PDA

View Full Version : حضرت اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی زمیں میں میری غزل



فاروق درویش
01-11-2012, 02:53 PM
اس شہر ِ صدآشوب میں اتری ہے قضا دیکھ
فرعون بنے بیٹھے ہیں مسند کے خدا دیکھ

بیٹھا ہے ہما رہزن و غدار کے سر پر
معصوم پرندے کی ہے معصوم ادا دیکھ

سوئی ہے کفن اوڑھے جو مزدور کی بیٹی
افلاس کے ہاتھوں پہ جلا رنگِ حنا دیکھ

ہر لحظہ بدلتے ہوئے دستور یہ منشور
قاتل کی شہیدوں کے مزاروں پہ دعا دیکھ

ابلیس ِ زماں تخت نشیں ہیں کہ گداگر
دنیائے سیاست کے یہ کشکول و گدا دیکھ

ہر جرم کی تعزیر و سزا لکھتے ہیں اغیار
مشرق کے اسیروں کو یہ مغرب کی عطا دیکھ

جو بحر ِ طلاطم تھے، جزیروں کے ہیں قیدی
زندان ِ صدف، موج ِ بلا، رقص ِ قضا دیکھ

درویش کی غزلوں میں ہے اقبال کا پیغام
،، کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ،،

فاروق درویش

تانیہ
01-12-2012, 10:24 AM
سوئی ہے کفن اوڑھے جو مزدور کی بیٹی
افلاس کے ہاتھوں پہ جلا رنگِ حنا دیکھ

بہت سچ اور دل کو چھوتا ہوا کلام ہے ۔۔۔بہت خوب

فاروق درویش
01-12-2012, 02:13 PM
سوئی ہے کفن اوڑھے جو مزدور کی بیٹی
افلاس کے ہاتھوں پہ جلا رنگِ حنا دیکھ

بہت سچ اور دل کو چھوتا ہوا کلام ہے ۔۔۔بہت خوب


محبتوں کیلئے ممنون ہوں تانیہ بیٹا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جگ جگ جئیں

بےباک
01-12-2012, 08:49 PM
محترم فاروق درویش صاحب ، میری سلام عقیدت قبول فرمائیے ،
آپ اپنی نگارشات اور سلجھی ہوئی مقصدی شاعری سے ہمیں محروم مت کیجیے گا ،


اس شہر ِ صدآشوب میں اُتری ہے قضا دیکھ
فرعون بنے بیٹھے ہیں مسند کے خدا دیکھ

بیٹھا ہے ہُما رہزن و غدار کے سر پر
معصوم پرندے کی ہے معصوم ادا دیکھ

سوئی ہے کفن اوڑھے جو مزدور کی بیٹی
افلاس کے ہاتھوں پہ جلا رنگِ حنا دیکھ


:clap::roseanimr::thumbsupsmileyexcellet-1:

admin
01-13-2012, 12:38 PM
بہت خوب جناب

فاروق درویش
01-14-2012, 03:06 AM
محترم فاروق درویش صاحب ، میری سلام عقیدت قبول فرمائیے ،
آپ اپنی نگارشات اور سلجھی ہوئی مقصدی شاعری سے ہمیں محروم مت کیجیے گا ،


اس شہر ِ صدآشوب میں اُتری ہے قضا دیکھ
فرعون بنے بیٹھے ہیں مسند کے خدا دیکھ

بیٹھا ہے ہُما رہزن و غدار کے سر پر
معصوم پرندے کی ہے معصوم ادا دیکھ

سوئی ہے کفن اوڑھے جو مزدور کی بیٹی
افلاس کے ہاتھوں پہ جلا رنگِ حنا دیکھ


:clap::roseanimr::thumbsupsmileyexcellet-1:



محبتوں کیلئے ممنون ہوں ۔۔۔۔ سدا سلامت و خوش آباد سائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔

فاروق درویش
01-14-2012, 03:08 AM
بہت خوب جناب



حوصلہ افزائی کیلئے مشکور ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خوش آباد حضور

محمدمعروف
01-14-2012, 10:00 PM
اس شہر ِ صدآشوب میں اتری ہے قضا دیکھ
فرعون بنے بیٹھے ہیں مسند کے خدا دیکھ

بیٹھا ہے ہما رہزن و غدار کے سر پر
معصوم پرندے کی ہے معصوم ادا دیکھ

سوئی ہے کفن اوڑھے جو مزدور کی بیٹی
افلاس کے ہاتھوں پہ جلا رنگِ حنا دیکھ

ہر لحظہ بدلتے ہوئے دستور یہ منشور
قاتل کی شہیدوں کے مزاروں پہ دعا دیکھ

ابلیس ِ زماں تخت نشیں ہیں کہ گداگر
دنیائے سیاست کے یہ کشکول و گدا دیکھ

ہر جرم کی تعزیر و سزا لکھتے ہیں اغیار
مشرق کے اسیروں کو یہ مغرب کی عطا دیکھ

جو بحر ِ طلاطم تھے، جزیروں کے ہیں قیدی
زندان ِ صدف، موج ِ بلا، رقص ِ قضا دیکھ

درویش کی غزلوں میں ہے اقبال کا پیغام
،، کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ،،

بہت خوب فاروق درویش صاحب اللہ کرے زور سخن وقلم اور زیادہ آمین
بہت خوب لکھی ماشاء اللہ
حالات حاضرہ کی عکاسی کرتی ہوئی نظم ہے ۔

سیما
04-15-2012, 11:35 PM
السلام عیلکم
بہت ہی زبردست لکھی آپ نے بہت بہت شکریہ اپکا۔

نگار
04-20-2012, 06:02 PM
بہت خوب ۔واقعی آپ بہترین شاعری کرتے ہیں



بہت بہت شکریہ