PDA

View Full Version : ملکہ کشمیر حبہ خاتون



قرطاس
01-07-2012, 02:45 PM
منقرق

حبہ خاتون چودہ برس تک کشمیر کی ملکہ رہیں
دریائے جہلم پر حبہ کدل کا نام حبہ خاتون کے نام
پر رکھا گیا تھا
حبہ خاتون کو کشمیر کی نور جہاں کہا جاتا تھا
حبہ خاتون کشمیر ی زبان کی بہت مشہور شاعرہ تھیں
حبہ خاتون کے خاوند کا نام شہزادہ یوسف چک تھا

حبہ خاتون کشمیری زبان کی پہلی غزل گو شاعرہ تھیں
حبہ خاتون کا اصل نام زون تھا

کشمیری معاشرے میں حبہ خاتون کا یہ گیت انتہائی اہمیت رکھتا ہے

وار وین ست وار چھس نو
چارہ کرمئیون مالنیو ہو

جگن ناتھ ولی نے حبہ خاتون کی زندگی پر ایک ڈرامہ لکھا تھا جس کا نام تھا
زون

حبہ خاتون ہی وہ پہلی شاعرہ تھیں جنہوں نے کشمیری شاعری میں موسیقیت کا اپنایا

خبہ خاتون چندن ہار میں پیدا ہوئی تھیں
حبہ خاتون نے ہی کشمیری شاعری میں رومانوی شاعری کا آغاز کیا
یعقوب شاہ چک کی حبہ خاتون سوتیلی ماں تھیں
حبہ حاتون پر مجذوبیت کا دورہ پڑا اور وہ محلوں کو چھوڑ کر گیارہ سال تک جنگلوں میں پھرتی رہیں
حبہ خاتون کا مدفن پانتہ چوک میں ہے
qartaas.mirza

بےباک
01-07-2012, 05:06 PM
حبہ خاتون کا ایک لوک گیت
‎ مَنز سرایے لوسُم دوٕه

یارَ میانے یاون رایے
مَنز سرایے لوسُم دوٕه
کیازِ زایے کونہ موٍیایے
‎پوو کٓتھ کیُتھ سوِندر ناو
‎کاُلی وسُن چھُ میژِه شایے
‎مَنز سرایے لوسُم دوٕه
‎دور دنیا بوز طوفانیے
‎تورٕ روستُے لدَنَے آو
‎کور مے ساُلا یِرٕوُنہ نایے
‎مَنز سرایے لوسُم دوٕه
‎باغ بوستان بُلبُل آیے
‎مَنز چَمنَن ماُرِکھ ژھوِ
‎گُل گیہ بَرٕ بُلبُل ضایے
‎مَنز سرایے لوسُم دوٕه
‎تَتہ کٕریزیم پنُن سایے
‎ییتہ آسم محشرُن تاو
‎حبہ خوتون نادا لایے
‎مَنز سرایے لوسُم دوٕه


‏My friend‪,‬ this youth is loss
‏I lost all day on the way

‏Why were we born‪?‬
‏Why did we not die‪?‬
‏Why such beautiful name‪s?‬
‏We must wait for the Judgment Day
‏And I lost all day on the way

‏The way of the world is a meaningless storm
‏I invited a difficult fate
‏And I lost all day on the way

‏Many nightingales entered the garden
‏And they had their play
‏The flowers left the garden
‏To make way for the nightingales
‏And I lost all day on the way

‏Please protect me on the Day
‏Where there will be fire of Hell
‏Habba Khatoon will give you a call
‏And I lost all day on the way

حبہ خاتون ((1541 – 1601)) : اصل نام زون تھا جس کے معنی چاند کے ہیں۔ کشمیر کے موضع چندن ہار میں پیدا ہوئی۔ تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے۔ بعض نے 1553 بتائی ہے۔ پہلے ایک غیر معروف شخص سے شادی ہوئی جو راس نہ آئی۔ لیکن اسی شخص حبہ لالہ کے نام کی مناسبت سے حبہ خاتون مشہور ہوئی۔ چند سال تک سسرال میں بڑی مظلومی کی زندگی بسر کی پھر بادشاہ وقت یوسف شاہ چک کی ملکہ بن گئی۔ وہ ریاست کے معاملات میں سلطان کو مشورہ دیتی تھی اور اس کی قوت کا سرچشمہ تھی۔ لیکن جب مغلیہ فوج شاہ کو گرفتار کر کے لے گئی تو حبہ خاتون نے باقی زندگی ترک دنیا میں گزاری۔ زندگی کی اس اونچ نیچ کا اثر اس کشمیری شاعرہ کی شاعری میں صاف نظر آتا ہے۔

