PDA

View Full Version : اولیاءاﷲ کی پہچان



گلاب خان
01-26-2012, 09:43 PM
اَعُوذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیمِ

بِسمِ اﷲِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ

فَمَن یُّرِدِ اﷲُ اَن یَّھدِیَہ یَشرَح صَدرَہ لِلاِسلاَمِ (سورةُ الانعام، اٰیة:۵۲۱)

سن لے اے دوست جب ایام بھلے آتے ہیں

گھات ملنے کی وہ خود آپ ہی بتلاتے ہیں

اللہ تعالیٰ جس بندہ کو اپنا ولی بنانا چاہتے ہیں، اپنا دوست بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لیے غیب سے ایسے اسباب پیدا فرماتے ہیںکہ وہ خود حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ یااللہ میں پہلے کیا تھااور اب کیا سے کیا ہوگیا ہوں اور دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف ایک کشش اور جذب محسوس کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو شانِ جذب سے تعبیر فرمایا ہے۔

مثنوی میں پیر چنگی کے جذب کا واقعہ

مولانا رومی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک بڈھا چنگ بجا کر گانا گایا کرتا تھا، اسی وجہ سے اس کا نام پیر چنگی پڑ گیا تھا، اس کی آواز بہت اچھی تھی، جب اپنا چنگ بجا کر گانا گاتا تو جوان، بوڑھے، بچے سب کی طرف سے اس کو خوب حلوہ اور پیسہ ملتا تھا لیکن جب بڈھا ہوگیا اور اس کی آواز خراب ہوگئی تو جتنے عاشقِ آوازتھے سب بھاگ نکلے یہاں تک کہ اس کو فاقوں کی نوبت آگئی اور وہ بھوکوں مرنے لگا تب اس نے کہا کہ دنیا بہت بے وفا ہے، دنیا والوں نے ہم کو سخت دھوکا دیا، کاش ہم اس گناہ کو نہ کرتے اور اپنے پیدا کرنے والے اللہ کو یاد کرتے تو اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا میں بھی آرام سے رکھتا اور آخرت میں بھی آرام سے رکھتا لہٰذا وہ مخلوق سے دور مدینہ پاک کے قبرستان جنت البقیع میں ایک ٹوٹی پھوٹی قبر میں لیٹ گیا پھر اس نے اللہ تعالیٰ کو سنانا شروع کیا اور اللہ سے یوں کہا کہ اے اللہ! جب میری آواز اچھی تھی تو آپ کی مخلوق بوڑھے، بچے، جوان سب مجھ پر قربان ہوتے تھے، مجھ کو حلوہ کھلاتے تھے اور پیسہ دیتے تھے، اب جب آواز خراب ہوگئی تو ساری دنیا نے مجھ کوچھوڑ دیا لیکن اگر کسی کا بیٹا لنگڑا، لولا، اندھا، بہرا ہوتا ہے تو چاہے ساری دنیا اس کو چھوڑ دے لیکن ماں باپ اس کو نہیں چھوڑتے، جب ماں باپ کی محبت میں یہ اثر ہے کہ اپنے لنگڑے لولے، اندھے بچہ کو بہ نسبت تندرست بچہ کے ہر وقت پیار سے دیکھتے ہیں، ہر وقت اس کے لیے فکرمند رہتے ہیں کیونکہ ماں باپ یہ سمجھتے ہیں کہ تندرست بچہ تو اپنا کھا کما لے گا لیکن لولے لنگڑے معذور بچہ کے لیے ماں باپ کوئی بلڈنگ کرایہ پروقف کردیتے ہیںکہ ہمارا یہ بچہ کسی کام کا نہیں ہے لہٰذا اس کے لیے کچھ کرو، ایسا نہ ہو کہ بیچارہ بھوکوں مرجائے تو اے خدا! ماں باپ کی محبت آپ کی محبت کی ادنیٰ بھیک ہے۔ مولانا رومی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں



مادراں را مہر من آموختم

چوں بود شمعے کہ من افروختم

اے دنیا والو! ماوں کو محبت کرنا میں نے سکھایا ہے، اگر میں ماں کے دل میں اولاد کی محبت نہ رکھوںتو ساری دنیا کو اپنے بچوں سے پیارکرنا بھی نہ آئے، پھر میری محبت اور میری رحمت کا کیا عالم ہوگا۔ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کا صرف ایک حصہ نازل ہوا ہے باقی نناوے حصے اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں، اِس ایک حصہ رحمت کا اثر یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک ہر آدمی اپنی اولاد پر مہربان ہے، اپنے بال بچوں سے محبت کرتا ہے جہاں کہیں بھی آپ رحمت، مہربانی اور محبت دیکھیں گے وہ سب اسی ایک بٹا سو حصہ کا کرشمہ اور ظہور ہے، اﷲ تعالیٰ باقی نناوے حصہ رحمت قیامت کے دن ظاہر فرمائےں گے، پھر اللہ تعالیٰ کی بخشش اور رحمت کا کیا عالم ہوگا۔

امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے استاذ شیخ حماد حضرت سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ کی عیادت کو تشریف لے گئے۔ ہم لوگ حنفی ہیں اس لیے سوچئے کہ امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کا استاذ کتنا بڑا محدث اور کتنا بڑا اللہ والا ہوگا، حضرت سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ بھی بہت بڑے بزرگ، ولی اللہ اور تابعی تھے اور تابعی اس شخص کو کہتے ہیں جس نے صحابی کا دیدار کیا ہو اورصحابی اس کو کہتے ہیں جس نے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دیدار کیا ہو اور سید الانبیاءاس کو کہتے ہیں جس نے خدا کو دیکھا ہو اسی لیے قیامت تک اب کوئی صحابی نہیں ہوسکتا کیونکہ جس سید الانبیاءنے معراج میں اللہ کو دیکھا تھا اب خدا کو دیکھنے والی وہ آنکھ قیامت تک نہیں مل سکتی لہٰذا کوئی صحابی کا درجہ نہیں پاسکتاکیونکہ نبوت کا دروازہ بند ہوچکا ہے لیکن ولایت کا دروازہ کھلا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت تک بڑے بڑے ولی اللہ پیدا کرتا رہے گا۔ اگر ہم بھی تھوڑی سی محنت کر لیں تو ولی اللہ ہو کر دنیا سے جائیں گے۔

