PDA

View Full Version : جرمنی اور اٹلی کے جاسوس؟؟؟



محمد یونس عزیز
01-21-2012, 10:03 AM
این جی او کی آڑ میں جاسوسی سرگرمیاں ، اور نیٹو سپلائی روٹ
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120121/Sub_Images/1101430522-1.jpg
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20120121/Sub_Images/1101430523-1.gif
ملتان ۔ کینٹ پولیس کے علاقے قاسم بیلا سے دو غیر ملکیوں کو اغوا کر لیا گیا۔ اغوا ہونے والوں کا تعلق اٹلی اور جرمنی سے ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جرمنی سے تعلق رکھنے والے مسٹر برنڈ اور اٹلی کے مسٹر جووانی پاکستان میں ڈبلیو ایچ ایچ نامی فلاحی تنظیم کے لئے کام کرتے تھے یہ تنظیم سیلاب متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی مدد کرنے کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے۔ گزشتہ روز مسٹر برنڈ، مسٹر جووانی اور ایک جرمن خاتون کوٹ ادو سے واپس پہنچے تھے جہاں پر ایک کار میں سوار 4 مسلح افراد آ گئے انہوں نے تینوں غیر ملکیوں کو یرغمال بنا لیا۔ انہوں نے مسٹر برنڈ اور مسٹر جووانی کو شلوار قمیض پہننے کا حکم دیا کپڑے تبدیل کروانے کے بعد ملزمان دونوں کو اغوا کرکے فرار ہو گئے۔

بےباک
01-23-2012, 10:07 AM
http://ummat.com.pk/2012/01/23/images/news-12.gif

بےباک
01-26-2012, 12:40 PM
http://ummat.com.pk/2012/01/26/images/story2.gif

admin
01-26-2012, 07:24 PM
ان کی تو موجین لگ گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اغواء کاروں نے کپڑے بھی اپنے پاس سے دئیے واہ۔۔۔۔۔:friends:

اگر کوئی مجھے ایسے اپنے پاس سے کپڑے دینے کی حامی بھرے تو روز اغواء ہونے کو تیار ہوں۔:Ghelyon:

بےباک
01-27-2012, 09:58 AM
http://ummat.com.pk/2012/01/27/images/news-12.gif

بےباک
01-29-2012, 11:10 PM
نائن الیون کے بعدجنرل (ر) پرویزمشرف نے ایک ٹیلی فون کال پر پاکستان کی سا لمیت ‘اقتداراعلیٰ اورقومی خودمختاری سے دست برداری کا جوفیصلہ کیاتھا اس کے تباہ کن نتائج ظاہرہوگئے ہیں ۔اس جنگ کا حصہ بن کرپاکستان کا چپہ چپہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ یورپی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکار وں کی چراگاہ بن گیاہے۔ گزشتہ دنوں ناروے کی محکمہ داخلہ وسلامتی کی خاتون عہدیدار اس وجہ سے مستعفی ہونے پرمجبورہوگئیں کہ ان کی زبان سے یہ بات نکل گئی کہ ناروے کی فوج کی خفیہ ایجنسی کے اہلکاربھی پاکستان میں کام کررہے ہیں۔ گزشتہ دنوں پشاورسے جرمنی کے تین جاسوس بھی گرفتارہوئے ہیں‘ ان جاسوسوں اورخفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے مقامی ٹھیکیداروں کو فوج اورپولیس کی وردیاں بنانے کا کام دے رکھا تھا ‘ان کی رہائش گاہ سے خواتین کے برقعے بھی برآمد ہوئے ہیں۔ جرمنی کا تعلق افغانستان کے مسئلے سے گہرا ہے۔ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں عالمی کانفرنس جرمنی کے شہربون میں منعقد ہوتی رہی۔ یورپ کے یہ ادارے پاکستان کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ تیار کرنے کے ساتھ خفیہ ایجنسیوں کے لیے کام بھی کرتے ہیں۔ ناروے کے جاسوسوں کے انکشاف کے بعد بری فوج کے سابق سربراہ جنرل اسلم بیگ نے ایک اخبارکو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ”افغانستان میں امریکا کے جتنے اتحادی ہیں ان سب کی انٹیلی جنس ایجنسیاں بھارتی جاسوسی نیٹ ورک کی مدد کرتی ہیں خواہ وہ نارویجن ہوں یا کوئی اوریورپی ملک‘ تقریباً سارے یورپی ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیاں پاکستان میں سرگرم ہیں ان میں اسرائیلی موساد بھی ہے جو بھارت کی مدد کرتی ہے‘ خاص طورپر ہماری مغربی سرحد ان ایجنٹوں سے بھری پڑی ہے“۔ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے بعد قوم کو تو معلوم ہوگیا تھا کہ کس قسم کے سفاک قاتل‘ دہشت گرد اورخونی جتھے پاکستان کے چپے چپے پرگھوم رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت جو تباہی مچی ہوئی ہے۔ اس کی تیاری امریکی محکمہ دفاع نے نائن الیون سے قبل 1999ءمیں ہی کرلی تھی۔ ایشیا 2015ءکے نام سے امریکی تھنک ٹینک اینڈکارپوریشن کی مرتبہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2012ءتک مسلم شدت پسند اور طالبان تخریبی کارروائیاں تیزکردیں گے۔ اس وقت پاکستان میں ”طالبان پاکستان“ کا نام ونشان بھی نہیں تھا۔ نائن الیون کے بعد امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کی خفیہ ایجنسیوں نے پاکستان پر یلغارکررکھی ہے۔ ان خفیہ ایجنسیوں نے این جی اوز اور تھنک ٹینک کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے‘ ان اہلکاروں نے پاکستان کو تخریب کاری‘ دہشت گردی ‘ ٹارگٹ کلنگ‘ بم دھماکوں کے ذریعے عدم استحکام کا شکارکردیاہ ے۔ وزیر داخلہ رحمن ملک کہتے ہیں کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں تیسری طاقت ملوث ہے لیکن وہ امریکا‘ بھارت اور صہیونی وصلیبی طاقتوں کانام نہیں لیتے‘ جرمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کے قیام گاہ سے برقعے اورفوجی وپولیس کی وردی کا ملنا اس کی علامت ہے۔ یہ ایجنسیاں ہی مہران بیس جیسے حملوں کی ذمہ دارہیں۔ (بشکریہ روزنامہ جسارت)

admin
01-30-2012, 01:08 PM
:vahidrk: