PDA

View Full Version : شاعرو شاعری



تانیہ
02-02-2012, 05:01 PM
ابن انشاء

http://pakistanica.com/writers/images/ibn-e-insha.jpg

ابن انشاء شاعر، مزاح نگار، اصلی نام شیر محمد خان تھا۔ جالندھر کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ 1946ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے اور 1953ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ 1962ء میں نشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ ٹوکیو بک ڈوپلمنٹ پروگریم کے وائس چیرمین اور ایشین کو پبلی کیشن پروگریم ٹوکیو کی مرکزی مجلس ادارت کے رکن تھے۔ روزنامہ جنگ کراچی ، اور روزنامہ امروز لاہورکے ہفت روزہ ایڈیشنوں اور ہفت روزہ اخبار جہاں میں ہلکےفکاہیہ کالم لکھتے تھے۔ دو شعری مجموعے، چاند نگر 1900ء اور اس بستی کے کوچے میں 1976ء شائع ہوچکے ہیں۔ 1960ء میں چینی نظموں کا منظوم اردو ترجمہ (چینی نظمیں) شائع ہوا۔ یونیسکو کےمشیر کی حیثیت سے متعدد یورپی و ایشیائی ممالک کا دورہ کیا تھا۔ جن کا احوال اپنے سفر ناموں چلتے ہو چین چلو ، آوارہ گرد کی ڈائری ، دنیا گول ہے ، اور ابن بطوطہ کے تعاقب میں اپنے مخصوص طنزیہ و فکاہیہ انداز میں تحریر کیا۔ اس کے علاوہ اردو کی آخری کتاب ، اور خمار گندم ان کے فکاہیہ کالموں کے مجموعے ہیں۔

تانیہ
02-02-2012, 05:03 PM
January 8, 1952 : ابن انشاء

آج کچھ لوگ گھر نہیں آئے
کھو گئے ہیں کہاں تلاش کرو
دامن چاک کے ستاروں کو
کھا گیا آسماں تلاش کرو
ڈھونڈ کے لاؤ یوسفوں کے تیس
کارواں کارواں تلاش کرو
ناتواں زیست کے سہاروں کو
یہ جہاں وہ جہاں تلاش کرو
گیس آنسو رلا رہی ہے غضب
چار جانب پولس کا ڈیرا ہے
گولیوں کی زبان چلتی ہے
شہر میں موت کا بسیرا ہے
کون دیکھے تڑپنے والوں میں
کون تیرا ہے کون میرا ہے
آج پھر اپنے نونہالوں کو
صدر میں وحشیوں نے گھیرا ہے
حکم تھا ناروا گلہ نہ کرو
خون بہنے لگے جو راہوں میں
یعنی سرکار کو خفا نہ کرو
پی گئے بجلیاں نگاہوں میں
آج دیکھو نیاز مندوں کو
خون ناحق کے داد خواہوں میں
سرنگوں اور خموش صف بستہ
کتنے لاشے لیے ہیں باہوں میں
آستینوں کے داغ دھو لو گے
قاتلوں آسماں تو دیکھتا ہے
چین کی نیند جا کے سو لو گے
تم کو سارا جہاں تو دیکھتا ہے
قسمت خلق کے خداوند
تم سے خلقت حساب مانگتی ہے
روح فرعونیت کے فرزندو
بولو بولو۔۔۔۔۔۔جواب مانگتی ہے

تانیہ
02-02-2012, 05:04 PM
جوگی کا بنا کر بھیس پھرے
برہن ہے کوئی ، جو دیس پھرے
سینے میں لیے سینے کی دُکھن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن

پھولوں نے کہا، کانٹوں نے کہا
کچھ دیر ٹھہر، دامن نہ چھڑا
پر اس کا چلن وحشی کا چلن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن

اس کا تو کہیں مسکن نہ مکاں
آوارہ بہ دل ، آوارہ بہ جاں
لوگوں کے ہیں گھر، لوگوں کے وطن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن

یہاں کون پوَن کی نگاہ میں ہے
وہ جو راہ میں ہے، بس راہ میں ہے
پربت کہ نگر، صحرا کہ چمن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن

رکنے کی نہیں جا، اٹھ بھی چکو
انشاء جی چلو، ہاں تم بھی چلو
اور ساتھ چلے دُکھتا ہُوا مَن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن

تانیہ
02-02-2012, 05:05 PM
ابھی تو محبوب کا تصور بھی پتلیوں سے مٹا نہیں تھا
گراز بستر کی سلوٹیں ہی میں آسماتی ہے نیند رانی
ابھی ہو اول گزرنے پایا نہیں ستاروں کے کارواں کا
ابھی میں اپنے سے کہہ رہا تھا شب گزشتہ کی اک کہانی
ابھی مرے دوست کے مکاں کے ہرے دریچوں کی چلمنوں سے
سحر کی دھندلی صباحتوں کا غبار چھن چھن کے آ رہا ہے
ابھی روانہ ہوئے ہیں منڈی سے قافلے اونٹ گاڑ یوں کے
فضا میں شور ان گھنٹیوں کا عجب جادو جگا رہا ہے

تانیہ
02-02-2012, 05:06 PM
در سے تو ان کے ا ٹھ ہی چکا ہے کہہ دو جی سے بھلانے کو
لے گئے ہاتھوں ہاتھ ا ٹھا کر لوگ کہیں دیوانے کو

اے دل وحشی دشت میں ہم کو کیا کیا عیش میسر ہیں
کانٹے بھی چب جانے کو ہیں تلوے بھی سہلانے کو
ان سے یہ پوچھو کل کیوں ہم کو دشت کی راہ دکھائی تھی
شہر کا شہر امڈ آیا آج یہی سمجھانے کو

تانیہ
02-02-2012, 05:08 PM
لو وہ چاہِ شب سے نکلا، پچھلے پہر پیلا مہتاب
ذہن نے کھولی، رُکتے رُکتے، ماضی کی پارینہ کتاب
یادوں کے بے معنی دفتر، خوابوں کے افسردہ شہاب
سب کے سب خاموش زباں سے، کہتے ہیں اے خانہ خراب
گُزری بات، صدی یا پل ہو، گُزری بات ہے نقش بر آب
یہ رُوداد ہے اپنے سفر کی، اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں

شہرِ تمنّا کے مرکز میں، لگا ہُوا ہے میلا سا
کھیل کھلونوں کا ہر سو ہے، اک رنگیں گُلزار کھلا
وہ اک بالک، جس کو گھر سے ، اک درہم بھی نہیں ملا
میلے کی سج دھج میں کھو کر، باپ کی اُنگلی چھوڑ گیا
ہوش آیا تو، خُود کو تنہا پا کے بہت حیران ہوا
بھیڑ میں راہ ملی نہی گھر کی، اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں

وہ بالک ہے آج بھی حیراں، میلا جیوں کا تُوں ہے لگا
حیراں ہے، بازار میں چُپ چُپ ،کیا کیا بِکتا ہے سودا
کہیں شرافت، کہیں نجات، کہیں مُحبّت، کہیں وفا
آل اولاد کہیں بِکتی ہے، کہیں بُزرگ، اور کہیں خُدا
ہم نے اس احمق کو آخر، اِسی تَذبذُب میں چھوڑا
اور نکالی، راہ مَفر کی، اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں

رہ نوردِ شوق کو، راہ میں، کیسے کیسے یار مِلے
ابرِ بہاراں، عکسِ نگاراں، خالِ رُخِ دلدار مِلے
کچھ بلکل مٹّی کے مادُھو، کچھ خنجر کی دھار مِلے
کچھ منجدھار میں، کچھ ساحل پر، کچھ دریا کے پار مِلے
ہم سب سے ہر حال میں لیکن، یُونہی ہاتھ پسار مِلے
اُن کی ہر خُوبی پہ نظر کی، اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں

ساری ہے بے ربط کہانی، دُھندلے دُھندلے ہیں اوراق
کہاں ہیں وہ سب، جن سے جب تھی، پل بھر کی دُوری بھی شاق
کہیں کوئ ناسُو ر نہیں، گو حائل ہے، برسوں کا فراق
کِرم فراموشی نے دیکھو، چاٹ لۓ کتنے میثاق
وہ بھی ہم کو رو بیٹھے ہیں، چلو ہُوا قِصّہ بے باق
کُھلی، تو آخر بات اثر کی، اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں
خوار ہُوۓ دمڑی کے پیچھے، اور کبھی جھولی بھر مال
ایسے چھوڑ کے اُٹّھے، جیسے چھُوا، تو کر دے کا کنگال
سیانے بن کر بات بِگاڑی، ٹھیک پڑی سادہ سی چال
چھانا دشتِ محبّت کتنا، آبلہ پا، مجنوں کی مثال
کبھی سکندر، کبھی قلندر، کبھی بگُولا، کبھی خیال
سوانگ رچاۓ، اور گُزر کی، اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں

زیست، خُدا جانے ہے کیا شے، بُھوک، تجسّس، اشک، فرار
پھوُل سے بچّے، زُہرہ جبینیں، مرد، مجسّم باغ و بہار
مُرجھا جاتے ہیں کیوں اکثر، کون ہے وہ جس نے بیمار
:کیا ہے رُوحِ ارض کو آخر، اور یہ زہریلے افکار
کس مٹّی سے اُگتے ہیں سب، جینا کیوں ہے اک بیگار
ان باتوں سے قطع نظر کی، اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں

دُور کہیں وہ کوئل کُوکی، رات کے سنّاٹے میں، دُور
کچّی زمیں پر بِکھرا ہوگا، مہکا مہکا آم کا بُور
بارِ مُشقّت کم کرنے کو، کھلیانوں میں کام سے چُور
کم سِن لڑکے گاتے ہوں گے، لو دیکھو وہ صبح کا نُور
چاہِ شب سے پھُوٹ کے نکلا، میں مغموم، کبھی مسُرور
سوچ رہا ہوں، اِدھر اُدھر کی، اس آباد خرابے میں
دیکھو ہم نے کیسے بسر کی، اس آباد خرابے میں

تانیہ
02-02-2012, 05:09 PM
اس دل کے جھروکے میں اک روپ کی رانی ہے
اس روپ کی رانی کی تصویر بنانی ہے

ہم اہل محبت کی وحشت کا وہ درماں ہے
ہم اہل محبت کو آزاد جوانی ہے

ہاں چاند کے داغوں کو سینے میں بساتے ہیں
دنیا کہے دیوانا ۔۔۔ دنیا دیوانی ہے

اک بات مگر ہم بھی پوچھیں جو اجازت
کیوں تم نے یہ غم یہ کر پردیس کی ٹھانی ہے

سکھ لے کر چلے جانا ، دکھ دے کر چلے جا نا
کیوں حسن کے ماتوں کی یہ ریت پرانی ہے

ہدیہ دل مفلس کا چھ شعر غزل کے ہیں
قیمت میں تو ہلکے ہیں انشا کی نشانی ہے

تانیہ
02-02-2012, 05:10 PM
اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا
وہ شہر، وہ کوچہ، وہ مکاں، یاد رہے گا

وہ ٹیس کہ ابھری تھی ادھر یاد رہے گی
وہ درد کہ اٹھا تھا یہاں یاد رہے گا

ہم شوق کے شعلے کی لپک بھول بھی جائیں
وہ شمع فسردہ کا دھواں یاد رہے گا

کچھ میر کے ابیات تھے کچھ فیض کے نسخے
اک درد کا تھا جن میں بیاں یاد رہے گا

جاں بخش سی اس برگ گل تر کی تراوت
وہ لمس عزیز دو جہاں یاد رہے گا

ہم بھول سکے ہیں نہ تجھے بھول سکیں گے
تو، یاد رہے گا، ہاں ہمیں یاد رہے گا

تانیہ
02-02-2012, 05:11 PM
ہم گُھوم چکے بَستی بَن میں
اِک آس کی پھانس لیے مَن میں
کوئی ساجن ہو، کوئی پیارا ہو
کوئی دیپک ہو، کوئی تارا ہو
جب جیون رات اندھیری ہو
اِک بار کہو تم میری ہو

جب ساون بادل چھائے ہوں
جب پھاگن پُول کِھلائے ہوں
جب چندا رُوپ لُٹا تا ہو
جب سُورج دُھوپ نہا تا ہو
یا شام نے بستی گھیری ہو
اِک بار کہو تم میری ہو

ہاں دل کا دامن پھیلا ہے
کیوں گوری کا دل مَیلا ہے
ہم کب تک پیت کے دھوکے میں
تم کب تک دُور جھروکے میں
کب دید سے دل کو سیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو

کیا جھگڑا سُود خسارے کا
یہ کاج نہیں بنجارے کا
سب سونا رُوپ لے جائے
سب دُنیا، دُنیا لے جائے
تم ایک مجھے بہتیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو

تانیہ
02-02-2012, 05:12 PM
ہونے والا ہوں جدا تیرے نواحات سے آج
اے کہ موجیں ہیں تری شاہ سمندر کا خراج
اب نہ آؤں گا کبھی سیر کو ساحل پہ ترے
الوداع اے جوئے سرداب ہمیشہ کے لیے
لاکھ ضو ریز ہوں خورشید ترے پانی پر
عکس افگن ہو اس آئینے میں سو بار قمر
پر نہ آؤں گاسیر کو ساحل پہ ترے
الوداع اے جوئے سرداب ہمیشہ کے لیے
پھر اراروٹ پہ کشتی کوئی آ کر ٹھہری

پھر اراروٹ پہ کشتی کوئی آ کر ٹھہری
کوئی طوفاں متلاطم سر جودی آیا
سینٹ برنارڈ کے کتوں نے جو نہ خوشبو پائی
برف نے لا شئر آدم بہ زمیں دفنایا
سینگ بدلے ہیں زمیں گاؤ نے حیراں ہو کر
یا مہا دیو غضبناک ہوا چلا یا
بطن اٹناسے ابلتے ہوئے لاوے کا خروش
صرصر موت نے ہر چار جہت پہنچا یا
پمپیائی کے جھروکے ہوئے یکسر مسدور
آل قابیل نے دنیا کا قبالہ پایا

تانیہ
02-02-2012, 05:13 PM
اندھی شبو ؛ بے قرار راتو ؛
اب تو کوئی جگمگاتا جگنو
اب کوئی تمتماتا مہتاب
اب تو کوئی مہرباں ستارہ
گلیوں میں قریب شام ہر روز
لگتا ہے جو صورتوں کا میلہ
آتا ہے جو قامتوں کا ریلا
کہتی ہیں حیرتی نگاہیں
کس کس کو ہجوم میں سے چاہیں
لیکن یہ تمام لوگ کیا ہیں
ا پنے سے دور ہیں جدا ہیں
ہم نے بھی تو جی کو خاک کر کے
دامان شکیب چاک کر کے
وحشت ہی کا آسرا لیا تھا
جینے کو جنوں بنا لیا تھا
اچھا نہ کیا۔۔۔۔مگر کیا تو
اندھی شبو ، بے قرار راتو

کب تک یونہی محفلوں کے پھرے
اچھے نہیں جی کے یہ اندھیرے
اب تو کوئی بھی دید نہیں ہے
ہونے کی بھی امید نہیں ہے
ہم بھی تو عہد پاستاں ہیں
ماضی کے ہزار داستاں ہیں
پیماں کے ہزار باغ توڑے
دامان وفا پہ داغ چھوڑے
دیکھیں جو انا کے روزنوں سے
پیچھے کہیں دور دور مدھم
پراں ہیں خلا کی وسعتوں میں
اب بھی کئی ٹمٹماتے جگنو
اب بھی کئی ڈبڈباتے مہتاب
اب بھی کئی دستاں ستارے
آزردہ بحال ، طپاں ستارے
پیچھے کو نظر ہزار بھاگے
لوگو رہ زندگی ہے آگے
جتنے یہاں راز دار غم ہیں
تارے ہیں کہ چاند ہے کہ ہم ہیں
ا ن کا تو اصول ہے یہ بانکے
اس دل میں نہ اور کوئی جھانکے
خالی ہوئے جام عاشقی کے
اکھڑے ہیں خیام عاشقی کے
قصے ہیں تمام عاشقی کے

تانیہ
02-02-2012, 05:16 PM
انشا جی کیا بات بنے گی ہم لوگوں سے دور ہوئے
ہم کس دل کا روگ بنے ، کس سینے کا ناسور ہوئے
بستی بستی آگ لگی تھی ، جلنے پر مجبور ہوئے
رندوں میں کچھ بات چلی تھی شیشے چکناچور ہوئے
لیکن تم کیوں بیٹھے بیٹھے آہ بھری رنجور ہوئے
اب تو ایک زمانہ گزرا تم سے کوئی قصور ہوئے
اے لوگو کیوں بھولی باتیں یاد کرو ، کیا یاد دلاؤ
قافلے والے دور گئے ، بجھنے دواگر بجھتا ہے الاؤ
ایک موج سے رک سکتا ہے طوفانی دریا کا بہاؤ
سمے سمے کا ایک را گ ہے ،سمے سمے کاا پنا بھاؤ
آس کی اُجڑی پھلواری میں یادوں کے غنچے نہ کھلاؤ
پچھلے پہر کے اندھیارے میں کافوری شنعیں نہ جلاؤ
انشا جی وہی صبح کی لالی ۔ انشا جی وہی شب کاسماں
تم ہی خیال کی جگر مگر میں بھٹک رہے ہو جہاں تہاں
وہی چمن وہی گل بوٹے ہیں وہی بہاریں وہی خزاں
ایک قدم کی بات ہے یوں تو رد پہلے خوابوں کا جہاں
لیکن دورا فق پر دیکھو لہراتا گھنگھور دھواں
بادل بادل امڈ رہا ہے سہج سہج پیچاں پیچاں
منزل دور دکھے تو راہی رہ میں بیٹھ رہے سستائے
ہم بھی تیس برس کے ماندے یونہی روپ نگر ہو آئے
روپ نگر کی راج کماری سپنوں میں آئے بہلائے
قدم قدم پر مدماتی مسکان بھرے پر ہاتھ نہ آئے
چندرما مہراج کی جیوتی تارے ہیں آپس میں چھپائے
ہم بھی گھوم رہے ہیں لے کر کاسہ انگ بھبھوت رمائے
جنگل جنگل گھوم رہے ہیں رمتے جوگی سیس نوائے
تم پر یوں کے راج دلارے ،تم اونچے تاروں کے کوی
ہم لوگوں کے پاس یہی اجڑا انبر ، اجڑی دھرتی
تو تم اڑن کھٹولے لے کر پہنچو تاروں کی نگری
ہم لوگوں کی روح کمر تک دھرتی کی دلدل میں پھنسی
تم پھولوں کی سیجیں ڈھونڈو اور ندیاں سنگیت بھری
ہم پت جھڑ کی اجڑی بیلیں ، زرد زرد الجھی الجھی
ہم وہ لوگ ہیں گنتے تھے تو کل تک جن کو پیاروں میں
حال ہماراسنتے تھے تو لوٹتے تھے انگاروں میں
آج بھی کتنے ناگ چھپے ہیں دشمن کے بمباروں میں
آتے ہیں نیپام اگلتے وحشی سبزہ زاروں میں
آہ سی بھر کے رہ جاتے ہو بیٹھ کے دنیاداروں میں
حال ہمارا چھپتا ہے جب خبروں میں اخباروں میں
اوروں کی تو باتیں چھوڑو ، اور تو جانے کیا کیا تھے
رستم سے کچھ اور دلاور بھیم سے بڑہ کر جودھا تھے
لیکن ہم بھی تند بھپرتی موجوں کا اک دھارا تھے
انیائے کے سوکھے جنگل کو جھلساتی جوالا تھے
نا ہم اتنے چپ چپ تھے تب، نا ہم اتنے تنہا تھے
اپنی ذات میں راجا تھے ہم اپنی ذات میں سینہ تھے
طوفانوں کا ریلا تھے ہم ، بلوانوں کی سینا تھے