دنیا کی فنائیت

مرنا تو ہم سب کو ہے ہی، کیا اس مجمع میں کو ئی شخص ہے جو یہ کہہ دے کہ ہم کو مرنا نہیں ہے، مجلس میں کوئی ایسا شخص ہے جو کہہ دے کہ اسے موت نہیں آئے گی، ہر ایک کو موت آکر رہے گی اور اسے اپنا کارو بار، اپنی کار اور اپنا گھربار سب یہیں چھوڑ کر جانا پڑے گا یہاں تک کہ اس کا لباس بھی اتار لیا جائے گا، گھڑی بھی اتار لی جائے گی، ٹوپی بھی اتار لی جائے گی اور کفن میں لپیٹ کر قبر میں ڈال دیا جائے گا تب پتا چلے گا کہ دنیا کیا چیز ہے؟ اس پر مجھے اپنا ایک شعر یاد آیاجو دنیا کی حقیقت پر میں نے کہا تھا

یوں تو دنیا دیکھنے میں کس قدر خوش رنگ تھی

قبر میں جاتے ہی دنیا کی حقیقت کھل گئی

اختر نے ایک کتاب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سو پچاسی حدیثوں کا ترجمہ کیا ہے جس کا نام ہے حضور صلی اﷲعلیہ وسلم کی نظر میں دنیا کی حقیقت، اس کے ٹائٹل پر میرا یہ شعر لکھا ہوا ہے۔

جب مردہ زمین کے نیچے جاتا ہے خواہ وہ بڑے سے بڑا سیٹھ ہو، وزیراعظم ہو، بڑا مالدار ہو، مولانا ہو، کوئی بھی ہو جب قبر میں اُتارا جاتا ہے تو بزبانِ حال وہ یہ شعر پڑھتا ہوا جاتا ہے

شکریہ اے قبر تک پہنچانے والو شکریہ

اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم

اور

دبا کے قبر میں سب چل دئےے دعا نہ سلام

ذرا سی دیر میں کیا ہوگیا زمانے کو

بیوی بھی اپنے بچوں سے کہتی ہے کہ جلدی سے اپنے بابا کو قبر ستان پہنچاو، جس مکان کے بنانے میں کتنی نمازیں چھوڑیں، کتنا حرام کمایا،خدا کی کتنی نافرمانی کی اسی مکان سے اب بیوی بچے اس کو نکالتے ہیں، کہتے ہیں کہ جلدی نکالو۔ اسی لیے ایک بزرگ نے بڑی عمدہ بات کہی کہ اپنے بال بچوں کی فکر مت کرو، انہیں اللہ والا بنا دو، اگر بچے اللہ والے ہوں گے تو اللہ خود ان کی فکر کرے گا اور اگر نالائق شرابی کبابی زانی ہوئے تو تمہارا مال ان کی بدمعاشی پر خرچ ہوگا اور تمہارا گناہ بڑھ جائے گا۔

راحت میں اﷲ کو یاد رکھنے کا انعام

حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیںکہ جب انسان دنیا سے عاجز ہوجاتا ہے پھر اللہ ہی اللہ نظر آتا ہے مگر مبارک وہ بندے ہیں جو سُکھ میں خدا کو یاد رکھیں۔ سرورِ عالم سید الانبیاءمحمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں اُذکُرُوا اﷲَ فِی الرَّخٰی یَذکُرکُم فِی الشِّدَّةِ جب تندرستی اچھی ہو، خوب جوانی چڑھی ہوئی ہو، پیٹ میں بریانی کباب داخل ہورہے ہوں، اس وقت حالتِ آرام میں اللہ کو یاد رکھو تو پھر جب تم تکلیف میں ہوگے تو خدا تمہیں یاد رکھے گا لیکن ہمارا معاملہ یہ ہے کہ جب تک طاقت رہتی ہے، جوانی چڑھی ہوئی ہے تو کسی کی ماں بہن بیٹی جو سامنے آئے اس کو دیکھتے ہیں، لیکن اگر ابھی کینسر ہوجائے، گردے بیکار ہوجائیں، ڈاکٹروں کا بورڈ یہ فیصلہ کردے کہ اب آپ نہیں بچیں گے تو پھر اللہ ہی یادآئے گا، ہر ولی اللہ اور ہر بزرگ سے کہو گے کہ دعا کیجیے کہ اللہ ہم کو تندرستی دے دے، ہمارے بچنے کی کوئی امید نہیں ہے کیونکہ ڈاکٹروں کے بورڈ نے فیصلہ کردیا ہے کہ آپ کو بلڈ کینسر ہوگیا ہے۔ بتاو! اس وقت گناہ چھوڑتے ہو یا نہیں؟ تو جو گناہ مجبوراً دُکھ میں چھوڑے اس سے بہتر ہے کہ ہم حالتِ صحت اور طاقت میں اللہ کی نافرمانی چھوڑ دیں تاکہ دُکھ میں اﷲ ہمیں یاد رکھے اور نظرِ رحمت فرمائے۔

اﷲ و رسول کا پیارا بننے کا طریقہ

میں آپ حضرات سے پوچھتا ہوں کہ مردہ کبھی گناہ کر سکتا ہے؟ اگر چاٹگام کی سڑک پر حسین سے حسین فلم ایکٹریس کھڑی ہو تو کیا وہ کفن ہٹا کر دیکھ سکتا ہے، مرنے کے بعد تو سب گناہ چھوٹ جائیں گے لیکن مرنے کے بعد گناہ چھوڑنے سے وہ متقی اور ولی اللہ نہیں ہوگا کیونکہ موت کے بعد گناہ کرنے کی طاقت ہی نہیں رہے گی، جیتے جی زندگی میں گناہ کی طاقت رکھتے ہوئے اس طاقت کو اپنے مالک پر فدا کرو، اپنے اللہ پر قربان کرو، سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلو تو ان شاءاللہ تعالیٰ ولی اللہ ہوجاو گے۔ اس پر میرا ایک شعر ہے

نقشِ قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے

اﷲ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے

سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلنے سے جنت ملے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے اتنے پیارے ہیں کہ ان کی راہ پر ہم چل پڑیں تو ہم بھی اللہ کے پیارے ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں اعلان فرمارہے ہیں کہ اے محمد! آپ اعلان کردیں کہ جو اللہ سے پیار کرنا چاہتے ہیں، خدا سے محبت کرنا چاہتے ہیں فَاتَّبِعُونِی وہ میرے نقشِ قدم پر چلیں، سنت کے مطابق زندگی گذاریں یُحبِبکُمُ اﷲُ تو اللہ تمہیں بھی پیار کرلے گا یعنی اس آیت میں یہ بتا دیا گیا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اتنے پیارے ہیں کہ اُن کے نقشِ قدم پر چلنے والا بندہ بھی اللہ کا پیارا ہوجاتا ہے۔

