PDA

View Full Version : شوہروں کے خراٹے



تانیہ
12-21-2011, 01:56 PM
بیویاں سالانہ 3ہفتے کم سونے پر مجبور ہیں

ایک نئی طبی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں خواتین اپنے شوہروں کے خراٹوں کی وجہ سے سال بھر کی نیند میں سے 3 ہفتے کی نیند کی برابر کم سونے پر مجبور ہیں۔

اس تحقیق سروے میں 25000 بالغ افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ ان میں سے 39 فیصد مردوں کے خراٹے ایک بھیانک خواب کی طرح دوسروں کیلئے تکلیف دہ تھے اور ان میں سے بہت سے خود اور بہت سے دوسرے لوگ الگ کمروں میں سونا شروع ہو چکے تھے۔

ہر 9 میں سے ایک جوڑا اس صورتحال کی وجہ سے ایک کمرے میں سونے سے گریز کرکے الگ کمرے میں سو رہا تھا۔

شادی شدہ خواتین میں سے ہر ایک نے خراٹوں سے بیزاری کا اظہار کیا۔ برٹش لنگ فاؤنڈیشن کی اس تحقیق کے مطابق خراٹوں کی وجہ سے رات بھر کی نیند میں سے ایک سے 2 گھنٹے کی نیند حرام ہو جاتی ہے جو مجموعی طور پر سال بھر میں 574 گھنٹے بنتے ہیں اور یہ 23 دنوں کی نیند کے برابر ہیں۔

سروے میں 24 فیصد مردوں نے بتایا کہ ان کی بیویاں ان کو جھنجھوڑ کر جگا دیتی ہیں جبکہ خراٹوں سے پریشان 41 فیصد بیویوں نے اس پر سخت احتجاج کیا۔

این اے ناصر
12-21-2011, 03:37 PM
اس معلوماتی پوسٹ کے لیے اپ کابہت بہت شکریہ۔

عبادت
12-23-2011, 02:11 AM
یہ تحقیق کس ظالم نے کی اس کا نام بتاءیں اسے اور کوئی کام نہیں تھا بےچارے مرد
یہ ظالم کیا باقی رہ گیا تھا جو کرنا تھا
عورتوں کو کوئی کام نہیں سارا دن ویلیاں تھوڑا سا گھر کا کام کر لیا اور رولہ پورے پینڈ میں
اب نیند بھی ہمارے ذمے لگا دی ہاے اسی وچارے مرد

قرطاس
01-01-2012, 10:19 AM
[size=medium]
خراٹے تو نیند کا جز ہوتے ہیں میری بیگم صاحبہ فرماتی ہیں

خراٹے لینے سے بندہ تندرست رہتا ہے ، اس کا پیٹ نہیں نکلتا ، سکون سے نیند آنے کی علامت ہے ، بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے ، چوروں کو خبر ہو جاتی ہے کہ گھر میں کوئی مرد موجود ہے اس لئے چوری چکاری کے خطرات ٹل جاتے ہیں ،
خراٹے لینے والے مرد اگر سوتے میں اللہ کو پیارے ہو چکے ہوں تو جلد پتہ چل جاتا ہے خراٹون کے بند ہونے کی وجہ سے ، اس طرح کفن دفن کا انتظام وقت پر سر انجام دے دیا جاتا ہے ،
اگر خراٹے لینے والا مرد گھر میں موجود ہو تو چوکیدار رکھنے کی نوبت نہیں آتی ،

عبادت
01-01-2012, 04:49 PM
اسلام علیکم

ھاھاھااھاھاھاھاھاھا
سچ کہا قرطاس بھائی
ایک حفاظت کرو اوپر سے ہمارے خلاف تحقیقیں توبہ ہے :P:P:P:P

قرطاس
01-03-2012, 07:25 AM
ہاہاہہاہہا:-)

تانیہ
01-06-2012, 04:24 PM
برٹش لنگ فائونڈیشن کی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچیس ہزار جوڑوں سے کیے گئے ایک سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین شوہروں کے پرزور خراٹوں کی وجہ سے ہر رات دو سے تین گھنٹوں تک سو نہیں پاتی ہیں۔ ہر دو جوڑوں میں سے ایک جوڑا ایسا بھی ہوتا ہے جو رات کو شوہر کے ساتھ نہ سو کر الگ کمرے میں رات گزارتا ہے، لیکن اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دو فیصد خواتین بھی زوردار خراٹے لیتی ہیں جس کی وجہ سے شوہر الگ کمرے میں شب گزاری کرتے ہیں۔ 25فیصد شوہروں نے شکوہ کیا ہے کہ بیویاں ان کو جھنجھوڑ کر جگا دیتی ہیں۔

قرطاس
01-07-2012, 12:24 AM
:-):-):-)

بےباک
01-07-2012, 04:28 PM
قرطاس بھائی کی تحقیق سب سے مزے کی ہے ، ان کو وکٹری پوائینٹ دیا جاتا ہے

تانیہ
01-08-2012, 01:07 PM
گو کہ خراٹے اور طلاق دو الگ الگ چیزیں ہیں، جن کا بظاہر آپس میں کوئی تعلق نہیں بنتا، لیکن کچھ ہی دن پہلے میرے محدود علم میں یہ اضافہ ہوا کہ خراٹوں اور طلاق کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ جہاں طلاق کی دوسری بہت سی وجوہات ہیں وہاں خراٹے بھی ایک وجہ ہے۔
یہ بات ہم بخوبی جانتے ہیں کہ مرنا سبھی کو ہے۔ موت برحق ہے، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ چند روزہ زندگی ہے جسے گزار کر ہمیں اپنے خالق حقیقی کی طرف لوٹ جانا ہے۔ گو کہ مرنا تو ایک بار ہے لیکن نیند کو بھی موت سے تشبیہ دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ عارضی موت ہے۔ انسان دن بھر کا تھکا ہارا جب اپنے بستر پر لیٹتا ہے تو نیند اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے، پھر رات بھر وہ خوابوں کی دنیا میں کھویا رہتا ہے اور صبح فریش ہو کراٹھتا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں سکون کی نیند آتی ہے ورنہ اسی دنیا میں ایسے بھی بہت سے لوگ ہیں جو اپنی فکر اور پریشانیوں کے باعث رات بھر سو نہیں پاتے اور ان کی ساری رات کروٹیں بدلنے میں گزر جاتی ہے۔ ایسے بہت سے مریض ہیں جنہیں سونے کے لئے نیند کی گولیاں کھانا پڑتی ہیں۔
جب کوئی سو رہا ہو تو اسے کچھ معلوم نہیں ہوتاکہ اس کے ارد گرد کیا ہو رہا ہے، ایسے میں کسی سوئے ہوئے انسان کو کیا خبر ہوتی ہے کہ سوتے میں وہ اس قدر زوردار خراٹے لے رہا ہے کہ کہ اس کے پہلومیں لیٹی ہوئی بیوی ڈسٹرب ہو رہی ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ بہت سی بیویاں محض اپنے خاوند کے خراٹوں کی وجہ سے طلاق کا مطالبہ کر دیتی ہیں اور اگر ان کا خاوند طلاق دینے پر رضامند نہ ہوتو وہ عدالت کا دروازہ جا کھٹکھٹاتی ہیں، لیکن بہت سی بیویاں ایسی بھی ہیں جو اپنے خاوند کے خراٹوں سے تنگ تو بہت ہوتی ہیں مگر کسی نہ کسی طرح صبر شکر کر لیتی ہیں۔
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ عورتوں کے مقابلے میں مرد حضرات زیادوہ خراٹے مارتے ہیں، بلکہ عورتوں میں خراٹے لینے کی تعداد بہت کم ہے، اگر کچھ خواتین خراٹے لیتی بھی ہیں تو ان میں بھی نزاکت ہوتی ہے جبکہ مردوں کے خراٹوں سے رات بھر کمرہ گونجتا رہتا ہے۔ جو لوگ سوتے میں خراٹے لینے کے عادی ہوتے ہیں وہ اپنی اس عادت یا بیماری سے خود بھی تنگ ہوتے ہیں اور اپنے خراٹوں کا علاج کروانے کے لئے کافی ہاتھ پاﺅں بھی مارتے ہیں مگر افاقہ نہیں ہوتا۔
ایسے خاوند حضرات جو خراٹے لیتے ہوں اور اپنی بیوی سے تنگ بھی ہوں، وہ اپنے خراٹے جاری رکھیں، شائد خراٹوں کی وجہ سے ہی ان کی جلدجان چھوٹ جائے۔ ویسے بھی خراٹے لینا آپکا حق ہے، آپ جی بھر کے خراٹے لیں، آپ سے آپکا یہ حق کوئی نہیں چھین سکتا، لیکن وہ شوہر حضرات جنہیں واقعی اپنی بیوی سے محبت ہے مگر انہیں اس بات کا دھڑکا لگا رہتا ہو کہ خراٹوں کی وجہ سے کہیں وہ اپنی بیوی سے ہی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں ، انہیں چاہئے کہ وہ اپنی بیوی کو اچھی طرح سمجھائیں اور اس بات کے لئے راضی کریں کہ وہ رات کو کانوں میں روئی ڈال کر سویا کرے ، اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو درج ذیل ہدایات پر غور کریں۔
۱۔ اگر واقعی آپ کو اپنی بیوی سے پیار ہے اور نہیں چاہتے کہ محض خراٹوں کی وجہ سے آب کی بیوی روٹھ کر چلی جائے تو اس کے لےے اپنی نیند کی قربانی دیں اور آج سے ہی سونا چھوڑ دیں۔
۲۔ اگر اکیلے جاگتے رہنا مشکل ہو تو پھر را ت بھر نہ خود سوئیں اور نہ ہی اپنی بیوی کو سونے دیں۔
۳۔ اگربیوی اس کے لئے تیار نہ ہو تو اپنی چارپائی اس کمرے میں نہ بچھائیں جس میں آپ کی بیوی سوتی ہو۔
۴۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو روزانہ سونے سے قبل بیوی کو انجکشن ضرور لگائیں تا کہ وہ گہری نیند سو جائے اور صبح تک اٹھنے کا کوئی چانس نہ ہو۔
۵۔ اگر ایسا کرنے میں بھی کوئی دشواری ہو تو بیوی کے سونے کا انتظار کیا جائے، جب اس بات کی اچھی طرح تسلّی ہو جائے کہ وہ لمبی تان کر سو چکی ہے تو چپکے سے اٹھیں اور آرام سے دوسرے کمرے میں جا کر سو جائیں اور صبح ہونے سے قبل ہی بیوی کے پاس بیڈ پر آ کر دوبارہ لیٹ جائیں۔
امید ہے کہ اگر میرے بتائے ہوئے طریقوں میں سے کسی ایک پر بھی سختی سے عمل کر لیا گیا توکم از کم خراٹوں کی وجہ سے کسی کی ازدواجی زندگی میں کوئی خلل نہیں پڑے گا۔

تحریر:محمد اعظم خاں

قرطاس
01-10-2012, 10:11 PM
قرطاس بھائی کی تحقیق سب سے مزے کی ہے ، ان کو وکٹری پوائینٹ دیا جاتا ہے


میرے والی تحقیق تو میری بیگم نے کی ہیں ، جو میں نے من غن پوسٹ کر دیں ، ہاہاہاہاہ