PDA

View Full Version : شمع عشق کی پڑی ہے کرن آنکھ میں



قرطاس
01-11-2012, 10:16 PM
شمع عشق کی پڑی ہے کرن آنکھ میں
اب تو آفتاب بھی لگتا ہے دیا سا
لرز گیا تو بس اک ہی بوند سے
تُو تو بحر عشق کی تلاش میں تھا
رکھ اس بوند کو پیمانہ میں میں تھام کر
پھر اسے بوند عشق سے گوہر عشق بنا
تلاش کر عشق کی تو جائے عشق سے
بے تعلق ہو کر پیمانہ من میں ڈوب جا
ڈوب کر اب عشق میں نفس کو مار دے
نفس جیا تو کنارا مرا تو سہارا ملا
ربط عشق میں ڈوبا ہے جہاں سارا
سرا جو ملا تو کن فیکون میں جا ملا



کئی سال پہلے میں نے یہ نظم لکھی تھی ، کیا لکھا ہے کچھ پتہ نہیں بس پہلے پہل کی شاعری آپ سے شییر کی ہے

بےباک
01-11-2012, 11:14 PM
اب تو آفتاب بھی لگتا ہے دیا سا
لرز گیا تو بس اک ہی بوند سے
تُو تو بحر عشق کی تلاش میں تھا
رکھ اس بوند کو پیمانہ میں میں تھام کر

خوب خوب:photosmile::photosmile::photosmile::photosm ile:

قرطاس
01-12-2012, 07:01 PM
[color=#4B0082] بہت شکریہ بے باک

این اے ناصر
03-31-2012, 12:37 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