اتباعِ سنت کا اہتمام

مثال کے طور پر ایک شخص مسجد میں بایاں پیر پہلے داخل کر دیتا ہے تو سنت کے خلاف ہے یا نہیں؟ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا کیا حکم ہے ؟ مشکوٰةشریف کی روایت کے مطابق مسجد میں داخل ہونے کی پانچ سنتیں ہیں جن کا علم کم لوگوں کو ہے نمبر ۱۔بسم اللہ پڑھو، نمبر ۲۔ پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھو، خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب مسجد میں قدم رکھتے تھے تو بسم اللہ بھی پڑھتے تھے اور اپنے اوپر خود درود پڑھتے تھے، پیغمبر کو بھی یہ حکم ہے کہ اپنے اوپر درود بھیجئے یٰاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوا میں نبی بھی داخل ہے لہٰذا مسجد میں داخل ہونے کی دوسری سنت کیا ہے؟ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر ان الفاظ سے درور شریف پڑھیے اَلصَّلٰوةُ وَالسَّلاَ مُ عَلٰی رَسُولِ اﷲِ اس کا مطلب ہے کہ اور سلام نازل ہو ہمارے پیارے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر، اس کے بعد داہنا پیر مسجد میں رکھو اور یہ دعا پڑھو اَللّٰھُمَّ افتَح لِی اَبوَابَ رَحمَتِکَ اے اللہ! آپ ہمارے لیے رحمت کے دروازے کھول دیں، اس کے بعد اعتکاف کی نیت کرلو کہ یا اللہ جب تک ہم مسجد میں ہیں سنتِ اعتکاف کی نیت کرتے ہیں۔ جب مسجد سے نکلنا ہو تو پہلے بایاں پیر نکالیے اور پھر پڑھےے اَلصَّلٰوةُ وَالسَّلاَ مُ عَلٰی رَسُولِ اﷲِاور بایاںپیرنکال کر یہ دعا پڑھىے اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَسئَلُکَ مِن فَضلِکَ اے اللہ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں آپ کی مہربانی کااور آپ سے روزی مانگتا ہوں، یہاں فضل کے معنیٰ روزی کے ہیں چنانچہ جمعہ سے متعلق اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جب نمازِ جمعہ ہوجائے تو فَانتَشِرُوا فِی الاَرضِ وَابتَغُوا مِن فَضلِ اﷲِ اب زمین میں پھیل جاو اور اﷲ کا رزق تلاش کرو۔ جمعہ کی اذان کے بعد خریدوفروخت سب حرام ہے، یہ حکم صرف جمعہ کی اذان کاہے باقی دنوں کی اذان کایہ حکم نہیں ہے لیکن جمعہ کی اذان کا حکم ہے کہ اگر کسی نے کیلا اٹھا یا کہ لاو ایک درجن دے دو لیکن جمعہ کی اذان کی آواز آگئی تو کیلا رکھ دے اور اس کا پیسہ واپس کر دے، اب اگر بیع وشرائع کرتا ہے تو حرام ہے اور نمازِ جمعہ کے بعد یہاں فَانتَشِرُوا کا امر اباحت کے لیے ہے، واجب نہیں ہے یعنی نمازِ جمعہ کے بعد روزی تلاش کرنا مباح ہے واجب نہیں ہے کہ ہر شخص روزی کی تلاش میں نکل جائے ۔

تفسیر روح المعانی میں علامہ آلوسی السید محمود بغدادی مفتی بغداد جو انتہائی غریب طالبِ علم تھے اور اپنے متعلق فرماتے ہیں کہ میں اتنا غریب تھا کہ چاند کی روشنی میں پڑھتا تھا، اتنا پیسہ نہیں تھا کہ تیل کا چراغ جلالوں، اللہ تعالیٰ گدڑی میں لعل رکھ دیتا ہے، بعد میں یہ اتنے بڑے مفسر ہوئے کہ مالداروں کے بچے ان کی جوتیاں اٹھاتے تھے وہ علامہ آلوسی فرماتے ہیں کہ یہاں امر اباحت کے لیے ہے یعنی جائز ہے کہ اب جاو دکان کھولو کیونکہ جمعہ کی اذان کے بعد اللہ نے خرید و فروخت حرام کردی تھی تو نمازِ جمعہ کے بعد وَابتَغُوا مِن فَضلِ اﷲِ سے خرید و فروخت کو جائز کردیا کہ اب اللہ کا رزق تلاش کرو چونکہ نماز کے بعد انسان کو اپنے پیٹ کا بھی انتظام کرنا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہمیں یہ سنت سِکھادی کہ جب مسجد سے نکلوتو اب اپنا رزق ہم سے مانگو کہ اے اﷲ! ہم نماز پڑھ چکے، آپ کا حکم مان چکے، اب ہم کو چائے بھی دیں روٹی بھی دیں کیونکہ پیٹ بھی تو آپ ہی نے دیا ہے لہٰذا اب پنتھا بھات مانگو، چاہے شامی کباب مانگو جو چاہو مانگو لیکن اللہ جو دے اس پرراضی رہو۔

اب خواجہ حسن بصری رحمة اﷲ علیہ کا ایک واقعہ سناتا ہوں مگر اس سے پہلے یہ عرض کردوں کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے رحمت کا سوال کیوں سِکھایا؟ اس سنت میں کیا راز ہے؟