تانیہ
02-02-2012, 05:26 PM
انشا جی کیوں عاشق ہو کر درد کے ہاتھوں شور کرو
دل کو اور دلاسا دے لو من کو میاں کٹھور کرو
آج ہمیں اس دل کی حکایت دور تلک لے جانی ہے
شاخ پہ گل ہے باغ میں بلبل جی میں مگر ویرانی ہے
عشق ہے روگ کہا تھا ہم نے آپ نے لیکن مانا بھی
عشق میں جی سے جاتے دیکھے انشا جیسے دانا بھی
ہم جس کے لیے ہر دیس پھرے جوگی کا بدل کر بھیس
بس دل کا بھرم رہ جائے گا یہ درد تو اچھا کیا ہوگا

تانیہ
02-02-2012, 05:29 PM
انشا جی ہاں تمہیں بھی دیکھا درشن چھوٹے نام بہت
چوک میں چھوٹا مال سجا کر لے لیتے ہو دام بہت
یوں تو ہمارے درد میں گھائل صبح نہ ہو شام بہت
اک دن ساتھ ہمارا دو گے اس میں ہمیں کلام بہت
باتیں جن کی گرم بہت ہیں کام انہی کے خام بہت
کافی کی ہر گھونٹ پہ دوہا کہنے میں آرام بہت

دنیا کی اوقات کہی ،کچھ اپنی بھی اوقات کہو
کب تک چاک دہن کوسی کر گونگی بہری بات کہو
داغ جگر کو لالہ رنگیں اشکوں کو برسات کہو
سورج کو سورج نہ پکارو دن کو اندھی رات کہو

تانیہ
02-02-2012, 05:30 PM
مہجور ہے دکھانا ؟
رنجور ہے دکھانا ؟
ا پنے سے غافل تھا
ا ن کو بھی نہ پہچانا
کیوں اے دل دیوانہ

وہ آپ بھی آتے تھے
ہم کو بھی بلاتے تھے
کل تک جو حقیقت تھی
کیوں آج ہےا فسانہ
ہاں اے دل دیوانہ

وہ آج کی محفل میں
ہم کو بھی نہ پہچانا
کیاسوچ لیا دل میں
کیوں ہو گیا بیگانہ
کیوںا ے دل دیوانہ
ہاں کل سے نہ جائیں گے
پر آج تو ہو آئیں
ہاں رات کے دریا میں
مہتاب ڈبو آئیں
وہ بھی ترا فرمانا
ہاں اے دل دیوانا

تانیہ
02-02-2012, 05:30 PM
اے رودِ رائن
اے رودِ رائن اے رودِ رائن
ساحل بہ ساحل تیرے قرا ئن
شہر اور قصبے تیرے مدائن
صدیوں کی تاریخ باندھے ہے لائن
کہسار کہسار قلعوں کے مینار
وادی بہ وادی گرجوں کے مینار
گرما کہ سرما میلوں کی بھر مار
رقص اور نغمہ حسن طرح دار

تانیہ
02-02-2012, 05:32 PM
ایک گمنام سپاہی ہوں چلا جاتا ہوں
بات پوری بھی نہیں تم نے سنی یا اللہ
اے گمنام سپاہی
کس دھرتی کا بیٹا ہے تو
کس منزل کا راہی ۔۔۔۔۔۔ اے گمنام سپاہی
فوجیں گزریں ،لشکر گزرے
پیدل گزرے ،ا ڑ کے کر گزرے
چھائی شب کی سیاہی ۔۔۔۔۔ اے گمنام سپاہی
دیکھ چمن میں بیلا پھولا دیکھ پپیہے چہکے
کیوں گلچیں سے پینگ بڑھائے یہیں چمن میں رہ کے
تجھ پر یہ ہتیار سجائے دشمن نے کیا کہہ کے
بستی بستی موت کا پہرا
چاروں کوٹ تباہی ۔۔۔۔ اے گمنام سپاہی
دے ہر چیز گواہی

تانیہ
02-02-2012, 05:34 PM
بستی بستی گھومنے والے پیتوں کے بنجارے
روپ نگر کی ابلا گوری آئے شہر تمہارے
کیا جانے کیا مانگیں چاہیں جنم جنم کے لو بھی
ہم سے پیت کرو گی گوری ہم سے پیت کرو گی

بال اندھیری رات کے بادل گال چٹکے گیسو
ہونٹ تمہارے نورس کلیاں نین تمہارے جادو
ان کی دھوپ اجالا من کا ان کی چھاؤں گھنیری
ہم سے پیت کرو گی گوری ہم سے پیت کرو گی

تانیہ
02-02-2012, 05:35 PM
بستی میں دیوانے آئے
چھب اپنی دکھلانے آئے
دیکھ رے درشن کی لو بھی
کر کے لاکھ بہانے آئے
پیت کی ریت نبھانی مشکل
پیت کی ریت نبھانے آئے
اُٹھ اور کھول جھروکا گوری
سب اپنے بیگانے آئے
پیر، پروہت، مُلّا، مُکھیا
بستی کے سب سیانے آئے
طعنے، مہنے، اینٹیں، پاتھر
ساتھ لئے نذرانے آئے
سب تجھ کو سمجھانے والے
آج انہیں سمجھانے آئے
اب لوگوں سے کیسی چوری?
اُٹھ اور کھول جھروکا گوری
درشن کی برکھا برسا دے
ان پیاسوں کی پیاس بُجھا دے
اور کسی کے دوار نہ جاویں
یہ جو انشاء جی کہلا دیں
تجھ کو کھو کر دنیا کھوئے
ہم سے پوچھو کتنا روئے
جگ کے ہوں دھتکارے ساجن
تیرے تو ہیں پیارے ساجن
گوری روکے لاکھ زمانہ
ان کو آنکھوں میں بٹھلانا

بجھتی جوگ جگانے والے
اینٹیں پاتھر کھانے والے
اپنے نام کو رسوا کر کے
تیرا نام چھپانے والے
سب کچھ بوجھے، سب کچھ جانے ؟
انجانے بن جانے والے
تجھ سے جی کی بات کہیں کیا
اپنے سے شرمانے والے
کر کے لاکھ بہانے آئے
جوگی لیکھ جگانے آئے

دیکھ نہ ٹوٹے پیت کی ڈوری
اُٹھ اور کھول جھروکا گوری

تانیہ
02-02-2012, 05:37 PM
پھر تمہارا خط آیا
شام حسرتوں کی شام
رات تھی جدائی کی
صبح صبح ہر کارہ
ڈاک سے ہوائی کی
نامۂ وفا لایا
پھر تمہارا خط آیا

پھر کبھی نہ آؤنگی
موجۂ صبا ہو تم
سب کو بھول جاؤنگی
سخت بے وفا ہو تم
دشمنوں نے فرمایا
دوستوں نے سمجھایا
پھر تمہارا خط آیا

ہم تو جان بیٹھے تھے
ہم تو مان بیٹھے تھے
تیری طلعتِ زیبا
تیرا دید کا وعدہ
تیری زلف کی خوشبو
دشتِ دور کے آہو
سب فریب سب مایا
پھر تمہارا خط آیا

ساتویں سمندر کے
ساحلوں سے کیوں تم نے
پھر مجھے صدا دی ہے
دعوت وفا دی ہے
تیرے عشق میں جانی
اور ہم نے کیا پایا
درد کی دوا پائی
دردِ لادوا پایا
کیوں تمہارا خط آیا

تانیہ
02-02-2012, 05:37 PM
وہ ارمانوں کی اجڑی ہوئی بستی
پھر آج آباد ہوتی جا رہی ہے
جہاں سے کاروان شوق گزرے
نہ جانے کتنی مدت ہوگئی ہے
پلا تھا صحبت اہل حرم میں
میں برسوں سے تبستاں آشنا تھا
بنی لیکن خداسے نہ بتوں سے
میں دونوں آستانوں سے خفا تھا
مگر کچھ اور ہی عالم ہے اب تو
میں اپنی حیرتوں میں کھو گیا ہوں
مجسم ہو گئے ہیں حسن و جبروت
مجھے لینا میں بہکا جا رہا ہوں
کوئی یزداں ہو بت ہو آدمی ہو
اضافی قیمتوں سے ماورا ہوں
میں پہلی بار سجدہ کر رہا ہوں

تانیہ
02-02-2012, 05:38 PM
تھوڑی کڑوی ضرور ہے بابا
اپنے غم کا مگر مداوا ہے
ذائقہ کا قصور ہے بابا
تلخ و شیریں میں فاصلہ کیا ہے
رنگ و روغن کو سال و سن کو نہ دیکھ
پیڑ گننا کہ آم کھانا ہے
عمر گزری ہے خانقاہوں میں
ایک شب یاں گزار جانا ہے
حسن مختوم خوب تھا بابا
کاش حصے میں آپ کے آسکتا
عشق معصوم کیا کہا بابا
کاش میں یہ فریب کھاسکتا
حسن کا مل عیار عشق نفیس
سب مراحل سے گزر چکا ہوں میں
دل خریدا تھا کبھی ان کا
اب فقط اتنا جانتا ہوں میں
ایک رنگین خواب تھے بابا
موجہ ہائے سراب تھے بابا
ورنہ سرحد پہ تشنہ کامی کی
مئے رنگیں ہے سادہ پانی ہے
شرط حسن و وفا اضافی ہے
قید تسکین نفس کافی ہے

تانیہ
02-02-2012, 05:39 PM
تو جو کہے تجدید محبت میں تو مجھے کچھ عار نہیں
دل ہے بکار خویش ذرا ہشیار ،ابھی تیار نہیں
صحرا جو عشق جنوں پیشہ نے دکھائے دیکھ چکا
مد و جرز کی لہریں گھٹتے بڑھتے سائے دیکھ چکا
عقل کا فرمانا ہے کہ اب اس دام حسیں سے دور ہوں
زنداں کی دیواروں سے سر پھوڑ مرا نوخیز جنوں
صحبت اول ہی میں شکست جرات تنہا دیکھ چکا

(۲)

کاوش نغمہ رنگ اثر سے عاری کی عاری ہی رہی
جلوہ گری تیری بھی نشاط روح کاساماں ہو نہ سکی
سوچ رہا ہوں کتنی تمناؤں کو لیے آیا تھا یہاں
مجھ پہ نگاہ لطف تری اب بھی ہے مگر پہلی سی کہاں
آج میں ساقی یاد ہوں تجھ کو درد تہ ساغر کے لیے
کل کی خبر ہے کس کو بھلا اتنا بھی رہے کل یانہ رہے
دھندکے بادل چھوٹ رہے ہیں ٹوٹتے جاتے ہیںافسو
سوچ رہا ہوں کیوں نہ اسی بے کیف فضا میں لوٹ چلوں
ساقی رعنا تجھ سے یہی کم آگہی کا شکوہ ہی رہا
کاوش نغمہ رنگ اثر سے عاری کی عاری ہی رہی
حیلہ گری تیری بھی نشاط روح کاساماں ہو نہ سکی
لذت و زیرو بم سے رہی محروم نوائے بربط و نے
ڈھل نہ سکے آہنگ میں خاکے آنہ سکی فریاد میں لے
کر دیکھی ہر رنگ میں تو نے سعی نشاط سوزدروں
پھر بھی اے مطرب خلوت محمل میں رہی لیلائے سکوں
کشتی آوارہ کو کسی ساحل کاسہارا مل نہ سکا
دیکھ چکا انجام تمنا ، جان تمنا تو ہی بتا
ہے یہی نشہ غایت صہباساقی رعنا تو ہی بتا
چارہ غم تھا دعوی نغمہ ،خالق نغمہ تو ہی بتا
حسن کا احساںا ٹھ نہ سکے تو عشق کاسوداچھوڑ نہ دوں
کیف بقدر ہوش نہ ہو تو ساغر صہبا پھوڑ نہ دوں
بربط و نے سے کچھ نہ بنے تو بربط ونے کو توڑ دوں
قطع جنوں میں جرم ہی کیا ہے پھر مری لیلی تو ہی بتا

تانیہ
02-02-2012, 05:40 PM
جب درد کا دل پر پہرا ہو
اور جب یاد کا گھاؤ گہرا ہو
آ جائے گا آرام
جپوست نام
جپوست نام
یہ بات تو ظاہر ہے بھائی
ہے عشق کا حاصل رسوائی
پر سوچو کیوں ا نجام
جپوست نام
جپوست نام
یہ عمر کسی پر مرنے کی
کچھ بیت گئی کچھ بیتے گی
وہ پکی ہے تم خام
جپوست نام
جپوست نام
جب عشق کا درد تم بھرتے ہو
کیوں ہجر کے شکوے کرتے ہو
یہ عشق کا ہے انعام
جپوست نام
جپوست نام
سب اول اول گھبراتے ہیں
سبا خر آخر لے آتے
اس کافر پر اسلام
جپوست نام
ٍ جپوست نام
اب چھوڑ کے بیٹھو چپکے سے
سب جھگڑے دین اور دنیا کے
آتی ہے وہ خوش اندام
جپوست نام
جپوست نام
جہاں میر سفر ،وزیر بھی ہے
اس بھیڑ میں ایک فقیر بھی ہے
اور اس کا ہے یہ کلام
جپوست نام
جپوست نام

تانیہ
02-02-2012, 05:41 PM
ا ب عمر کی نقدی ختم ہوئی
ا ب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساہو کار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال ،مہینے، دن لوگو
پر سود بیاج کے بن لوگو
ہاںا پنی جاں کے خزانے سے
ہاں عمر کے توشہ خانے سے
کیا کوئی بھی ساہو کار نہیں
کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں
جب ناما دھر کا آیا کیوں
سب نے سر کو جھکایا ہے
کچھ کام ہمیں نپٹانے ہیں
جنہیں جاننے والے جانے ہیں
کچھ پیار ولار کے دھندے ہیں
کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں
ہم مانگتے نہیں ہزار برس
دس پانچ برس دو چار برس
ہاں ،سود بیاج بھی دے لیں گے
ہں اور خراج بھی دے لیں گے
آسان بنے، دشوار بنے
پر کوئی تو دیون ہار بنے
تم کون ہو تمہارا نام کیا ہے
کچھ ہم سے تم کو کام کیا ہے
کیوں اس مجمع میں آئی ہو
کچھ مانگتی ہو ؟ کچھ لاتی ہو
یہ کاروبار کی باتیں ہیں
یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
ہم بیٹھے ہیں کشکول لیے
سب عمر کی نقدی ختم کیے
گر شعر کے رشتے آئی ہو
تب سمجھو جلد جدائی ہو
اب گیت گیاسنگیت گیا
ہاں شعر کا موسم بیت گیا اب پت جھڑ آئی پات گریں
کچھ صبح گریں، کچھ را ت گریں
یہا پنے یار پرانے ہیں
اک عمر سے ہم کو جانے ہیں
ان سب کے پاس ہے مال بہت
ہاں عمر کے ماہ و سال بہت
ان سب کو ہم نے بلایا ہے
اور جھولی کو پھیلایا ہے
تم جاؤ ان سے بات کریں
ہم تم سے نا ملاقات کریں
کیا پانچ برس ؟
کیا عمرا پنی کے پانچ برس ؟
تم جا ن کی تھیلی لائی ہو ؟
کیا پاگل ہو ؟ سو دائی ہو ؟
جب عمر کا آخر آتا ہے
ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
جینے کی ہوس ہی زالی ہے
ہے کون جو اس سے خالی ہے
کیا موت سے پہلے مرنا ہے
تم کو تو بہت کچھ کرنا ہے
پھر تم ہو ہماری کون بھلا
ہاں تم سے ہمارا رشتہ ہے
کیاسود بیاج کا لالچ ہے ؟
کسی اور خراج کا لالچ ہے ؟
تم سوہنی ہو ، من موہنی ہو ؛
تم جا کر پوری عمر جیو
یہ پانچ برس، یہ چار برس
چھن جائیں تو لگیں ہزار برس
سب دوست گئے سب یار گئے
تھے جتنے ساہو کار ، گئے
بس ایک یہ ناری بیٹھی ہے
یہ کون ہے ؟ کیا ہے ؟ کیسی ہے ؟
ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ؟
ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
جب مانگیں جیون کی گھڑیاں
گستاخ آنکھوں کت جا لڑیاں
ہم قرض تمہیں لوٹا دیں گے
کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے
جو ساعت و ماہ و سال نہیں
وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
لو اپنے جی میں اتار لیا
لو ہم نے تم کو ادھار لیا

