PDA

View Full Version : ہم سے غلطیاں ہوئیں سزا جمہوریت کو نہیں ملنی چاہئے، وزیراعظم گیلانی



تانیہ
01-15-2012, 01:27 AM
زیادہ عذاب آیا تو عوام کے پاس جائیں گے، ہم سے غلطیاں ہوئیں سزا جمہوریت کو نہیں ملنی چاہئے، وزیراعظم گیلانی
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ہم سے غلطیاں ہوئیں سزا جمہوریت کو نہیں ملنی چاہئے، کسی سے نہیں کہا کہ ہمیں فوج سے بچائیں، ہم قومی اسمبلی میں قرارداد عدلیہ اور فوج کیخلاف نہیں لا رہے، ہم جمہوری نظام اور پارلیمنٹ کا استحکام اور بالادستی چاہتے ہیں، قرارداد پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں، انہیں ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ وہ جمہوری نظام کیلئے حکومت سے تعاون کرے۔ انہوں نے اپوزیشن سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہمیں مضبوط نہ کریں، ادارے مضبوط ہونے چاہئیں، اگر زیادہ عذاب بھی آ گیا تو ہم عوام سے رجوع کرینگے، کسی سے نہیں کہا کہ ہمیں فوج سے بچائیں۔ کسی سے بھیک نہیں مانگیں گے،اگر اس بار کوئی اسٹیج سجا تو اس پر اپوزیشن یا ہم نہیں بلکہ تیسری قوت ہی بیٹھے گی، ہم یہ قرارداد جمہوریت اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لئے لانا چاہتے ہیں پارلیمنٹ کی مضبوطی اور استحکام کے لئے اپوزیشن ہماری جو رہنمائی کرے گی ہم اس پر عمل کریں گے۔ اپوزیشن لیڈر نے جمہوریت کے استحکام کے لئے ہم سے زیادہ باتیں کی ہیں، صدر اور وزیراعظم کو بھول جائیں صرف جمہوریت اور ایوان کی بالادستی اور استحکام کی بات کریں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم بھٹو صاحب کا کیس ری اوپن کرنے کے لئے گئے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ آپ غدار ہیں حالانکہ ایک جج نے اپنی کتاب میں لکھا کہ بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا، انہوں نے کہا کہ جب نوازشریف کی دوتہائی اکثریت والی حکومت ختم کی گئی تو میں رات کو سو نہیں سکا۔ میں نے محترمہ بے نظیر بھٹو سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ یہ اسٹیج ہمارے لئے نہیں سجایا گیا، اس پر کوئی تیسرا آ کر بیٹھے گا، وزیراعظم نے کہاکہ اب بھی اگر کوئی اسٹیج سجایا گیا تو نہ ان کیلئے (مسلم لیگ ن سے مخاطب ہو کر) ہو گا نہ ہمارے لئے، بلکہ کوئی تیسری قوت آ جائے گی، انہوں نے کہا کہ غلطیاں کون نہیں کرتا لیکن اس کی سزا نظام کو نہیں ملنی چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج ملک میں ایک ایسا ایشو ہے جو نہ صرف پورے ملک بلکہ پوری دنیا میں زیر بحث ہے کہ ملک میں کیا ہونے والا ہے؟ اس سے بڑھ کر کیا ایشو ہو گا کہ جس پر ہم قومی اسمبلی کو اعتماد میں لیں اسلئے اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا اس کا قطعاً کوئی اور مقصد نہیں ہے، نہ ہی مجھے اعتماد کے ووٹ کی ضرورت ہے مجھے تو ایوان نے متفقہ طور پر منتخب کیا تھا۔ 18 کروڑ عوام نے مجھے منتخب کر کے بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین ایک مقدس دستاویز ہے جس کا سب کو احترام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں قائد حزب اختلاف کی وساطت سے قوم کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اگر ان کے خیال یا سوچ کے مطابق پارلیمنٹ یا وزیراعظم کی مدت کم ہونی چاہئے تو یہ آئین میں ترمیم لے آئیں اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے ہاں عوام کی قوت برداشت کم ہے اور وہ حکومت کو 5 سال برداشت نہیں کر سکتے تو وہ ضرور آئینی ترمیم لے آئیں گے۔ وزیراعظم اور اس ایوان کی مدت کتنی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں ادارے قائم رہتے ہیں، بھٹو صاحب نے ملک کو متفقہ آئین دیا لیکن ان پر بھی تنقید کی گئی لیکن آج کون کہے گا کہ انہوں نے غلط آئین دیا اب تو آمر بھی کہتے ہیں کہ ہم اس آئین کی پاسداری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں قائد حزب اختلاف اور تمام اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دیتا ہوں کہ آئیں اور آئین کو ایسا بنائیں کہ اس میں کوئی ابہام نہ ہو اور کسی کو تشریح کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے، پارلیمنٹ کی مدت کم کرنی ہے تو آئین کے تحت کریں، کوئی دوسرا ادارہ یہ کیوں کہے کہ چار سال بعد چلے جائیں انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ ہم یہ حق آپ کو دیتے ہیں کہ آپ مدت کا تعین کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر قائد حزب اختلاف کے ذہن میں یہ خدشہ ہے کہ ہم این آر او کے لئے ایوان سے سفارش کرانے نہیں آئے نہ ہی ہم آپ سے مدد چاہتے ہیں کہ فوج سے ہمیں بچائیں۔ نہ ہی ہم اداروں سے ٹکراؤ کیلئے آئے ہیں اور یہ بھی غلط فہمی نکال دیں کہ ہم شہید ہونے کے لئے آئے ہیں۔ ہم اداروں کا تصادم نہیں چاہتے، ہم جدوجہد سے یہاں آئے ہیں اگر آپ نے جلا وطنی اور جیل کاٹی ہو تو ہم نے بھی جلاوطنی اور جیل کاٹی ہے، ہم نے بھی کوڑے کھائے ہیں جب میں جیل میں تھا تو ہاشمی صاحب بھی جیل میں تھے۔ دوتہائی اکثریت والی حکومت کو نکال دیا گیا آخر ان کا کیا قصور تھا۔ 12 اکتوبر 1999 کو جب حکومت توڑی گئی تو چودہ اکتوبر کو میں نوابزادہ نصر اللہ کے ہاں ایک شادی میں گیا وہاں میں نے پریس کے سامنے کہا کہ میں اس اسمبلی کو تسلیم نہیں کرتا جس میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور نوازشریف نہ ہوں، وہاں عبدالستار لالیکا تھے جنہوں نے کہا کہ جب ہم تسلیم کرتے ہیں تو آپ کیوں نہیں کرتے، انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کنگز پارٹی بنے جب کنگز پارٹی بنتی ہے تو وہ پارٹیاں بھی دفن ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں قوم اور منتخب نمائندوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا این آر او ہم نے بنایا تھا جو این آر او کا خالق تھا، اس پر کوئی بات نہیں کرتا وہ تو کہہ رہا ہے کہ میں آ رہا ہوں قوم میرا انتظار کر رہی ہے این آر او سے استفادہ کرنے والوں کو سزا دی جائے اور این آر او کے خالق (مشرف) کا استقبال کیا جائے یہ کہاں کا انصاف ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج تک میں نے اپنی زندگی میں ایسا نہیں دیکھا کہ ڈی جی آئی ایس آئی سروسز چیفس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہوں، میں نے اور اپوزیشن لیڈر نے ایک سال میں ہی سیاست شروع کی، پہلی مرتبہ یہ ہوا کہ سروسز چیفس ایوان کے سامنے جوابدہ ہوئے یہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں ہوا، انہوں نے کہاکہ آج پارلیمنٹ یہ فیصلہ کر لے کہ اس ملک میں جمہوریت ہو گی یا آمریت ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہماری غلطی کی سزا جمہوریت کو ملے۔ ہم کسی ادارے کے خلاف نہیں ہیں۔ انہوں نے قائد حزب اختلاف سے مخاطب ہو کر کہا کہ آج آپ کہتے ہیں کہ کیا مصیبت آن پڑی ہے کہ اب اکٹھے ہو گئے، انہوں نے کہا کہ محض ایک غلط اطلاع اور افواہ پر سترہ جج ایک رات میں اکٹھے ہو گئے تھے حالانکہ یہ محض افواہ تھی کہ میں انہیں ڈی نوٹیفائی کر رہا ہوں، بات یہ ہے کہ جب مصیبت آتی ہے تو برادری اکٹھی ہو جاتی ہے یہاں تک کہ کوّے بھی اکٹھے ہو جاتے ہیں آپ تو پارلیمنٹ ہیں ججز نے مجھے لکھ کر بھیجا کہ آپ فوری طور پر لکھ دیں کہ نہ آپ ڈی نوٹیفائی کریں گے نہ آپ کا ارادہ ہے تو میں نے کہا کہ میں نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے قبل ہی ججوں کی رہائی کا اعلان کر دیا تھا میرے ایگزیکٹو آرڈر سے ججز بحال ہوئے میں نے انہیں کہا کہ میں ایک منتخب وزیراعظم ہوں آپ میری زبان پر اعتماد کریں میں آپ کو لکھ کر نہیں دوں گا۔ ہم نے بھی عدلیہ کی بحالی اور آزادی کے لئے قربانیاں دیں مجھ پر بغاوت کا مقدمہ بنایا گیا، وزیراعظم کی جذباتی تقریر پر سرکاری بنچوں نے خوب ڈیسک بجائے۔