شیخ حماد کا حضرت سفیان ثوری کو عاشقانہ جواب

لیکن یہ راز بتانے سے پہلے شیخ حماد کا واقعہ پورا کرتا ہوں۔ امام ابوحنیفہ رحمة اللہ کے استاذ شیخ حماد جب حضرت سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ کی عیادت کے لیے گئے تو حضرت سفیان ثوری رحمة اللہ علیہ جو تابعی ہیں انہوں نے شیخ حماد سے پوچھا اَیَغفِرُ اﷲُ کَمِثلِی کیا مجھ جیسے کو اللہ بخش دے گا؟ تو امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے استاذ شیخ حماد نے فرمایا کہ اللہ کی رحمت کو کیا پوچھتے ہو لَوخُیِّرتُ بَینَ مُحَاسَبَةِ اﷲِ وَبَینَ مُحَاسَبَةِ اَبَوَیَّ فَاختَرتُ مُحَاسَبَةَ اﷲِ یعنی قیامت کے دن اگر خدا مجھے اختیار دے کہ اے حماد تم اللہ کو حساب دینا چاہتے ہو یا اپنے ماں باپ کو دینا چاہتے ہو، کس کی رحمت پر تم کو زیادہ بھروسہ ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے عرض کروں گا یا رب العٰلمین میں آپ کو حساب دوں گا کیونکہ ماں باپ کی رحمت محدود ہے اور آپ کی رحمت غیر محدود ہے، میں محدود رحمت کو چھوڑ کر غیر محدود رحمت کو کیوں نہ حاصل کروں۔ اس لیے میں اللہ تعالیٰ کو حساب دوں گا کیونکہ اللہ ارحم الراحمین ہیں اور ان کو ہمارے گناہوں سے کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔ اسی لیے حدیثِ پاک میں اس دعا کی تعلیم دی گئی ہے:

یَا مَن لَّا تَضُرُّہُ الذُّنُوبُ وَلاَ تَنقُصُہُ المَغفِرَةُ ھَب لِی مَا لاَ یَنقُصُکَ وَ اغفِرلِی مَا لاَ یَضُرُّکَ

اے وہ ذات! جس کو ہمارے گناہوں سے کو ئی نقصان نہیں پہنچتا اور ہمیں بخش دینے سے جس کی مغفرت کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہوتی لہٰذا آپ ہمیں وہ مغفرت عطا فرمادیجیے جس کی آپ کے یہاں کوئی کمی نہیں ہوتی اور ہمارے ان گناہوں کو معاف فرمادیجیے جن سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

ایک عالم نے نوے سال تک اللہ کی رحمت کو سارے عالم میں بیان کیا اور گنہگار بندوں کو اللہ کی رحمت کا امیدوار بنایا۔ جب ان کاانتقال ہوگیا تو ایک بزرگ نے ان کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا کہ تم نے میری رحمت کو نوے سال تک میرے بندوں میں بیان کرکے میرے گنہگار بندوں کو میری رحمت کا امیدوار بنایا آج میں تمہیں اپنی رحمت سے ناامید نہیں کروں گا۔

دخولِ مسجد کی دعا کا راز

مسجد میں داخل ہوتے وقت اَللّٰھُمَّ افتَح لِی اَبوَابَ رَحمَتِکَ کی جو دعا حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے سکھائی تو اس رحمت سے وہی رحمت مراد ہے جو معراج کی رات میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اَلتَّحِیَّاتُ کے جواب میں عطا فرمائی تو جب آپ نے عرض کیا اَلتَّحِیَّاتُ ِﷲِ اے اﷲ میری تمام زبانی عبادتیں آپ کے لیے خاص ہیں تو اﷲ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا اَلسَّلاَ مُ عَلَیکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ اے نبی !قولی عبادت کے بدلہ میں میری طرف سے قولی سلام لیجیے، پھر آپ نے عرض کیا وَالصَّلٰوٰتُ اے اﷲ! میری تمام بدنی عبادتیں آپ کے لیے ہیں تو اس کے صلہ میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا وَ رَحمَةُ اﷲِ اے نبی! آپ نے اپنی بدنی عبادتیں مجھے پیش کیں تو اس کا انعام لیجیے کہ میری رحمتیں آپ پر نازل ہوں گی۔ پس جو رحمت معراج میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کو عطا ہوئی تو رحمة للعالمین صلی اﷲ علیہ وسلم نے چاہا کہ وہ میری امت کو بھی عطا ہوجائے اور میری امت جو بدنی عبادت کے لیے مسجد میں آرہی ہے وہ بھی اس رحمت سے محروم نہ رہے۔ اس لیے آپ نے امت کو دخولِ مسجد کے وقت یہ دعا سکھا دی۔ یہ ہے اس سنت کا راز۔

اب میں خواجہ حسن بصری رحمة اللہ علیہ کے واقعہ کی طرف آتا ہوں۔ یہ مولانا جلال الدین رومی رحمة اللہ علیہ کا طرز ہے جو بغیر اختیار اللہ تعالیٰ نے مجھے عطاءفرمایا، مولانا رومی کا بھی یہی طریقہ ہے کہ ایک قصہ شروع کریں گے اس میں دوسرا قصہ داخل کریں گے پھر تیسرا قصہ داخل کریں گے، ان قصوں کو پورا کرکے پھر پہلا قصہ آخر میں پورا کریں گے۔ میرا یہ قصے اس طرح شروع کرنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن غیر اختیاری طور پر یہ طرز اختیار ہوگیا۔

بچپن ہی سے اﷲ تعالیٰ کی تلاش

اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ مجھے بچپن ہی سے مولانارومی رحمة اللہ علیہ سے محبت تھی، میں دس بارہ سال کا تھا جبھی ان کی مثنوی سے مست ہوجاتا تھا اور یہ دعا پڑھتا تھا

سینہ خواہم شرح شرح از فراق

تا بگویم شرح از دردِ اشتیاق

اے خدا! اپنے عشق سے میرا سینہ ٹکڑے ٹکڑے کردے تاکہ تیری محبت کو اس طرح بیان کروں کہ اس میں درد بھی شامل ہو تاکہ تیرے بندے بھی تجھ پر عاشق ہوجائیں حالانکہ میں اس وقت بالغ بھی نہیں تھا یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے

سن لے اے دوست جب ایام بھلے آتے ہیں

گھات ملنے کی وہ خود آپ ہی بتلاتے ہیں

جس کو اللہ اپنا بنانا چاہتا ہے اسی کے دل میں ایسے خیالات ڈالتا ہے۔ قصبہ کے باہر جنگل میں ایک مسجد تھی، میں اس مسجد میں جاتا تھا، جنگل کے سناٹے میں حالانکہ میں اُس وقت بالغ بھی نہیں تھا، میں اُس جنگل کی مسجد میں جاکر آسمان کی طرف دیکھ کر یہ شعر پڑھتا تھا

اپنے ملنے کا پتہ کوئی نشاں

تو بتادے مجھ کو اے ربِّ جہاں

اُس جنگل میں جا کر میں یہ سوچتا تھا کہ یہ آسمان وزمین اور سورج اور چاند کا بنانے والا کون ہے؟ اللہ تعالیٰ کی تلاش اُسی کو ہوتی ہے جس کو خدا ملنے والا ہوتا ہے ۔جس کو خدا ملنے والا ہوتا ہے وہی خدا کو تلاش کرتا ہے۔ ڈاکٹر عبد الحی صاحب رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں

انہی کو وہ ملتے ہیں جن کو طلب ہے

وہی ڈھونڈتے ہیں جو ہیں پانے والے

جب ڈھونڈ لینے کی تو فیق ہو گئی تو سمجھ لو کہ یہ اللہ کو پانے والا ہے مگر آگے ایک اور شعر میں فرماتے ہیں کہ اللہ کیسے ملتا ہے، کس کو خدا ملتا ہے اور کو ن اللہ والاہوتا ہے، فرماتے ہیں

ان سے ملنے کی ہے یہی اک راہ

ملنے والوں سے راہ پیدا کر

اللہ سے ملنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ جو اللہ سے ملے ہوئے ہیں، اللہ والے، اولیاءاللہ ،بزرگانِ دین ہیں اُن سے دوستی کرو۔ میرے شیخِ اوّل حضرت پھولپوری رحمة اللہ علیہ فرماتے تھے کہ مٹھائی مٹھائی والوں سے ملتی ہے، کباب کباب والوں سے ملتا ہے اور اللہ اللہ والوں سے ملتا ہے، اگر اللہ کو پانا ہے تو کسی اللہ والے کی جوتیاں اٹھائےے، اس کے ناز اٹھائےے۔

تلاش کرنے سے اولیاءاﷲ مل جاتے ہیں

بعض لوگ کہتے ہیں کہ صاحب میں نے اولیاءکو تلاش کیا مگر سب پاکٹ مار نکلے، یہ بات صحیح نہیں ہے، بزرگوں نے فرمایا کہ اگر ایسا ہو پھر بھی اللہ کی تلاش مت چھوڑو،ایک نہ ایک دن ضرور خدا کو تم پر رحم آئے گا اور تمہیں سچا اللہ والا مل جائے گا۔ ایک بزرگ نے اس کی مثال دی کہ اگر آپ جوان اور بہت تندرست ہیں اور آپ کا شادی کو جی چاہ رہا ہے تو اگر کوئی آپ سے کہے کہ ہم تمہاری شادی کرادیتے ہیں مگر پہلے ایک کلو لڈو اور پانچ سو ٹکہ دو اور پھر آپ سے ایک کلو لڈو اور پانچ سو ٹکہ لے کر کہا کہ میں تمہاری شادی کے لےے بیوی تلاش کررہا ہوں اس کے بعد اِدھر اُدھر ہوگیا تو کیا پھر آپ ہمیشہ کے لیے کان پکڑ لیتے ہیں کہ اب شادی نہیں کرنی ہے پھر اگر دوسرا دوست کہے کہ اچھا ہم تمہاری شادی کرادیتے ہیں مگر ہم ایک ہزار ٹکہ اور پانچ کلو لڈو لیں گے تو آپ شادی کی امید پر اس کو بھی دے دیں گے، اسی طرح تیسرا بھی دھوکہ دیتا ہے، تین دھوکے بازوں کے بعداگر چوتھا بھی کوئی امید دِلا دے تو اس کے چکر میں بھی آجاتے ہیں۔ لہٰذا اگر اﷲ والوں کے بھیس میں کچھ لوگ غلط مل گئے تو بھی اﷲ کے لیے سچے اﷲ والے کی تلاش مت چھوڑو۔ مولانا رومی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں

در تگِ دریا گُہر با سنگ ہاست

فخر ہا اندر میانِ ننگ ہاست

دریا کی گہرائی میں اس کی مٹی میں اور بہت سے کنکروں پتھروں میں موتی چھپا ہوتا ہے، بار بار غوطہ لگاو گے تو ایک دن ان شاءاللہ موتی ہاتھ آجائے گا۔ اسی طرح اﷲ والوں کے لباس میں جعلی پیر مل گئے تو اﷲ والوں کی تلاش نہ چھوڑو، اﷲ کے لیے اﷲ والوں کو تلاش کرتے رہو، اگر سچی طلب ہے تو اللہ تعالیٰ خود تمہیں اللہ والوں سے ملا دیں گے۔

حضرت حافظ شیرازی کا واقعہ

حافظ شیرازی رحمة اﷲ علیہ اﷲ کی تلاش میں جنگل میں رویا کرتے تھے، یہ سات بھائی تھے، ایک دن ایک بزرگ سلطان نجم الدین کبریٰ رحمة اللہ علیہ کو خواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حافظ شیرازی نام کا میرا ایک بندہ جنگل میں میری یاد میں رورہا ہے، جاو اس کو اللہ والا بنا دو، آپ ان کے والد سے ملے، ان کے والد دنیا دار تھے، سلطان نجم الدین کبریٰ نے ان سے پوچھا کہ تمہارے کتنے لڑکے ہیں؟ انہوں نے کہا چھ اور حافظ شیرازی کے بارے میں نہیں بتایا، حضرت نجم الدین کبریٰ نے ان چھ لڑکوں کو دیکھا تو خواب میں جسے دیکھا تھا اس کی شکل کسی سے نہیں ملی۔ لہٰذا ان کے والد سے پوچھا کہ ان کے علاوہ کوئی اور بیٹا نہیں ہے؟ وہ کہنے لگے کہ ایک اور لڑکا ہے تو مگر وہ ذرا پاگل سا ہے، دنیا سے نکما، بے کار، جائےے جنگل میں دیکھ لیجیے وہیں کہیں روتا ہو گا۔ سلطان نجم الدین کبریٰ رحمة اللہ علیہ نے فرمایا میں اسی دیوانے کی تو تلاش میں ہوں، تم دنیا کمانے والے لڑکوں کو اپنی اولاد سمجھتے ہو اور خدا کے خاص بندے کو اپنی اولاد نہیں سمجھتے، وہ تو اتنا قیمتی ہے کہ اللہ اس کو ولایت دینے کے لےے خود پیر کو مرید کے پاس بھیج رہا ہے، ایسے قسمت والے مرید بھی ہوتے ہیں کہ خود اللہ والے ان کے پاس پہنچائے جاتے ہیں

تشنگاں گر آب جویند از جہاں

آب ہم جوید بہ عالم تشنگاں

مولانا جلال الدین رومی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر پیاسے پانی کو تلاش کرتے ہیں تو پانی بھی اپنے پیاسوں کو تلاش کرتا ہے۔