حبہ خاتون گیت کار اور موسیقار دونوں حیثیت سے شہرت رکھتی ہے۔ اس کی طویل نظمیں "وژُن"

vatsun

گیتوں میں ہیں جو کشمیری شاعری کی مقبول صنف ہے۔ لیکن اس کی مقبولیت کا سبب اس کی غزلیں ہیں۔ اسے موجودہ کشمیری غزل کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ جہاں تک اس کی ابتدائی نظموں اور گیتوں کا تعلق ہے، وہ اس کے دور مظلومیت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اس کے عشقیہ گیت جو دور خوشحالی کی تخلیق ہیں بڑے ہی اثر آفریں ہیں۔ آخری دور کی شاعری میں ایسا نظر آتا ہے کہ عشق مجازی نے عشق حقیقی کی صورت اختیار کر لی ہے۔ مجموعی طور پر حبہ خاتون کی شاعری سولہویں صدی عیسوی کی نمائندہ شاعری ہے۔ سادگی و سلاست کے باوجود زبان و بیان پر فارسی شاعری کا اثر غالب ہے۔ اس میں عصری آگہیہ کا بھرپور عکس جلوہ گر ہے۔

بےباک
01-07-2012, 05:10 PM
حبہ خاتون ۔۔۔۔۔۔۔ زون
http://urdulook.info/imagehost/?di=2132593745513
http://www.youtube.com/watch?v=45fc8WbGUKU&feature=related
کشمیری شاعری میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہے وہ سولہویں صدی کے وسط میں پانپور کے چندرہار گاؤں میں ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئی ، نام زون تھا ، وہ حدرجہ خوبصورت تھی اور ساتھ ہی تحصیل علم کی شوقین تھی۔

اس کی شادی خاوند اور سسرال والوں کی زیادتیوں کی وجہ سے ناکام ہوئی ۔ ایک دن جب کہ وہ کھیت میں کام کرتے ہوئے کوئی کشمیری گیت گارہی تھی ،یوسف شاہ چک نے اسے دیکھا اور وہ جان و دل سے اس پر فریفتہ ہوگیا اوراس سے شادی کرکے اسے ملکہ بنا دیا۔ یوسف شاہ کو جب اکبر بادشاہ نے دربارمیں بلا کرقید کرلیا تو حبہ خاتون بے سہارا ہوگئی اور واپس میکے لوٹ کرکسمپرسی کی حالت میں رحلت کرگئی۔ اس کا مدفن اتھواجن میں ہے ۔ کچھ محقق کہتے ہیں کہ وہ بہار کے بسوک علاقے میں یوسف شاہ کے مزار میں مدفون ہے۔

حبہ خاتون نے اپنی شاعری میں ایک عورت کی داخلی زندگی کے جذبات واحساسات کی دردمندی ، نزاکت اور حسن کے ساتھ مرقع کاری کی ہے ۔ وہ شعرمیں طبقہ اناث کی ترجمانی میں ایک پیشرو کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کی شاعری پر کئی مقالے لکھے گئے ہیں۔ امین کامل نے اس پر ایک کتابچہ شائع کیا ہے۔

آ،سہیلی پانی بھرنے جائیں

دنیا نیند اور خواب میں ہے

میں تیرے جواب کے منتظر میں ہوں

اے میرے پھول جیسے محبوب آجا

--------------- (ترجمہ)

میں سرِ کوہ چاند ہوں اٹکا ہوا

تیری آنکھ کہاں لگئی ہے

میں پل بھر ہوں ،سرک جائوں گی

محبوب ، تجھ پر میں سرفدا کروں

--------------- (ترجمہ)

سولہویں صدی کی مشہور کشمیری شاعرہ حبہ خاتون کی شاعری کا آزاد منظوم ترجمہ
http://kamil.neabinternational.org/Images/Habbakhatun.jpg
آج پھر کسی کی یاد آنے لگی


میں اپنے ھاتھوں میں مہندی رچانے لگی

میرے محبوب، میری محبت میں سرشار آجا

دل کے ویرانوں میں بن کے بہار آجا

آ بھی جا کہ دل میں بے کلی بے سبب رہتی ہے

آبھی جا کہ میری جاں۔۔۔ جاں بلب رہتی ہے

آسماں پر گھٹائیں بہت، کوئی ماہتاب نہیں ہے

اور تیری فرقت کی مجھ میں تاب نہیں ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تیری یاد ہے