تانیہ
02-02-2012, 05:42 PM
دل بہلنے کی نہیں کوئی سبیل
جنوری کی سرد راتیں ہیں طویل
ڈالتا ہوں اپنے ماضی پر نگاہ
گاہے گاہے کھنچتا ہوں سرد آہ

کس طرح اب دل کو رہ پر لاؤںمیں
کس بہانے سے اسے بھولاؤں میں
سب کو محو خواب راحت چھوڑ کے
نیند آتی ہے مرے شبستاں میں مرے
مجھ کو سوتے دیکھ کر آتا ہے کوئی
میرے سینے سے چمٹ جاتا ہے کوئی

دیکھتا ہوں آکےا کثر ہوش میں
کوئی ظالم ہے مری آغوش میں
خود کو مگر تنہا ہی پاتا ہوں میں
پھر گھڑی بھر بعد سوجاتا ہوں میں

پھر کسی کو دیکھتا ہوں خواب میں
اس دفعہ پہچان لیتا ہوں تمہیں
بھاگ جاتے ہو قریب صبحدم
چھوڑ دیتے ہو رہین رنج و غم

مجھ کو تم سے عشق تھا مدت ہوئی
ان دنوں تم کو بھی الفت مجھ سے تھی
کم نگاہیا قتصائے سال و سن
کیا ہوئی تھی بات جانے ایک دن
بندا پنا آنا جانا ہو گیا
اور اس پر اک زمانا ہو گیا

تم غلط سمجھے ہوا میں بد گماں
بات چھوٹی تھی مگر پہنچی کہاں
جلد ہی میں تو پیشماں ہوگیا
تم کو بھیا حساس کچھ ایسا ہوا
نشہ پندار میں لیکن تھے مست
تھی گراں دونو پہ تسلیم شکست

ہجر کے صحرا کو طے کرنا پڑا
مل گیا تھا رہنما امید سا
ہے مری جرات کی اصل اب بھی یہی
دل یہ کہتا ہے کہ دیکھیں تو سہی
جس میں اترا تھا ہمارا کارواں
اب بھی ممکن ہے وہ خالی ہو مکاں

آج تک دیتے رہے دل کو فریب
اب نہیں ممکن ذراتاب شکیب
آؤ میرے دیدہ تر میں رہو
آؤ اس اجڑے ہوئے گھر میں رہو
حوصلے سے میں پہل کرتا تو ہوں
دل میں اتناسوچ کر ڈرتا بھی ہوں

تم نہ ٹھکرا دو مری دعوت کہیں
میں یہ سمجھوں گا اگر کہہ دو نہیں
گردش ایام کو لوٹالیا
میں نے جو کھو دیا تھا پا لیا

تانیہ
02-02-2012, 05:43 PM
سکھ کے سپنے دیکھتے جاگے
جگ جگ کے دکھیارے سائیں
کھلتا ہے محنت کا پرچم
سنتے ہو جیکارے سائیں
دھرتی کانپنے انبر کانپے
کانپیں چاند ستارے سائیں
لوہے کو پگھلانے والے
آپ بھی ہیں انگیارے سائیں
گولی لاٹھی ، پیہ ، ساسن
ان کے آگے ہا رے سائیں
کل تک تھے یہ سب بیچارے پر
آج نہیں بیچارے سائیں
تو نے تو یہ بات سمجھ لی
اوروں کو سمجھا رے سائیں !
ان کی محنت ہم نے لوٹی
ہم سب ہیں ہنڈارے سائیں
ان کی قسمت کٹیا کھولی
ہم نے محل اسارے سائیں
ان کا حصہ آدھی روٹی
اپنے پیٹ اپھارے سائیں
ان کے گھر اندھیارا ٹوٹا
سورج چاند ہمارے سائیں
اندھیاروں کا جاد و ٹوٹے
اب وہ جوت جگارے سائیں
ان سے جگ نے جو کچھ لوٹا
آج انہیں لوٹا رے سائیں
تو بھی دیکھے میں بھی دیکھوں
محنت کے نظارے سائیں
آج بھی کتنی خالی دھرتی
کتنے کھیت کنوارے سائیں
—– ٭—–
یہ دھرتی کا پوٹا چیریں
کوئلہ ۔ لوہا بھر بھر لائیں
خون پسینے فرق نہ سمجھیں
بھاری بھر کم ملیں چلائیں
چونا پتھر مٹی گارا
یہی سنبھالیں یہی ا ٹھائیں
پھر بھی ہے دل میں یہی دبدھا
کل کیا پہنیں کل کیا کھائیں
پیٹ پہ پتھر باندھ کے سوئیں
فٹ پاتھوں پر عمر بتائیں
—– ٭ —–
اندھیاروں کاسینہ چیرے
اب وہ جوت جگانا ہوگا
ان سے جگ نے جو کچھ لوٹا
آج انہیں لوٹا نا ہوگا
جس کی محنت اس کا حاصل
اب ہی بھید بتا نا ہو گا
اب تو اور ہی شام سویرا
اب تو اور زمانہ ہوگا
اب ان کو سمجھا نا کیسا
اپنے کو سمجھا نا ہو گا
پہلے تھے ارشاد ہمارے
اب ان کافر ما نا ہو گا
ا ن کے بھاگ جگا کر سائیں
اپنا بھاگ جگا نا ہو گا

تانیہ
02-02-2012, 05:44 PM
جھوٹی سچی مجبوری پر لال دلھن نے کھینچا ہات
باجے گاجے بجتے رہے پر لوٹ گئی ساجنکی برات
سکھیوں نے اتنا بھی نہ دیکھا ٹوٹ گئے کیا کیاسنجوگ
ڈھولک پر چاندی کے چوڑے چھنکاتے میں کاٹی رات
بھاری پردوں کے پیچھے کی چھایا کو معلوم نہ تھا
آج سے بیگانہ ہوتا ہے کس کا دامن کس کا ہات
میلے آنسو ڈھلکے جھومر ،اجلی چادرسونی سیج
اوشا دیوی یوں دیکھ رہی ہو کس کی محبت کی سوغات

چاند کے اجیالے پی نہ جاؤ موم کی یہ شمعیں نہ بجھاؤ
باہر کے سورج نہ بلا ؤ جلنے دو تنکے کے ا لاؤ
کس مہندی کا رنگ ہوا یہ کس سہرے کے پھول ہوئے
بوجھنے والے بوجھ ہی لیں گے لاکھ نہ بولو لاکھ چھپاؤ
ہم کو کیا معلوم نہیں سمجھوں کو ناحق سمجھاؤ
جیسے کل کی بات ہو جانی پیت کے سب پیمان ہوئے
پردے اڑیں دریچے کانپیں پروا کے جھونکے آئیں جائیں
سانجھ سمے کے شوکتے جنگل کس کو پکاریں کس کو بلائیں
درد کی آنچ جگر کو جلائے پلکیں نہ جھپکیں نیند نہ آئے
روگ کے کیڑے سینہ چاٹیں زخموں کی دیواریں سہلائیں
یاد کے دوار کو تیغہ کر دو جگہ جگہ پہرے بٹھلا دو
اجنبی بنجاروں سے کہہ دو پیت نگر کی راہ نہ آئیں

انشا جی اک بات جو پوچھیں تم نے کسی سے عشق کیا ہے
ہم بھی تو سمجھیں ہم بھی تو جانیں عشق میں ایسا کیا ہوتا ہے
مفت میں جان گنوا لیتے ہیں ہم نے تو ایساسن رکھا ہے
نام و مقدم ہمیں بتلائیں آپ نہ اپنے جی کو دکھائیں
ہم ابھی مشکیں باندھ کے لائیں کون وہ ایسا ماہ لقا ہے

سانس میں پھانس جگر میں کانٹے سینہ لال گلال نہ پوچھ
اتنے دنوں کے بعد تو پیارے بیماروں کا حال نہ پوچھ
کیسے کٹے جیسے بھی کٹے اب اور بڑھے گا ملال نہ پوچھ
قرنوں اور جگنوں پر بھاری مہجوری کے سال نہ پوچھ
جن تاروں کی چھاؤں میں ہم نے دیکھے تھے وہ سکھ کے خواب
کیسے ان تاروں نے بگاڑی ا پنی ہماری چال نہ پوچھ

تانیہ
02-02-2012, 05:44 PM
ہم میں آوارہ سو بو لوگو
جیسے جنگل میں رنگ و بو لوگو
ساعت چند کے مسافر سے
کوئی دم اور گفتگو لوگو
تھے تمہاری طرح کبھی ہم بھی
رنگ و نکہت کی آبرو لوگو
قریۂ عاشقی ہراچہ و دل
گھر ہمارے بھی تھے کبھی لوگو
وقت ہوتا تو آرزو کرتے
جانے کس شے کی آرزو لوگو
تاب ہوتی تو جستجو کرتے
جانے کس کس کی جستجو لوگو
کوئی منزل نہیں روانا ہیں
ہم مسافر میں بے ٹھکانا ہیں

تانیہ
02-02-2012, 05:46 PM
خواب ہی خواب تھا تصویریں ہی تصویریں تھی
یہ ترا لطف ترے مہرو و محبت ، لیکن
تیرے جانے سے یہ جینے کے بہانے بھی چلے
تجھ کو ہونا تھا کسی روز تو رخصت لیکن
اپنا جینا بھی کوئی دن ہے ہمیشہ کا نہیں
تو نے کچھ روز تو دی زیست کی لذت لیکن
پھر وہی دشت ہے دیوانگی دل بھی وہی
پھر وہی شام وہی پچھلے پہر کا رونا
اب تری دید نہ وہ دور کی باتیں ہوں گی

تانیہ
02-02-2012, 05:46 PM
خود میں ملا لے یا ہم سےآ مل
اے نور کامل اے نور کامل
روز ازل بھی رشتہ یہی تھا
تو ہم میں پنہاں ہم تجھ میں شامل
ہم سا رضا جو تم سا جفا جو
دیکھا نہ معمول پایا نہ عامل
دل کی زباں ہے اس کو تو سمجھ
ہم تم سے بولیں تلگو نہ تامل
اے بے وفا مل اے بے وفا مل

تانیہ
02-02-2012, 05:48 PM
دوری کے جو پردے ہیں ٹک ان کو ہٹاؤ
آواز ہے مدماتی ،صورت بھی دکھاؤ نا
راہوں میں بہت چہرے نظروں کو لبھاتے ہیں
بھر پور لگاوٹ کے جادو بھی جگاتے ہیں
ان اجنبی چہروں کو خوابوں میں بساؤ نا
ان دور کے شعلوں پر جی اپنا جلاؤ نا
ہاں چاندنی راتوں میں جب چاند ستاتا ہے
یادوں کے جھروکے میں اب بھی کوئی آتا ہے
وہ کون سجیلا ہے کچھ نام بتاؤ نا
اوروں سے چھپاتے ہو ہم سے تو چھپاؤ نا

تانیہ
02-02-2012, 05:49 PM
دل درد کي شدت سے خون گشتہ و سي پارہ
اس شہر میں پھرتا ہے اک وحشي و آوارہ
شاعر ہے کہ عاشق ہے جوگي ہے کہ بنجارہ

دروازہ کھلا رکھنا

سينے سے گھٹا اٹھے، آنکھوں سے جھڑي بر سے
پھاگن کا نہيں بادل جو چار گھڑي بر سے
برکھا ہے یہ بھادوں کی، جو برسے تو بڑی برسے

دروازہ کھلا رکھنا

ہاں تھام محبت کي گر تھام سکے ڈوري
ساجن ہے ترا ساجن، اب تجھ سےتو کيا چوري
جس کي منادي ہے بستي ميں تري گوري

دروازہ کھلا رکھنا

تانیہ
02-02-2012, 05:57 PM
رہ صحرا چلا ہے اے دل اے دل
دوانا ہو گیا ہے اے دل اے دل

سمیٹیں کارو بار عشق خوباں
بہت نقصاں ہوا ہے اے دل اے دل

چلیں اب کوئی تازہ غم خریدیں
کہ ہر غم کی دوا ہے اے دل اے دل

کریں کیا آرزو حسن جا ناں
زمانہ کونسا ہے اے دل اے دل

تانیہ
02-02-2012, 05:58 PM
ڈرتے ڈرتے آج کسی کو دل کا بھید بتایا ہے
اتنے دنوں کے بعد لبوں پر نام کسی کا آیا ہے
اب یہ داغ بھی سورج بن کر انبر انبر چمکے گا
جس کو ہم نے دامن دل میں اتنی عمر چھپایا ہے
کون کہے گا وہ کان ملاحت چارہ درد محبت ہے
چارہ گری کی آڑ میں جس نے خود کو روگ لگایا ہے
ٹوٹ گیا جب دل کا رشتہ اب کیوں ریزے چنتی ہو
ریزوں سے بھی کبھی کسی نے شیشہ پھر سے بنایا ہے

تانیہ
02-02-2012, 05:58 PM
سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے
اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے
جو تم نے کہا ہے، فیض نے جو فرمایا ہے
سب مایا ہے

ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی
یا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائی
بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے
سب مایا ہے

اک نام تو باقی رہتا ہے، گر جان نہیں
جب دیکھ لیا اس سودے میں نقصان نہیں
تب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہے
سب مایا ہے

معلوم ہمیں سب قیس میاں کا قصہ بھی
سب ایک سے ہیں، یہ رانجھا بھی یہ انشا بھی
فرہاد بھی جو اک نہر سی کھود کے لایا ہے
سب مایا ہے

کیوں درد کے نامے لکھتے لکھتے رات کرو
جس سات سمندر پار کی نار کی بات کرو
اس نار سے کوئی ایک نے دھوکا کھایا ہے
سب مایا ہے

جس گوری پر ہم ایک غزل ہر شام لکھیں
تم جانتے ہو ہم کیونکر اس کا نام لکھیں
دل اس کی بھی چوکھٹ چوم کے واپس آیا ہے
سب مایا ہے

وہ لڑکی بھی جو چاند نگر کی رانی تھی
وہ جس کی الھڑ آنکھوں میں حیرانی تھی
آج اس نے بھی پیغام یہی بھجوایا ہے
سب مایا ہے

جو لوگ ابھی تک نام وفا کا لیتے ہیں
وہ جان کے دھوکے کھاتے، دھوکے دیتے ہیں
ہاں ٹھوک بجا کر ہم نے حکم لگایا ہے
سب مایا ہے

جب دیکھ لیا ہر شخص یہاں ہرجائی ہے
اس شہر سے دور ایک کُٹیا ہم نے بنائی ہے
اور اس کُٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے
سب مایا ہے

تانیہ
02-02-2012, 05:59 PM
کتنی ٹھنڈک ہے یہیں نہر کنارے بیٹھیں
دل بہل جائے گا اس میں بھی ہے مشکل کوئی
ننھے بزغالوں کی سبزے پہ کلیلیں دیکھیں
اپنے سواگت کو پون آئی ہے دھیمی دھیمی
کتنے اند وہ سے کر پایا ہوں ان کو رخصت
وہ بھی افسردہ و مضطر تھا نگاہیں بھی غمیں
سند با ادب کے تو ہمراہ مجھے بھی لے چل
(دل جو بہلا تو کتابوں ہی میں آ کر بہلا)
میں تیرے ساتھ زمانے کی نظر سے اوجھل
لے کے چلتا ہوں خیالوں کاسفینہا پنا
کیا خبر اب میں انھیں یاد بھی ہوں گا کہ نہیں
کاش میں نے ہی انھیں ایسے نہ چاہا ہوتا
کتنے ہنگاموں سے آباد ہیں گلیاں بازار
(کلفتیں شہر کے ماحول نے دھوئیں دل سے )
آج ہر چیز کی صورت پہ انوکھا ہے نکھار
اتنے چہرے ہیں کہ پہلے کبھی دیکھے بھی نہ تھے
اتفاقات سے بچھڑے ہوئے ملتے ہیں کہیں
خام امیدوں سے بہلاؤں کا دل کو کیسے ؟
خام امیدوں سے بہلاؤں گا دل کو کیسے
اتفاقات سے بچھڑے ہوئے ملتے ہیں کہیں
کتنے اندوہ سے کر پایا ہوں ان کو رخصت
دل بھی افسردہ و مضطر تھا نگاہیں بھی غمیں
کاش میں نے انھیں ایسے نہ چاہا ہوتا
اب تو شاید میں انھیں یاد بھی آؤں کہ نہیں

تانیہ
02-02-2012, 06:00 PM
سانجھ سمے کی کومل کلیاں مسکا ئیں مرجھائیں
نگری نگری گھومنے والی پھر واپس نہ آئیں
ہم بیلوں پر اوس کے موتی ہم پھولوں کی خوشبو
پی پی پڑا پپہیا بولے کویل کو کو ، کو کو

تانیہ
02-02-2012, 06:01 PM
ساحل دور سے تو پوں کی دھمک تو آتی ہے
کتنی گمبھیر ہے ساون کے نئے چاند کی رات
الکحل کرتی ہیں خوابیدہ رگوں سے چہلیں
سوجتی ہے دل و حشی کو بڑی دو ر کی بات
سینہ بحر پہ طوفان کو دبائے لے کر
رقص کرنے کو چلی آتی ہے بھوتوں کی برات
ساحل دور سے تو پوں کی دھمک آتی ہے
کون ہے کس نے سمندر میں سلامی داغی
جانے کس برج میں الجھی ہے خیالوں کی کمند
کوئی پشتے پر کھڑا چیخ رہا ہے دیکھو
کوئی کشتی تو نہیں دور کہیں ڈوب چلی
ساحل دور سے توپوں کی دھمک آتی ہے
ابر کے ساتھ تو دیکھا ہے گرجتا بادل
کیا گرا دی ہے کہیں موجۂ دریائے فصیل
کیا زمیں بوس ہوا کسی کسری کا محل
حلقۂ رقص میں ہیں باب جزیرے کے بلوچ
وہ جو اک غول نظر آتا ہے مشعل مشعل
درد سینے میں جگائی ہوئی دھیمی پروا
جانے کس دیس سے آئی کہاں جاتی ہے
بحر کاہل کے جزیروں کے افیمی باسی
قسمت مشرق اقصی کے خداوند بنے
ہائے یہ ذہن یہ باتوں سے بہلتا ہی نہیں
ہائے یہ درد کہ برسوں کا ملاقاتی ہے
صبح کاسرخ ستارہ ہوا پیکن سے طلوع
کوس بجتا ہے کہ بڑھے لگی دل کی دھڑکن
ساحل دور سے توپوں کی دھمک آتی ہے

