PDA

View Full Version : تھی خبر گرم کہ ۔۔ سحر ہونے تک ۔ ڈاکٹر قدیر خان



بےباک
01-30-2012, 06:16 PM
تھی خبر گرم کہ...سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیرخان
آپ کو نہ غالب سے پہلے اور نہ ہی ان کی رحلت کے بعد کوئی ایسا فقید المثال اردو فارسی کا شاعر نہیں ملا جس کے کلام میں ہر موضوع اور ہر وقت کی مناسبت سے اشعار موجود ہوں۔ پچھلے دنوں ہماری سپریم کورٹ میں جو تماشہ دیکھنے میں آیا وہ ناقابل فراموش و قابل مذمت تھا۔ جب اس قسم کا تماشہ دیکھنے میں آتا ہے تو بلا اختیار الیاس کا یہ شعر یاد آجاتا ہے:
اِلیاس حال یہ ہے کہ اب پوچھتا ہوں روز
یہ اپنا گھر ہے یا میں کسی اور گھر میں ہوں
اب تو ان حالات کو دیکھ کر بے حد دُکھ ہوتا ہے کہ کیا ہمارے آباؤ اجداد نے اسی لئے قربانیاں دی تھیں کہ ہماری قسمت کے مالک چور، راشی، منافق دروغ گو بن جائیں۔ وزیراعظم گیلانی جس طرح ایک جلوس کی شکل میں گورنروں اور اپنے حواریوں کے ساتھ سپریم کورٹ گئے وہ ایک داستان بن گئی ہے اور جب سپریم کورٹ سے نکلے تو ایسا تاثر دیا کہ دہلی کے لال قلعہ پر پاکستانی جھنڈا لہرا کر آئے ہیں۔ اس واقعے نے مجھے بچپن کی ایک بات یاد دلادی۔ ہمارے گھر کے قریب حجام کی دکان تھی میں وہاں بال کٹواتا تھا وہاں سامنے دیوار پر ایک تصویر آویزاں تھی ۔ اس میں قائد اعظم کو گھوڑے پر بیٹھے دہلی کے لال قلعہ کے سامنے ہاتھ میں پاکستانی جھنڈا لئے دکھایا گیا تھا، گھوڑا پچھلی دونوں ٹانگوں پر کھڑا تھا اور اگلی ٹانگیں ہوا میں معلق تھیں۔ بس گیلانی صاحب اسی سرخروئی کا مظاہرہ کررہے تھے۔ عدلیہ اور صحافیوں کے بیانات و تبصروں سے جو توقعات تھیں وہ غالب کے اس شعر سے ختم ہوگئیں:۔
تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پُرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشہ نہ ہوا
تقریباً دو سال سے حکومت (وزیر اعظم) سپریم کورٹ کے احکامات، این آر او سے متعلق، کاغذ کے ٹکڑوں کے طور پر ردّی کی ٹوکری میں پھینک رہی تھی اور اس عمل سے عوام سپریم کورٹ سے خاصے ناامید ہوگئے تھے، آخرکار سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کو ہتک عدالت کا حکم دے کر عدالت میں بلا لیا۔ جو کچھ ہوا وہ میں نے بھی اور آپ نے بھی دیکھ لیا۔ نشانِ امتیاز یا نشانِ جرأت لینے والے بھی یہ دیکھ کر شرمندہ ہوگئے ہوں گے۔ بڑی خبر کہ وزیراعظم خود گاڑی چلا کر گئے (ماشاء اللہ) اور یہ کہ خود عدالتِ عالیہ میں پیش ہوئے اور ایک معزز جج نے تو اس پر خوشی کا اظہارکیا کہ یہ سنہرا دن تھا کہ حکومت کا سربراہ بذاتِ خود عدالت میں آیا۔ پی پی پی کی حکومت اور سربراہوں نے اس کو پاکستان میں ایک تاریخی دن قرار دیا۔ اور پھر ماشاء اللہ بیرسٹر اعتزاز احسن صاحب کا کردار بھی قابلِ دید تھا۔ خدا جانے وہ کونسی میٹھی گولی تھی جس کی خاطر انہوں نے یہ سودا کرلیا۔ آئیے ذرا ان بیان کردہ حقائق پر کچھ تبصرہ کریں۔ گیلانی خود اپنی مرضی اور خوشی سے سپریم کورٹ نہیں گئے بلکہ ایک ملزم کی حیثیت سے ان کو حاضر ہونے کا حکم دیا گیا جس کی تعمیل کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ یہ ایک سنہرا یا خوشگوار دن نہ تھا بلکہ اللہ کی لعنت تھی کہ ایک امین حکمران جس پر بددیانتی کا شک ہے اس کو عدالت میں پیش ہونا پڑا۔ صرف بے حمیت لوگ ہی اس پر فخر کرسکتے ہیں اور جہلا ہی ایسی بات پر خوش ہو سکتے ہیں۔ گیلانی وہاں ایک ملزم کے طور پر پیش ہوئے تھے ایک ہیرو یا نجات دہندہ کی حیثیت سے نہیں اور معزز جج صاحب کو ان کے لئے یا ملک کے لئے یا عدالت ِ عالیہ کے لئے کسی فخر کی بات کرنا مناسب نہ تھا۔ ملزم چونکہ حکومت کا سربراہ تھا اس لئے یہ احترام و اعزاز۔ اس کے بجائے اگرارب پتی عدالت میں ملزم کے طور پر پیش ہوتے ہیں تو ان کی تضحیک کی جاتی ہے حالانکہ عدالت میں دونوں ہی بطور ملزم پیش ہوتے ہیں ، وزیراعظم یا عام شہری کی حیثیت سے نہیں۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ جب قاضی کے سامنے پیش ہوئے اور اس نے ان سے امتیازی سلوک کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کو برخاست کردیا تھا کہ وہ اس اعلیٰ عہدے کے قابل نہیں تھے۔
جہاں تک صدر کے مقدمات سے استثنیٰ کی بات ہے تو میں نہ ماہر قانون ہوں اور نہ ہی تبصرہ نگاروں اور صحافیوں کی طرح اس قسم کے وہم میں مبتلا ہوں۔ اگر 11 معزز جج صاحبان نے سو ئٹزرلینڈ میں مقدمہ کھولنے کے لئے خط لکھنے کا حکم دیا تھا تو وہ یقیناً تمام قومی اور بین الاقوامی قوانین سے واقف ہیں۔ حکومت کے وکلاء اور عقلِِ کُل کا دستور میں سے یہ نکتہ پکڑنا کہ صدر کو ”تمام“ عدالتوں میں مقدمہ جات سے استثنیٰ ہے (یعنی بشمول بین الاقوامی عدالتوں میں بھی) کم عقل و فہم پر مبنی ہے۔ دستور پاکستان کا ہے اور تمام قوانین پاکستان اور صرف پاکستان کے لئے بنائے گئے ہیں اور ان کا اطلاق صرف پاکستان میں پاکستانی شہریوں پر ہوتا ہے۔ حکومت کے حواریوں کا یہ اصرار کہ صدر کو دنیا بھر میں ہر مقدمہ سے استثنیٰ ہے با لکل غلط ہے۔ اور سب سے اہم یہ بات ہے کہ جب این آر او ابتدا ہی سے ناجائز اور قانون کے خلاف قرار دیا گیا تو زرداری کی بطور صدر تعیناتی غیر قانونی ہے اور ممکن ہے کہ عدلیہ اسی نکتے کو مدّنظر رکھ کر زرداری کو نااہل قرار دے کر عہدہ سے ہٹا دے اور تمام مقدمات فوراً شروع کردیے جائیں۔ اور جیالوں کا بوریا بستر لپٹ جائے۔
ہم سب کو علم ہے کہ کس طرح نکسن کو ایک پراسیکیوٹر نے گھر بھیج دیا اور صدرکلنٹن جاتے جاتے بچ گئے۔ کس طرح اٹلی کی ”عدالت“ نے وزیر اعظم کی استثنیٰ ختم کرکے کٹہرے میں کھڑا کردیا، کس طرح فلپائن میں صدر ایسٹراڈا کو رشوت ستانی کے الزام میں عہدے سے ہٹا کر جیل میں ڈال دیا تھا اور کس طرح سوڈان، لیبیا، شام کے حکمرانوں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے۔ اب وہ بین الاقوامی استثنیٰ کی بات کہاں گئی۔
ایک نہایت حیرت انگیز اور شرمناک بات حکمرانوں اور ان کے حواریوں کی جانب سے ہے وہ یہ ہے کہ استثنیٰ کی باتیں ہورہی ہیں مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ سرے پیلس کے سات ملین پونڈ، فرانس میں کوٹھی اور موجودہ ساٹھ ملین ڈالر جو سوئس بینک میں تھے وہ کہاں سے آئے، ان کو کمانے کی تفصیلات بتا دی جائیں تو معاملہ ختم ہو جائے گا۔
