PDA

View Full Version : میں بھی تو کسی کی بیٹی ہوں



سیما
01-12-2012, 07:23 AM
ہم روز کئی ایسے جملے بولتے ہیں جنہیں ہم پورے نہیں کر پاتے۔۔۔ باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہیں، لیکن اس کا تعلق دوسروں سے ملا دیتے ہیں۔ ہماری نصیحتیں دوسروں کو سمجھانے کی حد تک ہوتی ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ زندگی تب ہی آسان بن سکتی ہے جب ہم خود اس میں آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب تک ہم خود آسانی پیدا کرنیکی کوشش نہیں کریں گے، یہ دن بدن فرد واحداور پوری قوم کے لئے پریشانی کا سبب بنتا جا تا ہے۔
ایک اہم اور بڑا مسئلہ جہیز بھی ہے جو موجودہ دور میں وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ عام طور پر سلیقہ مند ،پڑھی لکھی ،خوب رو اور خوب سیرت لڑکیاں بھی قیمتی جہیز نہ ہونے کے باعث آنکھوں میں دلہن بننے کے خواب بسائے ساری زندگی اپنے ماں باپ کے گھر گزار دیتی ہیں اور پھر ایک خاص عمر کے بعد تو یہ سہانا خواب بھی دیکھنا چھوڑ دیتی ہیں اور اپنی تقدیر سے سمجھوتہ کرکے بقایا زندگی اک جبر مسلسل کی طرح کاٹنے پر مجبور ہو جاتی ہیں دلہن بننا ہر لڑکی کا خواب ہی نہیں اسکا حق بھی ہے لیکن افسوس اسے اس حق سے محض غربت کے باعث محروم کر دیا جاتا ہے سرمایہ داروں کے اس دور میں لڑکیوں کو بھی سرمایہ سمجھا جاتا ہیاور اس سرمایہ کاری کے بدلے انکے گھر والے خصوصا مائیں بہنیں اور زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کیلئے سرگرداں رہتی ہیں۔ وہ لڑکی کا رشتہ لینے جاتی ہیں یا یوں کہیں اپنے بیٹے ،بھائی کا کاروبار کرنے نکلتی ہیں لڑکی سے زیادہ اس کی امارات دیکھتی ہیں۔
بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ جہیز ایک لعنت ہے، ہزاروں لڑکیوں کی ڈولیاں صرف اس لئے نہیں اٹھتیں کہ ان کے پاس جہیز کیلئے رقم نہیں ہوتی۔ لیکن دوسری طرف ہم یہ تمام حکائتیں اورقول اس وقت بھول جاتے ہیں جب ہم کسی دوسرے کی لڑکی اپنے گھر لا رہے ہوتے ہیں۔ اس وقت کسی بیٹی، ماں ، باپ اور معاشرے کا خیال کیوں نہیں آتا؟ اس وقت کسی بیٹی کو کیوں بوجھ بنا دیا جاتا ہے؟ والدین کی ایک بڑی تعداد صرف جہیز نہ ہونے کی وجہ سے اپنی جوان بیٹیوں کو گھر میں بٹھائے رکھتے ہیں۔ ہمارا مذہب اور معاشرہ یہ تو کہتا ہے کہ بیٹیوں کو جلد بیاہ دینا چاہیئے، لیکن اس کے لئے حالات تو پیدا کرنے چاہئیں۔ یہ دن بدن غریبوں کیلئے عذاب بنتا جا رہا ہے۔ ان کی زندگیوں کی کرن کو کیوں بجھا دیتا ہے؟ کیا وہ کسی کی بیٹیاں نہیں ہوتیں، یا ان کے جذبات نہیں ہوتے؟ ان کے جذبات کو کتنی ٹھیس پہنچتی ہو گی، ان کے دل خون کے آنسوں روتے ہوں گے۔ اس کا جواب تو وہ چلتی پھرتی لاشیں ہی بتا سکتی ہیں۔
لڑکی کی والدین جہیز کو پورا کرنے کے لئے ہر جائز ناجائز طریقہ استعمال کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ رشوت کے علاوہ جہیز لوگوں کو چوری اور ڈاکہ زنی پر بھی آمادہ کر سکتا ہے۔ بعض غریب جو جہیز تو کیا دو وقت کی روٹی بھی صحیح طریقے سے مہیا نہیں کر سکتے ان کے لئے جہیز بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایسے لوگو ں کو یہ اس بات پر اکساتا ہے کہ خوا ہ چوری کی جائے جہیز ضرور بنایا جائے۔