شیخ عبد القادر جیلانی کا ارشاد

شیخ عبد القادر جیلانی حضرت بڑے پیر صاحب رحمة اللہ علیہ جو اپنے زمانے کے غوث تھے فرماتے ہیں کہ جب میں کسی کو مرید کرتا ہوں، اللہ اللہ کرنا سِکھاتا ہوں، اللہ کی محبت سِکھاتا ہوں، ان کی اصلاح کرتا ہوں تو رات کو اللہ سے روتا ہوں کہ اے اﷲ! اِس کو اللہ والا بنا دے، اِس کو اپنا پیارا بنادے اور میری دعا اور اپنی محنت سے جب وہ اللہ والا ہوجاتا ہے تو مجھے اتنی خوشی ہوتی ہے کہ بجائے وہ مجھ پر قربان ہو میرادل چاہتاہے کہ میں ہی اپنی جان اُس پر فدا کردوں۔ آہ! اللہ والوں کو کیا محبت ہوتی ہے اﷲ کے بندوں سے، فرماتے ہیں کہ مجھے اتنی خوشی ہوتی ہے کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں ہی اس مرید پر قربان ہو جاوں، اللہ اللہ کتنی بڑی عبادت ہے، اگر کوئی اللہ والا بن جائے تو کیا یہ معمولی نعمت ہے؟ اگر آپ کا بچہ کہیں کھو گیا ہو اور کوئی ڈھونڈ کر لادے تو آپ کو کتنی خوشی ہوگی، آپ بچہ سے پہلے اسے پیار کریں گے جو بچہ کو لایا ہوگا تو جو بندے خدا سے غافل ہیں اور کوئی اللہ والا محنت کر کے راتوں کو رو روکر اس کو اللہ تک پہنچا دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ پہلا پیار اس پیر و مرشد کو کرتے ہیں کہ تو نے میرے غفلت زدہ بندہ کو جو مجھ سے دور ہوگیا تھا محنت کرکے مجھ تک پہنچا دیا لہٰذا پہلا پیار اللہ تعالیٰ اس کو کرتے ہیں اور اﷲ سے ملنے کا راستہ یہی ہے

اُن سے ملنے کی ہے یہی اِک راہ

ملنے والوں سے راہ پیدا کر

سچے اﷲ والے کی علامت

اللہ اس کو ملتا ہے جس کی کسی اللہ والے سے دوستی ہو مگر سچا اللہ والا ہو پاکٹ مار نہ ہو، پیسہ نذرانہ نہ لیتا ہو، اللہ کے لےے وعظ سناتا ہو، اللہ کے لےے دین سِکھاتا ہو، سنت پہ چلتا ہو، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلتا ہو، جماعت سے نماز پڑھتا ہو، شرعی ڈاڑھی رکھتا ہو، شرعی پردہ کرتا ہو، عورتوں سے پیر نہ دبواتا ہو، چرس اور ہیروئن نہ پیتا ہو، نشہ نہ کر تا ہو اور حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت پر اپنی جان فدا کرتا ہو، اس کو ولی اللہ کہتے ہیں۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں

خدا فرما چکا قرآں کے اندر

میرے محتاج ہیں پیر و پیمبر

وہ کیا ہے جو نہیں ہوتا خدا سے

جسے تو مانگتا ہے اولیاءسے

مانگیں تو براہِ راست اللہ سے البتہ بزرگانِ دین کا وسیلہ دے کر مانگ سکتے ہیں اور وسیلہ دے کر ایسے مانگنا چاہیےے کہ اے اللہ! میرے مرشد، میرے پیر کے صدقہ میں میری دعا قبول فرمالیجیے اور جب روضہ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر جانا ہو تو وہاں اس طرح دعا کریں کہ اے اﷲ! سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقہ میں، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وسیلہ سے میری سب دعائیں قبول فرمالیں۔ کون ظالم ہے جو اللہ والوں کے وسیلہ کو منع کرتا ہے، ایسا شخص جاہلِ مطلق ہے۔

سنت کے خلاف چلنے والا ہرگز ولی اﷲ نہیں ہوسکتا

تو میں عرض کررہا تھا کہ اگر کوئی شخص چاہے ہوا میں اُڑ رہا ہو لیکن شریعت وسنت کے طریقہ پر نہیں ہے، سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر نہیں چلتا، سنت کے خلاف زندگی گذار تا ہے، ٹخنہ چھپاتا ہے، ڈاڑھی نہیں رکھتا، سگریٹ پیتا ہے، سٹوں کا نمبر بتاتا ہے بلکہ دوچار گالیاں بھی دے دیتا ہے اور ایسوں کو لوگ زیادہ ولی اللہ سمجھتے ہیں، ان کے ایجنٹ سِکھا بھی رہے ہوتے ہیں کہ جاو جب بابا تم کو ماں بہن کی گالی دے دے اور پتھر مارے تو سمجھ لو کہ کام ہوگیا، آپ بتائیے کہ اس گالی بکنے والے کی دعا قبول ہوگی؟ کیا گالی بکنا ولی کا کام ہے؟ لیکن افسوس ہے کہ آج کل پاگلوں کو لوگ ولی اللہ سمجھتے ہیں حالانکہ ولی اللہ وہ ہے جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت پر جان دیتا ہو اور کسی بزرگ کی صحبت میں رہا ہو، کسی ولی اللہ کی جوتیاں اٹھائی ہوں،شریعت وسنت، جائز وناجائز کا ہر وقت خیال رکھتا ہو، جو اللہ کی نافرمانی کرے گا وہ کیسے ولی اللہ ہوگا؟ قرآن پاک میں اﷲ تعالیٰ جن کو ولی اللہ بتا رہے ہیں کہ میرے ولی وہ ہیں جو تقویٰ سے رہتے ہیں، گناہوں سے بچتے ہیں، شرعی پردہ کرتے ہیں، سنت پر چلتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے، ماںباپ کو نہیں ستاتے، بیوی کی پٹائی نہیں کرتے، اپنے پڑوسیوں کا حق ادا کرتے ہیں، نظرکی حفاظت کرتے ہیں چاہے چاٹگا م میں کتنی ہی حسین لڑکی آرہی ہو اگر اللہ کاولی ہے تو کبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھے گا ہاں اگر شیطان ہے تو سب کو خوب دیکھے گا۔ تو ولی اللہ کون ہوئے؟ جو سنت پر چلتے ہیں اور اللہ کو ناراض نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ یہ جذبہ اپنے اولیاءکو دیتا ہے کہ اے خدا! میں جان دے دوں گا چاہے نفس کو موت آجائے، ہم موت کو عزیز رکھتے ہیں بجائے اس کے کہ آپ کو ناراض کریں، اللہ تعالیٰ سرورِ عالم محمد رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صدقہ و وسیلہ سے، صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے وسیلہ سے، دنیا بھر کے اولیاءاللہ کے وسیلہ سے ہم سب کو ایسا ایمان اور یقین عطا فرما دے کہ ہماری ہر سانس اللہ پر فدا ہو اور ایک سانس بھی ہم خدا کو ناراض نہ کریں، ہمت کرو، اللہ سے مانگو، ہم اللہ سے مانگیں گے تو ضرور پائیں گے ان شاءاﷲ۔

