PDA

View Full Version : ملك بچاو



گلاب خان
01-27-2012, 03:00 PM
كہا جاتا ہے كہ انگريز جہاں سے جاتے ہيں وہاں كچھ نہ كچھ چھوڑ كر جاتے ہيں بر صغير سے جانے كے بعد بھي بہت كچھ چھوڑ كر گئے ہيں جن ميں سے ايك انگريزي زبان ہے. اس پيارے ملك كے معرض وجود ميں آنے كے بعد سے ليكر مادرِ ملت كے سال يعني آج تك يہاں انگريز كي انگريزي كا راج ہے, اردو جو كہ قومي زبان ہے صرف كہنے كي حد تك محدود ہے. ہم روزمرہ كي زندگي ميں بھي انگريزي بڑے شوق سے بولتے ہيں, ہمارے ہر شعبے ميں انگريزي چھائي ہوئي ہے. چاہے حكمران طبقے كے افراد ہو, سركاري محكمات ہو, تعليمي ادارے ہوں يا دفاتر ہوں, نجي شعبے كے ادارے ہوں, اسپتال ہوں, عدالتيں ہو, بازار ہوں, سڑكوں كے ساتھ لگے سائن بورڈ ہوں دفتروں كے باہر لگے بورڈ ہوں يا عوامي مقامات پر لگي ہدايات ہوں ہر طرف انگريزي كا دور دورہ ہے. حكمران اخباري نمائندگان سے بات چيت كر رہے ہوں يا كسي تقريب سے خطاب كر رہے ہوں انگريزي ان كا پيچھا نہيں چھوڑتي يا يہ اس كو نہيں چھوڑتے, ايسا معلوم ہوتا ہے كہ پاكستاني قوم صرف انگريزي جانتي ہے يا يہاں سارے انگريز رہتے ہيں.

بازاروں ميں جائيں تو كاروباري لوگ بھي اس انگريزي كي دوڑ ميں كہيں پيچھے نہيں ہيں. دوكانوں كے باہر بورڈ اور بينر بڑے ٹھاٹھ كے ساتھ انگريزي كو شہرت دوام بخش رہے ہوتے ہيں, اكثر ہم ديكھتے ہيں كہ عوامي گزرگاہوں پر ملك كي صفائي سے متعلق ارشادات انگريزي ميں درج ہوتے ہيں, جبكہ گزرنے والے اكثر لوگ اردو بھي مشكل سے پڑھتے ہيں, نظام تعليم بھي اميرزادوں اور غريبوں كيلئے الگ الگ ہے. يہاں بھي انگريزي نے فرق جما ركھا ہے. تعليم يافتہ ہونا انگريزي بولنے سے مشروط ہو گيا ہے, اگر كسي غريب كو بھولے بھٹكے كہيں سے انٹرويو كيلئے بلاوا آجائے تو معيار انگريزي ميں انٹرويو دينا ٹہرتا ہے. آج كل كئي پيشہ ور مرد وخواتين سماجي كاركن كے طور پر غريب كي غربت كا مزاق اڑانے كے چكر ميں منڈي ميں دستياب ہيں, ان كا بھي طريقہ واردات انگريزي سے شروع ہو كر انگريزي پر ختم ہوتا ہے. ہمارے ذرائع ابلاغ (خصوصاً برقي) بھي بجائے اردو كي ترويج كرنے كے اوٹ پٹانگ, اچھل كود والے انگريزي لے پالك بچوں كي بے سري موسيقي سنا كر لوگوں كا وقت ضائع كرتے رہتے ہيں. اردو كا مزاق اڑانے كي رہي سہي كسر پاپ موسيقي والوں نے پوري كردي.

انگريزي فلميں بھي ہمارے معاشرے ميں گہرے اثرات چھوڑ رہي ہيں. ہر "ويڈيو سينٹر" ميں نوجوانوں كي تباہي كا سامان موجود ہے اور ان سے كڑوڑوں روپے كے زرمبادلہ كا بھي نقصان ہو رہا ہے. كسي كي توجہ اس جانب نہيں ہے. كيبل اور انٹرنيٹ كے ذريعے بھي انگريزي كو علم كي بنياد قرار دينے كي كوششيں ہو رہي ہيں, حالانكہ ہمارے لئے ايك روشن مثال موجود ہے يعني ملك چين جو كہ ہم سے بعد ميں آزاد ہوا اور وہ ہمارا اتحادي بھي ہے آج معاشي وتعليمي اعتبار سے دنيا ميں اپنا ايك خاص مقام ركھتا ہے, اس كي بنيادي وجہ يہي ہے كہ ان كا نظام تعليم ان كي اپني قومي زبان ميں ہے جس كي وجہ سے وہاں تعليم كي ترويج ہوئي اور آج چين ترقي كي منزليں بہت تيزي سے طے كرتا چلا جارہا ہے اور اس ملك كے سفارتكار ہماري سركاري وغير سركاري تقاريب ميں اردو ميں تقرير كركے ہميں احساس دلانے كي كوشش كرتے ہيں كہ ہماري قومي زبان كسي زبان سے كم نہيں ہے, اس كو نظام زندگي ميں رائج كريں اگر مستقل ترقي چاہتے ہيں تو......؟
جو قوميں خود انحصاري پر يقين ركھتي ہيں, كشكول توڑنے كي طاقت ركھتي ہيں, محنت كو اپنا شعار بناليتي ہيں اور اپني معاشرت, بودوباش, ثقافت اور زبان كو فروغ دينے كيلئے كوشاں رہتي ہيں ترقي ان كے قدم چومتي ہے. ہم نے آزادي كي نصف صدي گزار دي ہے. اردو قومي زبان ہونے كے باوجود ابھي تك سركاري زبان بننے سے قاصر ہے. قومي اور ملكي ترقي كيلئے ضروري ہے كہ قومي زبان كو فروغ ديا جائے. تمام سركاري وغير سركاري تقاريب ميں اردو كو رينت ممبر ہونا چاہئے, نظام تعليم كو اردو ميں نافظ العمل ہونا چاہئے تاكہ ہر امير غريب كي يكساں طور پر علم تك رسائي ہو سكے.

بےباک
02-01-2012, 09:37 AM
بہت خؤب گلاب بھائی ،
اپنی زبان اردو ہے ، ملک کو زبان دینے والے ہم لوگ ہیں ،
ہماری کمبختی ، کہ ہم پرواہ نہیں کرتے اور نہ کسی نے رھنمائی کی ،