یہ ہمارے معاشرے کا ہی حصہ ہیں جنہیں ہمارا معاشرہ ہی اجیرن بنا رہا ہے۔ اپنا جہیز ہی پورا کرنے کے لئے ہزاروں بچیاں فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر اپنے ہاتھوں کی بنی چیزوں کو بیچ رہی ہوتی ہیں۔ کوئی چوڑیاں بیچ رہی ہوتی ہے تو کوئی کپڑوں پر لگنے والی گوٹا کناری اور لیس بیچ رہی ہوتی ہے۔ انہی بچیوں کے سامنے سے کھاتے پیتے گھرانوں کی بچیاں اپنے قیمتی کپڑوں کے لئے لیس اور گوٹا کناری کی خریداری کر رہی ہوتی ہیں توان بے چاریوں کے دلوں پر کیا بیت رہی ہو گی کہ ان ہی کی عمر کی بچیاں پل بھر میں ہزاروں کی خرایداری کر کے قیمتی کار میں بیٹھ کر روانہ ہو جاتی ہیں۔ وہ غریب بچی روزانہ ایک ایک تنکہ اکٹھا کر کے جہیز کا سامان پورا کر رہی ہوتی ہے۔ وہ لمحے اس کے لئے کتنے درد ناک ہوتے ہوں گے۔ یہ تو وہی جانتا ہے جس پر یہ لمحے بیت رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔ وہ روز جیتی اور روز مر رہی ہوتی ہے، لیکن اپنے درد کو اپنی زبان پر نہیں لاتی، کیونکہ اس نے معاشرے میں اپنی انا کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ اسے ایک امید خدا کی طرف سے جینا سکھا رہی ہوتی ہے۔۔۔ لیکن ہمارا معاشرہ جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے علاوہ بچیوں کے یقین پر بھی ضرب لگا رہا ہوتا ہے۔ کون جانے کس کے دکھ کہا ں تک ہیں، اور کتنے ہیں، کس پر روز کیا بیت رہی ہوتی ہے؟ لیکن ہمارا یہ اخلاقی فرض بنتا ہے کہ دوسروں کے دکھوں میں اضافہ کرنے کی بجائے اسے کم کرنے کی کوشش کریں۔ جذباتی اورغیر ضروری نمودو نمائش سے پرہیز کریں۔ جہیز کے خلاف عوام میں شعور پیدا کریں، اور اپنے بھائیوں کے دکھوں کا مداوا کرنا چاہئیے۔ ہمارے اپنے ہی جہیز لیتے اور دیتے وقت تو ہمدردیاں سمیٹتے ہیں، لیکن ان کا ایک ہی بہانہ ہوتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ ایسے لوگوں کو جہیز نہ لینے اور دینے کو عام کرنا چاہئیے، اور پھر اس پر عمل بھی کرنا چاہیئے۔ ہم دوسروں کو نصحیت کر کے اپنے نمبر تو بنا لیتے ہیں لیکن آج تک کسی نے اس پر آواز نہیں اٹھائی کہ جہیز نہ لینے کے عمل کو عام کرنا ہے۔ ہر کوئی یہی سوچتا ہے کہ مفت کا مال مل رہا ہے تو آنے دو، کوئی سر دردی نہیں لیتا کہ دوسرا کس مشکل سے اپنی بیٹی کا جہیز پورا کرتا ہے۔
شریعت میں جہیز دینے کی کوئی پابندی نہیں ہے ۔۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ کو شادی کے وقت کچھ سامان مثلا چکی ، پانی کا برتن اور تکیہ وغیرہ دیا تھا ۔۔ جو کہ نئے سرے سے گھر بنانے کے لئے بنیادی وسائل تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی بیٹیوں کے متعلق ایسی کوئی روایت نہیں ملتی ۔ لہذا اگر لڑکا بہت زیادہ غریب ہو کہ گھر کا ضروری سامان خریدنے کی قدرت بھی نہ رکھتا ہو تو اس صورت میں لڑکی کے والدین اگر اس کے ساتھ مالی تعاون کرنا چاہیں تو حرج نہیں بلکہ باعثِ ثواب ہے لیکن آجکل کے دور میں رائج جہیز کسی بھی صورت جائز نہیں ۔
آج اگر ہم کسی کی بیٹی کا سوچیں گے تو کل کوئی ہماری بیٹی کی فکر کرے گا۔اتنی بڑی اذیت سے گزرنے کے بعد بھی ہم نہیں جاگتے اور اپنے باپ دادا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جہیز جیسی لعنت کو گلے سے لگائے ہوئے ہیں۔ ہزاروں لڑکیاں آج بھی ہمارے ارد گرد زندہ لاشیں بن کر اپنی زندگیاں گزار رہی ہیں۔ ان والدین کی زندگیاں کس طرح گزر رہی ہیں۔ اسلام تو ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں آسانی پیدا کرنے کی تلقین کرتا ہے، لیکن ہم کیوں اپنے اسلاف کی قدروں کو بھول چکے ہیں۔ ہم اپنے پیغمبر اسلام کی تعلیمات پر کیوں عملدرآمد نہیں کرتے۔ اگر جہیز کی لعنت کو ختم کرنا ہے تو ہمیں عملی طور پر اپنے گھر سے مشن کو شروع کرنا ہو گا تا کہ اپنی بیٹیوں کے گھروں میں شمعیں روشن ہوں۔
آئیے ہم آج ہی عہد کریں کہ جہیز کی لعنت کو ختم کرتے ہوئے اسے اپنے گھر کے لئے نہیں لیں گے۔ جب ہر گھر سے یہ آواز اٹھے گی تو معاشرہ اس برائی اور اس سے پیدا ہونے
والی کئی برائیوں سے پاک ہو جائے گا۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جہیز ہی دراصل آج مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کا اصل سبب ہے ۔اسکی ذمہ داری سب سے پہلے دین کی نمائندگی کرنے والے طبقے پر ہے، اسکے بعد تعلیم یافتہ خوشحال مسلمانوں پر۔

