PDA

View Full Version : کراچی میں’بلاگوکریسی‘ کا انعقاد



این اے ناصر
12-26-2011, 10:52 AM
http://i645.photobucket.com/albums/uu179/billyfloydmusic/BFdotCOMfavicons/blogger.png

کراچی: پاکستانی بلاگرز کاکہناہےکہ جغرافیائی پابندیوں سے آزاد بین الاقوامی معیار کی مصدقہ بلاگنگ ہی سماجی وعمرانی مسائل کا بہترحل ہو سکتی ہے۔

دوسرے سالانہ پاکستان بلاگرز ایوارڈ کی مناسبت سے منعقدہ ’بلاگوکریسی‘ ایونٹ کے موقع پرموجودشرکاء، منتظمین اورمقررین کاماننا تھا کہ انسانی آزادیوں کوبرقراررکھنے اورتمامم جنسی اکائیوں کویکساں حقوق کی فراہمی کے لئے نیومیڈیا کاموثراستعمال نہایت ضروری ہے۔

گوگل پاکستان کے مشاورت کاربدرخوشنود،پاکستان ایسوسی ایشن آف سوفٹ وئیرہائوسز (پاشا) کی سربراہ جہاں آراء، سی آئی او پاکستان کی چیف ایگزیکٹورابعہ غریب،معروف بلاگرثناء سلیم،امتیازاین محمدسمیت دیگرمقررین نے بلاگوکریسی کے شرکاء کو مختلف موضوعات پرورکشاپ بھی کروائیں۔

پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی سب سے ذیادہ تعدادرکھنے والے شہرکراچی میں ملک کے نیومیڈیامیں قائدانہ کردارپیداکرنے کے حوالے سے منعقدہ پروگرام میں 12سے زائد موضوعات پرورکشاپس بھی منعقدکی گئیں۔

آئی بی اے سٹی کیمپس میں منعقدہ سرگرمی جوگوگل،یوٹیوب،پی سی ورلڈ،آئی ڈی جی،انٹیل،ڈیل اوتٹیلی نارکے تعاون سے منعقد کی گئی تھی کو براہ راست انٹرنیٹ پردکھانے کے انتظامات کے بھی کئے گئے تھے۔

بلاگوکریسی کے منتظمین اسی سلسلے کے مزید 2پروگرامات پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہوراوروفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں بھی منعقدکررہے ہیں۔

کل آبادی کا60فیصدسے زائد 30برس سے کم عمر افرادپرمشتمل حصہ رکھنے والے پاکستان کے شہری علاقوں کے 10فیصدجب کہ دیہی علاقوں کے 3فیصدافرادانٹرنیٹ تک رسائی رکھتے ہیں۔

گوگل کے اعدادوشمارکے مطابق پاکستانیوں کی جانب سے سب سے ذیادہ وزٹ کی جانے والی نیوزویب سائٹ دی نیوزٹرائب کے ڈیٹابیس کے مطابق پاکستان کے 10بڑے شہروں کی پوش آبادیوں میں رہائش پزیرافرادکا40فیصدسے زائد انٹرنیٹ استعمال کرتاہے ۔جب کہ 10کروڑ موبائل استعمال کنندگان رکھنے والے ملک میں ایک محفوظ اندازے کے مطابق 15لاکھ افراداپنے سیلولرفونزپرانٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔

بلاگوکریسی کے عنوان سے منعقدہ ایونٹ کی خاص بات یہ تھی کہ اجتماعی سطح پرپہلی باراس بات کی اہمیت پرزوردیاگیاکہ بلاگنگ کا مقصدمحض آمدن حاصل کرنا نہیں۔

“انفوٹینمنٹ تخلیق کرنے والے کی حیثیت میں بلاگررسمی میڈیاکامتبادل بن رہے ہیں؟”کے موضوع پرمنعقدہ ورکشاپ سے خطاب کے دوران امتیازاین محمد کاکہناتھاکہ “رسمی میڈیااپنے دیکھنے والوں کی خواہش کاپابندہوتاہے جب کہ بلاگرپڑھنے والوں کو اپنی پسند پڑھاتایادکھاتاہے،تاہم ایک سطح پرجاکربلاگنگ کرنے والے بھی ریڈرزیاوزیٹرزکی مرضی کے تابع یامحض رقم کمانا ہی مقصدبنالیتے ہیں جو درست رویہ نہیں ہے۔

بشکریہ ۔ دی نیوزٹرائبز