PDA

View Full Version : علی بخش( قدرت اللہ شہاب)



صباحت
12-01-2010, 05:32 PM
علی بخش

ایک روز میں کسی کام سے لاہور گیا ہوا تھا، وہاں پر ایک جگہ خواجہ عبدالرحیم صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کہ علامہ قبال کے دیرینہ اور وفادار ملازم علی بخش کو حکومت نے اس کی خدمات کے سلسلے میں لائیلپور میں ایک مربعہ زمین عطا کی ہے۔ وہ بیچارا کئی چکر لگا چکا ہے لیکن اسے قبضہ نہیں ملتا، کیونکہ کچھ شریر لوگ اس پر ناجائز طور پر قابض ہیں۔ خواجہ صاحب نے فرمایا۔" جھنگ لائلپور کے بالکل قریب ہے۔ کیا تم علی بخش کی کچھ مدد نہیں کر سکتے؟"
میں نے فوراً جواب دیا، " میں آج ہی اسے اپنی موٹر کار میں جھنگ لے جاؤں گا اور کسی نہ کسی طرح اس کو زمین کا قبضہ دلوا کے چھوڑوں گا۔"
خواجہ صاحب مجھے " جاوید منزل " لے گئے اور علی بخش سے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا۔ " یہ جھنگ کے ڈپٹی کمشنر ہیں۔ تم فوراً تیار ہو کر ان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ جاؤ۔ یہ بہت جلدتمہاری زمین کا قبضہ دلوا دیں گے۔"
علی بخش کسی قدر ہچکچایا، اور بولا، " سوچئے تو سہی میں زمین کا قبضہ لینے کے لئے کب تک مارا مارا پھروں گا؟ قبضہ نہیں ملتا تو کھائے کڑھی، لاہور سے جاتا ہوں تو جاوید کا نقصان ہوتا ہے۔ جاوید بھی کیا کہے گا کہ بابا کن جھگڑوں میں پڑ گیا "؟
لیکن خواجہ صاحب کے اصرار پر وہ میرے ساتھ ایک آدھ روز کے لئے جھنگ چلنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ جب وہ میرے ساتھ کار میں بیٹھ جاتا ہے تو غالباً اس کے دل میں سب سے بڑا وہم یہ ہے کہ شاید اب میں بھی بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح علامہ اقبال کی باتیں پوچھ پوچھ کر اس کا سر کھپاؤں گا۔ لیکن میں نے بھی عزم کر رکھا ہے کہ میں خود علی بخش سے حضرت علامہ کے بارے میں کوئی سوال نہیں کروں گا۔ اگر واقعی وہ علی بخش کی زندگی کا ایک جزو ہیں، تو یہ جوہر خود بخود عشق اور مشک کی طرح ظاہر ہو کے رہے گا۔
میری توقع پوری ہوتی ہے اور تھوڑی سی پریشانی کُن خاموشی کے بعد علی بخش مجھے یوں گھورنے لگتا ہے کہ یہ عجیب شخص ہے جو ڈاکٹر صاحب کی کوئی بات نہیں کرتا۔ آخر اس سے رہا نہ گیا اور ایک سینما کے سامنے بھیڑ بھاڑ دیکھ کر وہ بڑبڑانے لگا۔ " مسجدوں کے سامنے تو کبھی ایسا رش نظر نہیں آتا۔ ڈاکٹر صاحب بھی یہی کہا کرتے تھے۔"
ایک جگہ میں پان خریدنے کے لئے رکتا ہوں، تو علی بخش بے ساختہ کہہ اٹھتا ہے، ڈاکٹر صاحب کو پان پسند نہیں تھے۔"
پھر شاید میری دلجوئی کے لئے وہ مسکرا کر کہتا ہے۔" ہاں حقہ خوب پیتے تھے۔ اپنا اپنا شوق ہے پان کا ہو یا حقہ کا"!
