PDA

View Full Version : سودا ہے کوئ سر میں نہ سودائ کا ڈر ھے



عبادت
12-21-2011, 01:46 AM
سودا ہے کوئ سر میں نہ سودائ کا ڈر ھے
اس بار مجھے خود سے شناسائ کا ڈر ھے

لے آیا مرا عشق مجھے ایسی گلی میں
آوازہ لگاتا ہوں تو رسوائ کا ڈر ھے

دُشمن سے لڑائ کوئ آسان نہیں ھے
وہ ساتھ نہ آئے جسے پسپائ کا ڈر ھے

رنّگوں کے طلسمات نے یوں گھیر لیا ھے
منظر سے نکلتا ھوں تو بینائ کا ڈر ھے

میں گھر میں سہولت سے پڑا ٹھیک ھوں گوھر
جنگل کی طرح شہر میں تنہائ کا ڈر ھے


افضل گوھر