دور ویرانوں میں فصل بہار آئی ہے
اس کے ساتھ جو پھوار آئی ہے
یہ تیری یاد ہے
یا میری فریاد ہے

کوہسار کی جھیل کنارے پھول کھل رہے ہیں
ہوا کی مستی سے درخت ہِل رہے ہیں
یہ تیری یاد ہے
یا میری فریاد ہے

آ پہاڑ کے دامن میں مرغزار کی سیر کریں
اور اس کے ساتھ گرتی آبشار کی سیر کریں
پھر میں صرف تجھے یاد کروں
پھر کوئی نہ فریاد کروں

ایک کشمیری لوک شاعرہ حبہ خاتون کی شاعری کا آزاد منظوم ترجمہ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
http://www.youtube.com/watch?v=zelrTm1NtR4

حبہ خاتون کی غزل ” ژولہمو روشے روشے ولو میانہ پوشے مدلو“ سے شاعر کشمیر مہجور اس قدر متاثر ہوا کہ اس زمین پر اپنی نظم ”پوشے متہ جانانو“ لکھی جس پر اسے عظیم شاعر ٹیگور سے بھی داد ملی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہار کے بسواک علاقہ میں یوسف شاہ چک اور حبہ خاتون کا مزار
http://urdulook.info/imagehost/?di=1013259372097
برصغیر میں بادشاہت کی طویل تاریخ اور روایت میںمحض چند ہی شاہی جوڑے ایسے مشہور ہوئے ہیں جنہوں نے سیاست اور سلطنت کو دلوں کے معاملات پر حاوی ہو نے نہیں دیا۔ ان شاہی جوڑوں میں ملک کشمیر کی تاریخ میں یوسف شاہ چک اور حبہ خاتون واحد ایسا جوڑاہے جو اپنے شاہی اوصاف کے مقابلہ میں زیادہ رو مان، اور شعر و ادب اور موسیقی کے پس منظر میں یاد کئے جاتے ہیں ۔کشمیر ی لوک گیتوں کے علاوہ اس جوڑے کی رومانی داستان ماضی قریب تک اس قدر لوگوں کے حافظے میں رچی بسی تھی کہ تاریخ اور افسانے کے تانے بانے سے بنی ہوئی ان کی کہانی گھر گھر میں داستان کے بطور بھی سنائی جاتی رہی۔حبہ خاتون، جو بنیادی طور ایک شاعر ہ تھیں، کشمیری موسیقی میں بھی زبردست دسترس رکھتی تھیں اور کشمیری صوفیانہ موسیقی کا مشہور مقام ’’راست کشمیری‘‘ ان کی ہی دین ہے۔ ان کی محبت کی ابتداء اگر چہ شاہانہ تزک و احتشام سے ہو ئی لیکن اس کا اختتام دیارِ غیر میں قید و بند کی صعوبتوں کے ساتھ ہی ہوا اور بالآخر یہ شاہی جوڑا اپنے وطن عزیز سے ہزاروں میل کی دوری پر صوبہ بہار کی تپتی ہوئی زمین میں پیوند خان ہوا اور موجودہ بہار کے دارالحکومت پٹنہ سے35کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بسواک میں انکی قبریں کشمیری قوم اور حکومت کی عدم توجہی کی دہائی دے رہی ہیں۔کشمیری چک کے نام سے معروف اس مخصوص مقام پر بغل در بغل موجود یہ دونوں قبریں کسی ایسے حکمران کے انتظار میں ہیں، جو انہیں وہ مرتبہ عطا کردے جس کی یہ حقدار ہیں۔اگرچہ حبہ خاتوں کی قبر کے بارے میں کئی لوگوں کا خیال ہے کہ وہ کشمیر میں ہی مدفون ہے لیکن اب تک کسی ایسی قبر کی نشاندہی نہیں کی گئی جو ملکہ سے منسوب ہو۔ معروف صحافی اور مصنف غلام نبی خیال کا کہنا ہے کہ ’’ بہت عرصہ پہلے ایک ٹیم نے اتھوان میں مہجورؔ کی قبر کے شمال کی جانب میں دو قبریں دریافت کی تھیں اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان میں سے ایک قبر حبہ خاتون کی ہے لیکن ان پر کندہ تمام عبارتیں زائل ہوچکی تھیں لہٰذا قطعیت کے ساتھ یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ حبہ خاتون کی قبر ہے‘‘۔ موریخ جی ایم ڈی صوفی نے بھی اس پس منظر میں حبہ خاتون کی قبر کو مہجور کی آخری آرم گاہ کے آس پاس لکھا ہے لیکن موصوف نے آخر میں تحریر کیا ہے کہ ’’یقین کے ساتھ اس بات کی تصدیق کرنا کہ ملکہ کشمیر وادی میں مدفون ہیں غلط ہوگا ‘‘۔ معروف محقق غلام رسول بٹ کا کہنا ہے ’’تواریخ کے مطالعہ سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ ہندوستان کے شہنشاہ اکبر کی قیدسے یوسف شاہ چک کی رہائی کے اڑھائی سال بعد حبہ خاتون نے بہار میں کشمیر کے جلا وطن بادشاہ کے ساتھ رہ کر زندگی کے آخری ایام گزارے ہیں‘‘۔ حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا’’ جیساکہ تواریخ میں درج ہے کہ اکبر نے 993ھ میں کشمیر کے آخری آزادحکمران یوسف شاہ چک کوبہار میں قید رکھ کر ،بعد میں رہا کرکے اُن کو جلا وطنی کی حالت میں ِبہارجا گیریں دیں، جہاں انہوں نے اپنے اہل عیال کے ساتھ زندگی کے باقی دن گذار دیئے ‘‘ ۔یاد رہے کہ اس بات کا ذکر کشمیر کی مختلف تواریخوں کے علاوہ اکبر بادشاہ کے درباری مورخین نے بھی کیا ہے۔جن میں اکبر نامہ کا مؤلف ابوالفضل، مشہور مورخ محمد قاسم فرشتہ اور ماثر الامراء کے مؤلف بھی ہیں ۔اس پر مزید تبصرہ کر تے ہو ئے محمد یوسف ٹینگ نے کہا ہے کہ’’میں1977 میں بحیثیت سکریڑی کلچر ل اکیڈیمی بسواک بہار گیا جہاں میں نے یوسف شاہ چک اور حبہ خاتون کا مزار دیکھا ہے ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے بھی بہار کا دورہ کرکے اس تاریخی مزار کا جائز لیا اور اس کی خستہ حالی دیکھ کر انہوں نے مزار کی تعمیر نو کے احکامات جاری کئے اور یوسف شاہ چک و حبہ خاتون کے مزار کی تعمیر کلچرل اکیڈیمی نے کی‘‘۔ تاریخ کشمیر کی تاریخ ’’گوہر عالم‘‘ کے مشہور مؤلف محمد اسلم منعمی اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ ’’میں 1188ھ میں اتفاقاً دارالخلافہ چلا گیاتھا،جہاں میری ملاقات چک خاندان کے آخری بادشاہ یعقوب چک کے پسماندگان اولادوں سے ہوئی ،اور ان سے میں نے ’’نور نامہ‘‘ جو حضرت شیخ نورالدین ولی ؒ کے کلام کا مجموعہ تھا ، اور جس کا ترجمہ سلطان زین العابدین (823-874ھ) کے دور مشہور مورخ وشاعر مولانا احمد علامہ کشمیری نے بزبان فارسی کیا تھا اور جن کا نام اس نے ’’مراۃ الاولیائ‘‘ رکھا تھا ، حاصل کیا اور اس کی نقل میں نے خود کی‘‘۔

حبہ خاتون سے پہلی ملاقات

حبہ خاتون ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اور اُن کا اصلی نام زون تھا۔ ان کا پہلا نکاح تاریخی حوالوں کے مطابق عزیز لون نامی ایک کسان کے ساتھ ہوا تھالیکن سسرال والوں کے ظلم وستم سے حبہ خاتون اکثر پریشان رہتی تھی ۔ کہاجاتاہے کہ ایک روز حبہ خاتون اپنی گھریلو زندگی کے دکھڑوں کو ترنم کی صورت میں گارہی تھی کہ وہاں سے سلطان یوسف شاہ چک کا گذر ہوا اورجوں ہی انہوں نے حبہ خاتون کوبلایا اور اس نے اپنی آپ بیتی سنائی۔تاریخ میں درج ہے کہ یوسف شاہ چک نے حبہ خاتون کے شوہر کو طلب کر کے طلاق حاصل کی اور پھر حبہ خاتون کے ساتھ خود نکاح کیا۔بتایا جاتا ہے کہ سلطان حبہ خاتون کی ذہانت سے اس قدر متاثر تھا کہ نجی زندگی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سماجی امور میں بھی حبہ خاتون کا عمل دخل رہتا تھا۔ سلطان خود بھی موسیقی کا دلدادہ تھا اور حبہ خاتون کی شعری صلاحیتوں سے یہ دو آتشہ بن گیا۔ مورخ حید ملک کے مطابق یوسف شاہ چک نے اپنے دور اقتدا میں کئی پل ملکہ کے نام سے تعمیر کئے تھے ، جن میں حبہ کدل آج بھی مشہور ہے۔ گریز میں بھی ایک پہاڑ حبہ خاتون کے نام سے آج بھی منسوب ہے۔جس سے یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ حبہ خاتون گریز سے تعلق رکھتی تھیں۔