تانیہ
02-02-2012, 06:02 PM
اب تو نظروں سے چھپ چکا ہے جہا ز
ا ڑ رہا ہے افق کے پار دھواں
اب وہ آئیں نہ آئیں کیا معلوم
جانے والوں کا ا عتبار کہاں
وقت رخصت وہ رو دیے ہیں جب
میں نے مشکل سے اشک روکے تھے
مسکرا کر کہا تھا ۔۔ غم نہ کرو
تم بہت جلد لوٹ آؤ گے
لیکن اب جبکہ رو رہا ہوں میں
آ کے ڈھارس مری بندھائے کون
وہ مجھے چھوڑ جائیں ، نا ممکن
وہ چلے بھی گئے۔۔۔۔۔۔ بتائے کون ؟

تانیہ
02-02-2012, 06:03 PM
بادل امڈیں بجلی کڑکے طوفاں بڑا ڈرائے
چنچل چندا دور دور سے دیکھے اور مسکائے
نیلم نیل آکاش پہ اپنا پیلا جال بچھائے
مگھم مگھم سندیسوں سے اپنے پاس بلائے
لیکن ہاتھ نہ آئے
اونگھ رہے ہیں چار کوٹ میں پھیلے پھیلے سائے
قدم قدم پہ ناگ کھڑے ہیں اپنے پھن پھیلائے
اونچی نیچی چٹیل راہیں ، کومل جی گھبرائے
انشا کس کو پاس بیٹھا کے دل کی بات بتائے
کوئی نہ سننے آئے
نیلامی کے چوک میں انشا جھوٹے دانت لگائے
جھوٹے سکھوں کو چنکا کر اونچی ہانگ لگائے
آدھی رات تلک بیٹھا رہتا ہوں لیمپ جلائے
سوچ رہا ہوں اتنے دن میں کتنے پاپ کمائے
کس کو گنتی آئے
یاروں نے تو لال پھریرے دیس لہرائے
لاکھ کوس کی باٹیں کاٹیں تب جا کر ستائے
اب سندر سندر کویتاؤں سے کوئی نہ دھوکا کھائے
انشا جیسے ایک بار بھٹکے تو ہوئے پرائے
پھر واپس نہ آئی

تانیہ
02-02-2012, 06:05 PM
تیری باتوں میں زندگی کا رس
تیری آواز میں ہے رعنائی
فون پر بولتی ہوئی محبوب
تو ابھی سامنے نہیں آئی
دل تجھے دیکھنے کو کہتا ہے
دل تری دید کا تمنائی
اک طرف عاشقی سے ہم مجبور
اک طرف ہم کو خوف رسوائی
صبر کا حوصلہ نہیں باقی
سن بیکار ، جان زیبائی
ہم نے ما نا ، تو خوبصورت ہے
دیکھ ہم کو تیری ضرورت ہے

تانیہ
02-02-2012, 06:06 PM
تم کسی کا بساؤ گی پہلو
مل رہے گا مجھے نیاساتھی
تم کو سب کچھ گنوا کے پایا تھا
تم بھی کھو جاؤ گی خبر کیا تھی
درد نا گفتی ہے ضبط غم
کیوں سمجھتی ہو سنگدل مجھ کو
تم بھی چاہو تو پوچھ لو آنسو
زخم کچے ہیں دل کے مت چھیڑو
مغتنم ہے یہ صحبت دو دم
مسکرا دو ذرا گلے مل لو
ہا ئے کتنا حسیں زمانا تھا
دیر پا شے حسیں نہیں ہوتی
دن تھے لمحات سے سبک رو تر
رخصت مہر کی خبر نہ ہوئی
باتوں باتوں میں کٹ گئی راتیں
نیند سحر اپنا آزما نہ سکی
نرم رو قافلے ستاروں کے
چاند جیسے تھکا تھکا راہی
دیکھتے دیکھتے گزر بھی گئے
دل میں اک بے خودی سی طاری تھی
خیر اب اپنی راہ پر جاؤ
آگیا زندگی کا دورا ہا
حشر لاکھوں کا ہو چکا ہے یہی
عشق میں کون کامران رہا
تم مری ہو نہ میں تمہارا ہوں
اب تو رشتہ نہیں ہے کچھ اپنا
جب کبھی یاد آئے ماضی کی
ساتھ مجھ کو بھی یاد کر لینا
وصل کو جاوداں سمجھتے تھے
ہائے یہ سادگی محبت کی
کاش پہلے سے جانتے ہوتے
انتہا یہی محبت کی

تانیہ
02-02-2012, 06:07 PM
دور تمہارا دیس ہے مجھ سے اور تمہاری بولی ہے
پھر بھی تمہارے باغ ہیں لیکن من کی کھڑکی کھولی ہے
آؤ کہ پل بھر مل کے بیٹھیں بات سنیں اور بات کہیں
من کی بیتا ،تن کا دکھڑا ، دنیا کے حالات کہیں

اس دھرتی پر اس دھرتی کے بیٹوں کا کیا حال ہوا
رستے بستے ہنستے جگ میں جینا کیوں جنجال ہوا
کیوں دھرتی پہ ہم لوگوں کے خون کی نسدن ہولی ہے
سچ پوچھو تو یہ کہنے کو آج یہ کھڑکی کھولی ہے

بیلا دیوی آج ہزاروں گھاؤ تمہارے تن من ہیں
جانتا ہوں میں جان تمہاری بندھن میں کڑے بندھن میں
روگ تمہارا جانے کتنے سینوں میں بس گھول گیا
دور ہزاروں کوس پہ بیٹھے ساتھی کا من ڈول گیا

یاد ہیں تم کو سانجھے دکھ نے بنگالے کے کال کے دن
راتیں دکھ ور بھوک کی راتیں دن جی کے جنجال کے دن
تب بھی آگ بھری تھی من میں اب بھی آگ بھری ہے من میں
میں تو یہ سو چوں آگ ہی آگ ہے اس جیون میں

ا ب سو نہیں جانا چاہے رات کہیں تک جائے
ا ن کا ہاتھ کہیں تک جائےا پنی بات کہیں تک جائے
سانجھی دھرتی سانجھاسورج ،سانجھے چاند اور تارے ہیں
سانجھی ہیں سبھی دکھ کی ساری باتیں سانجھے درد ہمارے

گولی لاٹھی ہیسہ شاسن دھن دانوں کے لاکھ سہارے
وقت پڑیں کس کو پکاریں جنم جنم کے بھوک کے مارے
برس برس برسات کا بادل ندیاسی بن جائے گا
دریا بھی اسے لوگ کہیں گے ساگر بھی کہلائے گا

جنم جنم کے ترسے من کی کھیتی پھر بھی ترسے گی
کہنے کو یہ روپ کی برکھا پورب پچھم برسے گی
جس کے بھاگ سکندر ہوں گے بے مانگے بھی پائے گا
آنچل کو ترسانے والا خود دامن پھیلائے گا
انشا جی یہ رام کہانی پیت پہلی بوجھے کون
نام لیے بن لاکھ پکاریں بوجھ سہیلی بوجھے کون

وہ جس کے من کے آنگن میں یادوں کی دیواریں ہوں
لاکھ کہیں ہوں روپ جھروکے ،لاکھ البیلی ناریں ہوں
اس کو تو ترسانے والا جنم جنم ترسائے گا
کب وہ پیاس بجھانے والا پیاس بجھانے آئے گا

تانیہ
02-02-2012, 06:07 PM
لیلا۔۔ تو نے کیوں محو کیا ہے انہیں لوح دل سے
حاصل زیست سمجھتے ہیں جو پیارے تجھ کو
اے مرے و سرو کنور ؛ میرے چنسیر راجہ
دل مرا آج بھی رو رو کے پکارے تجھ کو
ان کے زخموں پہ مدھر بولوں کا مرہم رکھنا
اب بھی اپنا جو سمجھتے ہیں بچارے تجھ کو
ان کو خلقت کی نگاہوں نہ رسوا کر نا
واسطہ دیتی ہوں جینے کے سہارے تجھ کو
میں تری پیت کی ماری ہوں بچاری ابلا
کچھ خیال آتا ہے اس بات کا بارے تجھ کو
تیری سو رانیاں ،تو میرا اکیلا پتیم
دل بسارے تو بھلا کیسے بسارے تجھ کو
شاہ لطیف۔۔
ایک ادنی سا گلو بند تھا جس کی خاطر
کھو دیا دل کے خداوند کو ناداں تو نے
تجھ سے بر گشتہ ہوا تیرا چنبر راجا
کپٹی کو نرو سے کیا ایک جو پیماں تو نے
اپنی قسمت کا عجب ا لٹا ہے صفحہ غافل
بات کی ہے بڑی رسوائی کے شایاں تو نے
چل گیا ادنی سے زیور کی ڈلک کا جادو
جانے کیا سمجھا تھا چاہت کو مری جاں تو نے
لیلا،،،،،میں یہ سمجھتی تھی کہ یہ ہا ر مرصع رتنار
ہاتھ آئے تو مرا روپ سوایا ہو گا
یہ نہ سمجھی تھی کہ یہ ہار ہے ظالم بیری
کپٹی کنرو نے کوئی جال بچھا یا ہوگا
شاہ لطیف،،، چل ذرا ڈال کے اب اپنے گلے میں پلو
ڈھونڈ اس چیز کو جو کھوئی ہے لیلا نے
شاید اب تجھ سے بنا لے تجھے پھر اپنا لے
عذر اس سے کو کیا عاجزو گریاں تو نے
پھر بھی مقصود مبارک نہ جو دل کا پا یا
درگہ یار سے محبوبہ کیا حیراں تو نے
یوں ہی فریاد کناں عفو کی طالب رہنا
ہاں جو چھوڑا کہیں امید کا داماں تو نے
ایک لغزش سے گنوایا ،نہ گنوایا ہو تا
اپنے محبوب کا الطاف فرا واں تو نے
رکھنا فریاد فغاں اب بھی وظیفہ اپنا
زیست کرنی ہے اگر زود پشیماں تو نے
لیلا۔۔۔ گن جو ہیں ایک زمانے کے گنائے تم نے
تم سمجھتے ہو کہ مجھ میں کوئی خوبی ہی نہ تھی
اپنی بخشش سے نوازو مجھے پتیم پیارے
کیوں کوئی ا ور بنے دل کی تمہارے رانی
میں نے سوچا ہے بہت سوچا یہ آ خر پا یا
دہر میں سوختہ جانوں کا مقدر ہے یہی
جس پہ غصے کی نگہ ہو تری پتیم پیارے
باندی بن جائے جو رانی ہو چہیتی رانی
آج میں در پہ ترے آئی ہوں سرو پیارے
اپنا اک عمر کا سرمائہ عصیاں لے کر
تو جو آزردہ ہے کیوں آؤں میں در پہ تیرے
دل آشفتہ و مجبور و پریشاں لے کر

تانیہ
02-02-2012, 06:30 PM
گر تیرا تصور تجھے پروانہ بنا دے
شعلوں کی حضوری میں وفا سے نہ گزرنا
دولہا کی طرح حجلئہ محبوب میں جا نا
اس حسن جہاں سوز کی تابش سے نہ ڈرنا
کچا ہے تو اے دوست گل خام کی مانند
بھٹی کی تپش تجھ کو سکھائے گی سنورنا

تانیہ
02-02-2012, 06:32 PM
باد و باراں کا تند خو طوفاں
سائبانوں پہ دندناتا ہے
دور کش چیختے ہیں رہ رہ کر
ان میں یوں پیچ و تاب کھاتا ہے
رات تاریک ہے بھیانک ہے
کوئی دروازہ کھٹکھٹاتا ہے
بند کمرے میں امن ہے لیکن
تھر تھرانے لگی چراغ کی لو
دل میں بھی اک شمع روشن ہے
جس کی مدھم سی رائیگاں سی ہے ضو
اس کو انجام کا ہراس نہیں
کوئی طوفاں بھی آس پاس نہیں

تانیہ
02-02-2012, 06:32 PM
صبح کو آہیں بھر لیں گے ہم
رات کو نالے کر لیں گے ہم
مست رہو تم حال میں اپنے
تم بن کیا ہم جی نہ سکیں گے

پھر بھی کہو تو خوش خوش جی لیں
سوچ سکو تو بگڑا کیا ہے
دیکھ سکو توا دیکھو نا
اب بہت کچھ ہو سکتا ہے
رات کوئی پہلو میں تھا میرے
صبح سے لیکن پہلے پہلے
اک ایک سے اب پوچھ رہا ہوں
تم تو نہیں تھے تم تو نہیں تھے

تانیہ
02-02-2012, 06:33 PM
شہرِ دل کی گلیوں میں
شام سے بھٹکتے ہیں

چاند کے تمنائی!

بے قرار سودائی
دل گداز تاریکی

روح جاں کو ڈستی یے
روح و جاں میں بستی ہے
شہرِ دل کی گلیوں میں

تاک شب کی بیلوں پر
شبنمیں سر شکوں کی
بے قرار لوگوں نے
بے شمار لوگوں نے
یاد گار چھوڑی ہے
اتنی بات تھوڑی یے

صد ہزار باتیں تھیں
حیلۂ شکیبائی
صورتوں کی زیبائی
قامتوں کی رعنائی
ان سیاہ راتوں میں
ایک بھی نہ یاد آئی
جا بجا بھٹکتے ہیں
کس کی راہ تکتے ہیں

چاند کے تمنائی
ہی نگر کبھی پہلے
اس قدر نہ ویراں تھا
کہنے والے کہتے ہیں
قریہ نگاراں تھا
خیر اپنے جینے کا
ہی بھی ایک ساماں تھا

آج دل میں ویرانی
ابر بن کے گھر آئی
آج دل کو کیا کہیے
با وفا نہ ہرجائی
پھر بھی لوگ دیوانے
آ گئے ہیں سمجھانے

اپنی وحشت دل کے
بن لیے ہیں افسانے
خوش خیال دنیا نے
گرمیاں تو جاتی ہیں
وہ رتیں بھی آتیں ہیں
جب ملول راتوں میں
دوستوں کی باتوں میں
جی نہ چین پائے گا
اور اوب جائے گا
آہٹوں سے گونجے گی
شہرِ دل کی پہنائی
اور چاند راتوں میں
چاندنی کے شیدائی
ہر بہانے نکلیں گے
آزمانے نکلیں گے
آرزو کی گھرائی
ڈھونڈنے کو رسوائی
سرد سرد راتوں کو
زرد چاند بخشے گا
بے حساب تنہائی
بے حجاب تنہائی
شہرِ دل کی گلیوں میں!

تانیہ
02-02-2012, 06:34 PM
مُدّتوں ان کو فقط ان کو سنانے کے لیے
گیت گائے دل آشفتہ نوانے اے دوست
پر انھیں گوش توجہ سے نوازا نہ گیا
نا شنیدہ ہی رہے اپنے فسانے اے دوست
عشق بیچارہ کو محروم نوا چھوڑ کے وہ
کھو گئے کونسی دنیاؤں میں جانے اے دوست
پھر کبھی فرصتِ ا ظہار تمنا نہ ہوئی
نا شنیدہ ہی رہے دل کے فسانے اے دوست
اب وہ لوٹے ہیں تو کہتے ہیں جگاسکتے ہیں
دل کو تجدید محبت کے بہانے اے دوست
ان سے کہہ دو کہ وہ تکلیف مروت نہ کریں
اب نہ پھوٹیں گے کبھی اس سے ترانے اے دوست
ان سے کہہ دو کہ بڑی دیر سے خاموش ہے ساز

تانیہ
02-02-2012, 06:36 PM
شام ہوئی ہے ڈگر ڈگر میں پھیلی شب کی سیائی ہے
پچھم اور کبھی کا ڈوبا ،چار پہر کا راہی ہے
آج کا دن بھی آخر بنتا جگ جگ کا جنجال لیے
اندھیارے نے ایک جھپٹ میں چاروں کوٹ سنبھال لیے
رات نے خیمے ڈیرے ڈالے ہولے ہولے کہاں کہاں
پورپ پچھم اتر دکھن ،پھیلا کالا بھبھوت دھواں
سانجھ سمے کی چھایا بیری ،اس کا ناش ناش ہو
دھندکا پھندا جگ جگ پھیلا ا ندھا نیل آکاش ہوا
سہماسہما ریل کے کالے پل پر دیر سے بیٹھا ہوں
سوچ رہا ہوں سیر تو ہولی ٹھہروں یا گھر لوٹ چلوں
شنٹ کے انجن دھواں اڑاتے آتے ہیں کبھی جاتے ہیں
رنگ برنگے سنگنل ان کو کیا کیا ناچ نچاتے ہیں
جنگلے پر پل کو جھکا اور ا نگلیوں سے اسے تھپکایا
کوئی مسافر مزے مزے میں پیت کا گیت الاپ چالا
چھاؤنی کے ایک کمپ کا گھنٹہ ٹن ٹن آٹھ بجاتا ہے
شنٹ انجن دھواں اڑاتا آتا ہے کبھی جاتا ہے
ا ج کی رات اماوس ہے آج گگن پر چاند نہیں
تبھی تو سائے گھنے گھنے ہیں تبھی ستارے ماند نہیں
تبھی تو من میں پھیل چلا الجھا الجھاسوچ کا جال
کل کی یادیں آج کی فکریں آنے والے کل کا خیال
کال کی باتیں کھیتی کھیتی ،بستی بستی ،گلی گلی
جنگ کے چرچے محفل محفل ،گدھوں کی تقدیر بھلی
ایک پہر سے اوپر گزراسورج کو است ہوئے
کھیت کے جھینگر سوندھی سوندھی خوشبو پا کر مست ہوئے
تن تن تن تن ،دب دب دب دب دب الجھی الجھی دبی دبی
ایک بجے کی نوبت شاید وقت سے پہلے بجا ٹھی
طوفانی جیکاروں کا اک شور سر صحرا ا ٹھا
کان بجے یا دشت میں گونجی گھوڑوں کی ٹاپوں کی صدا
کوچ کرو دل دھڑکے بولے پچھم کوا ٹھ جانا ہے
کمپ کنارے باجا باجے دور کا دیس بسانا ہے
ایک سجیلی بستی دائیں ،ایک البیلا رستہ بائیں
دیرسے کالے پل پہ کھڑے ہیں اے دل آج کدھر کو جائیں
لہک لہک کر قرنق چیخے دل کے تیس بلو ان کرے
کھن کھن کھن کھن کھنڈا باجے کیا کیا کتھا بیان کرے
اجلی خندق اپنے ہی جیالوں کے لہو میں نہائی ہے
جیت نے جھلسی ویرانی کی شوبھا اور بڑھائی ہے

