PDA

View Full Version : مدد چاہیے بھائی



chachoo jee
12-28-2011, 12:11 AM
اسلام و علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

کیسے ہیں سب ممبرز؟

ایک مدد چاہیے آپ لوگوں کی

پاکستان کے قیام کے وقت کتنی ریاستیں تھیں پاکستان کی اور ان کی ہسٹری کیا ہے ان کو کب کب ختم کیا گیا ؟

اس متعلق کو انفارمیشن ہے تو پلز شیر کریں

جزاک اللہ

admin
12-28-2011, 11:29 AM
پاکستان جب معرض وجود میں آیا تو اُس وقت پاکستان میں اُس وقت پاکستان کے حصے میں بلوچستان سندھ ، سرحد اور پنجاب اور مشرقی پاکستان شامل تھے مگر اُس وقت بلوچستان میں قلات، خاران ، مکران ، گوادر اور لسبیلہ کی ریاستیں شامل نہیں تھی اور یہ موجودہ بلوچستان کے آدھے سے زیادہ رقبہ تھا پنجاب میں بھاولپور کی ریاست بھی شامل نہیں تھی سندھ میں خیر پور نہیں تھا اور سرحد میں چترال ہنزہ، دیر، نگر ، گلگت و بلتستان اور سوات کی ریاستیں شامل نہیں تھی اِن سب ریاستوں نے بعد میں پاکستان سے الحاق کیا تھا جبکہ موجودہ ہندوستانی گجرات کی ایک ساحلی ریاست جونا گڑھ ہندو اکثریت والی ریاست تھی مگر وہاں کے نواب مہابت خان جی نے شروع ہی سے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا اُس وقت جونا گڑھ کے دیوان سر شاہنواز بھٹو تھے جو مرحوم ذوالفقاربھٹو کے والد تھے جونا گڑھ 15 ستمنر 1947 سے 9 نومبر 1947 تک صرف کچھ دن ہی پاکستان کا حصہ رہی بعد میں وہاں ایک مبینہ بغاوت ہوئی جسکے بعد نواب مہابت خان تو بھاگ کر پاکستان آگئے مگر دیوان سر شاہنواز بھٹو نے ہندوستان کی حکومت سے فوجی مدد مانگی جسے پاکستان کی حکومت نے سخت ناپسند کیا گیا بعد میں وہاں ریفرینڈدم کروایا گیا اور صرف 91 ووٹ ہی پاکستان کے حق میں پڑے اور یوں جونا گڑھ ہندوستان کا حصہ قرار پائی۔

قرطاس
12-30-2011, 11:08 PM
پاکستان جب معرض وجود میں آیا تو اُس وقت پاکستان میں اُس وقت پاکستان کے حصے میں بلوچستان سندھ ، سرحد اور پنجاب اور مشرقی پاکستان شامل تھے مگر اُس وقت بلوچستان میں قلات، خاران ، مکران ، گوادر اور لسبیلہ کی ریاستیں شامل نہیں تھی اور یہ موجودہ بلوچستان کے آدھے سے زیادہ رقبہ تھا پنجاب میں بھاولپور کی ریاست بھی شامل نہیں تھی سندھ میں خیر پور نہیں تھا اور سرحد میں چترال ہنزہ، دیر، نگر ، گلگت و بلتستان اور سوات کی ریاستیں شامل نہیں تھی اِن سب ریاستوں نے بعد میں پاکستان سے الحاق کیا تھا جبکہ موجودہ ہندوستانی گجرات کی ایک ساحلی ریاست جونا گڑھ ہندو اکثریت والی ریاست تھی مگر وہاں کے نواب مہابت خان جی نے شروع ہی سے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا اُس وقت جونا گڑھ کے دیوان سر شاہنواز بھٹو تھے جو مرحوم ذوالفقاربھٹو کے والد تھے جونا گڑھ 15 ستمنر 1947 سے 9 نومبر 1947 تک صرف کچھ دن ہی پاکستان کا حصہ رہی بعد میں وہاں ایک مبینہ بغاوت ہوئی جسکے بعد نواب مہابت خان تو بھاگ کر پاکستان آگئے مگر دیوان سر شاہنواز بھٹو نے ہندوستان کی حکومت سے فوجی مدد مانگی جسے پاکستان کی حکومت نے سخت ناپسند کیا گیا بعد میں وہاں ریفرینڈدم کروایا گیا اور صرف 91 ووٹ ہی پاکستان کے حق میں پڑے اور یوں جونا گڑھ ہندوستان کا حصہ قرار پائی۔

آپ کی تاریخ دانی کو خیراج تحسین پیش کرنے کے بعد میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے کشمیر کا ذکر نہیں کیا ؟

admin
12-31-2011, 11:24 AM
محترم کشیر اب بھی پاکستان کا مکمل حصہ نہیں بلکہ ایک الگ ریاست کا درجہ رکھتی ہے۔ وہاں کی اپنی پارلیمنٹ ہے۔ وہ پاکستان کے ساتھ بطور ریاست ملحق ہے۔ باقی ریاستیں پاکستان میں ضم ہو گئیں۔ بہرحال میں پھر بھی اسے اپنی غلطی قرار دیتے ہوئے یاددہانی کے لئے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔th_smilie_schild