PDA

View Full Version : حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ



بےباک
01-19-2012, 07:20 AM
پاکستان سے ڈیڑھ ارب ڈالر لوٹے گئے، موقر سوئس ادارے کی رپورٹ

لاہور (صابر شاہ ۔ جنگ نیوز) سوئٹزر لینڈ میں قائم باسل انسٹیٹیوٹ آن گورننس کے انٹرنیشنل سینٹر فار ایسٹ ریکوری نے جو ترقی پذیر ملکوں سے چوری کئے گئے اثاثوں کی بازیابی میں عالمی قانونی امداد فراہم کرتا ہے نے انکشاف کیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور ان کی مرحومہ اہلیہ بینظیر بھٹو پاکستان کے قومی خزانہ سے مبینہ طور پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم لوٹنے میں ملوث تھے۔ سوئٹزرلینڈ میں قائم اس ادارے نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی اس رقم میں سے اب تک صرف ایک سو بلین (10 کروڑ) ڈالر کا پتہ لگایا جا سکا ہے۔ اپنی ویب سائٹ پر اس انسٹیٹیوٹ نے مزید لکھا ہے کہ بینظیر بھٹو کے وزارت عظمیٰ کے دور میں زرداری مبینہ طور پر کرپشن سے متعلق سرگرمیوں کے ماسٹر مائنڈ تھے جس سے بینظیر بھٹو بھی آگاہ تھیں اور لاکھوں ڈالر کی کرپشن کی گئی ہے۔ زرداری کاروباری افراد کو ٹھیکے دینے کے عوض مخصوص تناسب سے اپنا حصہ وصول کرنے کی شہرت رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے مسٹر فائیو پرسنٹ، مسٹر 10 پرسنٹ، مسٹر 20 پرسنٹ، مسٹر 30 پرسنٹ اور مسٹر 100 پرسنٹ کے عرف سے مشہور ہوئے۔ انسٹیٹیوٹ کے مطابق بھٹو اور زرداری کی جمع کی ہوئی کل رقم میں سے 100 ملین سے زیادہ برطانیہ، فرانس، سوئٹزر لینڈ، امریکہ اور برٹش ورجن آئی لینڈ میں ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق بھٹو، زرداری کی پاکستان سے لوٹی گئی رقم ڈیڑھ ارب ڈالر سے بھی زائد ہے۔ انسٹیٹیوٹ مزید لکھتا ہے کہ ان کا یہ ناجائز منافع حکومت کی ہر مخصوص سرگرمی جس میں چاول کی برآمد کی ڈیل، سرکاری جائیدادوں کی فروخت، پی آئی اے کیلئے طیاروں کی خریداری، شوگر ملز، آئل و گیس کے پرمٹس، نشریات کے لائسنسوں، سرکاری صنعتوں کی نجکاری اور سرکاری ویلفیئر سکیموں میں سے اپنا ناجائز حصہ وصول کرنے تک شامل ہیں۔ آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کا تعارف کراتے ہوئے انسٹیٹیوٹ لکھتا ہے کہ بینظیر بھٹو دوبارہ پاکستان کی وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ وہ دونوں دفعہ مبینہ کرپشن اور خراب حکمرانی کے الزامات کے تحت وزارت عظمیٰ سے معزول کی گئیں۔ 1998ء سے 2007ء تک بے نظیر بھٹو دبئی اور لندن میں جلا وطن رہیں۔ وہ اکتوبر 2007ء میں سابق صدر پرویز مشرف کے ساتھ ایک سمجھوتے کے بعد وطن واپس لوٹیں جس کے تحت ان کے خلاف لگائے گئے کرپشن کے تمام الزامات واپس لے کر ان کو معافی دی گئی۔ تاہم بے نظیر بھٹو کی سیاسی زندگی 27 دسمبر 2007ء میں ان کے قتل پر اختتام پذیر ہوئی۔ ان کے شوہر آصف علی زرداری نے (پاکستان کے موجودہ صدر) ان کے دونوں ادوار میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ وہ 1993ء سے 1996ء تک وزیر سرمایہ کاری رہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے 1998ء میں شائع ہونے والے جان ایف برنز کے آرٹیکل کا حوالہ دیا ہے جس میں بھٹو کی لاکھوں ڈالر کی رقم کا سراغ لگانے کے حوالے سے لکھا گیا تھا۔ نیویارک ٹائمز میں اس حوالے سے اشاعت نے بی بی سی کی سٹوری کیلئے مواد کا کام دیا تھا۔ 2005ء میں ریمنڈ ڈبلیو بیکر کی کتاب بھی اس حوالے سے شائع ہوئی تھی۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں اثاثہ جات کی وصولی کے عالمی مرکز باسل انسٹیٹیوٹ آف گورننس میں شامل اہم شراکت داروں میں آئی ایم ایف، انٹرنیشنل اینٹی کرپشن اکیڈمی ‘دی کونسل آف یورپ، دی یورپین بینک برائے تعمیرنو و ترقی‘اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی)‘ ترقی و تعاون کی سوئس ایجنسی‘ معاشی معاملات کا سوئٹزرلینڈ کا سیکرٹریٹ‘ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چوری شدہ اثاثوں کی وصولی کیلئے ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کی ہدایت‘ برطانیہ کا بین الاقوامی ترقی کا محکمہ، اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام، اقوام متحدہ کا ادارہ برائے منشیات و جرائم‘ سوئس نیشنل سائنس فاؤنڈیشن اور یونیورسٹی آف باسل (سوئٹزرلینڈ) وغیرہ شامل ہیں۔ باسل انسٹیٹیوٹ آف گورننس کی ویب سائٹ پر بھی ایک کتاب ”اثاثہ جات وصولی میں غیرریاستی عناصر“ کے تعارفی پیراگراف میں دلچسپ انداو سے بیان کیا گیا ہے۔

