PDA

View Full Version : کہیں دیر نہ ہو جائے ،



بےباک
01-24-2012, 08:48 AM
ملک میں بحران کا سلسلہ جاری ہے، اقدام کون کریگا، کہیں دیر نہ ہوجائے !!!!
دبئی (نقطہ نظر: … شاہین صہبائی) تمام سنجیدہ اور متعلقہ حلقوں میں آج کل یہ اہم سوال پوچھا جا رہا ہے کہ ملک میں موجودہ عدالتی، سیاسی، اقتصادی، انتظامی اور جمہوری بھیڑ بند کو کس طرح توڑا جائے۔ ان تمام حساس لیکن پیچیدہ معاملات، جنہوں نے ریاست پاکستان کے معمولات میں ایک جمود پیدا کردیا ہے، میں سرفہرست ساکھ کا بحران ہے۔ ان میں عدالتی فیصلوں کی ساکھ، سرکاری اقدامات کی ساکھ، فوجی یقین دہانیوں کی ساکھ اور میڈیا اور ٹی وی پروگراموں کی ساکھ شامل ہے۔ جو بات ساکھ کے معاملے میں کھری اترتی ہے وہ ہے غریب اور بے بس عوام کی قابل رحم حالت۔ ملک کی حکومت پر چند دوست اور ساتھی قابض ہیں اور حکومت تمام معاملات اپنی بقاء کے منشور کے ذریعے دیکھتی ہے۔ ریاست کے امور غیر سنجیدہ انداز میں چلائے جا رہے ہیں اور ایک بھیانک مشین مختلف مختلف بیانات و معاملات کو توڑ مروڑ کر انہیں سازشوں میں تبدیل کردیتی ہے۔ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ اصل مقصد بقاء ہے اور یہ کام روز مرہ کی بنیاد پر جاری ہے اور چالبازیوں کی کتاب کا استعمال جائز ہے۔ ملک میں جاری اس جمود کی چند مثالیں یہ ہیں:
# عدلیہ نے کئی فیصلے سنائے ہیں لیکن ایگزیکٹو نے ان پر عملدرآمد سے انکار کردیا ہے۔ بحران جاری ہے۔
# کئی فیصلے انتظامیہ میں بیٹھے سینئر لوگوں کے خلاف ہیں اور چونکہ انہیں عملاً اپنے خلاف استغاثہ قائم کرنا ہوگا اسلئے مفادات کی جنگ کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ تنازع جاری ہیں۔
# کئی معاملات ٹوٹے پھوٹے انداز اور توڑ مروڑ کر پیش کی گئی اشکال میں ہیں اور مجرمانہ حد تک انہیں ہیر پھیر کرکے پیش کیا گیا ہے (ان میں صدارتی استثنیٰ کا ایشو ایک ہے) اسلئے یہ تنازع بھی جاری ہے۔
# پارلیمنٹ بگڑے ہوئے سیاسی اتحادیوں پر دباؤ ڈال کر ان کا احتساب کرنے یا انہیں راہِ راست پر لانے میں ناکام ہوگئی ہے۔ ان اتحادیوں کے اپنے ذاتی اور مالی مفادات ہیں اور ان میں بیشتر بڑے سیاسی، مالیاتی اور ادارتی کرپشن میں ملوث ہیں۔
# میمو گیٹ نے فوج اور حکومت کو آمنے سامنے ٹکراؤ کی پوزیشن پر لا کھڑا کردیا ہے۔ اس تنازع میں فوج نے امریکی شہری کی جانب سے پیش کیے گئے ثبوتوں کی تصدیق اور حمایت کی ہے۔ یہ ثبوت آئی ایس آئی چیف نے دیکھے اور ان کے باس نے منظور کیے۔ اس ایشو نے کئی لوگوں کیلئے خطرات پیدا کردیے ہیں۔ حکومت منصور اعجاز کو پاکستان آنے سے روکنے کیلئے کیوں ہر ممکن طریقہ استعمال کر رہی ہے۔ کیوں دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا گیا ہے۔ کیا کوئی ایسی چیز ہے جسے چھپایا جانا چاہئے۔ حسین حقانی کو اتنا تحفظ کیوں دیا جا رہا ہے اور ان کے موبائل فونز کہاں غائب ہوگئے۔ تحقیقات کو اپنے منطقی انجام تک کیوں پہنچنے نہیں دیا جا رہا۔ منصور اعجاز کے خلاف تفتیش نہیں ہو رہی تھی بلکہ وہ تو گواہ تھے اور ان کے پاس کچھ ثبوت تھے۔ تجسس اور پراسراریت برقرار ہے۔
# پاک فوج اور آئی ایس آئی اقتدار پر قبضہ کرنا نہیں چاہتی لیکن جو کمانڈرز اور جرنیل اپنی بے عزتی محسوس کرتے ہیں وہ شاید اپنے دو سینئر افسران سے اتفاق نہیں کرتے۔ یہ کوئی سرگوشی میں کہی گئی بات نہیں بلکہ ملک کے ٹی وی چینلوں پر کہی جا رہی ہے۔ لہٰذا اگر دو سینئر باسز کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا تو شاید باقی خود کو نہ روک پائیں اور اس کا شکار پورا نظام ہوگا۔ خطرات برقرار ہیں۔
# معیشت کی حالت خراب ہے۔ اشیاء کی قیمتیں قابو سے باہر ہیں، مختلف اشیاء کی قلت ہے اور حکومت ایسے برتاؤ کر رہی ہے جیسے اس نے اپنی غیر معمولی اقتصادی کارکردگی سے عوام کے دل و دماغ جیت لیے ہیں۔ صورتحال خرابی کی جانب گامزن ہے۔