ایک اہم نکتہ جو میں اُٹھانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم روز یہی سنتے ہیں کہ یہ اسلامی مملکت ہے، یہاں کا دستور اور قوانین اسلام و سنت کے مطابق ہیں۔ دستور کے دیباچے میں صاف لکھا ہے :
”چونکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو کل عالم پر حاکمیت حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ اختیارات کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ان کا استعمال پاکستانی عوام کے پاس ایک مقدس امانت ہے اور جبکہ پاکستانی عوام کی ایک ایسا نظام قائم کرنے کی خواہش ہے جس میں مملکت اپنے تمام اختیارات و اقتدار کو منتخب عوامی نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔ جس میں اسلام کے بتائے ہوئے جمہوری اصولوں، آزادی، مساوات، رواداری اور سماجی انصاف پر مکمل طور پر عمل کیا جائے گا۔ (جاری ہے)

بےباک
02-01-2012, 11:30 AM
جس میں مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ اپنی انفرادی و اجتماعی شعبہ ہائے حیات میں ان اسلامی تعلیمات اور اسلامی ضروریات کے مطابق جو قرآن و سنت میں موجود ہوں اپنی زندگی کو ڈھال سکیں اور جس میں عدلیہ مکمل آزاد ہوگی“۔
یہ ہیں وہ تمام شرائط و ضمانتیں جو دستور ہمیں دیتا ہے پھر میں اسلامی نظریاتی کونسل اور عدلیہ سے یہ پوچھنے کی جسارت کررہا ہوں کہ ان ضمانتوں کے باوجود ہمارے اسلامی ملک میں چور، راشی، منافق و بددیانت حکمرانوں کو کیوں اتنے سنگین جرائم سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ میرے اختیار میں ہوتا تو پہلے ہی دن ہر پاکستانی کا استثنیٰ ختم کردیتا۔ اسلامی قانون یعنی قرآن و سنت کے تحت سب برابر ہیں اور کسی کو دوسرے پر برتری نہیں ہے۔
دیکھئے کہنے کا یہ مقصد تھا کہ تمام پاکستانیوں کی طرح میں بھی 19 جنوری کو صبح سے دوپہر تک ٹی وی کے سامنے بیٹھا رہا اور جب یہ تمام تماشہ ختم ہوا تو غالب# کا شعر ان سے معذرت کے ساتھ کچھ تبدیلی کے ساتھ گنگنانے پر مجبور ہوگیا:
تھی خبر گرم کہ گیلانی کے اُڑیں گے پُرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ وہ تماشہ نہ ہوا
پچھلے ساٹھ سال کی تاریخ ایک ہی بات بتاتی ہے کہ ہمارے ملک میں موجودہ نام نہاد جمہوریت بالکل ناکام رہی ہے اور ہماری فطرت میں صدارتی نظام ہی ٹھیک بیٹھتا ہے یعنی عوام براہ راست بلا خوف و خطر ملک کے صدر کا انتخاب کریں(فوجی ڈکٹیٹر نہ ہو) اور وہ عوام کا معتمد اور نمائندہ ہو اور ہر قسم کے بلیک میل سے مبرّا ہواور پورے ملک سے قابل ، تجربہ کار، ایماندار، تعلیم یافتہ افراد کو چُن کر ان کے ذمّہ ملک کی ترقی کا کام سونپ سکے۔ جمہوریت (ہمارے یہاں رائج جاہلوں کی اکثریت والی) کے بارے میں علّامہ اقبال  نے فرمایا تھا:
گریز اَز طرز جمہوری غلام پختہ کارے شو
کہ از مغز دو صد خر فکر اِنسانی نمی آید
یعنی اے تجربہ کار ’غلام‘ نظامِ جمہوریت سے پرہیز کر کیونکہ دو سو گدھوں کی عقل ایک انسانی عقل کے برابر نہیں ہوسکتی۔