اب خواجہ حسن بصری رحمة اللہ علیہ کا واقعہ سن لیں۔ حضرت خواجہ حسن بصری رحمة اللہ علیہ سارے اولیاءاللہ کے سردار ہیں، بصرہ میں ساری زندگی اللہ کی محبت سِکھاتے تھے، جب پیدا ہوئے تو حضرت عمر فاروق کا زمانہ تھا،ان کی والدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں نوکرانی تھیں، جس کی ماں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں نوکرانی ہو، صفائی کرتی ہو، برتن دھوتی ہو، وہ ماں کتنی قسمت والی ہوگی، اگر کسی پر یذیڈنٹ یا وزیراعظم کے ہاں کسی کی ماں نوکرانی ہو تو وہ فخر کرتا ہے یا نہیں؟ لیکن جس کی ماں پیارے رسول محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے گھر میں نوکرانی ہو اس کی قسمت کا کیا کہنا۔

جب حضرت حسن بصری رحمة اﷲ علیہ پیدا ہوئے تو سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ جوہماری ماں ہیں، پوری امت کی ماں ہیں انہوں نے خواجہ حسن بصری رحمة اللہ علیہ کو گود میں کھلایا۔جب حضرت حسن بصری پیدا ہوئے تو ان کی اماں ان کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس لے گئیں اور کہا کہ اے امیر المومنین! اے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صحابی جس کے اسلام لانے سے آسمانوں پر خوشیاں منائی گئی تھیں جبرئیل علیہ السلام نے آکر عرض کیا تھا کہ یارسول اللہ! اِستَبشَرَ اَھلُ السَّمَآئِ بِاِسلاَمِ عُمَرَ آج عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اسلام لانے سے، کلمہ پڑھ لینے سے آسمانوں پر فرشتے خوشیاں منا رہے ہیں۔

خواجہ حسن بصری کو حضرت عمر ص کی دعا اور اس کے معانی

تو حضرت حسن بصری کی والدہ نے حضرت عمر سے عرض کیا کہ میں اپنے بچے کولائی ہوں آپ اس کی سنتِ تحنیک ادا کردیجئے یعنی کھجور چبا کر اس کا تھوڑا سا حصہ میرے بچہ حسن بصری کے منہ میں ڈال دیجئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھجور چبائی اور خواجہ حسن بصری کے منہ میں رکھ کر سنتِ تحنیک ادا فرمائی اور دو دعائیں بھی دیں اَللّٰھُمَّ فَقِّہہُ فِی الدِّینِ اے اللہ! اس کو بہت بڑا عالم بنا، فقیہ بنا، دین کا سمجھ دار بنا اور وَحَبِّبہُ اِلیَ النَّاسِاور اپنی مخلوق میں اس کو محبوب بنادے کیونکہ اگر عالم تو بڑا ہے مگر محبوب نہیں ہے تو اس کا علم مفید نہیں ہوگا اور اگر محبوب بہت ہے مگر جاہلِ مطلق ہے تو اس جاہل سے جہالت پھیلنے کا خطرہ ہے جیسے ایک اندھا دوسرے اندھے کی لاٹھی پکڑ کر چل رہا ہو تو دونوں گریںگے یا نہیں؟ تو پیر کس کو بنایا جاتا ہے جس کو ضروری علمِ دین حاصل ہو، جو اللہ تعالیٰ پر جان دیتا ہو،ہر گنا ہ سے بچتا ہو، حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہو اور آپ علیہ السلام کی ہر سنت پر عمل کرتاہو۔ میں اپنا شعر سناتا ہوں

نقشِ قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے

اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے

ڈاڑھی کو بڑھانے اور مونچھوں کو کٹانے کا حکم

دوستو! ذرا سوچو تو سہی سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا کہ ڈاڑھیوں کو بڑھاو اور مونچھوں کو کٹاو تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل خوش کرنا چاہئے یا اپنی بیوی کا دل خوش کرنا چاہئے، اگر بیوی کہتی ہے کہ ڈاڑھی نہیں رکھو تو بتاو بیوی کو خوش کر نا زیادہ کام آئے گا یاحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خوش کرنا کام آئے گا؟

ایک شخص دہلی گیا، وہاں ایران کا شاعر آیا ہوا تھا جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں نعت کہتا تھا، وہ حجام کے ہاں ڈاڑھی منڈارہا تھا، دہلی والے نے کہا کہ آپ نے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عشق ومحبت میں اتنی عمدہ نعت کہی ہے پھر آپ ڈاڑھی کیوں صاف کروا رہے ہیں، سنت پر استرا کیوں چلارہے ہیں؟ اُس نے شاعرانہ جواب دیا

ریش می تراشم ولے دل کس را نمی تراشم

کہ میں ڈاڑھی چھیل رہا ہوں کسی کا دل نہیں چھیل رہا، کسی کے دل کو دُکھ نہیں دے رہا، اس شخص نے جو پہلے ہی جلا بھنا تھا کہا

ولے دلِ رسول اللہ می خراشی

توتو اللہ کے نبی کا دل چھیل رہا ہے، اُن کا دِل دُکھا رہا ہے، یاد رکھیں کہ ڈاڑھی رکھنا ایسا ہی واجب ہے جیسے عید کی نماز، بقرہ عید کی نماز، وتر کی نماز، اگر کوئی عید کی نماز نہ پڑھے تو آپ اس کو کیا کہیں گے؟

