PDA

View Full Version : مینڈک زلزے کے آنے سے بہت پہلے اس کی آہٹ کو بھانپ لیتے ہیں



تانیہ
11-30-2010, 11:01 PM
بظاہر ایک ادنی سی زمین پر رینگنی والی شے جسے آپ قابل توجہ بھی نے سمجھتے ہوں، بلکہ موسم گرما میں اگر آپ کسی تالاب وغیرہ کے قریب سو رہے ہوں تو اس کی ٹر ٹر کی آواز آپ کو ناگوار لگتی ہے مگر وہی جاندار شے مینڈک زلزے کے آنے سے بہت پہلے اس کی آہٹ کو بھانپ لیتے ہیں اور خود کو بچانے اپنی پناہ گاہوں سے دور نکل کھڑے ہوتے ہیں
یہ مشاہدہ اٹلی میں کیا گیا ہے جہاں دو ہزار نو میں لا اقلیہ میں آنے والے زلزلے کے وقت یہ مشاہدہ کیا گیا کہ مینڈک زلزلہ آنے سے تین دن پہلے اپنی رہنے کی جگہوں سے دور نکل گئے تھے۔

علم حیوانات کے ایک جریدے میں ماہرین نے لکھا ہے کہ جس مقام سے مینڈکوں کی برداری فرار ہوئی تھی وہ زلزے کے مرکز سے کوئی چوہتر کلو میٹر دور تھا۔

اٹلی میں گزشتہ برس جس وقت یہ زلزلہ آیا جس کی شدت ریکٹرسکیل پر3۔6 تھی۔ ان دنوں لندن میں ملٹن کینز کی یونورسٹی کی ایک ماہر حیاتیات ڈاکٹر ریچل گرانٹ وسطی اٹلی میں سان رفیلو جھیل کے علاقے میں مینڈکوں کی سرگرمیوں کا مشاہدہ کررہے تھیں۔ ڈاکلٹر گرانٹ کا کہنا ہے کہ زلزلے سے پانچ دن قبل مینڈکوں کی افزائش کی پناہ گاہوں میں نر مینڈک آنے کی کی تعداد 96 فیصد کم ہوگئی ۔

اب یہ کہنا ذرا مشکل ہے کہ آخر مینڈک زلزے کی آمد سے پہلے زمین کی پر توں میں پیدا ہونے والی سرسراہٹ کا کیسے پتہ چلا لیتے ہیں۔ لیکن مینڈکوں کے دسیوں جوڑے یعنی نر اور مادہ مینڈک اپنی پناہ گاہیں چھوڑ بھاگے۔

ماہر حیوانات کا کہنا ہے کہ زلزلے کیو نکہ بہت تواتر سے ہونے والی کوئی سرگرمی نہیں ہے اس لیے زلزلے کی آمد سے پہلے جا نوروں کا اس کے بارے میں رد عمل کا درست اندازہ کرنا مشکل ہے۔

کچھ طلبا ء نے گھریلو جانوروں کے رد عمل کا مشاہدہ تو کیا ہے۔ تاہم جنگلی جانوروں کے رویوں کا مشاہدہ بہت ہی کٹھن ہے۔


نر اور مادہ مینڈک انڈے دینے کے عمل کے دوران
یہ بھی دیکھا گیا کہ زلزلے سے پہلے مچھلیاں اپنے جگہیں اور سانپ اپنی بل چھوڑ دیتا ہے مگر وہ ایسا کچھ دن قبل نہیں محض کچھ دیر پہلے کرتے ہیں۔

ڈاکٹر ریچل کہتی ہیں کہ لا اقیلہ میں زلزلہ آنے سے پانچ دن پہلے مینڈکوں نے انڈے دینے بند کردئے۔ زلزے سے تین دن قبل نر اور مونث مینڈک جوڑے اپنی پناہ گاہوں سے غائب ہونے شروع ہوگئے۔

ان کا کہنا ہے کہ نر مینڈکوں کی خصائص کو دیکھتے ہوئے یہ ایک بہت ہی غیر معمولی سرگرمی تھی جو دیکھنے میں آئی۔ کیونکہ نر مینڈک انڈے دینے کے کافی عرصہ بعد تک اسی پناہ گاہ میں رہتے ہیں۔

ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ مینڈک کسی ایسے اونچے مقام کی جانب چلے گئے ہونگے جہاں چٹانیں گرنے یا پانی میں ڈوبنے کا خطرہ کم ہو۔

مینڈکوں کی برادی کے رویوں میں تبدیلی کا موازنہ ماحول میں آنے والی تبدیلیوں سے کیا گیا ہے۔

جن کے بارے میں سائنسدانوں کا مشاہدہ ہے کہ زلزلے کے انے سے پہلے کرہ ارض کی اتلی سطحوں میں تبدیلیاں ریکارڈ ہونی شروع ہوجاتی ہیں۔ جیسے کہ گیسوں کا غیر معمولی اخراج یا فضا میں مقانطیسی ذرات کا زیادہ ہوناوغیرہ وغیرہ۔ ماحولیات میں آنے والی ایسی تبدیلیوں کو سائنسداں زلزلے کے پیشگی خبردار کرنے والے نظام میں استعمال کرتے ہیں۔

ایک اور تحقیق کے مطابق کے زمین پر رینگنے والے دوسرے کیڑے مکوڑوں میں ایسی حس نہیں پائی جاتی۔ مثال کے طور پر کیلفورنیا کے ’صحرائے موجاوے ‘ میں انیس 1992 میں شدید زلزلہ آیا تاہم اس سے پہلے چینٹیوں کے رویے میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔
خلائی چٹان کے دھماکے کے شواہد
ایک نئی تحقیقق میں انٹارٹکا میں ہزاروں برس قبل ایک بڑے خلائی چٹان (’سپیس راک‘) کے دھماکے کے شواہد ملے ہیں جس کا ملبہ دور دراز تک پھیل گیا تھا۔
سیارتی چٹان کے دھماکے کے شواہد انٹارٹکا کی برف کے اوپر جمی ہوئی خلائی گرد و غبار اور چھوٹے چھوٹے پتھروں کے تجزیے سے ملے ہی۔

اس تحقیقی رپورٹ کی تفصیلات امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک اہم سا‎ئنس کانفرنس میں پیش کی گئی ہے ۔

ہزاروں برس پہلے کا یہ واقعہ 1908 کے تونگوسکا کے واقعے سے ملتا جلتا ہے جس میں کسی سیارے کے چٹا کے دھماکے سے سائبیریا کا جنگلاتی علاقہ زمین دوز ہو گیا تھا ۔

اس طرح کے دھماکے میں خلائی چٹان زمین پرگرنے سے پہلے اوپر کی زمین کے مدار میں دھماکے سے پھٹ جاتی ہے ۔

گرد و غبار اور پتھریلی بجریاں انٹارٹکا کے دو مختلف ‏علاقوں سے جمع کی گئی ہیں ۔ تجزیےسے پتہ چلتا ہے کہ یہ چار لاکھ اکیاسی ہزار برس پرانی ہیں ۔ تحقیق سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ سے پیدا ہوئي ہیں۔

انٹارٹکا کے ان دونوں مقامات کے درمیان 2900 کلو میٹر کا فاصلہ ہے لہذا اتنے بڑے خطے پرخلائی ملبے کے پھیلنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ملبہ خلائی پتھروں کے زمین سے ٹکرانے سے نہیں بلکہ فضا میں دھماکے سے پھیلے تھے۔

سائنسدانون کے اندازے کے مطابق یہ فضائی دھماکہ جس چٹان سے ممکن ہوا ہوگا وہ کم ازکم ایک لاکھ ٹن کی رہی ہو گی۔

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ جس طرح کے فضائی دھماکے کا واقعہ سو برس قبل سائیبیریا میں پیش آیا تھا وہ زمین پر پانچ سو سے ایک ہزار برس میں رونما ہوتا رہتا ہے۔

بےباک
12-01-2010, 04:24 PM
بہت ہی خوب ،شکریہ ،
مچھر سے ٹیکہ سیکھا ،
اب مینڈک سے زلزلہ پیما بنایا جائے گا ،
...................