PDA

View Full Version : کالی مرچ(کالا سونا)



سقراط
01-30-2012, 11:27 PM
جس کی تلاش میں انڈیا یورپ والوں کےہاتھ آ گیا تھا

کالی مرچ ہمارے پسندیدہ اور مزیدار کھانوں میں اکثر استعمال ہوتی ہے شاید آپ کو یہ معلوم ہو کہ یہ کہاں سے آتی ہے اور کس طرح پیدا ہوتی اور تیار کی جاتی ہے لیکن کیا آپکو یہ بھی معلوم ہےکہ اس مصالحے کی کشش یورپی قوموں کو انڈیا کھینچ کر لائی تھی اور بالاخر وہ ہمارے حاکم بن بیٹھے تھے؟

http://urdulook.info/imagehost/?di=R59I
کسی زمانے میں کالی مرچ اتنی قیمتی تھی کہ اسے کالا سونا کہا جاتا تھا

آجکل کالی مرچ اکثر گھروں کے باورچی خانوں میں پائی جاتی ہے اور یہ اتنی آسانی سے دستیاب ہے کہ ہم اسے کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے۔ البتہ کسی زمانے میں یہ اتنی قیمتی تھی کہ اسے کالا سونا کہا جاتا تھا اور مہمانوں کیلیے تیار کردہ کھانوں میں کالی مرچ کا استعمال میزبان کی دولت اور طاقت کا بلا انکار ثبوت تسلیم کیا جاتا تھا۔ یورپ میں اس قیمتی اور نایاب مصالحے کی ہر کسی کو تلاش تھی۔ لیکن انکو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ کہاں پیدا ہوتا ہے اور اسے کیسے تیار کیاجاتا ہے۔ اس کے متعلق وہاں کئی بے بنیاد کہاوتیں مشہور تھیں جن میں سے ایک یہ تھی کہ اڑنے والےانتہائی زہریلے سانپ کالی مرچ کے جنگلوں کی رکھوالی کرتے ہیں اور مقامی لوگ جنگلات کو آگ لگا کر ان سانپوں کو عارضی طور پر بھگانے کے بعد اس مصالحے کوحاصل کرتے ہیں جسکی وجہ سے اسکا رنگ کالا ہوتا ہے اور اسمیں آگ کا زائقہ پایا جاتا ہے۔

http://urdulook.info/imagehost/?di=J9TZ
کالی مرچ کیرلا انڈیا میں پائی جاتی ہے

کالی مرچ کا مقام پیدائش انڈیا میں کیرلا کے علاقے میں ہے جہاں یہ درختوں پر چڑھی ایک بيل پر سبز بیری کی صورت میں لگتی ہے یہاں کے لوگ ہزاروں سالوں سے ان بیریوں کو چن کر ان سے مسالہ تیار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ کئی صدیوں تک یورپ میں بیچنے اور اس سے بے شمار دولت کمانے والے صرف عرب تاجر تھے کیونکہ اس علاقے کا راستہ صرف وہی جانتے تھے اور وہ اپنے گاہکوں تک اس راز کو پہنچنے نہیں دے رہے تھے اور اوپر سے اس راز کو محفوظ رکھنے میں یورپی لوگوں کی بے بنیاد کہاوتیں بھی ان تاجروں کیلیے مدد گار ثابت ہو رہی تھیں۔ اسطرح انہیں اس مصالحے کی تجارت پر مکمل تسلط حاصل تھا لیکن اسکے ختم ہونے کا وقت زیادہ دور نہیں تھا۔

http://urdulook.info/imagehost/?di=GZHK
یہ درختوں پر چڑھی ایک بيل پر سبز بیری کی صورت میں لگتی ہے

http://urdulook.info/imagehost/?di=2FYW
تین دن کیلیے سبز بیریوں کودھوپ میں سُوکھا کر کالی مرچ تیار جاتی ہے۔

اس مصالحے کا یورپ میں استعمال رومن دور میں شروع ہوا تھا البتہ پندرویں صدی عیسوی کے دوران یورپی امیر گھروں کے کھانوں کے علاوہ کالی مرچ کا استعمال 'کالی موت' یا طاعون کے علاج کیلیے بھی شروع ہوگیا جسکے پھیلنے سے وہاں لوگ بڑی تعداد میں مر رہے تھے۔اس قیمتی مال کی سخت ضرورت اور شدید مانگ کی وجہ سے 8 جولائی 1497 میں پرتگال نے اپنے سب سے اعلٰی سمندری جہازراں واسکو ڈَ گاما (Vasco da Gama) کو کالی مرچ کے مَنبع کو تلاش کرنے کی مہم پر روانہ کیا۔ ڈَ گاما کا فلاٹیلا مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے سمندری ہواوں کی مدد سے افریقی ساحلوں کے کٹھن بحری راستے سے مئی 1498 میں انڈیا تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ اسطرح اسے یورپ میں سب سے پہلے انڈیا تک سمندری راستہ تلاش کرنے کا مقام بھی حاصل ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ ڈاگاما کےاس کارنامے سے پرتگال کا جیک پاٹ نکل آیا تھا۔

http://urdulook.info/imagehost/?di=J6GB
1497 میں پرتگال نے اپنے سب سے اعلٰی سمندری جہازراں واسکو ڈَ گاما (Vasco da Gama)
کو کالی مرچ کے مَنبع کو تلاش کرنے کی مہم پر روانہ کیا