# جج صاحبان ناراض ہیں کیونکہ جن معاملات پر ریاست پاکستان کو غور کرنا چاہئے تھا وہ سب عدالتیں نمٹا رہی ہیں اور جب ان کے فیصلے اقتدار میں بیٹھے سیاست دانوں کے خلاف آتے ہیں تو ججوں پر تنقید کی جاتی ہے۔ عدالتی توہین کا سلسلہ جاری ہے۔
# صدر پاکستان عدالتوں سے جنگ لڑ رہے ہیں تاکہ غیر ملکی بینکوں میں موجود ان کے لاکھوں کروڑوں بچ جائیں۔ وہ آئینی استثنیٰ کی آڑ میں چھپ رہے ہیں۔ یہ استثنیٰ آئین میں اس لیے رکھی گئی تاکہ قصور وار نہیں بلکہ ایسے بے گناہ صدر کو تحفظ مل سکے جو حریف قوتوں کے الزامات سے پریشان ہو۔ صدر صاحب کو اس بات سے انکار نہیں کہ بینکوں میں ان کے لاکھوں موجود ہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ان سے اس معاملے میں سوالات نہیں پوچھے جا سکتے۔ مذاق کا سلسلہ جاری ہے۔
# گزشتہ چند ہفتوں اور مہینوں کے دوران، وزیراعظم صاحب کو بالآخر اور بدقسمتی سے اپنے اصل اختیارات استعمال کرنے کا موقع ملا ہے لیکن اب بہت دیر ہوچکی ہے کیونکہ تمام عناصر مل کر ان کے عہدے کی مدت کم کرنے پر آمادہ ہیں۔ چاہے پی پی ایک مرتبہ پھر الیکشن کیوں نہ جیت لے لیکن یہ گیلانی صاحب کی آخری مدت ہے۔ لہٰذا ان کا آخری کھیل جاری ہے۔
# اپوزیشن تذبذب کا شکار ہے کیونکہ میاں نواز شریف کو ڈر ہے کہ کہیں فوج اقتدار پر قبضہ ہی نہ کرلے اور اس لیے انہوں نے زرداری حکومت کو برداشت کرکے اس کی حمایت و حوصلہ افزائی کی ہے چاہے ان کی اس پالیسی سے ملک، معیشت اور ریاست کو کتنا ہی بڑا نقصان کیوں نہ اٹھانا پڑے۔ میاں صاحب کی کنفیوژن اور نتیجتاً ہونے والا نقصان جاری ہے۔
# اپوزیشن میں موجود عمران خان یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ زرداری پر حملے کیے جائیں یا نواز شریف پر، اسٹیبلشمنٹ نواز سیاست دانوں پر بھروسہ کیا جائے کہ اپنے حقیقی ساتھیوں پر ، جلد الیکشن کرائے جانے چاہئیں یا پھر زرداری کو تھوڑا موقع اور دینا چاہئے، فوجی اثر و رسوخ کو قبول کیا جائے یا اسے مسترد کیا جائے۔ ان کا سونامی جاری ہے۔
# میڈیا کنفیوژن کا شکار ہے۔ ٹیکس دہندگان کے لاکھوں کروڑوں روپے حکومتی رائے کو پھیلانے کیلئے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ تنقید کرنے والے میڈیا کو ادائیگیاں نہیں ہو رہیں۔ ہاتھیوں کی لڑائی میں میڈیا کے ایک حصے کو مالی فوائد اور دوسرے کیلئے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں۔ نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ کئی دیگر مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بحیثیت ایک ریاست ناکام ہو رہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دو ادارے، دو سینئر آرمی جرنیل، دو سیاسی لیڈر یا میڈیا گروپس بظاہر کسی بات پر متفق نظر نہیں آتے۔ ہر کوئی آئین کے قابل احترام دستاویز ہونے کی بات کرتا ہے لیکن کسی کو اس بات کی پروا نہیں کہ آئین میں لکھا کیا ہے اور اس کا مطلب کیا ہے۔ یہ دستاویز خود اس قدر مبہم ہے، یا پھر اسے مبہم کردیا گیا ہے، کہ ہر اہم شق کی مختلف تشریحات نکلتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مرتبہ سپریم کورٹ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے اور حتمی تشریح اور وضاحت جاری کرنا پڑتی ہے اور جب سپریم کورٹ کے فیصلے آتے ہیں تو انہیں قبول کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان پر عملدرآمد ہوتا ہے۔ اس طرح یہ بحران جاری رہتا ہے لیکن ملک کے عوام اور خود ملک اس بحران کو برداشت کرسکتے ہیں۔ کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی کو ہار ماننا ہوگی۔ جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس بحران سے بچا جا سکتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اقدام کرے، چاہے اس کا اقدام انفرادی ہو، ادارتی ہو یا اجتماعی ہو۔ کہیں دیر نہ ہوجائے۔

این اے ناصر
01-24-2012, 07:01 PM
بہت خوب ۔ شئیرنگ کاشکریہ