PDA

View Full Version : حکومتی نااہلی کے اسباب



بےباک
01-11-2012, 09:16 AM
اسلام آباد (رپورٹ…عثمان منظور ۔جنگ نیوز) صرف این آر او فیصلہ ہی ایک نہیں بلکہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں حکومت کے مقدمات کی ایک طویل فہرست ہے جس میں سپریم کورٹ کے احکامات کی نفی کی ہے
جس میں حج اسکینڈل کیس،
این آئی سی ایل،
پاکستان اسٹیل،
بینک آف پنجاب اسکینڈل
اور ری ایمپلائمنٹ کیس وغیرہ شامل ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس بارے میں بارہا احکامات جاری کئے، ہدایات دیں لیکن حکومت ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں کے فیصلوں اور ہدایات پر ٹس سے مس نہ ہوئی۔ کئی ایک بار سپریم کورٹ نے شکایت بھی کی کہ اس کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا جبکہ ایک موقع پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو اٹارنی جنرل سے استفسار کرنا پڑا کہ کتنے ایسے احکامات ہیں جن کی تابعداری نہیں کی گئی۔ مولوی انوار الحق انہیں گن نہیں سکے۔ انہیں شاید معلوم نہیں کہ عدالتی حکامات پر عملدرآمد میں حکومت کی غیرسنجیدگی کے باعث اٹارنیز جنرل، سیکریٹریز قانون اور دیگر حکام کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔ کئی بار عدالت نے حکومت کی سرزنش بھی کی لیکن حکومت نے اس کا کوئی اثر نہیں لیا۔ حکومت کے توہین عدالت پر مبنی رویہ کے باوجود سپریم کورٹ نے نرمی اور تحمل کا مظاہرہ کیا۔ درج ذیل حکومت کی جانب سے عدالتی حکم عدولی کی فہرست ہے جس کے مطابق لاہور لائی کورٹ کے حکم کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے صدر زرداری خود کو سیاست میں ملوث رکھے ہوئے ہیں جو ان کے منصب کے شایان شان نہیں ہے۔ بینک آف پنجاب اسکینڈل میں حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود سیکریٹری اینٹی نارکوٹکس ڈویژن طارق کھوسہ کو تحقیقاتی ٹیم کا سربراہ مقرر کرنے سے انکار کیا۔ اس مقدمے میں بابر اعوان سمیت چند وکلاء پر مبینہ طور پر ججوں کے نام سے رشوت لینے کے الزامات ہیں۔ اس کے علاوہ عدالت کے واضح احکامات کے باوجود حکومت نے ری ایمپلائمنٹ کیس میں سیکڑوں کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ نہیں کیا۔ آنسو پونچھنے کیلئے ایسے صرف 8 ملازمین برخاست کئے گئے ہیں۔ عدالتی احکامات ماننے پر دو اسٹیبلشمنٹ سیکریٹریز کو وزیراعظم گیلانی کے عتاب کا سامنا کرنا پڑا۔ سہیل احمد نے عدالتی احکامات پرحسین اصغر کا ایف آئی اے میں تبادلہ کیا تو انہیں او ایس ڈی بنادیا گیا۔ عدالتی احکامات پر ہی رؤف چوہدری نے ظفر قریشی کی ایف آئی اے میں واپسی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تو وہ بھی وزیراعظم کے غضب کا شکار ہوئے۔ سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل تحسین انور کو طلب کیا تو وہ بھی پیپلزپارٹی کی حکومت کی طرح عدالت سے آنکھ مچولی کھیلنے لگے جس پر عدالت کوانہیں ہتھکڑی لگاکر حاضر کرنے کا حکم دینا پڑا۔ پاکستان اسٹیل میں 22 ارب روپے کرپشن اسکینڈل کی ڈی جی ایف آئی اے کے ذریعہ تحقیقات پر عدالت عظمیٰ نے اعتماد ظاہر کیا تو طارق کھوسہ کو تحقیقات سے ہی ہٹادیا گیا۔ مزید یہ کہ اس مقدمے میں وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا جس میں صدر زرداری کے قریبی دوست ریاض لال جی بھی ملوث تھے۔ یہ کیس ابھی زیرالتواء ہے جبکہ لاہور ہائی کورٹ میں دو نیب ریفرنسز میں سزا کے خلاف اپیل خارج ہونے پر صدر زرداری جو خود این آر او سے مستفید ہونے والوں میں سے ہیں، انہوں نے اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے فوری رحمن ملک کو معافی دے دی۔ این آئی سی ایل کیس میں چیف انویسٹی گیٹر ظفر قریشی کو بحال کرنے کے عدالتی احکامات پر بھی حکومت نے توجہ نہیں دی۔ بالآخر عدالت کو ازخود انہیں بحال کرنا پڑا۔