PDA

View Full Version : غیرت کے نام پر قتل



تانیہ
12-21-2011, 07:09 PM
پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق رواں برس کے پہلے نو ماہ کے دوران ملک میں غیرت کے نام پر کم از کم 675 خواتین کا قتل ہوا

پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ رواں برس کے پہلے نو ماہ کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں غیرت کے نام پر کم از کم 675 خواتین کو قتل کر دیا گیا۔

انسانی حقوق کے اس ادارے کے ایک اعلیٰ اہلکار نے یہ اعدادوشمار خبر رساں ادارے اے ایف پی کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں رواں برس جنوری سے ستمبر کے دوران ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اکتوبر سے دسمبر کے دوران پیش آنے والے واقعات کی معلومات فی الحال ترتیب دی جا رہی ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے اہلکار کی جانب سے دیے گئے ان اعدادوشمار سے قدامت پسند پاکستانی معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد کی نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جنہیں اکثر دوسرے درجے کے شہری خیال کیا جاتا ہے اور وہاں گھریلو تشدد کے خلاف کوئی قانون بھی نہیں ہے۔

ایچ آر سی پی کے اس اہلکار کے مطابق رواں برس کے پہلے نو ماہ کے دوران قتل کی گئی خواتین میں سے کم از کم اکہتر کی عمریں اٹھارہ سال سے کم تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ ستمبر تک قتل کی گئی عورتوں میں سے تقریبا ساڑھے چار سو پر ’ناجائز تعلقات‘ کا الزام تھا جبکہ ایک سو انتیس کو اپنی مرضی سے شادی کرنے پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ بعض عورتوں کو قتل سے پہلے انہیں جنسی زیادتی یا پھر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ ساڑھے چار سو کے قریب خواتین کو ناجائز تعلقات رکھنے کے الزام پر قتل کیا گیا ساڑھے چار سو کے قریب خواتین کو ناجائز تعلقات رکھنے کے الزام پر قتل کیا گیا کم از کم انیس خواتین کو ان کے بیٹوں نے قتل کیا، انچاس اپنے اپنے والد کے ہاتھوں جان سے گئیں جبکہ ایک سو انہتر کو ان کے شوہروں نے مار دیا۔

گزشتہ برس اس کمیشن نے غیرت کے نام پر ہونے والی سات سو اکانوے ہلاکتوں کی رپورٹ دی تھی۔ اس تناظر میں اس اہلکار کا کہنا ہے کہ رواں برس بھی ان ہلاکتوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہو گا۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے مطابق قتل کے نام پر قتل کی وارداتوں کے حوالے سے کسی حد تک پیش رفت کے باوجود حکومت کو خواتین کے قتل کے مرتکب افراد کو سزائیں دینے کے لیے بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس اکثر اوقات ایسے مقدمات کو نجی اور خاندانی امور قرار دیتے ہوئے خارج کر دیتی ہے

رواں ماہی پاکستانی پارلیمان نے خواتین کے استحصال کی روایات کے خلاف بِل کی منظوری دی ہے۔

یہ قانون خواتین کی صلح کے بدلے، ونی یا سوارہ، جبری یا قرآن سے شادی اور خواتین کو املاک میں حقِ وراثت سے محروم رکھنے کے بارے میں ہے اور اس کے تحت بدل صلح، ونی یا سوارہ، جبری یا قرآن سے شادی کے مرتکب افراد کو دس برس قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا اور یہ جرائم ناقابل ضمانت ہوں گے۔

ایم-ایم
12-21-2011, 07:32 PM
:s:s:@:s:s

شاہنواز
04-07-2012, 04:25 PM
غیرت کیا ہے کبھی کسی نے یہ سوچا کہ روزانہ ان گنت واقعات رونما ہوتے ہیں جی کہ غیرت کے نام پر اصل میں اس قانون کا سہارا لے کر غیرت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے دور دراز کو چھوڑئے کراچی جیسے لاہور اسلام آباد میں جوکہ پاکستان کی آدھی سے زیادہ پڑھی لکھی آبادی ہے اس میں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں اور ایسے واقعات رونما ہونے میں ہمارے میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور انٹرنیت بھی کسی سے پیچھے نہیں رہتا جی ہاں اصل میں ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی اقدار کو گم کردیا ہے پہلے یہ واقعات کیوں نہیں ہوتے تھے کہ اب ہونے لگے ہیں زیادہ تعداد میں صرف ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے میڈیا کی وجہ سے سب ذمہ دار ہیں۔

بےباک
05-04-2012, 11:49 PM
قتل کوئی بھی کرے قتل ہی ہوتا ہے ، کاش کوئی نظام بنا ہوتا اور نافذ بھی ہوتا ، ہمارے ملک میں نظام ہے بھی تو اس کا نفاذ بالکل نہیں ہے ،
قاتل کی سزا صدر مملکت کون ہوتے ہیں معاف کرنے والے ،

شاہنواز
05-05-2012, 01:46 AM
کوشش کی گئی تھی لیکن سماج کے ٹھیکیداروں نے یہ کہہ کر قانون بننے سے ورک دیا کہ یہ ہماری روایات کی عکاس ہیں

الکرم
05-12-2012, 03:00 PM
روائتی اناء کی پاسداری کے جھوٹے قلعے کے قیدی۔ اپنے طُروں شملوں کو اُنچا رکھنے کے لیے۔۔ دیواریں اونچی اونچی دیواریں تعمیر کرتے ہیں

شاہنواز
05-13-2012, 03:09 PM
ان انا کی زنجیروں کو توڑنا ہوگا ہم سب کو مل کر ایک فورم قائم کرنا پڑے گا جس بنا پریہ تبدیلی ممکن ہوسکے گی ہمارا یہ فورم ہی بہت ہے اسی سے انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے

بےلگام
05-14-2012, 07:33 AM
بہت اچھے:Ghelyon::Ghelyon: