PDA

View Full Version : والدین سے حسن سلوک



سرحدی
01-06-2012, 11:36 AM
والدین سے حسن سلوک

http://urdulook.info/imagehost/?dm=013258314427

’’ اگر وہ (یعنی ماں باپ) تیرے سامنے (یعنی تیری زندگی میں) بڑھاپے کو پہنچ جائیں، چاہے ایک ان میں سے پہنچے یا دونوں، (اور بڑھاپے کی بعض باتیں جوانوں کو گراں ہونے لگتی ہیں اور اس وجہ سے ان کو کوئی بات تجھے گراں ہونے لگے) تب بھی ان سے کبھی ’’ہوں‘‘ بھی مت کرنا اور نہ اُن سے جھڑک کر بولنا، ان سے خوب ادب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جُھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے ہمارے پروردگار تو ان پر رحمت کر جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے (اور صرف ظاہر داری ہی نہیں بلکہ دل سے ان کا احترام کرنا) تمہارا رب تمہارے دل کی بات کو خوب جانتا ہے اگر تم سعادتمندی ہو (اور غلطی سے کوئی بات خلافِ ادب سرزد ہوجائے اور تم توبہ کرلو) تو وہ توبہ کرنے والے کی خطائیں بڑی کثرت سے معاف کرنے والا ہے۔‘‘

فائدہ:…… حضرت مجاہدؒ سے اس کی تفسیر میں نقل کیا گیا کہ اگر وہ بوڑھے ہوجائیں اور تمہیں ان کا پیشاب پاخانہ دھونا پڑجائے تو کبھی اُف بھی نہ کرو، جیسا کہ وہ بچپن میں تمہارا پیشاب پاخانہ دھوتے رہے ہیں۔
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ اگر بے ادبی میں اُف کہنے سے کوئی ادنی درجہ ہوتا، تو اللہ جل شانہٗ اس کو بھی حرام فرمادیتے۔ حضرت حسنؓ سے کسی نے پوچھا کہ نافرمانی کی مقدار کیا ہے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ’’اپنے مال سے ان کو محروم رکھے اور ملنا چھوڑ دے، اور ان کی طرف تیز نگاہ سے دیکھے۔‘‘ حضرت حسنؓ سے کسی نے پوچھا کہ ان سے ’’قول کریم‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ اُن کو ’’اماں، ابّا‘‘ کرکے خطاب کرے۔ اُن کا نام نہ لے۔ حضرت زبیر بن محمدؒ سے اس کی تفسیر میں نقل کیا گیا کہ جب وہ پکاریں، تو ’’حاضر ہوں، حاضر ہوں‘‘ سے جواب دے۔ حضرت قتادہؒ سے نقل کیا گیا کہ نرمی سے بات کرے۔ حضرت سعید بن المسیَّبؒ سے کسی نے عرض کیا کہ قرآن پاک میں حسنِ سُلوک کا حکم تو بہت جگہ ہے اور میں اس کو سمجھ گیا لیکن ’’قول کریم‘‘ کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا تو انہوں نے فرمایا جیسا کہ بہت سخت مجرم غلام، سخت مزاج آقا سے بات کرتا ہے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوئے۔ ان کے ساتھ ایک بڑے میاں بھی تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے آگے نہ چلنا، ان سے پہلے نہ بیٹھنا ان کا نام لے کر نہ پکارنا اور ان کو بُرا نہ کہنا۔
حضرت عُروۃؒ سے کسی نے پوچھا کہ قرآن پاک میں ان کے سامنے جھکنے کا حکم فرمایا اس کا کیا مطلب ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ کوئی بات تیری ناگواری کی کہیں تو ترچھی نگاہ سے ان کو مت دیکھ کہ آدمی کی ناگواری اول اس کی آنکھ سے ہی پہچانی جاتی ہے۔
حضرت عائشہؓ حُضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتی ہیں کہ جس نے باپ کی طرف تیز نگاہ کرکے دیکھا، وہ فرماں بردار نہیں ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’نماز کا اپنے وقت پر پڑھنا۔ میں نے عرض کیا کہ اس کے بعد کون سا عمل ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ میں نے عرض کیا ، اس کے بعد۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جہاد ۔ ایک اور حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد وارد ہے کہ اللہ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔ (در منثور)
صاحب مظاہر نے لکھا ہےکہ ماں باپ کے حقوق میں ہے کہ ایسی تواضع اور تَمَلّقْ کرے اور ادائے خدمت کرے کہ وہ راضی ہوجائیں۔ جائز کاموں میں ان کی اطاعت کرے، بے ادبی نہ کرے، تکبر سے پیش نہ آئے، اگرچہ وہ کافر ہی ہوں۔ اپنی آواز کو ان کی آواز سے بلند نہ کرے، ان کو نام لے کر نہ پکارے، کسی کام میں ان سے پہل نہ کرے۔ اَمَر بِا الْمعروف نَہی عَنِ المُنکَر میں نرمی کرے۔ ایک بار کہے، اگر وہ قبول نہ کریں تو خود سلوک کرتا رہے اور ان کے لیے دعا ء و استغفار کرتا رہے۔ اور یہ بات قرآن پاک سے نکالی ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی اپنے باپ کو نصیحت کرنےسے (مظاہر تبغیر) یعنی حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک مرتبہ نصیحت کرنے کے بعد کہہ دیا تھا کہ اچھا اب میں اللہ سے تمہارے لیے دعا کرتا ہوں، جیسا کہ سورۂ مریم کے تیسرے رکوع میں آیا ہے۔ حتی کہ بعض علماء نے لکھا ہے کہ ان کی اطاعت حرام میں تو جائز ہے لیکن مشتبہ اُمور میں واجب ہے۔ اس لیے کہ مشتبہ اُمور سے احتیاط تقویٰ اور ان کی رضا جوئی واجب ہے۔ پس اگر ان کا مال مشتبہ ہو اور وہ تیرے علیحدہ کھانے سے مُکدّر ہوں تو ان کے ساتھ کھانا چاہیے۔
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں۔ کوئی مسلمان ایسا نہیں جس کے والدین حیات ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہو، اس کے لیے جنت کے دو دروازے نہ کھل جاتے ہوں۔ اور اگر ان کو ناراض کردے تو اللہ جل شانہٗ اس وقت تک راضی نہیں ہوتے جب تک ان کو راضی نہ کرلے۔ کسی نے عرض کیا کہ اگر وہ ظلم کرتے ہوں۔ ابن عباسؓ نے فرمایا ۔ اگر چہ وہ ظلم کرتے ہوں۔
حضرت طلحہؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوئے۔ اور جہاد میں شرکت کی درخواست کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری والدہ زندہ ہیں۔ انہوں نے عرض کیا، زندہ ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی خدمت کو مظبوط پکڑلو، جنت ان کے پاؤں کے نیچے ہے۔پھر دوبارہ اور سہ بارہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی ارشاد فرمایا۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ۔ یا رسول اللہ! میرا جہاد کو بہت دل چاہتا ہے لیکن مجھ میں قدرت نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے۔ انہوں نے عرض کیا، والدہ زندہ ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے بارہ میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ (یعنی ان کے حقوق کی ادائیگی میں فتویٰ سے آگے بڑھ کر تقویٰ پر عمل کرتے رہو)۔ جب تم ایسا کروگے تو تم حج کرنے والے بھی ہو، عمرہ کرنے والے بھی ہو، جہاد کرنے والے بھی ہو۔ یعنی جتنا ثواب ان چیزوں میں ملتا ، اتنا ہی تمہیں ملے گا۔
حضرت محمد بن المنکَدِر کہتےہیں کہ میرا بھائی عمر تو نماز پڑھنے میں رات گذارتا تھا اور میں والدہ کے پاؤں دبانے میں رات گزارتا تھا۔ مجھے اس کی کبھی تمنا نہ ہوئی کہ ان کی رات (کا ثواب) میری رات کے بدلہ میں مجھے مل جائے۔
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں۔ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ عورت پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاوند کا۔ میں نے پھر پوچھا کہ مرد پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ماں کا۔ ایک حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم لوگوں کی عورتوں کی ساتھ عفیف رہو۔ تمہاری عورتیں بھی عفیف رہیں گی۔ تم اپنے والدین کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرو، تمہاری اولاد تمہارے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرے گی۔ (در منثور)
حضرت طاؤسؒ کہتےہیں کہ ایک شخص کے چار بیٹے تھے۔ وہ بیمار ہوا۔ ان بیٹوں میں سے ایک نے اپنے تین بھائیوں سے کہا کہ اگر تم باپ کی تیمار داری اس شرط پر کرو کہ تم کو باپ کی میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا، تو تم کرو ورنہ میں اس شرط پر تیمار داری کرتا ہوں کہ میراث میں سے کچھ نہ لوں گا۔ وہ اس پر راضی ہوگئے کہ تو ہی اس شرط پر تیمارداری کر، ہم نہیں کرتے۔ اس نے خوب خدمت کی۔ لیکن باپ کا انتقال ہی ہوگیا اور شرط کے موافق اس نے کچھ نہ لیا۔ رات کو خواب میں دیکھا، کوئی شخص کہتا ہے۔ فلاں جگہ سو دینا (اشرفیاں) گڑی ہوئی ہیں وہ تو لے لے۔ اس نے خواب میں ہی دریافت کیا کہ ان میں برکت بھی ہوگی۔ اس نے کہا کہ برکت ان میں نہیں ہے۔ صبح کو بیوی سے خواب کا ذکر کیا۔ ا س نے ان کے نکالنے پر اصرار کیا، اس نے نہ مانا۔ دوسرے دن پھر خواب دیکھا جس میں کسی دوسری جگہ دس دینار بتائے۔ اس نے پھر وہی برکت کا سوال کیا اس نے کہا کہ برکت ان میں نہیں ہے۔ اس نے صبح کو بیوی سے اس کا بھی ذکر کیا اس نے پھر اصرار کیا، مگر اس نے نہ مانا۔ تیسرے دن اس نے پھر خواب دیکھا۔ کوئی شخص کہتا ہے فلاں جگہ جا۔ وہاں تجھے ایک دینار (اشرفی )ملے گا، وہ لے لے۔ اس نے پھر وہی برکت کا سوال کیا ، اس شخص نے کہا، ہاں اس میں برکت ہے۔ یہ جاکر وہ دینار لے آیا اور بازار میں جاکر اس سے دو مچھلیاں خریدیں، جن میں سے ہر ایک کے اندر سے ایک ایسا موتی نکلا جس قسم کا عمر بھر کسی نے نہیں دیکھا تھا۔بادشاہ نے ان دونوں کو بہت اصرار سے نوے خچروں کے بوجھ کے بقدر سونے سے خریدا۔

ماخوذ از: فضائل صدقات صفحہ نمبر۲۵۶ تا ۲۶۰ (مولفہ: شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی ؒ)

سیما
05-10-2012, 06:14 PM
۔جب تک والدین ہوتے ہیں ۔ کوئی قدر کرتا نھی جب گزر جاتے ہیں تو سب افسوس کرتے ہیں ۔
کاش میری ممی اور ڈیڈی زندہ ہوتے تو میں بہت خدمت کرتا یا کرتی ۔۔ اللہ ہم سب کو ہمت اور توفیق دے امی ابو کی خدمت کرنے کی آمین
جزاک اللہ بھائی آپ نے بہت ہی اچھی شئیرنگ کی

بےلگام
05-10-2012, 06:51 PM
بہت اچھے جناب واہہہہ

pervaz khan
07-02-2012, 02:15 PM
والدین سے حسن سلوک

http://urdulook.info/imagehost/?dm=013258314427

’’ اگر وہ (یعنی ماں باپ) تیرے سامنے (یعنی تیری زندگی میں) بڑھاپے کو پہنچ جائیں، چاہے ایک ان میں سے پہنچے یا دونوں، (اور بڑھاپے کی بعض باتیں جوانوں کو گراں ہونے لگتی ہیں اور اس وجہ سے ان کو کوئی بات تجھے گراں ہونے لگے) تب بھی ان سے کبھی ’’ہوں‘‘ بھی مت کرنا اور نہ اُن سے جھڑک کر بولنا، ان سے خوب ادب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جُھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے ہمارے پروردگار تو ان پر رحمت کر جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے (اور صرف ظاہر داری ہی نہیں بلکہ دل سے ان کا احترام کرنا) تمہارا رب تمہارے دل کی بات کو خوب جانتا ہے اگر تم سعادتمندی ہو (اور غلطی سے کوئی بات خلافِ ادب سرزد ہوجائے اور تم توبہ کرلو) تو وہ توبہ کرنے والے کی خطائیں بڑی کثرت سے معاف کرنے والا ہے۔‘‘

فائدہ:…… حضرت مجاہدؒ سے اس کی تفسیر میں نقل کیا گیا کہ اگر وہ بوڑھے ہوجائیں اور تمہیں ان کا پیشاب پاخانہ دھونا پڑجائے تو کبھی اُف بھی نہ کرو، جیسا کہ وہ بچپن میں تمہارا پیشاب پاخانہ دھوتے رہے ہیں۔
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ اگر بے ادبی میں اُف کہنے سے کوئی ادنی درجہ ہوتا، تو اللہ جل شانہٗ اس کو بھی حرام فرمادیتے۔ حضرت حسنؓ سے کسی نے پوچھا کہ نافرمانی کی مقدار کیا ہے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ’’اپنے مال سے ان کو محروم رکھے اور ملنا چھوڑ دے، اور ان کی طرف تیز نگاہ سے دیکھے۔‘‘ حضرت حسنؓ سے کسی نے پوچھا کہ ان سے ’’قول کریم‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ اُن کو ’’اماں، ابّا‘‘ کرکے خطاب کرے۔ اُن کا نام نہ لے۔ حضرت زبیر بن محمدؒ سے اس کی تفسیر میں نقل کیا گیا کہ جب وہ پکاریں، تو ’’حاضر ہوں، حاضر ہوں‘‘ سے جواب دے۔ حضرت قتادہؒ سے نقل کیا گیا کہ نرمی سے بات کرے۔ حضرت سعید بن المسیَّبؒ سے کسی نے عرض کیا کہ قرآن پاک میں حسنِ سُلوک کا حکم تو بہت جگہ ہے اور میں اس کو سمجھ گیا لیکن ’’قول کریم‘‘ کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا تو انہوں نے فرمایا جیسا کہ بہت سخت مجرم غلام، سخت مزاج آقا سے بات کرتا ہے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوئے۔ ان کے ساتھ ایک بڑے میاں بھی تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے آگے نہ چلنا، ان سے پہلے نہ بیٹھنا ان کا نام لے کر نہ پکارنا اور ان کو بُرا نہ کہنا۔
حضرت عُروۃؒ سے کسی نے پوچھا کہ قرآن پاک میں ان کے سامنے جھکنے کا حکم فرمایا اس کا کیا مطلب ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ کوئی بات تیری ناگواری کی کہیں تو ترچھی نگاہ سے ان کو مت دیکھ کہ آدمی کی ناگواری اول اس کی آنکھ سے ہی پہچانی جاتی ہے۔
حضرت عائشہؓ حُضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتی ہیں کہ جس نے باپ کی طرف تیز نگاہ کرکے دیکھا، وہ فرماں بردار نہیں ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’نماز کا اپنے وقت پر پڑھنا۔ میں نے عرض کیا کہ اس کے بعد کون سا عمل ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ میں نے عرض کیا ، اس کے بعد۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جہاد ۔ ایک اور حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد وارد ہے کہ اللہ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔ (در منثور)
صاحب مظاہر نے لکھا ہےکہ ماں باپ کے حقوق میں ہے کہ ایسی تواضع اور تَمَلّقْ کرے اور ادائے خدمت کرے کہ وہ راضی ہوجائیں۔ جائز کاموں میں ان کی اطاعت کرے، بے ادبی نہ کرے، تکبر سے پیش نہ آئے، اگرچہ وہ کافر ہی ہوں۔ اپنی آواز کو ان کی آواز سے بلند نہ کرے، ان کو نام لے کر نہ پکارے، کسی کام میں ان سے پہل نہ کرے۔ اَمَر بِا الْمعروف نَہی عَنِ المُنکَر میں نرمی کرے۔ ایک بار کہے، اگر وہ قبول نہ کریں تو خود سلوک کرتا رہے اور ان کے لیے دعا ء و استغفار کرتا رہے۔ اور یہ بات قرآن پاک سے نکالی ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی اپنے باپ کو نصیحت کرنےسے (مظاہر تبغیر) یعنی حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک مرتبہ نصیحت کرنے کے بعد کہہ دیا تھا کہ اچھا اب میں اللہ سے تمہارے لیے دعا کرتا ہوں، جیسا کہ سورۂ مریم کے تیسرے رکوع میں آیا ہے۔ حتی کہ بعض علماء نے لکھا ہے کہ ان کی اطاعت حرام میں تو جائز ہے لیکن مشتبہ اُمور میں واجب ہے۔ اس لیے کہ مشتبہ اُمور سے احتیاط تقویٰ اور ان کی رضا جوئی واجب ہے۔ پس اگر ان کا مال مشتبہ ہو اور وہ تیرے علیحدہ کھانے سے مُکدّر ہوں تو ان کے ساتھ کھانا چاہیے۔