ڈاڑھی کا وجوب اور اہمیت

ڈاڑھی رکھنے کے وجوب پر چاروں اماموں کا اجماع ہے، کسی امام کا اختلاف نہیں ہے اور ڈاڑھی رکھنے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوں گے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو جس حالت پر مرے گا قیامت کے دن اُسی حالت میں اُٹھایا جائے گا، جو ڈاڑھی رکھ کر مرے گا تو جب قیامت کے دن ڈاڑھی لے کر سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شفاعت کے لیے جائے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل خوش ہوجائے گا کہ تم نے ہماری جیسی شکل بنائی ہے، تم حوضِ کوثر پر پانی بھی پیو اور ہم تمہاری شفاعت بھی کریں گے اور جو ڈاڑھی منڈاتا ہوا مرا تو قیامت کے دن اسی حالت میں اُٹھایا جائے گا اور اگر قیامت کے دن ڈاڑھی منڈے شخص کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سوال کر لیا کہ تم کو میری شکل میں کیا خرابی نظر آئی تھی کہ تم نے میری جیسی شکل نہیں بنائی، تم نے بیوی کو خوش کیا، دفتر والوں کو خوش کیا، مارکیٹ والوں کو خوش کیا، خاندان والوں کو خوش کیا، سارے عالم کو تو خوش کیا مگر اپنے اللہ کو ناراض کیا اور اﷲ کے رسول کا دل دُکھایا تو بتاو اُس وقت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو کیا جواب دو گے لہٰذا ہمت کرو، اگر ڈاڑھی رکھنے پر کوئی ہنسے تو ہنسنے والوں کو ایک اﷲ والے کا یہ شعر پیش کردو

اے دیکھنے والو! مجھے ہنس ہنس کے نہ دیکھو

تم کو بھی محبت کہیں مجھ سا نہ بنا دے

ڈاڑھی رکھنے کے بعد جو لوگ آپ پر ہنسیں گے ان شاءاللہ کچھ دن کے بعد وہی لوگ آپ سے دعائیں کرائیں گے کہ حضرت دعا کردیں، پھر آپ حضرت بن جائیں گے اور ڈاڑھی کے بغیر فاسق وفاجر ہی رہیں گے۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ہم اپنی ڈاڑھی کو پکڑ کر اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کریں گے

ترے محبوب کی یارب شباہت لے کے آیاہوں

حقیقت اس کو تو کردے میں صورت لے کے آیا ہوں

کس کی مشابہت لے کے آیا ہوں؟ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شکلِ مبارک کی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

مَن طَوَّلَ شَارِبَہ عُوقِبَ بِاَربَعَةِ اَشیَآئٍ لاَ یَجِدُ شَفَاعَتِی وَلاَ یَشرَبُ مِن حَوضِی وَیُعَذَّبُ فِی قَبرِہ وَ یَبعَثُ اﷲُ اِلَیہِ المُنکَرَ وَالنَّکِیرَ فِی غَضَبٍ

(اوجز المسالک الٰی موطا مالک، باب ما جآءفی السنة فی الفطرة، ج:۴۱،ص:۳۳۲)

جو بڑی بڑی مونچھیں رکھے گا قیامت کے دن میری شفاعت نہیں پائے گا، نہ ہی اسے میرے حوضِ کوثر پر آنے دیا جائے گا، قبر میں اس کے پاس منکر نکیر غصہ کی حالت میں بھیجے جائےں گے اور اسے دردناک عذاب دیا جائے گا اور مونچھوں کا حکم یہ ہے کہ اگر بالکل برابر کر لو تو یہ اعلیٰ درجہ ہے اور اگر رکھنی ہی ہے تو کم از کم اوپر والے ہونٹ کا کنارہ کھلا رکھیں تو بھی ان شاءاللہ پاس ہوجائیں گے لیکن اگر مونچھ اتنی بڑھ گئی کہ اوپر والے ہونٹ کا کنارہ ڈھک گیا تو سمجھ لو پھر اسی وعید کا خطرہ ہے جو حدیث میں وارد ہوئی ہے۔ کچھ لوگ ڈاڑھی کا بچہ جو نیچے والے ہونٹ کے نیچے ہے اسے بھی منڈا تے ہیں، یاد رکھیں اس کا رکھنا بھی واجب ہے، یہ ڈاڑھی کا بچہ ہے، اگر تمہارے بچے کو کوئی قتل کردے تو کیا تم خوش ہو گے؟ کتابوں میں لکھا کہ اس کامنڈانا بھی جائز نہیں ہے، رکھنا ضروری ہے تو ڈاڑھی تینوں طرف سے ایک ایک مشت رکھیں یعنی ایک مشت دائیں طرف سے ایک مشت سامنے سے اور ایک مشت بائیں طرف سے پھر ڈاڑھی میں تیل لگا کر کنگھی کرکے دیکھو کہ کتنی خوبصورت لگے گی۔

دنیا میں جتنے شیر ہیں سب کی ڈاڑھی ہے اور شیر کی بیوی کی یعنی شیرنی کی ڈاڑھی نہیں ہے توفیصلہ کرلو کہ شیر بننا ہے یا شیرنی، اللہ تعالیٰ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش کرنا ہے یا بیوی بچوں اور دفتر والوںکو خوش کرنا ہے، قبر میں جانے کے بعد یہ گال کیڑے کھاجائیں گے، اللہ تعالیٰ نے یہ زمین دی ہے، اس پر جلدی سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا باغ لگا لو تب سمجھو کہ اصلی عشق حاصل ہے، خالی رونے گانے سے عشق نہیں ہوتا، عشق نام ہے عمل کرنے کا جیسے ابا کہتا ہے کہ بیٹا سینمامت دیکھنا، وی سی آر مت دیکھنا مگر بیٹا ابا کی کسی بات پر عمل نہیں کرتا لیکن ہروقت ابا ابا کہہ کہ روتا رہتا ہے تو کیا اس بیٹے کی محبت قابلِ قبول ہوگی؟ لہٰذا ٹی وی، وی سی آر، سینما اور عورتوں کو تاک جھانک کرنا، جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، ماں باپ سے بدتمیزی کرنا، ذرا ذرا سی بات پر بیویوں کی پٹائی کرنا یہ سب اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کے اعمال ہیں، اگر آپ کا داماد آپ کی بیٹی کی پٹائی کرے تب تو تعویذ لیتے ہو کہ کوئی تعویذ دے دیں داماد میری بیٹی کو ستا رہا ہے اور تم جو اپنی بیوی کو ستا رہے ہو وہ بھی تو کسی کی بیٹی ہے۔

بےباک
01-27-2012, 09:50 AM
خؤب ، زبردست
جزاک اللہ گلاب بھائی ،