ڈَ گاما انڈیا پہنچنے سے پہلے یہاں بے دین جنگلی وحشی دیکھنے کی امید لگائے بیٹھا تھا جو بيکار یورپی اشیا کے بدلے اپنا کالا سونا با خوشی اسکے حوالے کر دیں گے۔ جب ڈیگاما کیرلا کے شہر Kochi کوچی پہنچا تو اس کے بالکل برعکس لوگوں کو sophisticated اور بہت دولتمند پایا۔ دور دور سے عرب، چینی اور کئی دوسرے تاجر صدیوں سے اس ہر دیسی یا cosmopolitan مرکز پر تجارت کیلیے آ رہے تھے۔ پندرہیویں صدی میں کیرلا کیلیےکالی مرچ وہی مالی مقام رکھتی تھی جو آجکل گلف کی ریاستوں کیلیےتیل رکھتا ہے۔

ڈَ گاما کے کیرلا میں آنے کے آٹھ سال کے اندر ہی پرتگال نے اس علاقے میں اپنے قدم اچھی طرح سے جما لیے تھے۔ انہوں یہاں ایک قعلہ بھی تعمیر کر لیا تھا جہاں انہوں نے انڈیا میں اپنے پہلے وائسروے کو قیام دیا۔ سولویں صدی کے آغاز سے پہلے ہی پرتگالی مصالحوں کی تجارت میں سب سے آگے نکل چکےتھے اور جو مال وہ تجارت سے حاصل نہیں کر سکتے تھے، اپنی طاقت سے چھین لیتے تھے۔ کالی مرچ کی خاطر پرتگال نے انڈیا کے مصالحے والےساحلی علاقوں کو اپنے محاصرہ میں لےلیا تھا ۔

ایک مرتبہ جب انہیں یہ یقین ہو گیا کہ انڈیا میں کالی مرچ کی تجارت اب انکے مکمل قابو میں ہے تو انہوں نے اپنی توجہ دوسرے مصالحوں کو ڈھونڈنے کی طرف کر دی۔ ان کی تلاش کیلیے اگلا مصالحہ دار چینی تھا جو سولویں صدی کے یورپی امیر لوگوں میں بے حد مقبول تھا۔ یہ کالی مرچ سے بھی زیادہ نایاب تھا اور اسکا ممبع بھی انکےلیے نامعلوم تھا۔کیرلا کے آس پاس کے سمندر میں عرب تجارتی جہازوں پرمسلسل چھاپوں میں انہیں بار بار ان پر لدے مال میں دار چینی مل رہی تھی اسلیے انہیں شک تھا کہ یہ مصالحہ کہیں آس پاس ہی پایا جاتا ہے لیکن کیرلا کے سمندر سے آگے کے علاقے سے وہ بلکل ناواقف تھے۔ 1506 میں پرتگالی ایک عربی جہاز کا پیچھا کرتے ہوے طوفان میں راستہ بھٹک گے اور انہوں ایک انجان ساحل پر پناہ لی۔ یہ سری لنکا کا ساحل تھا اور دار چینی یہاں ہی پائی جاتی تھی اور یوں انہیں دار چینی کا ممبع بھی مل گیا۔

کالی مرچ اور دار چینی جیسے مصالحے دنیا بھر میں کھانے کے طریقوں میں انقلابی تبدیلیوں کے باعث بنے ہیں اور آج بھی مقبول ہیں لیکن انکی تلاش نہ صرف ہماری تاریخ کا رخ بدلنے کا باعث بنی بلکہ اس نے جدید دینا کی شکل بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ان مصالحوں کی مدد سے شہنشاہی سلطنتیں بنیں اور ٹوٹیں، انکی خاطر قوموں کی آزادی چھن گئی اور قتل و غارت میں بے شمار انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔

کالی مرچ اور دار چینی دو معمولی سے مصالحےاور ایک غیر معمولی ماضی کے مالک جن کی تلاش سے یورپی لوگوں کے دولت سے خزانے بھر گے لیکن جن لوگوں نے انہیں اپنی محنت سے بنایا انکو اور انکی قوم کو اسکے بدلے میں کیا حاصل ہوا؟

بےباک
01-31-2012, 07:58 PM
خؤب خوب ، زبردست معلوماتی مضمون شائع کیا ،
جزاک اللہ