قومی اسمبلی میں جمعہ13 جنوری کو اجلاس کے دوران سیاسی قیادت اور جمہوری نظام پر اعتماد کی ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں تمام ریاستی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ جمہوریت اور جمہوری اداروں کے فروغ کیلئے اختیارات کی تقسیم کے بنیادی آئینی اصولوں پر پوری طرح عمل ہونا چاہئے اور تمام ریاستی اداروں کو آئین کی مقررکردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے، اقتدار اعلیٰ عوام کے پاس ہے اور پارلیمنٹ عوام کی اجتماعی بصیرت کی مخزن ہے۔ قومی اسمبلی میں یہ قرارداد حکومت کی اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیارولی خان نے پیش کی۔ اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے قرارداد کو منظور کیے جانے کیلئے رائے شماری کرانا چاہی تو حکومتی ارکان نے بلند آواز میں یس اور اپوزیشن نے ’نو نو ‘ کے نعرے لگائے۔ ایم کیو ایم نے اس موقع پر خاموشی اختیار کی اورلاتعلق رہی۔ اپوزیشن کے ارکان ایوان سے اٹھ کر باہر جانے گلے جس پر وزیراعظم کی تجویز پر اسپیکر نے قرارداد پر ووٹنگ پیر تک کیلئے ملتوی کر دی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان سمجھتا ہے کہ موجودہ جمہوری نظام جو اپنے چار سال پورے کرنے کے قریب ہے، پاکستان کے لوگوں کی طرف سے دی گئی عظیم قربانیوں کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ یہ ایوان جمہوری قوتوں کے اس اعتقاد کا اعادہ کرتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل اس کے عوام کی فلاح آئینی اور جمہوری اداروں کے استحکام، قومی مسائل کے حل کیلئے آئینی طریقہ کار اختیار کرنے، وفاق کو مستحکم کرنے اور پاکستان کے عوام کو با اختیار بنانے میں مضمر ہے۔ یہ ایوان سمجھتا ہے کہ جمہوریت اور جمہوری اداروں کے فروغ کیلئے اختیارات کی تقسیم کے بنیادی آئینی اصول پر پوری طرح عمل ہونا چاہئے اور تمام ریاستی اداروں کو آئین کے تحت مقرر کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے۔ قرارداد میں نامزد کیا گیا ہے کہ یہ ایوان اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ اقتدار اعلیٰ عوام کے پاس ہے اور پارلیمنٹ عوام کی اجتماعی بصیرت کی مخزن ہے، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان سیاسی قیادت کی جانب سے جمہوریت کے استحکام کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تائید وحمایت کرتا ہے اور ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔ جس وقت اسفندیار ولی خان ایوان میں قرارداد پیش کر رہے تھے تو اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان ایوان سے اُٹھکر باہر چلے گئے جبکہ ایم کیو ایم کے ارکان نے قرارداد سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ قرارداد پیش کرنے کے بعد جب اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے قرارداد کو منظور کیے جانے کے لئے رائے شماری کرنا چاہی تو حکومتی حمایت کے ارکان آواز بلند یس، اپوزیشن نے ’نو نو ‘ کے نعرے لگائے۔ ایم کیو ایم نے اس موقع پر خاموش اختیار کی اور اپوزیشن کے ارکان ایوان سے اٹھکر باہر جانے لگے جس پر وزیراعظم نے اسپیکر سے کہا کہ میری تجویز ہے کہ اس قرارداد پر ووٹنگ بعد میں کرائی جائے کیونکہ جمعہ کی نماز کا وقت ہے اور نماز کی ادائیگی کے لئے جانا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے قرارداد کا مسودہ تمام اراکین بشمول اپوزیشن کو فراہم کر دیا ہے وہ اچھی طرح اس کا جائزہ بھی لے لیں، وزیراعظم نے کہا گو کہ ایوان میں ہماری اکثریت ہے لیکن اس کے باوجود ہم قرارداد کو بلڈوز نہیں کرنا چاہتے۔ جس پر اسپیکر نے قرارداد پر ووٹنگ پیر تک کے لئے موخر کردی اور قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام پانچ تک ملتوی کردیا گیا۔

بےباک
01-24-2012, 08:07 AM
شکریہ تانیہ جی ، زبردست مضمون لکھا ، واقعی ان سے غلطیاں ہوئیں ، :vahidrk::vahidrk::vahidrk:بلکہ بطور خاص غلطیاں کی گئیں ،،،،،، ہاہاہاہاہا

این اے ناصر
01-24-2012, 07:07 PM
شئرنگ کاشکریہ ۔