PDA

View Full Version : مسافر



فاروق درویش
01-11-2012, 04:25 PM
مسافر

لٹے قافلوں کے مسافر گزیدہ
گھنے جنگلوں کے سفر میں دمیدہ
کسی زرد پتے کی صورت خزاں کی
ہواؤں کے گرداب و طوفاں میں بکھرے
دکھوں کی برستی ہوئی شبنموں میں
زمینوں پہ بے جاں پڑے ہیں کبیدہ
جزیرہ نما منزلوں کے یہ راہی
فغاں نا رسیدہ ، بیاں آبدیدہ
خمیدہ پریشاں ، شجر سے بریدہ
زمستاں کی سفاک قاتل فضا میں
کوئی سرد سینوں میں مشعل جلا دو
جو شب بھرجلے گرم رکھے جنوں بھی
نکالو کہیں سے وہ سورج تپیدہ
مری زندگی کے جو ظلمت کدوں کو
نئی روشنی کے شراروں سے بھر دے
ندیدہ زمانے کے ان مقتلوں پر
بدن سربریدہ ، دہن با دریدہ
گذرتے ہویے خوابدیدوں سے پوچھوں
کہ درویش کیسے لکھے ظلمتوں میں
زمانے کے شاہوں کا روشن قصیدہ
لٹے قافلوں کے مسافر ہیں سارے
فغاں نا رسیدہ ، بیاں آبدیدہ

فاروق درویش

admin
01-11-2012, 06:17 PM
بہت خوب اردو منظر کی خوش قسمتی کہ اچھا لکھنے والے آ رہے ہیں۔:photosmile:

قرطاس
01-11-2012, 09:08 PM
عمدہ

سیما
01-12-2012, 06:47 AM
بہت زبردست شکریہ

بےباک
01-12-2012, 08:21 PM
لٹے قافلوں کے مسافر گزیدہ
گھنے جنگلوں کے سفر میں دمیدہ
کسی زرد پتے کی صورت خزاں کی
ہواؤں کے گرداب و طوفاں میں بکھرے

:chase::thumbsupsmileyexcellet-1:

این اے ناصر
03-31-2012, 12:37 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