تانیہ
02-02-2012, 06:37 PM
کہنہ صدیوں کی افسوںزدہ خامشی
تنگ گلیوں کی پہنائی میں چھائی ہے
ایک ویرانی جاوداں و جلی
ساتویں آسماں سے اتر آئی ہے

ایک کہرا ہے پھیلا ہوا دور تک
پھول بن میں نہ پیلی ہری کھتیاں
ایک مذبح کی دیوار کے اس طرف
چیلیں منڈلا رہی ہیں یہاں سے وہاں

گھاٹ خالی ہے پانی سے اترا ہوا
کوئی ملاح بیٹھا نہیں ناؤ میں
دھندلا دھندلا افق کھو گیا ہے کہیں
دیواروں کے جھنڈوں کے پھیلاؤ
زنگ رو دو کش سرنگوں ہو گئے
جیسے ہاری ہوئی فوج کے سنتری
سونے آنگن میں الجھی ہوئی گھاس
بام چھانے میں کیوں دیر اتنی کری
ایک قسمت کا مارا ہوا کارواں
جانے کس دیس سے جانے کس شہر سے
ہا نپتا کانپتا آگیا ہے یہاں
خالی فردا کی خالی امیدیں لیے
ٹھنڈے چولھوں میں ٹھٹھری ہوئی آگ ہے
بیکراں درد چہروں پہ پر قوم ہے
کب ٹھکانا ملے کب جنازہ اٹھے
کوئی بتلائے کیا ،کس کو معلوم ہے
شہر آباد تھے گاؤں آباد تھے
عالم رنگ و بو تھا یہیں دوستو
کار گاہوں میں تھا شور محشر بپا
یہ بہت دن کی باتیں نہیں دوستو

کون آیا تھا یہ اور کیا کر گیا
لے گیا کون دھرتی کی تابندگی
جنگلوں میں سے گزرے تو چیخے ہوا
زندگی، زندگی ، زندگی ، زندگی
کونسی نہر کوب سا باغ ہے
کون سے پات ہیں کون سا پھول ہے
زندگانی کے دامن کے پھیلاؤ میں
دشت کے خار ہیں دشت کی دھول ہیں

موٹروں گاڑیوں پیدلوں میں کوئی
طاقت و عزم رفتار باقی ہے
کس کے ایماء ارشاد کے منتظر
مدتوں سے کھڑے ہیں وہیں کے وہیں
راہ گیروں کےا ٹھے قدم تھم گئے
سحر نا وقت نے بے خبر آلیا
جانے والے جہاں تھے وہیں جم گئے
آگے جانے کا جب راستہ نہ ملا

چوک پر آکے سیلِ زماں رک گیا
چوک پر آکے سب راستے کھو گئے
اک سپاہی چلیپا کی صورت کھڑا
سرخ پگڑی ہے سر جمائے ہوئے
مومی شمعوں کی لوئیں لرزنے لگیں
محفلوں کا اجالا گیا ، سو گیا
آمد آمد ہے بلوان طوفان کی
دیکھنا ، دیکھنا ، دیکھنا ، دیکھنا
مہر سے چاند تارے الجھنے لگے
آندھیوں سے غبارے الجھنے لگے
کیسے وحشت کے مارے الجھنے لگے
ایک دشمن سے سارے الجھنے لگے
آرتی کے لیے منتظر ہے جہاں
گوشت اور خون کے سردو جامد بتو
اپنی آنکھوں کی پھیلاؤ تو پتلیاں
کچھ تو بولو زبانوں سے کچھ تو کہو

تانیہ
02-02-2012, 06:38 PM
دوستو دوستو آؤ کہ سفر باقی ہے
اپنے گھوڑوں کو بڑھاؤ کہ سفر باقی ہے
یہ پڑاؤ بھی اٹھاؤ کہ سفر باقی ہے
ہی الاؤ بھی بجھاؤ کہ سفر باقی ہے
ہار کے بیٹھ نہ جاؤ کہ سفر باقی ہے
پھر نئی جوت جگاؤ کہ سفر باقی ہے
رہبروں کو نہ بلاؤ کہ سفر باقی ہے
ان کے وعدوں پہ نہ جاؤ کہ سفر باقی ہے

تانیہ
02-02-2012, 06:42 PM
شبوں کو نیند آتی ہی نہیں ہے
طبیعت چین پاتی ہی نہیں ہے
بہت روئے اب آنسو ہیں گراں یاب
کہاں ڈوبا ہے جا کے دل کا مہتاب
ستارے صبح خنداں کے ستارے
بھلا ا تنی بھی جلدی کیا ہے پیارے
کبھی پوچھا بھی تو نے ۔۔۔کس کو چاہیں
لے پھرتے ہیں ویراں سی نگاہیں
ہماری جاں پہ کیوں ہیں صدمے بھاری
نفس کاسوز ، دل کی بے قراری
خبر بھی ہے ہمارا حال کیا ہے
عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے
حکایت ہے ابھی پچھلے دنوں کی
کوئی لڑکی تھی نن%

تانیہ
02-02-2012, 07:00 PM
ہاری ہوئی روحوں میں
اک وہم سا ہوتا ہے
تم خود ہی بتا دو نا
سجدوں میں دھرا کیا ہے
امروز حقیقت ہے
فردا کی خدا جانے
کوثر کی نہ رہ دیکھو
تر ساؤں نہ پیمانے
داغوں سے نہ رونق دو
چاندی سی جبیوں کو
ا ٹھنے کا نہیں پردا
ہے بھی کہ نہیں فردا

تانیہ
02-02-2012, 07:03 PM
میرے گھر سے تو سر شام ہوئے ہو رخصت
میرے خلوت کدۂ دل سے نہ جانا ہوگا
ہجر میں اور تو سب موت کے ساماں ہوں گے
اک یہی یاد بہلنے کا بہانا ہوگا
تم تو جانے کو ہو اس شہر کو ویراں کر کے
اب کہاں اس دل و حشی کا ٹھکانا ہوگا
بھیگی راتوں میں فقط درد کے جگنو پکڑیں
سونی راتوں میں کبھی یاد کے تارے چو میں
خواب ہی خواب میں سینے سے لگائیں تجھ کو
تیرے گیسو ہی کبھی درد کے مارے چومیں
اپنے زانو پہ تراسر ہی کوئی دم رکھ لیں
اپنے ہونٹوں سے ترے ہونٹ بھی پیارے چومیں

تانیہ
02-02-2012, 07:03 PM
ٹوٹے کاس والے کھنڈر
اے دیوتاؤں کے مکاں
گھنٹی تری خاموش ہے
ناقوس ہے تیرا کہاں
تیرے پجاری ہیں کدھر
ہے کون تیرا پاسباں
یہ گنبد و محراب دور
ماضی کی شوکت کے نشاں
ویران ہیں کب سے پڑے
بتلا جو کچھ بتلاسکے
بتلا تو کیوں کر ہو گئے
ناراض تجھ سے دیوتا
چھوڑا ہے جو سب نے تجھے
کیا جُرم تجھ سے ہو گیا
بتلا اے گرد آلود بت
بتلا اے پتھر کے خدا
بتلا اے ختنہ شمع داں
بتلا اے شمع بے ضیاء
تم کس لیے خاموش ہو
تم کس لیے خاموش ہو

دن ڈھل گیا شام آ گئی
بستی میں اب جاؤں گا میں
تجھ پر چڑھانے کے لیے
جو کچھ ملا لاؤں گا میں
اے بت اے پتھر کے خدا
تو نا چنا ، گاؤں گا میں
رسمیں جو مجھ سے ہو سکیں
تیری بجا لاؤں گا میں
برکت عنایت کر مجھے
آ۔ ۔ یاد کرتا ہوں تجھے

تانیہ
02-02-2012, 07:04 PM
وہ دوست جنہوں نے من میں میرے
میرے درد کا پودا بویا تھا
وہ دوست تو رخصت بھی ہو چکے
اور بار غم دل ساتھ مرا
اب چارہ گرد کچھ بولو نہیں
اب ان باتوں سے تمہیں حاصل کیا
میرے دوست تو شہد کے گھونٹ پیئے
تجھے تلخ مزے کا پتہ ہی نہیں
تیرے دوست تو ہوں گے جلو میں ترے
ترا دل تو مگر ہے غموں کا امیں
یہ جو اجنبی لوگ ہیں ان کی بتا
کبھی ان کو بھی یاد کرے گا کوئی
کبھی طنز سے پوچھیں گے ایل جہاں
تیرے دوست کا ہاتھ کہاں ہے بتا
مگر اہل وفا تو جھجھکتے نہیں
جہاں سر پہ چمکتی ہے تیغ حنا
بڑے ناز سے دیتے ہیں سر کو جھکا
نہیں مانگتے کچھ بھی اجل کے سوا

تانیہ
02-02-2012, 07:04 PM
لوٹ چلے تم اپنے ڈیرے ڈوب چلے ہیں تارے
پردیسی پردیسی میرے بنجارے بنجارے
یاروں دو نین ہمارے یا جنگل کا جھر نا
ہم سے پیت نہ کرنا پیارے ہم سے پیت نہ کرنا

تانیہ
02-02-2012, 07:05 PM
تم اس لڑکی کو دیکھتے ہو
تم اس لڑکی کو جانتے ہو
وہ اجلی گوری ؟ نہیں نہیں
وہ مست چکوری نہیں نہیں
وہ جس کا کرتا نیلا ہے؟
وہ جس کا آنچل پیلا ہے ؟
وہ جس کی آنکھ پہ چشمہ ہے
وہ جس کے ماتھے ٹیکا ہے

ان سب سے الگ ان سب سے پرے
وہ گھاس پہ نیچے بیلوں کے
کیا گول مٹول سا چہرہ ہے
جو ہر دم ہنستا رہتا ہے
کچھ چتان ہیں البیلے سے
کچھ اس کے نین نشیلے سے
اس وقت مگر سوچوں میں مگن
وہ سانولی صورت کی ناگن
کیا بے خبرانہ بیٹھی ہے
یہ گیت اسی کا در پن ہے
یہ گیت ہمارا جیون ہے

ہم اس ناگن کے گھائل تھے
ہم اس کے مسائل تھے
جب شعر ہماری سنتی تھی
خاموش دوپٹا چنتی تھی
جب وحشت اسے سستاتی تھی
کیا ہرنی سی بن جاتی تھی

یہ جتنے بستی والے تھے
اس چنچل کے متوالے تھے
اس گھر میں کتنے سالوں کی
تھی بیٹھک چاہنے والوں کی
گو پیار کی گنگا بہتی تھی
وہ نار ہی ہم سے کہتی تھی
یہ لوگ تو محض سہارے ہیں
انشا جی ہم تو تمہارے ہیں

اب اور کسی کی چاہت کا
کرتی ہے بہانا ۔۔۔ بیٹھی ہے
ہم نے بھی کہا دل نے بھی کہا
دیکھو یہ زمانہ ٹھیک نہیں
یوں پیار بڑھانا ٹھیک نہیں
نا دل مانا ، نا ہم مانے
انجام تو سب دنیا والے جانے

جو ہم سے ہماری وحشت کا
سنتی ہے فسانہ بیٹھی ہے
ہم جس کے لئے پردیس پھریں
جوگی کا بدل کر بھیس پھریں
چاہت کے نرالے گیت لکھیں
جی موہنے والے گیت لکھیں
اس شہر کے ایک گھروندے میں
اس بستی کے اک کونے میں.
کیا بے خبرانہ بیٹھی ہے
اس درد کو اب چپ چاپ سہو
انشا جی لہو تو اس سے کہو
جو چتون کی شکلوں میں لیے
آنکھوں میں لیے ،ہونٹوں میں لیے
خوشبو کا زمانہ بیٹھی ہے
لوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیں
کیوں نام ہم اس کا بتلائیں
ہم جس کے لیے پردیس پھرے
چاہت کے نرالے گیت لکھے
جی موہنے والے گیت لکھے
جو سب کے لیے دامن میں بھرے
خوشیوں کا خزانہ بیٹھی ہے
جو خار بھی ہے اور خوشبو بھی
جو درد بھی ہے اور دار و بھی
لوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیں
کیوں نام ہم اس کا بتلائیں
وہ کل بھی ملنے آئی تھی
وہ آج بھی ملنے آئی ہے
جو اپنی نہیں پرائی ہے

تانیہ
02-02-2012, 07:06 PM
پھر گولیاں چل چل اوب گئیں ۔۔۔ اے کیسا بلنکا
تری سڑکیں خون میں ڈوب گئیں۔۔۔ اے کیسا بلنکا
مقتل ہے کہ کھاٹی اطلس کی ۔۔اے کیسا بلنکا
گل رنگ ہے ماٹی اطلس کی۔۔۔۔ اے کیسا بلنکا
بڑھے لشکر لشکر ہتیارے ۔۔۔ ۔ اے کیسا بلنکا
لیے توپیں ٹینک اور طیارے ۔۔۔اے کیسا بلنکا
پر تیری دلاور آبادی۔۔۔۔ اے کیسا بلنکا
ہر لب پہ ہے نعرہ آزادی ۔۔۔اے کیسا بلنکا
کھل جائیں ان کے پیچ سبھی۔۔۔اے کیسا بلنکا
ہیں فور و فرانکو ہیچ سبھی ۔۔۔۔۔اے کیسا بلنکا
دو روز کی ان کو مہلت ہے اے کیسا بلنکا
پھر کوچ نکارا باجت ہے ۔۔۔۔اے کیسا بلنکا
لا ہاتھ میں دیں ہم ہاتھ ترے۔۔۔اے کیسا بلنکا
ہم لوگ کروڑوں ساتھ ترے ۔۔۔اے کیسا بلنکا

تانیہ
02-02-2012, 07:12 PM
کسی سے دور جا پڑے کسی کے پاس ہو گئے
کنار کیپسین پہ ہم بہت اداس ہو گئے
ادھر کنار بحر تھا ادھر بلند گھاٹیاں
جنوں کی وحشتیں ہمیں لیے پھر ہیں کہاں کہاں
وہ رات ایک خواب تھی مگر عجیب خواب تھی
کتاب زندگی کا ایک لا جواب باب تھی
ادھر ادھر کی گفتگو زمانے بھر کی گفتگو
رہ دراز عشق کے کٹھن سفر کی گفتگو
دلوں کی آرزو زباں تک آن پلٹ گئی
اسی میں رات کٹ گئی اسی میں بات کٹ گئی
انھیں تو ہم نے پا لیا یہ اپنا آپ کھو گئے
کنار کیپسین پہ ہم بہت اداس ہو گئے

تانیہ
02-02-2012, 07:13 PM
کچھ لوگ کہ اودے ،نیلے پیلے ، کالے ہیں
دھرتی پہ دھنک کے رنگ بکھیرنے والے ہیں
کچھ رنگ چرا کے لائیں گے یہ بادل سے
کچھ چوڑیوں سے کچھ مہندی سے کچھ کاجل سے
کچھ رنگ بسنت کے رنگ ہیں رنگ پتنگوں کے
کچھ رنگ ہیں جو سردار ہیں سارے رنگوں میں
کچھ یورپ سے کچھ پچھم سے کچھ دکھن سے
کچھ اتر کے اس اونچے کوہ کے دامن سے
اک گہرا رنگ ہے اکھڑ مست جوانی کا
اک ہلکا رنگ ہے بچپن کی نادانی کا
کچھ رنگ ہیں جیسے پھول کھلے ہوں پھاگن کے
کچھ رنگ ہیں جیسے جھپنٹے بھادوں ساوں کے
اک رنگ ہے برکھا رت میں کھلتے سیئسو کا
اک رنگ ہے بر ہات میں ٹپکے آنسو کا
یہ رنگ ملاپ کے رنگ یہ رنگ جدائی کے
کچھ رنگ ہیں ان میں وحشت کے تنہائی کے
ان خون جگر کا رنگ ہے گلگوں پیارا بھی
اک دن رنگ ہمارا بھی ہے تمہارا بھی

تانیہ
02-02-2012, 07:13 PM
فرض کرو ہم اہلِ وفا ہو، فرض کرو دیوانے ہو
فرض کرو یہ دونوں باتیں، جھوٹی ہوں افسانے ہوں

فرض کرو یہ جی کی بپتا، جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی، آدھی ہم نے چھپائی ہو

فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے میخانے ہوں

فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا، جھوٹی پیت ہماری ہو
فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پہ بھاری ہو

فرض کرو یہ جوگ بجوگ ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
فرض کرو بس یہی حقیقت باقی سب کچھ مایا ہو