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں۔ کوئی مسلمان ایسا نہیں جس کے والدین حیات ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہو، اس کے لیے جنت کے دو دروازے نہ کھل جاتے ہوں۔ اور اگر ان کو ناراض کردے تو اللہ جل شانہٗ اس وقت تک راضی نہیں ہوتے جب تک ان کو راضی نہ کرلے۔ کسی نے عرض کیا کہ اگر وہ ظلم کرتے ہوں۔ ابن عباسؓ نے فرمایا ۔ اگر چہ وہ ظلم کرتے ہوں۔
حضرت طلحہؓ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوئے۔ اور جہاد میں شرکت کی درخواست کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری والدہ زندہ ہیں۔ انہوں نے عرض کیا، زندہ ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی خدمت کو مظبوط پکڑلو، جنت ان کے پاؤں کے نیچے ہے۔پھر دوبارہ اور سہ بارہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی ارشاد فرمایا۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ۔ یا رسول اللہ! میرا جہاد کو بہت دل چاہتا ہے لیکن مجھ میں قدرت نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے۔ انہوں نے عرض کیا، والدہ زندہ ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے بارہ میں اللہ سے ڈرتے رہو۔ (یعنی ان کے حقوق کی ادائیگی میں فتویٰ سے آگے بڑھ کر تقویٰ پر عمل کرتے رہو)۔ جب تم ایسا کروگے تو تم حج کرنے والے بھی ہو، عمرہ کرنے والے بھی ہو، جہاد کرنے والے بھی ہو۔ یعنی جتنا ثواب ان چیزوں میں ملتا ، اتنا ہی تمہیں ملے گا۔
حضرت محمد بن المنکَدِر کہتےہیں کہ میرا بھائی عمر تو نماز پڑھنے میں رات گذارتا تھا اور میں والدہ کے پاؤں دبانے میں رات گزارتا تھا۔ مجھے اس کی کبھی تمنا نہ ہوئی کہ ان کی رات (کا ثواب) میری رات کے بدلہ میں مجھے مل جائے۔
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں۔ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ عورت پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خاوند کا۔ میں نے پھر پوچھا کہ مرد پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ماں کا۔ ایک حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم لوگوں کی عورتوں کی ساتھ عفیف رہو۔ تمہاری عورتیں بھی عفیف رہیں گی۔ تم اپنے والدین کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرو، تمہاری اولاد تمہارے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرے گی۔ (در منثور)
حضرت طاؤسؒ کہتےہیں کہ ایک شخص کے چار بیٹے تھے۔ وہ بیمار ہوا۔ ان بیٹوں میں سے ایک نے اپنے تین بھائیوں سے کہا کہ اگر تم باپ کی تیمار داری اس شرط پر کرو کہ تم کو باپ کی میراث میں سے کچھ نہیں ملے گا، تو تم کرو ورنہ میں اس شرط پر تیمار داری کرتا ہوں کہ میراث میں سے کچھ نہ لوں گا۔ وہ اس پر راضی ہوگئے کہ تو ہی اس شرط پر تیمارداری کر، ہم نہیں کرتے۔ اس نے خوب خدمت کی۔ لیکن باپ کا انتقال ہی ہوگیا اور شرط کے موافق اس نے کچھ نہ لیا۔ رات کو خواب میں دیکھا، کوئی شخص کہتا ہے۔ فلاں جگہ سو دینا (اشرفیاں) گڑی ہوئی ہیں وہ تو لے لے۔ اس نے خواب میں ہی دریافت کیا کہ ان میں برکت بھی ہوگی۔ اس نے کہا کہ برکت ان میں نہیں ہے۔ صبح کو بیوی سے خواب کا ذکر کیا۔ ا س نے ان کے نکالنے پر اصرار کیا، اس نے نہ مانا۔ دوسرے دن پھر خواب دیکھا جس میں کسی دوسری جگہ دس دینار بتائے۔ اس نے پھر وہی برکت کا سوال کیا اس نے کہا کہ برکت ان میں نہیں ہے۔ اس نے صبح کو بیوی سے اس کا بھی ذکر کیا اس نے پھر اصرار کیا، مگر اس نے نہ مانا۔ تیسرے دن اس نے پھر خواب دیکھا۔ کوئی شخص کہتا ہے فلاں جگہ جا۔ وہاں تجھے ایک دینار (اشرفی )ملے گا، وہ لے لے۔ اس نے پھر وہی برکت کا سوال کیا ، اس شخص نے کہا، ہاں اس میں برکت ہے۔ یہ جاکر وہ دینار لے آیا اور بازار میں جاکر اس سے دو مچھلیاں خریدیں، جن میں سے ہر ایک کے اندر سے ایک ایسا موتی نکلا جس قسم کا عمر بھر کسی نے نہیں دیکھا تھا۔بادشاہ نے ان دونوں کو بہت اصرار سے نوے خچروں کے بوجھ کے بقدر سونے سے خریدا۔

ماخوذ از: فضائل صدقات صفحہ نمبر۲۵۶ تا ۲۶۰ (مولفہ: شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی ؒ)

جزاک اللہ بھائی آپ نے بہت ہی اچھی شئیرنگ کی