سلطان کی گرفتاری

مبصرین کہتے ہیں کہ دراصل یوسف شاہ چک فطرت کا دلدادہ تھا اور شعر و سخن اور موسیقی کارسیا تھا جس کی وجہ سے بطور ایک سیاسی سربراہ کے وہ معاملات کی جانب فکر مندی کے ساتھ متوجہ نہ ہوا۔نتیجتاً میں عمائیدین سلطنت، جن میں ان کے قریبی رشتہ دار بھی شامل تھے، نے حکومت کی عملی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لی اور اپنی نااہلی کی وجہ سے کشمیر کی سیاسی صورتحال کو سنبھالنے میں ناکام ہوئے ۔ ایسے حالات میں مغلوں کو ، جو برسہا برس سے تاک میں بیٹھے ہوئے تھے، کشمیر پر ہاتھ ڈالنے کا موقع ملا اور کئی ناکام حملوں کے بعد مغل بادشاہ اکبر نے یوسف شاہ چک کو اپنے سپہ سالار بھگوان داس کے ذریعے اکبر آباد بلا کر قید کیا اور کشمیر پر قابض ہوا۔طویل قید کے بعد جب سلطان یوسف کو رہا ئی نصیب ہوئی توا نہیں بہار میں جاگیر دے کر ان کے عیال کو بھی بہار بلوایا گیا۔ ’’حبہ خاتون -تواریخ کے آئینے میں‘‘غلام رسول بٹ لکھتے ہیں کہ یوسف شاہ بادشاہ کشمیر کے اپنے دورِ حکومت میں جب اکبربادشاہ نے جلال آباد سے مرزا طاہر اور صالح عاقل کو سفیر بناکر کشمیر بھیجا تاکہ وہ یوسف شاہ کو اکبر کے دربار میں پیش کریں اور یوسف شاہ اکبر کے حضورمیں اپنی اطاعت گذاری کا ثبوت دے ۔ یوسف شاہ نے اس سلسلے میں اپنے وزیروں اور امراء کے مشورے کے خلاف اپنے سب سے چھوٹے لڑکے حیدرخان کو مرزا طاہر اور صالح عاقل کے ساتھ اکبر کی خدمت میں بھیج دیا ۔لیکن وفاداری کے یہ تمام دعوے اکبر کو مطمئن نہ کرسکے او ر وہ باربار یوسف شاہ کو دربار میں حاضر ہونے پر اصرار کرتارہا اور راجہ مان سنگھ نے اکبر کے کہنے کے مطابق تیموربیگ کو یوسف شاہ کے نام اکبر کے فرمان کے ساتھ مغل سفیر بناکر کشمیر روانہ کیا ۔ اس اصرار طلبی سے یوسف شاہ ڈر گیا ،اس لئے اُس نے تیمور بیگ سفیر کے ساتھ اپنے سب سے بڑے لڑکے شہزادہ یعقوب کواور اکبر کے لئے کشمیر کی قیمتی ،عمدہ اور نادرچیزیں روانہ کیں ،گویا یوسف شاہ جب کشمیر کا بادشاہ بن گیا تو اُس وقت اُس کے تین لڑکے تھے ، جو پہلی بیوی کے بطن سے تھے، جن میں سب سے بڑا یعقوب چک ، دوسرا میرزا ابراہیم چک اور تیسرا سب سے چھوٹا حیدرخان تھا۔اس کے بعد بھگوان داس کے ذریعے اُسے بلا کر بہار میں قید کیا گیا۔
(بشکریہ کشمیر عظمی )

شاہنواز
03-27-2012, 12:52 AM
بہت زیادہ معلوماتی

این اے ناصر
04-02-2012, 12:45 PM
قرطاس بھائی اجکل کافی دنوں سے غیرحاضرہیں۔ کیابات ہے۔

اوشو
05-25-2012, 05:05 PM
حبہ خاتون کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل ہوئی یہ مضمون پڑھ کر۔
بےباک جی آپ کا بہت بہت شکریہ۔

pervaz khan
06-23-2012, 04:14 PM
بہت عمدہ