ساجدہ ربانی اردوٹائمز

سیما
01-12-2012, 07:28 AM
السلام علیکم
ہم سب سے جتنا ہو سکتا ہے ۔ دوسروں کی مدد کرنی چاہیے :christmas::friends:

سرحدی
01-12-2012, 09:25 AM
جزاک اللہ خیراً
بہت اچھا مضمون شیئر کیا ہے ، واقعتا بہت ساری بچیاں صرف اس وجہ سے شادی سے رہ جاتی ہیں کہ ان کے پاس جہیز دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔
اس کے ساتھ ساتھ مضمون کے آخر میں لکھا ہے کہ جہیز ہی مسلمانوں کی ذلت کا سبب ہے تو بات صرف یہاں تک نہیں بلکہ اسلامی معاشرہ سے روگردانی اور اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے نظام سے بغاوت کرکے غیروں کے طریقوں پر چلنے کی وجہ سے تباہی اور بربادی اور ذلت کا سبب ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مضمون کے آخر میں یہ بھی تحریر کیا گیا ہے کہ جہیز کی لعنت کا خاتمہ دینی رہنماوں پر پہلے لاگو ہوتا ہے، تو جناب عالی! عرض ہے کہ انقلاب کے لیے کسی دوسرے کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ انقلاب ایک فردِ واحد سے شروع ہوکر پورے معاشرے میں پھیل جاتا ہے، اس لیے خوش پوش طبقہ بسم اللہ کرے، یقین جانیں یہ انقلاب برپا ہوتا جائے گا۔
میرے آس پڑوس میں تقریبا مڈل کلاس طبقہ کے لوگ رہتے ہیں، میں اللہ رب العزت کا جتنا بھی شکر ادا کروں ، کم ہے۔ میں نے اسی مہینہ میں اپنے دوستوں میں ہونے والی شادیاں دیکھی ہیں، جس میں نہ جہیز کا نام اور نہ ہی کوئی ظاہری نمود و نمائش۔ بہت ہی کم خرچ میں شادیاں انجام پائی ہیں۔ بلکہ ہم نے تو ایک دوست کی شادی ایسی بھی دیکھی جس میں ولیمہ کا اہتمام دودھ اور کھجور سے کیا گیا۔
بہر حال ، سیما جی آپ کا مضمون اس وقت کی مناسبت سے بہت اہم ہے کیوں کہ ایک عالم سے سنا: ’’کہ جب نکاح آسان ہوگا تو زنا ختم ہوجائے گا، اور جب نکاح کو مشکل بنادیا جائے گا تو زنا کے راستے کھل جائیں گے‘‘۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں اس لعنت سے چھٹکارا پانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
جزا ک اللہ احسن الجزاء

تانیہ
01-12-2012, 10:39 AM
جزاک اللہ خیراً