بےباک
01-19-2012, 08:04 AM
12 لاکھ جعلی مستحقین اور ارکان پارلیمنٹ کی سفارشات
ارکان پارلیمنٹ کی سفارش پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 12 لاکھ سے زیادہ جعلی مستحقین شامل کردیے گئے۔ نادرا کے انکشاف پر ان افراد کا وظیفہ بند کردیا گیا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام سے غریبوں کی امداد شروع کی تو فصلی بٹیرے سامنے آنا شروع ہو گئے ،
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کارڈ کے اجراء میں عوامی نمائندے مستحق افراد کو چھوڑ کر اپنوں کو نواز رہے ہیں
آج پیپلز پارٹی کا تیسرا دورِ حکومت چل رہا ہے۔ پاکستان میں برسراقتدار آنے والی ہر سیاسی جماعت کا اپنے دور میں ایک مخصوص نعرہ رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کا نعرہ بہت مقبول تھا۔ اس کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں روٹی، کپڑا اور مکان کے ساتھ ساتھ ’’پیپلز پروگرام‘‘ بھی چلتا رہا جبکہ موجودہ دور میں اسی جماعت کا’’بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام‘‘ کا نعرہ چل رہا ہے۔ملک کے غریب اور مستحق افراد کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام 2008ء میں شروع کیا گیا۔ جس وقت یہ پروگرام شروع کیا گیا تھا تب حکومت کا مؤ قف تھا کہ کوئی تیس لاکھ کے لگ بھگ افراد اس پروگرام سے مستفید ہونگے جبکہ موجودہ غربت سروے کے تحت مزید بیس لاکھ خاندانوں کو بی آئی پی ایس کے ذریعے معاشی امداد فراہم کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔اس طرح یہ تعداد بڑھ کر پچاس لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔
یہ پروگرام شروع کرتے وقت چند شرائط بھی رکھی گئیں جن کے مطابق اس پروگرام سے غریب اور نادار افراد کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی مستفید ہو سکیں گے جن کی ماہانہ تنخواہ چھ ہزار روپے تک ہوگی جبکہ جو لوگ پنشن لے رہے ہیں یا بیت المال سے مستفید ہو رہے ہیں وہ اس پروگرام میں شامل ہونے کے اہل نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ جن افراد کے اکاؤنٹ غیر ملکی کرنسیوں میں موجود ہیں، جن لوگوں نے نادرا کے اوورسیز کارڈ بنا رکھے ہیں یا جن افراد کے پاس تین ایکڑ زرعی اراضی ہے اُن کو بھی اس پروگرام میں شامل نہیں کیا جائیگا۔ابتدائی مرحلے میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ شروع میں مستحق افراد کو رقم ڈاکخانے کے ذریعے فراہم کی جائے گی بعد ازاں جب اُن افراد کے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کارڈ بن جائینگے تو پھر یہ رقم خود بخود ہی مل جائے گی۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ کسی رکن پارلیمنٹ کی طرف سے اگر کسی غیر مستحق فرد کو اس پروگرام میں شامل کیا گیا اور بعد ازاں اس کی نشاندہی ہو گئی تو اس کو پروگرام سے خارج کر دیا جائیگا۔
