ اپنے ہی وطن میں بے وطن ہوکر رہ گئے۔ جمعیت مشرقی پاکستان میں اسلامی چھاتروشنگھوکے نام سے معروف تھی۔ اس کے کارکنوں نے دفاع وطن کے محاذ پر اپنی فوج کا ساتھ دیا تھا۔ یہ بنگالی نوجوان پاکستان کے مشرقی بازوکو پاکستان کی حیثیت سے برقرار رکھنا چاہتے تھے ۔اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے سرکٹادیے۔ یہی حال ان کی مادر تنظیم جماعت اسلامی کا تھا جس کے ہزاروں کارکن اپنی جان ہتھیلی پر لیے پاکستان کا پرچم بلند کیے ہوئے تھے لیکن ان میں سے کسی کی بھی ایک نہ چلی اور مشرقی پاکستان نے بنگلہ دیش کا روپ دھارلیا لیکن تھا تو یہ مسلمانوں کا ہی ملک یہاں کے رہنے والے اسلام ہی کو اپنا دین مانتے اور اس پر عمل کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے اسلامی چھاترو شنگھو اور جماعت اسلامی دونوں نے بنگلہ دیش کو قبول کرلیا اور اس کی تعمیروترقی کے لیے اپنی خدمات پیش کردیں۔ جماعت اسلامی نے انتخابات میں بھی حصہ لیا اور قابل ذکرکامیابی حاصل کرکے بیگم خالدہ ضیا کی حکومت میں شمولیت اختیارکی۔ جماعت کے وزراءنے اپنے اپنے شعبوں میں خدمت خلق کے نئے ریکارڈ قائم کیے لیکن بنگلہ دیش کے سیکولر اور بھارت نواز حلقے جنہوں نے بنگلہ دیش کی تحریک کے دوران ان پر ستم ڈھائے تھے وہ اب بھی ان کا ”قصور“ معاف کرنے پرآمادہ نہ ہوئے اور آج چالیس سال بعد جب 16 دسمبر کا دن طلوع ہورہا ہے تو بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی بھارت نواز حکومت نے ان پر عرصہ حیات تنگ کردیاہے۔ جماعت کے قائدین اور ہزاروں کارکنوں کو پکڑکر جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے ان پر ناقابل بیان تشدد کیاجارہاہے اور بغاوت اور غداری کے مقدمات قائم کیے جارہے ہیں۔ ایسا لگتاہے کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے لیے 16 دسمبر 1971ءابھی تک نہیں بدلا اسے اب بھی اپنے وطن سے محبت کی سزا دی جارہی ہے۔لیکن باقی ماندہ پاکستان میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ یہاں تو اس سانحہ سے کسی نے بھی سبق حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ یہاں تو حمودالرحمان کمیشن کی اس رپورٹ کو بھی سردخانے میں ڈال دیاگیا جس میں اس سانحے کے اسباب وعلل کا تجزیہ کرتے ہوئے آئندہ اس قسم کے سانحات سے بچنے کے لیے متعدد سفارشات پیش کی گئی تھیں۔ بنگلہ دیش میں تو ناکردہ گناہوں کی سزادی جارہی ہے لیکن یہاں کردہ گناہوں کی بھی کوئی سزا تجویز نہیں کی گئی۔ اس بدکرداراوربدقماش جرنیل کو بھی کوئی سزانہیں دی گئی جو اپنی پیشانی پرشکست کا بدنما داغ سجاکر پاکستان آیا تھا اور ہیروبننے کی کوشش کررہاتھا۔ ملک کے اس سربراہ اور آرمی چیف کا بھی کوئی محاسبہ نہ کیا گیا جس کی قیادت میں پاکستان پوری دنیا میں رسوا ہوا تھا اور جس نے پوری ملت اسلامیہ کو بدنام کرڈالا تھا۔ 16 دسمبرآیا ہے تو چالیس سال پہلے کی ذلت ورسوائی کے مناظر پھر آنکھوں کے سامنے آگئے ہیں اور یوں لگ رہاہے کہ 16 دسمبر 1971ءسے 16 دسمبر 2011ءتک مسلسل ایک فلم چل رہی ہے اور پاکستان 16 دسمبر کی نحوست سے ابھی تک پیچھا نہیں چھڑاسکا ہے۔ آخر وہ دن کب آئے گا جب ہم قوموں کی برادری میں عزت ووقار سے زندہ رہنے کے قابل ہوسکیں گے۔
روزنامہ جسارت

سرحدی
12-16-2011, 11:48 AM
بہت شکریہ!
قومیت کے نعرہ نے جتنا نقصان پہنچایا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
بنگلہ دیش کی جدائی یقینا ایک بہت بڑا نقصان تھا اور مسلمانوں کی قوت تقسیم ہوکر رہ گئی۔
لیکن!! کیا بات وہی پر ختم ہوگئی؟؟ نہیں بلکہ بعینہ اسی طرح کا ایک کھیل پاکستان میں کھیلا جارہا ہے۔
قومت پرست جماعتیں اس وقت بھی اسی ایجنڈا پر عمل پیرا ہیں۔ آج مؤرخہ 16 دسمبر کی ہی تاریخ ہے اور سندھی قوم پرست جماعت جسقم کے رہنما بیان دیتے ہیں کہ 23مارچ 2012 کو ایک ریلی نکالی جائے گی جس کا نام ہو گا ’’پاکستان نہ کھپے‘‘۔
بڑے افسوس اور دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ حقوق کی مساوی تقسیم نہ ہونے اور قوم پرست رہنماوں کے سیکولر ذہنیت نے اس قوم کو پارہ پارہ کردیا ہے۔جہاں یکجہتی اور امن و محبت کی بات کرنی چاہیے وہاں پر نفرت اور دشمنی کا درس دیا جارہا ہے۔
ماضی قریب ہی میں دیکھ لیں کہ پاکستانی فوج کی طرف سے صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں کیے جانے والے آپریشنز سے بے گھر ہونے والے لاکھوں لوگوں کو پنجاب اور سندھ کی سرزمین پر داخل ہونے سے روکنے کی کئی کوششیں کی گئیں۔ اسلام تو ہمیں مسلمان کی عزت، مہمان نوازی اور احترام کا درس دیتا ہے لیکن یہاں پر ہمارے رہنماوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت ہماری پاکستانی قوم میں نفرت کو ہوا دینے کی کوشش کی۔
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے اور ہمیں خائن ، ضمیر فروش اور غیرت سے عاری حکمرانوں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں وطن عزیز پاکستان میں نیک صالح حکمران عطا فرمائے جن کی سوچ و فکر میں اسلام، پاکستان اور یہاں کے عوام کی محبت ہو۔