شیخوپورہ سے گزرتے ہوئے علی بخش کو یاد آتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب ایک بار یہاں بھی آئے ھے۔ یہاں پر ایک مسلمان تحصیلدار تھے جو ڈاکٹر صاحب کے پکے مرید تھے۔ انہوں نے دعوت دی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کو پلاؤ اور سیخ کباب بہت پسند تھے۔ آموں کا بھی بڑا شوق تھا۔ وفات سے کوئی چھ برس پہلے جب ان کا گلا پہلی بار بیٹھا تو کھانا پینا بہت کم ہو گیا۔"
اب علی بخش کا ذہن بڑی تیزی سے اپنے مرکز کے گرد گھوم رہا ہے اور وہ بڑی سادگی سے ڈاکٹر صاحب کی باتیں سناتا جاتا ہے۔ ان باتوں میں قصوں اور کہانیوں کا رنگ نہیں بلکہ ایک نشے کی سی کیفیت ہے۔ جب تک علی بخش کا یہ نشہ پورا نہیں ہوتا، غالباً اسے ذہنی اور روحانی تسکین نہیں ملتی "صاحب، جب ڈاکٹر صاحب نے دم دیا ہے، میں ان کے بالکل قریب تھا صبح سویرے میں نے انہیں فروٹ سالٹ پلایا اور کہا کہ اب آپ کی طبیعت بحال ہو جائے گی لیکن عین پانچ بج کر دس منٹ پر ان کی آنکھوں میں ایک تیز تیز نیلی نیلی سی چمک آئی، اور زبان سے اللہ ہی اللہ نکلا۔ میں نے جلدی سے ان کا سر اٹھا کر اپنے سینے پر رکھ لیا اور انہیں جھنجھوڑنے لگا۔ لیکن وہ رخصت ہو گئے تھے۔"
کچھ عرصہ خاموشی طاری رہتی ہے۔
پھر علی بخش کا موڈ بدلنے کے لئےمیں بھی اس سے ایک سوال کر ہی بیٹھتا ہوں۔" حاجی صاحب کیا آپ کو ڈاکٹر صاحب کے کچھ شعر یاد ہیں؟"
علی بخش ہنس کر ٹالتا ہے۔ " میں تو ان پڑھ جاہل ہوں، مجھے ان باتوں کی بھلا کیا عقل۔"
"میں نہیں مانتا۔ " میں نے اصرار کیا" آپ کو ضرور کچھ یاد ہو گا۔"
" کبھی اے حکیکتِ منتجر والا کچھ کچھ یاد ہے۔ ڈاکٹر صاحب اس کو خود بھی بہت گنگنایا کرتے تھے۔"
" ڈاکٹر صاحب عام طور پر مجھے اپنے کمرے کے بالکل نزدیک سُلایا کرتے تھے۔ رات کو دو ڈھائی بجے دبے پاؤں اٹھتے تھے اور وضو کر کے جا نماز پر جا بیٹھتے تھے۔ نماز پڑھ کر وہ دیر تک سجدے میں پڑے رہتے تھے۔ فارغ ہو کر بستر پر آ لیٹتے تھے۔ میں حقہ تازہ کر کے لا رکھتا تھا۔ کبھی ایک کبھی دو کش لگاتے تھے۔ کبھی آنکھ لگ جاتی تھی۔ بس صبح تک اسی طرح کروٹیں بدلتے رہتے تھے۔"
میرا ڈرائیور احتراماً علی بخش کو سگریٹ پیش کرتا ہے۔ لیکن وہ غالباً حجاب میں آ کر اسے قبول نہیں کرتا۔
" ڈاکٹر صاحب میں ایک عجیب بات تھی۔ کبھی کبھی رات کو سوتے سوتے انہیں ایک جھٹکا سا لگتا تھا اور وہ مجھے آواز دیتے تھے۔ انہوں نے مجھے ہدایت کر رکھی تھی کہ ایسے موقعہ پر میں فوراً ان کی گردن کی پچھلی رگوں اور پٹھوں کو زور زور سے دبایا کروں۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ کہتے تھے بس اور میں دبانا چھوڑ دیتا تھا۔ اسی وجہ سے وہ مجھے اپنے نزدیک سلایا کرتے تھے۔"
ہر چند میرا دل چاہتا ہے کہ میں علی بخش سے اس واردات کے متعلق کچھ مزید استفسار کروں لیکن میں اس کے ذہنی ربط کو توڑنے سے ڈرتا ہوں۔

"ڈاکٹر صاحب بڑے درویش آدمی تھے۔ گھر کے خرچ کا حساب کتاب میرے پاس رہتا تھا۔ میں بھی بڑی کفایت سے کام لیتا تھا۔ ان کا پیسہ ضائع کرنے سے مجھے بڑی تکلیف ہوتی تھی۔ لیکن ڈاکٹر صاحب ناراض ہو جاتے تھے، کہا کرتے تھے، علی بخش انسان کو ہمیشہ وقت کی ضرورت کے مطابق چلنا چاہے۔ خواہ مخواہ ایسے ہی بھوکے نہ رہا کرو۔ اب اسی مربعہ کے ٹنٹنے کو دیکھ لیجئے لائیلپور کے ڈپٹی کمشنر صاحب، مال افسر صاحب اور سارا عملہ میری بڑی آؤ بھگت کرتے ہیں۔ بڑے اخلاق سے مجھے اپنے برابر کرسی پر بٹھاتے ہیں۔ ایک روز بازار میں ایک پولیس انسپکٹر نے مجھے پہچان لیا اور مجھے گلے لگا کر دیر تک روتا رہا۔ یہ ساری عزت ڈاکٹر صاحب کی برکت سے ہے۔ مربعہ کی بھاگ دوڑ میں میرے پر کچھ قرضہ بھی چڑھ گیا ہے۔ لیکن میں اس کام کے لئے بار بار لاہور کیسے چھوڑوں۔ جاوید کا نقصان ہوتا ہے۔"
"سنُا ہے اپریل میں جاوید چند مہینوں کے لئے ولایت سے لاہور آئے گا۔ جب وہ چھوٹا سا تھا، ہر وقت میرے ساتھ ساتھ رہتا تھا۔ اللہ کے کرم سے اب بڑا ہو شیار ہو گیا ہے۔ جب اس کی والدہ کا انتقال ہوا تو وہ اور منیرہ بی بی بہت کم عمر تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے نرس کے لئے اشتہار دیا۔ بے شمار جواب آئے۔ ایک بی بی نے تو یہ لکھ دیا کہ وہ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ شادی کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔ ڈاکٹر صاحب کسی قدر پرشان ہوئے اور کہنے لگے علی بخش دیکھو تو سہی اس خاتون نے کیا لکھا ہے۔ میں بڈھا آدمی ہوں۔ اب شادی کیا کروں گا۔ لیکن پھر علی گڑھ سے ایک جرمن لیڈی آ گئی۔"
علی بخش کا تخیل بڑی تیز رفتاری سے ماضی کے دھنلکوں میں پرواز کر رہا ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر اسے اپنے ڈاکٹر صاحب یا جاوید یا منیرہ بی بی کی کوئی نہ کوئی خوشگوار یاد آتی رہتی ہے۔ جھنگ پہنچ کر میں اسے ایک رات اپنے ہاں رکھتا ہوں۔ دوسری صبح اپنے ایک نہات قابل اور فرض شناس مجسٹر یٹ کپتان مہابت خان کے سپرد کرتا ہوں۔
کپتان مہابت خان علی بخش کو ایک نہایت مقدس تابوت کی طرح عقیدت سے چُھو کر اپنے سینے سے لگا لیتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ وہ علی بخش کو آج ہی اپنے ساتھ لائلپور لے جائے گا اور اس کی زمیں کا قبضہ دلا کر ہی واپس لوٹے گا۔ " حد ہو گئی۔ اگر ہم یہ معمولی سا کام ہی نہیں کر سکتے تو ہم پر لعنت ہے۔"

شہاب نامہ ، ڈپٹی کمشنر کی ڈائری، سے اقتباس

علی عمران
12-01-2010, 06:01 PM
واہ جی واہ بہت خوب صباحت کمال کا ذوق ہے آپ کا..............

تانیہ
12-07-2010, 12:00 PM
نائس شیئرنگ...تھینکس

بےباک
12-08-2010, 07:24 PM
شکریہ جناب ، اس شیئیرنگ کے لیئے
یہ سلسلہ رکنا نہیں چاھئیے

تانیہ
12-10-2010, 09:27 PM
تھینکس فار شیئرنگ

گلاب خان
12-11-2010, 11:35 PM
واہ سایںبھت خوب تے لاجواب ماشااللہ ساریاں چنگیا تحریرا ہن سدا کھل دے رہو

این اے ناصر
05-05-2012, 10:38 AM
شئیرنگ کاشکریہ۔