ساری دنیا میں فلاحی پروگرام سوشل سیکٹر میں شروع کئے جاتے ہیں جبکہ بی آئی ایس پی وہ پہلا پروگرام ہے جو حکومتی سطح پر شروع کیا گیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کئے جائیں تو اس سے اچھی اور بات نہیں ہو سکتی اور اس سے عوام اور بالخصوص کم آمدنی والے طبقے کو زیادہ فائدہ ہوگا۔بلاشبہ یہ موجودہ حکومت کا ایک انقلابی پروگرام ہے جو اپنے مقاصد کے حصول کیلئے ہمہ تن مصروف عمل ہے۔ اس پروگرام کا مقصد کم آمدمی والے افراد خصوصاً خواتین کو بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ اپنے گھریلو معاملات خوش اسلوبی سے چلا سکیں۔ اس کے علاوہ وسیلہ حق، وسیلہ روزگار، لائف انشورنس، موبائل فون بینکاری اور لائف انشورنس جیسی غیر معمولی خدمات ظاہر کرتی ہیں کہ اس میں حکومتی نیک نیتی شامل ہے لیکن مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث مستحق اور نادار افراد کو کئی مشکلات درپیش ہیں۔
حکومتی پالیسی ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم ملک بھر کے ڈاکخانوں کے ذریعے ادا کی جائے گی۔ بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن محترمہ فرزانہ راجہ کے مطابق حکومت نے ڈاکیوں کو ہر ایک منی آرڈر پر تین روپے اس کی تنخواہ کے علاوہ مقرر کئے ہیں۔ اس طرح اگر کوئی ڈاکیہ دو سو منی آرڈر تقسیم کرتا ہے تو اسے اس کی تنخواہ کے علاوہ ایک ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ یہ اقدام محکمہ ڈاک کے عملے کو رشوت لینے سے روکنے کی حکومتی کوشش ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی ڈاکیہ کسی مستحق سے رشوت طلب کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں کے انکشاف پر محکمہ ڈاک کے کئی افسران نوکری سے فارغ جبکہ کئی معطل کئے جا چکے ہیں۔ بی آئی ایس پی کے تحت محکمہ ڈاک کا عملہ بغیر رشوت طلب کئے مستحق افراد کو رقم اُن کے گھروں کی دہلیز تک پہنچانے کا پابند ہے جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔
بی آئی ایس پی کے سلسلہ میں محکمہ ڈاک کی خدمات لائق تحسین ہیں کیونکہ اس طرح مستحق افراد تک آسانی سے رقم پہنچ جاتی ہے لیکن چند کالی بھیڑیں اس محکمہ کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں۔ اس وقت بھی ملک بھر کے بیشتر ڈاک خانوں میں محکمہ ڈاک کا عملہ مستحق افراد کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ مستحقین کو گھر کی دہلیز تک رقم پہنچانا تو دور کی بات ڈاک خانہ آنے والے افراد کو رشوت دیئے بغیر نہ رقم دی جاتی ہے اور نہ ہی حقائق بتائے جاتے ہیں۔ دیہاتی علاقوں میں کئی مستحقین جن میں بوڑھے، معذور اور بیوائیں شامل ہوتی ہیں میلوں کا سفر طے کرکے ڈاک خانہ پہنچتے ہیں پھر بھی دادرسی نہیں ہوتی۔گزشتہ دنوں مجھے ایک ضروری کام کے سلسلے میں ضلع مانسہرہ جانا پڑا جہاں یونین کونسل بٹل کے پوسٹ آفس کے سامنے مستحق افراد کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھی۔ ان افراد سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت آٹھ ہزار روپے کی ادائیگی ہو رہی ہے جبکہ محکمہ ڈاک کا عملہ فی کس دو سو روپے رشوت لے کر رقم دیتا ہے۔ اگر عملہ کو رشوت نہ دی جائے تو پھر رقم تو درکنار حقائق بتانا بھی گوارہ نہیں کرتے۔ یہ تو صرف ایک چھوٹے سے علاقہ کی مثال ہے جبکہ اس پروگرام کا دائرہ کار پورے ملک تک پھیلا ہوا ہے۔ نہ جانے کتنے ایسے لوگ ہوں گے جو ان زیادتیوں کا نشانہ بنتے ہوں گے۔
معاملہ صرف یہاں تک محدود نہیں بلکہ کئی ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو بی آئی ایس پی کے خود ساختہ نمائندے بن کر اس پروگرام کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔ حالیہ غربت سروے کے بعد کئی افراد نے انٹرنیٹ کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے مستحقین کو لوٹنا شروع کر دیا ہے۔ سکور کارڈ ٹریکنگ کی سہولت جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ویب سائٹ پر مفت دستیاب ہے یہ افراد غریب اور نادار لوگوں کی ناخواندگی کا فائدہ اُٹھا کر اُنہیں لوٹ رہے ہیں۔ اگر کوئی فارم اہل قرار پاتا ہے تو اُس کا 100روپے وصول کرتے ہیں بصورت دیگر صرف چیکنگ کی صورت میں 20 سے 50 روپے تک وصولی ہوتی ہے۔ اس طرح کئی علاقوں میں یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور حرام کی کمائی دھڑا دھڑ پیٹ کا ایندھن بن رہی ہے۔ قدرت کا قانون اٹل ہے کہ ناجائز ذریعے سے کمائی گئی دولت کبھی راس نہیں آتی بلکہ یہ انسان کو مختلف پریشانیوں اور مصیبتوں میں مبتلا کر دیتی ہے لیکن پھر بھی ہم سمجھنے سے قاصر ہیں۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عوام سے قریبی رابطے کیلئے بی آئی ایس پی کے دفاتر یونین کونسل کی سطح پر قائم کئے جاتے تاکہ عوام اس طرح خوار نہ ہوتے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے چیئرپرسن فرزانہ راجہ کی خدمات لائق تحسین ہیں کیونکہ وسیلہ حق، وسیلہ روزگار اور وسیلہ صحت پروگراموں کے تحت غریب رجسٹرڈ لوگوں کو مستفید کیا جا رہا ہے ۔وسیلہ حق پروگرام کے تحت کمپیوٹر قرعہ اندازی کے ذریعے مستحق خاندانوں کو نہ صرف تین لاکھ روپے تک کی امداد دی جاتی ہے بلکہ ان خاندانوں کو تربیت بھی دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہیلتھ انشورنس اور پیشہ ورانہ تربیت بھی قابل ذکر پروگرام ہیں۔ ہیلتھ انشورنس کے تحت مستحق خاندانوں کو سالانہ پچیس ہزار روپے کی صحت انشورنس دی جاتی ہے جبکہ پیشہ ورانہ تربیت پروگرام کے تحت رجسٹرڈ خاندان کے ایک فرد کو کسی ہنر کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکے۔ صدر آصف علی زرداری بھی اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ وسیلہ حق پروگرام امداد نہیں بلکہ خود روزگار اسکیم ہے جس کے تحت حکومت غریبوں کی مدد کر رہی ہے۔ اس پروگرام کے تحت خواتین کو دو دو بھینسیں دی جائیں گے جن سے اُن کی مالی حالت بہتر ہونے لگے گی۔
اس پروگرام کے ذریعے موجودہ حکومت ملک کے لاکھوں نادار شہریوں کی مالی اعانت کر رہی ہے تاہم مختلف اخباری بیانات اور عوامی شکایات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رقم اصل حقداروں کو نہیں مل رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا اور ابتدائی طور پر چونتیس ارب روپے کی رقم غریب عوام میں تقسیم کرنے کیلئے مختص کی۔ ابتدائی طور پر اس پروگرام سے پینتیس لاکھ خاندان مستفید ہوئے جبکہ گزشتہ بجٹ میں یہ رقم بڑھا کر 70ارب روپے کر دی گئی۔اس پروگرام کے لئے فنڈ بڑھانے کا مقصد چھوٹے اور آسان قرضوں کے ذریعے غریبوں کو روزگار فراہم کرنا، معاشی سطح پر خودکفیل بنانا اور ان کی معاشی استعداد کار کو بہتر بنانا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ اسکیم لائق تحسین ہے لیکن ایک خاندان کو ایک ہزار روپے ماہانہ ملنا آٹے میں نمک کے برابر ہے کیونکہ مہنگائی جس تناسب سے بڑھ رہی ہے وہ ایک ہزار بالکل ہی بے معنی ہو کر رہ گیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کو تین برس مکمل ہو گئے ہیں۔موجودہ حکومت اگر واقعی ملک کے غریبوں کی مدد کرنا چاہتی ہے تو وہ اس پروگرام کو اتنا آسان بنائے تاکہ غریب اور عام آدمی آسانی سے اس سہولت سے فائدہ اُٹھا سکیں۔ اس کے علاوہ وہ پنشن یافتہ افراد جن کی عمریں ساٹھ سال سے تجاوز کر چکی ہیں اُنہیں بھی اس پروگرام میں شامل کیا جائے کیونکہ دنیا کے کئی ممالک میں ایسے لوگوں کو بڑھاپا الاؤنس دیئے جاتے ہیں۔ حکومت کو مستحقین کیلئے رقم بھی بڑھانا چاہئے کیونکہ دو یا تین ہزار روپے سے غریب آدمی گھر کا چولہا تو دور کی بات بجلی کا بل بھی ادا نہیں کر سکتا۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کارڈ کے اجراء میں عوامی نمائندے مستحق افراد کو چھوڑ کر اپنوں کو نواز رہے ہیں۔ رشوت خوری کے جراثیم اب قوم کے خون میں شامل ہو چکے ہیں اور اس گندے خون کو صاف کرنے کیلئے حکومت کو اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ کالی بھیڑیں بے نقاب ہو سکیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے عمل کو شفاف سے شفاف تر بنایا جائے تاکہ معاشرے کا محروم طبقہ بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔

رخشی
01-19-2012, 11:06 AM
بے باک صاحب
بلیک شیپ کیا بے نقاب ھونگی .انکو تحفظ دینے والے.وڈیاں نئیں مک دے