PDA

View Full Version : ترو تازہ



عبادت
12-21-2011, 01:43 AM
تروتازہ بیل کھلی کھلائ اکھڑ گئ

میں تری زمیں میں جمی جمائ اکھڑ گئ

یہ جو چار سو کسی ان کہی کا غبار ہے

کوئ بات ہے جو بنی بنائ اکھڑ گئ

میں کتاب تھی ترے ہاتھ میں،تونے کیاکیا

کہ پرت پرت میں جڑی جڑائ اکھڑ گئ

مجھے کھینچ اپنے صلیب جیسے وجود پر

تری ٹکٹکی تو گڑی گڑائ اکھڑ گئ

مرے باٹ تیرے ترازؤں سے نکل گئے

تو سمجھ دکان لگی لگائ اکھڑ گئ

فقط اک طناب تھی دشمنوں کی حدود میں

جو معاہدے میں لکھی لکھائ اکھڑ گئ....


حمیدہ شاہین