تانیہ
02-02-2012, 07:14 PM
میں ازل سے تمہاری ہوں پیارے
میں ابد تک تمہاری رہوں گی
مجھ کو چھوڑا ہے کس کے سہارے
کیسے جاؤ گے ،جانے نہ دوں گی
آسماں پر ستارے کہاں ہیں
اور جو ہیں وہ ہمارے کہاں ہیں
زندگی تازگی کھو چکی ہے
بات ہونی تھی جو ہو چکی ہے

تانیہ
02-02-2012, 07:15 PM
ان نینوں میں پیت بھری ہے ان کی انوکھی ریت
کھوٹے کا کبھی کھوٹ نہ دیکھیں دیکھیں پیت ہی پیت
کاگوں کو ابھی نوچ کھلاؤں پاؤں جو بگڑے طور
یہ نیناں کچھ اور جو دیکھیں پیت بنا کچھ اور

پیاروں کی جہاں سنگیت دیکھے جم کر رہے نگاہ
تم من کو مرے صحبت انکی کعبے کی درگاہ

دن بھر دیکھیں سیر نہ ہو ویں پیت کو ان کی پیاس
پیت جو پائیں تب کہیں آئیں لو ٹ کے میرے پاس
تیغیں پیت کے دن میں ہاریں نینوں کی وہاں جیت
کس کس کا دکھ درد اپنائیں ان کی انوکھی ریت

تانیہ
02-02-2012, 07:16 PM
ودیالہ سے رام نگر تک
گرد کا کہرا پھیلا پھیلا
تاروں کی لو پھیکی پھیکی
چاند کا چہرا میلا میلا
انشا جی اس چاند رات میں
کرتے ہوئے کشتی کی سواری
پھر کب آؤ ،پھر کب آؤ
کاشی کی ہر بات ہے نیاری
اسی گنگا کا پانی پی کر
اسی کاشی میں بڑھے پلے ہیں
ہمرے کون دلدر چھوٹے
ہمرے کتنے پاپ کٹے ہیں
ان چوبوں کو درشن دیویں
رام کبھی کبھی شام مراری
ہم لوگوں کی سار نہ لیویں
کاشی کی ہر بات ہے نیاری
کھیت کھیت میں ٹھا کر لوٹیں
پینٹھ پینٹھ میں بنجارے ہیں
مندر مندر لوبھی بامن
گھاٹ گھاٹ پر ہر کارے ہیں
ایک طرف سرکار کے پیارے
ایک طرف یہ دھن کے پجاری
بندے بھی بھگوان بھی دشمن

کاشی کی ہر بات ہے نیاری
جھونکے متوالی پروا کے
پرات کال دریا کا کہتا
ڈال ڈال گاتے ہوئے پنچھی
ترل ترل بہتی ہوئی دھار
پورب اور گگن پر کرنیں
پنکھ سنہرے تول رہی ہیں
رات کے اندھیارے کی کرنیں
ایک اک کر کے کھول رہی ہے
رکشا والے بگ ٹٹ بھا گے
اسٹیشن سے لیے سواری
آج تو ہم نے بھی آ دیکھی
کاشی کی ہر بات ہے نیاری
دور دور کے یا تریوں کے
گھاٹ گھاٹ پر ڈیرے ڈالے
پنڈت پنڈت نوکا والے
ا مڈ پڑے کی گٹھڑی کو ڈبونے
ہم بھی پنجا دیس سے آئے
جیون کا دکھ کون بٹائے
جیون کا دکھ سہا نہ جائے
ہم لوگوں پر کشٹ پڑا ہے
ہم لوگوں پر وقت ہے بھاری
لیکن کس کو کون بتائے
کاشی کی ہر بات ہے نیاری

تانیہ
02-02-2012, 07:16 PM
رات پھرا ن کا انتظار رہا
رات پھر گاڑیاں گزرتی ہیں
وہ کوئی دم میں آئے جاتے ہیں
راہیں سرگوشیاں ہی کرتی رہیں
ایک امید باز دید جو تھی
دل کبھی یاس آشنا نہ ہوا
کب ہوئے وہ نگاہ سے اوجھل
کب انھیں سامنے نہیں پایا
رات پھر میں نے ان سے باتیں کی
رات تک میرے پاس تھے گویا
ہونٹ، رخسار ، کا کلیں ، باہیں
ایک اک چھو کے دیکھ سکتا تھا
پڑگیاسست رات کا جادو
دیکھتے دیکھتے سماں بدلا
ہولے ہولے سرک گئے تارے
چاند کا رنگ پڑ گیا پھیکا
اور پھر مشرقی جھروکے سے
صبح دم آفتاب نے جھانکا
در پہ باہر کسی نے دستک دی
(ڈاکیا ڈاک لے کے آیا تھا )
ایک دو ہی تو لفظ تھے خط میں
اب سکوں آشنا ہیں دیدہ و دل

اب کریں ا نتظار تو کس کا
وہ حسیں ہونٹ وہ حسیں آنکھیں
پھول سا جسم چاند سا چہرہ
عنبریں زلفیں ، مخملیں باہیں
آج تک جن کا لمس باقی تھا
اب فقط ان کی یاد باقی ہے
لٹ گیا عشق کاسرو ساماں
شہر امید ہو گیا ہے ویراں
اس کی اک روئدار باقی ہے
ایک اجڑ سواد باقی ہے

تانیہ
02-02-2012, 07:17 PM
وہ آج کی محفل میں
ہم کو بھی نہ پہچانا
کیاسوچ لیا دل میں
کیوں ہو گیا بیگانہ
ہاں اے دل دیوانا

وہ آپ بھی آتے تھے
ہم کو بھی بلاتے تھے
کس چاہ سے ملتے تھے
کیا پیار جتاتے تھے
کل تک جو حقیقت تھی
کیوں آج ہےا فسانہ
ہاں اے دل دیوانا

بس ختم ہوا قصہ
اب ذکر نہ ہو اسکا
وہ شخص وفا دشمن
اب اس سے نہیں ملنا
گھر اس کے نہیں جانا
ہاں اے دل دیوانا

ہاں کل سے نہ جائیں گے
پر آج تو ہو آئیں
اس کو نہیں پاسکتے
اپنے ہی کو کھو آئیں
تو باز نہ آئے گا
مشکل تجھے سنجھانا
وہ بھی ترا کہنا تھا
یہ بھی ترا فرمانا
چل اے دل دیوانا

تانیہ
02-02-2012, 07:18 PM
کیوں جانی پہچانی گئی ہو
انشا جی کو جان گئی ہو
جس سے شام سویرےا کر
فون کی گھنٹی پر بلوا کر
کیا کیا بات کیا کرتی تھیں
کیا کیا عہد لیا کرتی تھیں
دیکھو پیت نبھانا ہوگا
دیکھو چھوڑ نہ جانا ہوگا
پیت لگائی ریت نبھائی
ہم لوگوں کی ریت پرائی
میں ہوں انشا ، انشا ، انشا

تانیہ
02-02-2012, 07:19 PM
جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی، ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا
کبھی شہرِ بتاں میں خراب پھرے، کبھی دشتِ جنوں آباد کیا

کبھی بستیاں بن، کبھی کوہ و دمن،رہا کتنے دنوں یہی جی کا چلن
جہان حُسن ملا وہاں بیٹھ گئے، جہاں پیار ملا وہاں صاد کیا

شبِ ماہ میں جب بھی یہ درد اٹھا، کبھی بیت کہے ، لکھی چاندنگر
کبھی کوہ سے جاسر پھوڑ مرے، کبھی قیس کو جا استاد کیا

یہی عشق بالآخر روگ بنا، کہ ہے چاہ کے ساتھ بجوگ بنا
جسے بننا تھا عیش وہ سوگ بنا، بڑا مَن کے نگر میں فساد کیا

اب قربت و صحبتِ یار کہاں، اب و عارض و زلف و کنار کہاں
اب اپنا بھی میر سا عالم ہے، ٹک دیکھ لیا جی شاد کیا

تانیہ
02-02-2012, 07:20 PM
لب پر کسی کا بھی ہو، دل میں تیرا نقشا ہے
اے تصویر بنانے والی، جب سے تجھ کو دیکھا ہے

بے ترے کیا وحشت ہم کو، تجھ بن کیسا صبر و سکوں
تو ہی اپنا شہر ہے جانی تو ہی اپنا صحرا ہے

نیلے پربت، اودی دھرتی، چاروں کوٹ میں تو ہی تو
تجھ سے اپنے جی خلوت، تجھ سے من کا میلا ہے

آج تو ہم بکنے کو آئے، آج ہمارے دام لگا
یوسف تو بازار وفا میں ایک ٹکے کو بکتا ہے

لے جانی اب اپنے من کے پیراہن کی گرہیں کھول
لے جانی اب آدھی شب ہے چار طرف سناٹا ہے

طوفانوں کی بات نہیں ہے، طوفاں آتے جاتے ہیں
تو اک نرم ہوا کا جھونکا، دل کے باغ میں ٹھہرا ہے

یا تو آج ہمیں اپنا لے یا تو آج ہمارا بن
دیکھ کہ وقت گزرتا جائے، کون ابد تک جیتا ہے

فردا محض فسوں کا پردا، ہم تو آج کے بندے ہیں
ہجر و وصل وفا اور دھوکا سب کچھ آج پہ رکھتا ہے

تانیہ
02-02-2012, 07:20 PM
کل چودہويں کي رات تھي، شب بھر رہا چرچا تيرا
کچھ نے کہا يہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا تيرا

ہم بھي وہيں موجود تھے ہم سے بھي سب پوچھا کيے
ہم ہنس دئيے ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ تيرا

اس شہر ميں کس سے مليں، ہم سے چھوٹيں محفليں
ہر شخص تيرا نام لے، ہر شخص ديوانہ تيرا

دو اشک جانے کس لئے، پلکوں پہ آکر ٹک گئے
الطاف کي بارش تيري، اکرام کا دريا تيرا

ہم پر يہ سختي کي نظر ہم ہيں فقير رہگزر
رستہ کبھي روکا تيرا دامن کبھي تھاما تيرا

ہاں ہاں تري صورت حسين ليکن تو ايسا بھي نہيں
اس شخص کے اشعار سے شہرہ ہوا کيا کيا تيرا

بے درد سنني ہوتو چل کہتا ہے کيا اچھي غزل
عاشق تيرا، رسوا تيرا، شاعر تيرا، انشا تيرا

تانیہ
02-02-2012, 07:21 PM
قرب میسر ہو تو یہ پوچھیں درد ہو تم یا درماں ہو
دل میں تو آن بسے ہو لیکن مالک ہو یا مہماں ہو

دوری ، آگ سے دوری بہتر قربت کا انجام ہے راکھ
آگ کا کام فروزاں ہونا راکھ ضرور پریشاں ہو

سودا عشق کا سودا ہم جان کے جی کو لگایا ہے
عشق یہ صبر و سکوں کا دشمن پیدا ہو یا پنہاں ہو

عشق وہ آگ کہ جس میں تپ کر سونا کندن بنتا ہے
آگ میں تجھ کو کچھ نہیں ہو تو اس آگ میں بریاں ہو

شہر کے دشت کہو بھئی سادھو ہاں بھئی سادھو شہر دشت
ہم بھی چاک گریباں ٹھرے تم بھی چاک گریباں ہو

تانیہ
02-02-2012, 07:22 PM
فقیر بن کر تم ان کے در پر ہزار دھونی رما کے بیٹھو
جبیں کے لکھے کو کیا کرو گے جبیں کا لکھا مٹا کے بیٹھو

اے ان کی محفل میں آنے والو اے سو دو سو دام بتانے والو
جو ان کی محفل میں آ کے بیٹھو تو ساری دنیا بھلا کے بیٹھو

بہت جتاتے ہو چاہ ہم سے مگر کرد گے نباہ ہم سے
ذرا ملاؤ نگاہ ہم سے ، ہمارے پہلو میں آ کے بیٹھو

جنوں پرانا ہے عاشقوں کا جو یہ بہانہ ہے عاشقوں کا
تو اک ٹھکانا ہے عاشقوں کا حضور جنگل میں جا کے بیٹھو

ہمیں دکھاؤ زرد چہرا ، لیے یہ وحشت کی گرد چہرا
رہے گا تصویر درد چہرا جو روگ ایسے لگا کے بیٹھو

جناب انشا یہ عاشقی ہے جناب انشا یہ زندگی ہے
جناب انشا جو ہے یہی ہے نہ اس سے دامن چھڑا کے بیٹھو

تانیہ
02-02-2012, 07:22 PM
سو سو تہمت ہم پہ تراشی کوچہ رقیبوں نے
خطبے میں لیکن نام ہمیں لوگوں کا پڑھا خطیبوں نے

شب کی بساط ناز لپیٹو ، شمع کے سرد آنسو پونچھو
نقارے پر چوب لگا دی صبح کے نئے نقیبوں نے

کس کو خبر ہے رات کے تارے کب نکلے کب ڈوب گئے
شام و سحر کا پیچھا چھوڑا آپ کے درد نصیبوں نے

امن کی مالا جپنے والے جیالے تو خاموش رہے
فتح مبین کے جھنڈے گاڑے شہر بہ شہر صلیبوں نے

انشا جی اب آئے جو ہو دو بیت کہوا ور اٹھ جاؤ
تمہی کہو تمہیں شاعر ما نا کب سے بڑے ادیبوں نے

تانیہ
02-02-2012, 07:22 PM
رات کے خواب سنائیں کس کو، رات کے خواب سہانےتھے
دھندلے دھندلے چہرے تھے، پر سب جانے پہچانے تھے

ضدّی، وحشی، الہڑ، چنچل، میٹھے لوگ رسیلے لوگ
ہونٹ ان کے غزلوں کے مصرعے، آنکھوں میں افسانے تھے

وحشت کا عنوان ہماری، ان میں سے جو نام بنی
دیکھیں گے تو لوگ کہیں گے، انشاء جی دیوانے تھے

یہ لڑکی تو ان گلیوں میں روز ہی گھوما کرتی تھی
اس سے ان کو ملنا تھا تو اس کے لاکھ بہانے تھے

ہم کو ساری رات جگایا، جلتے بُجھتے تاروں نے
ہم کیوں ان کے در پر اُترے، کتنے اور ٹھکانے تھے

تانیہ
02-02-2012, 07:23 PM
دیکھ ہماری دید کے کارن کیسا قابلِ دید ہوا
ایک ستارا بیٹھے بیٹھے تابش میں خورشید ہوا

آج تو جانی رستہ تکتے، شام کا چاند پدید ہوا
تو نے تو انکار کیا تھا، دل کب نا امید ہوا

آن کے اس بیمار کو دیکھے، تجھ کو بھی توفیق ہوئی؟
لب پر اس کے نام تھا تیرا، جب بھی درد شدید ہوا

ہاں اس نے جھلکی دکھلائی، ایک ہی پل کو دریچے میں
جانو اک بجلی لہرائی، عالم ایک شہید ہوا

تو نے ہم سے کلام بھی چھوڑا، عرضِ وفا کی سنتے ہیں
پہے کون قریب تھا ہم سے، اب تو اور بعید ہوا

دنیا کے سب کارج چھوڑے، نام پہ تیرے انشاء نے
اور اسے کیا تھوڑے غم تھے ؟ تیرا عشق مزید ہوا

تانیہ
02-02-2012, 07:24 PM
دیکھ مری جاں کہ گئے باہو، کون دلوں کی جانے، ہُو
بستی بستی صحرا صحرا، لاکھوں کریں دوانے ہُو

جوگی بھی جو نگر نگر میں مارے مارے پھرتے ہیں
کاسہ لئے بھبوت رمائے سب کے دوارے پھرتے ہیں

شاعر بھی جو میٹھی بالی بول کہ من کو ہرتے ہیں
بنجارے جو اونچے داموں جی کے سودے کرتے ہیں

ان میں سچّے موتی بھی ہیں، ان میں کنکر پتھر بھی
ان میں اتھلے پانی بھی ہیں، ان میں گہرے ساگر بھی

گوری دیکھ کے آگے بڑھنا، سب کا جھوٹا سچّا، ہُو
ڈوبنے والی ڈوب گئی وہ گھڑا تھا جس کا کچّا ہُو

تانیہ
02-02-2012, 07:25 PM
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر ميں جی کو لگانا کيا
وحشی کو سکوں سےکيا مطلب، جوگی کا نگر ميں ٹھکانا کيا

اس دل کے دريدہ دامن میں، ديکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی ميں سو چھيد ہوئے، اس جھولی کا پھيلانا کيا

شب بيتی، چاند بھی ڈوب چلا، زنجير پڑی دروازے پہ
کيوں دير گئے گھر آئے ہو، سجنی سے کرو گے بہانہ کيا

پھر ہجر کی لمبی رات مياں، سنجوگ کی تو يہی ايک گھڑی
جو دل ميں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کيا گھبرانا کيا

اس حسن کے سچے موتی کو ہم ديکھ سکيں پر چھو نہ سکيں
جسے ديکھ سکيں پر چھو نہ سکيں وہ دولت کيا وہ خزانہ کيا

جب شہر کے لوگ نہ رستہ ديں، کيوں بن ميں نہ جا بسرام کریں
ديوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے ديوانہ کيا

تانیہ
02-03-2012, 03:52 PM
http://pakistanica.com/writers/images/ahmad-rahi.jpg

فلمی کہانی نویس اور نغمہ نگار ۔جدید پنجابی ادب کے ایک بہت ہی اہم شاعر۔احمد راہی کا تعلق امرتسر کے ایک کشمیری خاندان سے تھا جو آزادی کے بعد ہجرت کر کے لاہور آ گیا۔ امرتسر میں ہی انہوں میں مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو ، شاعر سیف الدین سیف ، کہانی نگار اے حمید کی صحبت میں رہتے ہوئے ادب میں دلچسپی لینا شروع کردی لیکن لاہور کے ادبی ماحول میں اس میں مزید نکھار آیا۔ لاہور آمد پر انہیں ترقی پسند ادبی مجلے ’سویرا‘ کا مدیر بنا دیا گیا۔ لیکن جب ترق پسند ادیبوں کے خلاف حکومتی کارروائیوں میں تیزی آئی تو انہوں نے فلمی دنیا کا رخ کیا۔

تانیہ
02-03-2012, 03:54 PM
اَج دی رات اخیر، وے رانجھن
قصہ بن جاؤُ ہیر

ڈھاواں مارن گئے ہُن بیلے
کھیہ اُڈاون گے اوہ ویلے
جنھاں دے اوہلے اِک مِک ہوئی
میری تیری تقدیر، وے رانجھن
اَج دی رات اخیر

جاندیاں گھڑیاں ڈنگ دیاں جاون
آونیاں گھڑیاں اُڈدِیاں آون
جاندیاں آوندیاں گھڑیاں مِل کے
ڈنگ گھتّی تدبیر، وے رانجھن
اَج دی رات اَخیر

آخری واری درد ونڈا لَے
ہیر سے پیار نُوں ہِک نال لا لَے
دِن چڑھدے تائیں کِھلر جاسی
ساہواں دی زنجیر، وے رانجھن
اَج دی رات اخیر

تانیہ
02-03-2012, 03:56 PM
جے توں مرزا ہُندوں رانجھیا
تے میں تتڑی زہر نہ پَھک دی
ساڈے پیار دی سانجھی پینگ نُوں
بھیڑیا موت دی توڑ نہ سَک دی
تیری کڑی کمان دے مان تے
وی میں کیدو، قاضی ڈَک دی
تُوں کھیڑیاں نُوں بیبا سِجدوں
میں سیالاں نال نَجٹھ دی

تُوں بھانبڑ بن کے مَچدوں
میں ہنیری بن کے جُھلدی
میں ویکھ وی میرے ہتھ دی
گنڈ کسے توں کیویں کُھلدی

جے توں مرزا ہُندوں رانجھیا
وی میں خورے کیہ کجھ کردی
نہ توں بِن آئیوں مردوں
نہ میں بِن آئیوں مردی

تانیہ
02-03-2012, 03:56 PM
نی مٹیارے

پہلاں ہس ہس لاندے
گوہڑیاں پاندے
ہس دیاں رَس دیاں مٹیاراں نوں
ہنجوآں دے وس پا کے
مڑ ٹُر جاندے
بدلاں دے پرچھانویں
نی ایہ بجلی دے لشکارے
نی مٹیارے
ونج کرن ونجارے

لیہندیوں سورج کدی نا چڑھیا دنیا جانے
بِنا ڈور نا چڑھی کدی گڈی اسمانے
ڈوہنگھے دریا ویری چھلاں
سوچ سمجھ لے ساریاں گلاں
کچے گھڑے دغا دے جاندے
پہنچ کے ادھ وچکارے

نی مٹیارے
ونج کرن ونجارے

جے کر توں جگراتے کٹنے
جے کر توں ہیرے نے چٹنے
جے کر توں راتاں نوں سورج
دن نوں لبھنے تارے
تاں تیری مڑضی مٹیارے

نی مٹیارے
ونج کرن ونجارے

تانیہ
02-03-2012, 03:59 PM
http://pakistanica.com/writers/images/ahmad-faraz.jpg

احمد فراز 1931ء میں کوہاٹ میں پیدا ہوۓ ۔ اردو اور فارسی میں ایم اے کیا ۔ ایڈورڈ کالج ( پشاور ) میں تعلیم کے دوران ریڈیو پاکستان کے لۓ فیچر لکھنے شروع کیے ۔ جب ان کا پہلا شعری مجموعہ “تنہا تنہا” شائع ہوا تو وہ بی اے میں تھے ۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد ریڈیو سے علیحدہ ہو گئے اور یونیورسٹی میں لیکچر شپ اختیار کر لی ۔ اسی ملازمت کے دوران ان کا دوسرا مجموعہ “درد آشوب ” چھپا جس کو پاکستان رائٹرز گڈز کی جانب سے “آدم جی ادبی ایوارڈ” عطا کیا گیا ۔ یونیورسٹی کی ملازمت کے بعد پاکستان نیشنل سینٹر (پشاور) کے ڈائریکٹر مقرر ہوۓ ۔ انہیں 1976 ء میں اکا دکی ادبیات پاکستان کا پہلا سربراہ بنایا گیا ۔ بعد ازاں جنرل ضیاء کے دور میں انہیں مجبورا جلا وطنی اختیار کرنی پڑی ۔

تانیہ
02-03-2012, 04:01 PM
بارہا مجھ سے کہا دل نے کہ اے شعبدہ گر
تو کہ الفاظ سے اصنام گری کرتا ہے
کبھی اس حسنِ دل آرا کی بھی تصویر بنا
جو تری سوچ کے خاکوں میں لہو بھرتا ہے

بارہا دل نے یہ آواز سنی اور چاہا
مان لوں مجھ سے جو وجدان میرا کہتا ہے
لیکن اس عجز سے ہارا میرے فن کا جادو
چاند کو چاند سے بڑھ کر کوئی کیا کہتا ہے

تانیہ
02-03-2012, 04:03 PM
روزنا جرمن نژاد
اس کے ہونٹوں میں حرارت
جسم میں طوفاں
برہنہ پنڈلیوں میں آگ
نیت میں فساد
رنگ و نسل و قامت و قد
سرزمین و دین کے سب تفرقوں سے بے نیاز
ہر کسی سے بے تکلف، ایک حد تک دلنواز
وہ سبھی کی ہم پیالہ، ہم نفس
عمر شاید بیس سے اوپر برس یا دو برس
روزنا جرمن نژاد
اور دیکھنے والوں میں سب
اس کی آسودہ نگاہی، بے محابا میگساری کے سبب
پیکر تسلیم و سر تا پا طلب
ان میں ہر اک کی متاع کل
بہائے التفات نیم شب

روزنا جرمن نژاد
اور اس کا دل۔ ۔ ۔ زخموں سے چُور
اپنے ہمدردوں سے ہمسایوں سے دور
گھرکی دیواریں نہ دیواروں کے سایوں کا سرور
جنگ کے آتش کدے کا رزق کب سے بن چکا
ہر آہنی بازو کا خوں
ہر چاند سے چہرے کا نور

خلوتیں خاموش و ویراں
اور دہلیز پر اک مضطرب مرمر کا بت
ایستا وہ ہے بچشم ناصبور
کون ہے اپنوں میں باقی
تو سن راہ طلب کا شہسوار
ہر دریچے کا مقدر، انتظار

اجنبی مہمان کی دستک خواب
شاید خواب کی تعبیر بھی
چند لمحوں کی رفاقت جاوداں بھی
حسرت تعمیر بھی
الوداعی شام، آنسو، عہد و پیماں
مضطرب صیاد بھی، نخچیر بھی
کون کر سکتا ہے ورنہ ہجر کے کالے سمندر کو عبور
اجنبی مہماں کا اک حرف فوار
نومید چاہت کا غرور

روزنا اب اجنبی کے ملک میں خود اجنبی
پھر بھی چہرے پر اداسی ہے نہ آنکھوں میں تھکن
اجنبی کا ملک جس میں چار سو
تاریکیاں ہی خیمہ زن
سب کے سایوں سے بدن

روزنا مرمر کا بت
اور اس کے گرد
ناچتے سائے بہت
سب کے ہونٹوں پر وہی حرف وفا
ایک ہی سب کی صدا
وہ سبھی کی ہم پیالہ، ہم نفس
عمر شاید بیس سے اوپر برس یا دو برس
اس کی آنکھوں میں تجسس اور بس

تانیہ
02-03-2012, 04:04 PM
میرا بدن لہو لہو
مرا وطن لہو لہو
مگر عظیم تر
یہ میری ارض پاک ہو گئی
اسی لہو سے
سرخرو
وطن کی خاک ہو گئی
مرا بدن لہو لہو
بجھا جو اک دیا یہاں
تو روشنی کے کارواں
رواں دواں رواں دواں
یہاں تلک کے ظلم کی
فصیل چاک ہو گئی
عظیم تر یہ ارض پاک ہو گئی
مرا بدن لہو لہو

غنیم کس گماں میں تھا
کہ اس نے وار کر دیا
اسے خبر نہ تھی ذرا
کہ جب بھی ہم بڑھے
تو پھر رکے نہیں
یہ سر اٹھے تو کٹ مرے
مگر جھکے نہیں
اسی ادا سے رزمگاہ تابناک ہو گئی
عظیم تر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ارض پاک ہو گئی

مرا بدن لہو لہو
مرا وطن لہو لہو
ہر ایک زخم فتح کا نشان ہے
وہی تو میری آبرو ہے آن ہے
جو زندگی وطن کی راہ میں ہلاک ہو گئی
عظیم تر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ارض پاک ہو گئی

تانیہ
02-03-2012, 04:06 PM
بہت حسین ہیں تیری عقیدتوں کے گلاب
حسین تر ہے مگر ہر گلِ خیال ترا
ہم ایک درد کے رشتے میں منسلک دونوں
تجھے عزیز مرا فن مجھے جما ل ترا
مگر تجھے نہیں معلوم قربتوں کے الم
تری نگاہ مجھے فاصلوں سے چاہتی ہے
تجھے خبر نہیں شاید کہ خلوتوں میں مری
لہو اگلتی ہوئی زندگی کراہتی ہے
تجھے خبر نہیں شاید کہ ہم وہاں ہیں جہاں
یہ فن نہیں ہے اذیت ہے زندگی بھر کی
یہاں گلوئے جنوں پر کمند پڑتی ہے
یہاں قلم کی زباں پر ہے نوک خنجر کی

تانیہ
02-03-2012, 04:06 PM
مرے غنیم نے مجھکو پیام بھیجا ہے
کہ حلقہ زن ہیں میرے گرد لشکری اُسکے
فصیل شہر کے ہر برج، ہر منارے پر
کماں بدست ستادہ ہیں عسکری اُسکے
وہ برقِ لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپش
وجودِ خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی
بچھا دیا گیا بارود اسکے پانی میں
وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی
سبھی دریدہ دہن اب بدن دریدہ ہوئے
سپردِ دار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے
تمام صوفی و سالک، سبھی شیوخ و امام
امیدِ لطف پہ ایوانِ کج کلاہ میں ہیں
معززینِ عدالت حلف اٹھانے کو
مثال سائلِ مبرم نشستہ راہ میں ہیں
تم اہلِ حرف کے پندار کے ثنا گر تھے
وہ آسمانِ ہنر کے نجوم سامنے ہیں
بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا
گداگرانِ سخن کے ہجوم سامنے ہیں
قلندرانِ وفا کی اساس تو دیکھو
تمھارے ساتھ ہے کون؟*آس پاس تو دیکھو
تو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو
تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو
وگرنہ اب کہ نشانہ کمان داروں کا
بس ایک تم ہو، تو غیرت کو راہ میں رکھ دو
یہ شرط نامہ جو دیکھا، تو ایلچی سے کہا
اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے
کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے
تو یہ جواب ہے میرا مرے عدو کے لیے
کہ مجھکو حرصِ کرم ہے نہ خوفِ خمیازہ
اسے ہے سطوتِ شمشیر پہ گھمنڈ بہت
اسے شکوہِ قلم کا نہیں ہے اندازہ
مرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا
جو اپنے شہر کو محصور کر کے ناز کرے
مرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا
جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے
مرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا
جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
مرا قلم نہیں اس دزدِ نیم شب کا رفیق
جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے
مرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی
جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے
مرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی
جو اپنے چہرے پہ دوہرا نقاب رکھتا ہے
مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے
اسی لیے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے
میں کٹ گروں یا سلامت رہوں ، یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
مرے قلم کا سفر رائگاں نہ جائے گا

تانیہ
02-03-2012, 04:07 PM
اپنی بود و باش نہ پُوچھو
ہم سب بے توقیر ہوئے
کون گریباں چاک نہیں ہے
ہم ہوئے تم ہوئے میر ہوئے

سہمی سہمی دیواروں میں
سایوں جیسے رہتے ہیں
اس گھر میں آسیب بسا ہے
عامل کامل کہتے ہیں

دیکھنے والوں نے دیکھا ہے
اک شب جب شب خون پڑا
گلیوں میں بارود کی بُو تھی
کلیوں پر سب خون پڑا

اب کے غیر نہیں تھا کوئی
گھر والے دشمن نکلے
جن کو برسوں دودھ پلایا
ان ناگوں کے پھن نکلے

رکھوالوں کی نیت بدلی
گھر کے مالک بن بیٹھے
جو غاصب تھے محسن کُش تھے
صوفی سالک بن بیٹھے

جو آواز جہاں سے اُٹھی
اس پر تیر تبر برسے
ایسے ہونٹ سلے لوگوں کے
سرگوشی کو بھی ترسے

گلی گلی میں بندی خانے
چوک چوک میں مقتل ہیں
جلادوں سے بھی بڑھ چڑھ کر
منصف وحشی پاگل ہیں

کتنے بے گنہوں کے گلے پر
روز کمندیں پڑتی ہیں
بُوڑھے بچے گھروں سے غائب
بیبیاں جیل میں سڑتی ہیں

اس کے ناخن کھینچ لئے ہیں
اس کے بدن کو داغ دیا
گھر گھر قبریں در در لاشیں
بجھا ہر ایک چراغ دیا

ماؤں کے ہونٹوں پر ہیں نوحے
اور بہنیں کُرلاتی ہیں
رات کی تاریکی میں ہوائیں
کیسے سندیسے لاتی ہیں

قاتل اور درباری اس کے
اپنی ہٹ پر قائم ہیں
ہم سب چور لُٹیرے ڈاکو
ہم سب کے سب مجرم ہیں

ہمیں میں کوئی صبح سویرے
کھیت میں مُردہ پایا گیا
ہمیں سا دہشت گرد تھا کوئی
چھُپ کے جسے دفنایا گیا

سارا شہر ہے مُردہ خانہ
کون اس بھید کو جانے گا
ہم سارے لا وارث لاشیں
کون ہمیں پہچانے گا

تانیہ
02-03-2012, 04:09 PM
عمروں کی مسافت سے
تھک ہار گئے آخر
سب عہد اذیّت کے
بیکار گئے آخر
اغیار کی بانہوں میں
دلدار گئے آخر
رو کر تری قسمت کو
غمخوار گئے آخر

یوں زندگی گزرے گی
تا چند وفا کیشا
وہ وادیِ الفت تھی
یا کوہ الَم جو تھا
سب مدِّ مقابل تھے
خسرو تھا کہ جم جو تھا

ہر راہ میں ٹپکا ہے
خونابہ بہم جو تھا
رستوں میں لُٹایا ہے
وہ بیش کہ کم جو تھا
نے رنجِ شکستِ دل
نے جان کا اندیشہ
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کچھ اہلِ ریا بھی تو
ہمراہ ہمارے تھے
رہرو تھے کہ رہزن تھے
جو روپ بھی دھارے تھے
کچھ سہل طلب بھی تھے
وہ بھی ہمیں پیارے تھے
اپنے تھے کہ بیگانے
ہم خوش تھے کہ سارے تھے

سو زخم تھے نَس نَس میں
گھائل تھے رگ و ریشہ
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جو جسم کا ایندھن تھا
گلنار کیا ہم نے
وہ زہر کہ امرت تھا
جی بھر کے پیا ہم نے
سو زخم ابھر آئے
جب دل کو سیا ہم نے
کیا کیا نہ مَحبّت کی
کیا کیا نہ جیا ہم نے
لو کوچ کیا گھر سے
لو جوگ لیا ہم نے
جو کچھ تھا دیا ہم نے
اور دل سے کہا ہم نے
رکنا نہیں درویشا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یوں ہے کہ سفر اپنا
تھا خواب نہ افسانہ
آنکھوں میں ابھی تک ہے
فردا کا پری خانہ
صد شکر سلامت ہے
پندارِ فقیرانہ
اس شہرِ خموشی میں
پھر نعرۂ مستانہ
اے ہمّتِ مردانہ
صد خارہ و یک تیشہ
اے عشق جنوں پیشہ
اے عشق جنوں پیشہ

تانیہ
02-03-2012, 04:10 PM
اے دل ان آنکھوں پر نہ جا
جن میں وفورِ رنج سے
کچھ دیر کو تیرے لیئے
آنسو اگر لہرا گئے

یہ چند لمحوں کی چمک
جو تجھ کو پاگل کر گئ!
ان جگنوؤں کے نور سے
چمکی ہے کب وہ زندگی
جس کے مقدر میں رہی
صبحِ طلب سے تیرگی

کس سوچ میں گم سم ہے تو
اے بے خبر! ناداں نہ بن
تیری فسردہ روح کو
چاہت کے کانٹوں کی طلب
اور اس کے دامن میں *فقط
ہمدردیوں کے پھول ہیں

تانیہ
02-03-2012, 04:11 PM
میری بستی سے پرے بھی میرے دشمن ہوں گے
پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا

آشنا ہاتھ ہی اکثر میری جانب لپکے
میرے سینے میں میرا اپنا ہی خنجر اترا

پھر وہی خوف کی دیوار تذبذب کی فضا
پھر وہی عام وہ ہی اہل رِیا کی باتیں

نعرہ حبِ وطن مالِ تجارت کی طرح
جنسِ ارزاں کی طرح دین خدا کی باتیں

اس سے پہلے بھی تو ایسی ہی گھڑی آئی تھی
صبح وحشت کی طرح شام غریباں کی طرح

اس سے پہلے بھی تو عہد و پیمانِ وفا ٹوٹے تھے
شیشۂ دل کی طرح آئینۂ جاں کی طرح

پھر کہاں ہیں مری ہونٹوں پہ دعاؤں کے دئے
پھر کہاں شبنمی چہروں پہ رفاقت کی وِداع

صندلی پاؤں سے مستانہ روی روٹھ گئی
ململی ہاتھوں پہ جل بجھ گیا انگارِ حنا

دل نشیں آنکھوں میں فرقت زدہ کاجل رویا
شاخِ بازو کے لئے زلف کا بادل رویا

مثلِ پیراہنِ گل پھر سے بدن چاک ہوئے
جیسے اپنوں کی کمانوں میں ہوں اغیار کے تیر

اس سے پہلے بھی ہوا چاند محبت کا ندیم
نوکِ دشتاں سے کھنچی تھی میری مٹی کی لکیر

آج ایسا نہیں ، ایسا نہیں ہونے دینا
اے میری سوختہ جانوں، میرے پیارے لوگو

اب کے گر زلزلے آئے تو قیامت ہوگی
میرے دلگیر، میرے درد کے مارے لوگو

کیسی غاصب، کسی ظالم، کسی قاتل کے لیے
خود کو تقسیم نہ کرنا میرے پیارے لوگو
نہیں ، ایسا نہیں ہونے دینا

تانیہ
02-03-2012, 04:11 PM
اب کس کا جشن مناتے ہو، اس دیس کا جو تقسیم ہوا
اب کس کے گیت سناتے ہو، اس تن من کا جو دونیم ہوا

اس خواب کا جو ریزہ ریزہ ان آنکھوں کی تقدیر ہوا
اس نام کا جو ٹکڑا ٹکڑا گلیوں میں بے توقیر ہوا

اس پرچم کا جس کی حرمت بازاروں میں نیلام ہوئی
اس مٹی کا جس کی حرمت منسوب عدو کے نام ہوئی

اس جنگ کو جو تم ہار چکے، اس رسم کا جو جاری بھی نہیں
اس زخم کا جو سینے پہ نہ تھا، اس جان کا جو واری بھی نہیں

اس خون کا جو بدقسمت تھا راہوں میں بہا یا تن میں رہا
اس پھول کا جو بے قیمت تھا، آنگن میں کھلا یا بن میں رہا

اس مشرق کا جس کو تم نے نیزے کی انی، مرہم سمجھا
اس مغرب کا جس کو تم نے جتنا بھی لوٹا، کم سمجھا

ان معصوموں کا جن کے لہو سے تم نے فروزاں راتیں کیں
یا ان مظلوموں کا جس سے خنجر کی زباں میں باتیں کیں

اس مریم کا جس کی عفت لٹتی ہے بھرے بازاروں میں
اس عیسیٰ کا جو قاتل ہے اور شامل ہے غم خواروں میں

ان نوحہ گروں کا جس نے ہمیں خود قتل کیا خود روتے ہیں
ایسے بھی کہیں دم ساز ہوئے، ایسے جلاد بھی ہوتے ہیں

ان بھوکے ننگے ڈھانچوں کا جو رقص سر بازار کریں
یا ان ظالم قزاقوں کا جو بھیس بدل کر وار کریں

یا ان جھوٹے اقراروں کا جو آج تلک ایفا نہ ہوئے
یا ان بے بس لاچاروں کا جو اور بھی دکھ کا نشانہ ہوئے

اس شاہی کا جو دست بدست آئی ہے تمہارے حصے میں
کیوں ننگ وطن کی بات کرو، کیا رکھا ہے اس قصے میں

آنکھوں میں چھپائے اشکوں کو، ہونٹوں میں وفا کے بول لیے
اس جشن میں میں بھی شامل ہوں نوحوں سے بھرا کشکول لیے

تانیہ
02-03-2012, 04:12 PM
اب وہ کہتے ہیں تم کوئی چارہ کرو
جب کوئی عہد و پیماں سلامت نہیں
اب کسی کنج میں بے اماں شہر کی
کوئی دل کوئی داماں سلامت نہیں

تم نے دیکھا ہے سر سبز پیڑوں پہ اب
سارے برگ و ثمر خار و خس ہو گئے
اب کہاں خوبصورت پرندوں کی رت
جو نشیمن تھے اب وہ قفس ہو گئے

صحن گلزار خاشاک کا ڈھیر
اب درختوں کے تن پر قبائیں کہاں
سرو و شمشاد سے قمریاں اڑ گئیں
شاخ زیتون پر فاختائیں کہاں

شیخ منبر پہ نا معتبر ہو چکا
رند بدنام کوئے خرابات میں
فاصلہ ہو تو ہو فرق کچھ بھی نہیں
فتوہ دیں میں ہو اور کفر کی بات میں

اب تو سب رازداں ہمنوا نامہ بر
کوئے جانا ں کے سب آشنا جا چکے
کوئی زندہ گواہی بچی ہی نہیں
سب گنہگار سب پارسا جا چکے

اب کوئی کس طرح قم بہ اذنی کہے
اب کہ جب شہر کا شہر سنسان ہے
حرف عیسیٰ نہ صور اسرافیل ہے
حشر کا دن قیامت کا میدان ہے

مرگ انبوہ بھی جشن ساماں نہیں
اب کوئی قتل گاہوں میں جائے تو کیا
کب سے توقیر لالہ قبائی گئی
کوئی اپنے لہو میں نہائے تو کیا

تانیہ
02-03-2012, 04:14 PM
معاف کر مری مستی خدائے عز و جل
کہ میرے ہاتھ میں ساغر ہے میرے لب پہ غزل
کریم ہے تو مری لغزشوں کو پیار سے دیکھ
رحیم ہے تو سزا و جزا کی حد سے نکل
ہے دوستی تو مجھے اذن میزبانی دے
تو آسمان سے اتر اور مری زمین پہ چل
بہت عزیز ہے مجھ کو یہ خاکداں میرا
یہ کوہسار یہ قلزم یہ دشت یہ دلدل
مرے جہاں میں زمان و مکان و لیل و نہار
ترے جہاں میں ازل ہے ابد ہے نہ آج نہ کل
تو اپنے عرش پہ شاداں ہے سو خوشی تیری
میں اپنے فرش پہ نازاں ہوں اے نگار ازل
مجھے نہ جنت گم گشتہ کی بشارت دے
کہ مجھ کو یاد ابھی تک ہے ہجرت اول
ترے کرم سے یہاں بھی مجھے میسر ہے
جو زاہدوں کی عبادت میں ڈالتا ہے خلل
وہ تو کہ عقدہ کشا و مسب اللا سباب
یہ میں کہ آپ معمہ ہوں آپ اپنا ہی حل
میں آپ اپنا ہی ہابیل اپنا ہی قابیل
مری ہی ذات ہے مقتول و قاتل و مقتل
برس برس کی طرح تھا نفس نفس میرا
صدی صدی کی طرح کاٹتا رہا پل پل
ترا وجود ہے لاریب اشرف و اعلیٰ
جو سچ کہوں تو نہیں میں بھی ارذل و اسفل
یہ واقعہ ہے کہ شاعر وہ دیکھ سکتا ہے
رہے جو تیرے فرشتوں کی آنکھ سے اوجھل
یہی قلم ہے جو دکھ کی رتوں میں بخشتا ہے
دلوں کو پیار کا مرہم سکون کا صندل
یہی قلم ہے کہ جس کے ہنر سے نکلے ہیں
رہ حیات کے خم ہوں کہ زلف یار کے بل
یہی قلم ہے کہ جس کی عطا سے مجھ کو ملے
یہ چاہتوں کے شگوفے محبتوں کے کنول
تمام سینہ فگاروں کو یاد میرے سخن
ہر ایک غیرت مریم کے لب پہ میری غزل
اسی نے سہل کئے مجھ پہ زندگی کے عذاب
وہ عہد سنگ زنی تھا کہ دور تیغ اجل
اسی نے مجھ کو سجھائی ہے راہ اہل صفا
اسی نے مجھ سے کہا ہے پل صراط پہ چل
اسی نے مجھ چٹانوں کے حوصلے بخشے
وہ کربلائے فنا تھی کہ کار گاہ جدل
اسی نے مجھ سے کہا اسم اہل صدق امر
اسی نے مجھ سے کہا سچ کا فیصلہ ہے اٹل
اسی کے فیض سے آتش کدے ہوئے گلزار
اسی کے لطف سے ہر زشت بن گیا اجمل
اسی نے مجھ سے کہا جو ملا بہت کچھ ہے
اسی نے مجھ سے کہا جو نہیں ہے ہاتھ نہ مل
اسی نے مجھ سے قناعت کا بوریا بخشا
اسی کے ہاتھ سے دست دراز طمع ہے شل
اسی نے مجھ سے کہا بیعتِ یزید نہ کر
اسی نے مجھ سے کہا مسلک حسین پہ چل
اسی نے مجھ سے کہا زہر کا پیالہ اٹھا
اسی نے مجھ سے کہا، جو کہا ہے اس سے نہ ٹل
اسی نے مجھ سے کہا عاجزی سے مات نہ کھا
اسی نے مجھ سے کہا مصلحت کی چال نہ چل
اسی نے مجھ سے کہا غیرت سخن کو نہ بیچ
کہ خون دل کے شرف کو نہ اشرفی سے بدل
اسی نے مجھ کو عنایت کیا ید بیضا
اسی نے مجھ سے کہا سحر سامری سے نکل
اذیتوں میں بھی بخشی مجھے وہ نعمت صبر
کہ میرے دل میں گرہ ہے نہ ماتھے پہ بل
تری عطا کے سبب یا میری انا کے سبب
کسی دعا کا ہے موقع نہ التجا کا محل
کچھ اور دیر ابھی حسرت وصال میں رہ
کچھ اور دیر آتش فراق میں جل
سو تجھ سا ہے کوئی خالق نہ مجھ سی ہے مخلوق
نہ کوئی تیرا ہی ثانی نہ میرا کوئی بدل
فراز تو بھی جنوں میں کدھر گیا ہے نکل
ترا دیار محبت تری نگار غزل

تانیہ
02-03-2012, 04:15 PM
یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں تمام تیری حکایتیں ہیں
یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں یہ شعر تیری شکایتیں ہیں
میں سب تری نذر کر رہا ہوں ، یہ ان زمانوں کی ساعتیں ہیں
جو زندگی کے نئے سفر میں تجھے کسی روز یاد آئیں
تو ایک اک حرف جی اٹھے گا پہن کے انفاس کی قبائیں
اداس تنہائیوں کے لمحوں میں ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیں

مجھے ترے درد کے علاوہ بھی اور دکھ تھے ، یہ جانتا ہوں
ہزار غم تھے جو زندگی کی تلاش میں تھے ، یہ جانتا ہوں
مجھے خبر ہے کہ تیرے آنچل میں درد کی ریت چھانتا ہوں
مگر ہر اک بار تجھ کو چھو کر یہ ریت رنگِ حنا بنی ہے
یہ زخم گلزار بن گئے ہیں یہ آہِ سوزاں گھٹا بنی ہے
یہ درد موجِ صبا ہوا ہے ، یہ آگ دل کی صدا بنی ہے

اور اب یہ ساری متاعِ ہستی، یہ پھول، یہ زخم سب ترے ہیں
یہ دکھ کے نوحے ، یہ سکھ کے نغمے ، جو کل مرے تھے وہ اب ترے ہیں
جو تیری قربت، تری جدائی میں کٹ گئے روز و شب ترے ہیں
وہ تیرا شاعر، ترا مغنی، وہ جس کی باتیں عجیب سی تھیں
وہ جس کے انداز خسروانہ تھے اور ادائیں غریب سی تھیں
وہ جس کے جینے کی خواہشیں بھی خود اس کے اپنے نصیب سی تھیں
نہ پوچھ اس کا کہ وہ دوانہ بہت دنوں کا اجڑ چکا ہے
وہ کوہکن تو نہیں تھا لیکن کڑی چٹانوں سے لڑ چکا ہے
وہ تھک چکا ہے اور اس کا تیشہ اسی کے سینے میں گڑ چکا ہے

تانیہ
02-03-2012, 04:16 PM
تمہاری پوروں کا لمس اب تک
مری کفِ دست پر ہے
اور میں سوچتا ہوں
وہ لمحے کتنے دروغ گو تھے
وہ کہہ گئے تھے
کہ اب کے جو ہاتھ تیرے ہاتھوں کو چھو گئے ہیں
تمام ہونٹوں کے سارے لفظوں سے معتبر ہیں
وہ کہہ گئے تھے
تمہاری پوریں
جو میرے ہاتھوں کو چھو رہی تھیں
وہی تو قسمت تراش ہیں
اور اپنی قسمت کو
سارے لوگوں کی قسمتوں سے بلند جانو
ہماری مانو
تو اب کسی اور ہاتھ کو ہاتھ مت لگانا
میں اُس سمے سے
تمام ہاتھوں
وہ ہاتھ بھی
جن میں پھول شاخوں سے بڑھ کے لطف نمو اٹھائیں
وہ ہاتھ بھی جو سدا کے محروم تھے
اور ان کی ہتھیلیاں زخم زخم تھیں
اور وہ ہاتھ بھی جو چراغ جیسے تھے
اور رستے میں سنگ فرسنگ کی طرح جا بجا گڑھے تھے۔
وہ ہاتھ بھی جن کے ناخنوں کے نشان
معصوم گردنوں پر مثال طوق ستم پڑے تھے
تمام نا مہربان اور مہربان ہاتھوں سے
دست کش یوں رہا ہوں جیسے
یہ مٹھیاں میں نے کھول دیں تو
وہ ساری سچائیوں کے موتی
مسرتوں کے تمام جگنو
جو بے یقینی کے جنگلوں میں
یقین کا راستہ بناتے ہیں
روشنی کی لکیر کا قافلہ بناتے ہیں
میرے ہاتھوں سے روٹھ جائیں گے
پھر نہ تازہ ہوا چلے گی
نہ کوئی شمع صدا جلے گی
میں ضبط اور انتظار کے اس حصار میں مدتوں رہا ہوں
مگر جب اک شام
اور وہ پت جھڑ کی آخری شام تھی
ہوا اپنا آخری گیت گا رہی تھی
مرے بدن میں مرا لہو خشک ہو رہا تھا
تو مٹھیاں میں نے کھول دیں
اور میں نے دیکھا
کہ میرے ہاتھوں میں
کوئی جگنو
نہ کوئی موتی
ہتھیلیوں پر فقط مری نامراد آنکھیں دھری ہوئی تھیں
اور ان میں
قسمت کی سب لکیریں مٹی ہوئی تھیں۔

تانیہ
02-03-2012, 04:16 PM
وہ شام کیا تھی جب اس نے بڑی محبت سے
کہا کہ تو نے یہ سوچا بھی ہے کبھی احمد

خدا نے کتنی تجھے نعمتیں عطا کی ہیں
وہ بخششیں کہ ہیں بالا تر از شمار و عدد

یہ خال و خد یہ وجاہت یہ تندرست بدن
گرجتی گونجتی آواز استوار جسد

بسان لالۂ صحرا تپاں تپاں چہرہ
مثال نخل کہستاں دراز قامت و قد

تانیہ
02-03-2012, 04:17 PM
فقیرانہ روش رکھتے تھے
لیکن اس قدر نادار بھی کب تھے
کہ اپنے خواب بیچیں
ہم اپنے زخم آنکھوں میں لئے پھرتے تھے
لیکن رو کشِ بازار کب تھے
ہمارے ہاتھ خالی تھے
مگر ایسا نہیں پھر بھی
کہ ہم اپنی دریدہ دامنی
الفاظ کے جگنو
لئے گلیوں میں آوازہ لگاتے
“خواب لے لو خواب”
لوگو
اتنے کم پندار ہم کب تھے
ہم اپنے خواب کیوں بیچیں
کہ جن کو دیکھنے کی آرزو میں
ہم نے آنکھیں تک گنوا دی تھیں
کہ جن کی عاشقی میں
اور ہوا خواہی میں
ہر ترغیب کی شمعیں بجھا دی تھیں
چلو ہم بے*نوا
محرومِ سقف و بام و در ٹھہرے
پر اپنے آسماں کی داستانیں
اور زمیں کے انجم و مہتاب کیوں بیچیں
خریدارو!
تم اپنے کاغذی انبار لائے ہو
ہوس کی منڈیوں سے درہم و دینار لائے ہو
تم ایسے دام تو ہر بار لائے ہو
مگر تم پر ہم اپنے حرف کے طاؤس
اپنے خون کے سرخاب کیوں بیچیں
ہمارے خواب بے*وقعت سہی
تعبیر سے عاری سہی
پر دل*زدوں کے خواب ہی تو ہیں
نہ یہ خوابِ زلیخا ہیں
کہ اپنی خواہشوں کے یوسفوں پر تہمتیں دھرتے
نہ یہ خوابِ عزیزِ مصر ہیں
تعبیر جن کی اس کے زندانی بیان کرتے
نہ یہ ان آمروں کے خواب
جو بے*آسرا خلقِ خدا کو دار پر لائیں
نہ یہ غارت*گروں کے خواب
جو اوروں کے خوابوں کو تہہ شمشیر کر جائیں
ہمارے خواب تو اہلِ صفا کے خواب ہیں
حرف و نوا کے خواب ہیں
مہجور دروازوں کے خواب
محصور آوازوں کے خواب
اور ہم یہ دولتِ نایاب کیوں بیچیں
ہم اپنے خواب کیوں بیچیں؟

تانیہ
02-03-2012, 04:18 PM
نوحہ گر چُپ ہیں کہ روئیں بھی تو کِس کو روئیں
کوئی اس فصلِ ہلاکت میں سلامت بھی تو ہو

کون سا دل ہے کہ جس کے لئے آنکھیں کھولیں
کوئی بِسمل کسی شب خوں کی علامت بھی تو ہو

شُکر کی جا ہے کہ بے نام و نسب کے چہرے
مسندِ عدل کی بخشش کے سزاوار ہوئے

کتنی تکریم سے دفنائے گئے سوختہ تن
کتنے اعزاز کے حامِل یہ گنہگار ہوئے

یوں بھی اِس دور میں جینے کا کِسے تھا یارا
بے نوا بازوئے قاتِل سے گِلہ مند نہ ہوں

زندگی یوں بھی تو مُفلِس کی قبَا تھی لیکن
دلفگاروں کے کفن میں بھی تو پیوند نہ ہوں

ناوکِ ظِلّ الٰہی اجل آہنگ سہی
شُکر کی جا ہے کہ سَونے کی انی رکھتے ہیں

جاں گنوائی بھی تو کیا مَدفن و مَرقد تو ملا
شاہ جم جاہ طبیعت تو غنی رکھتے ہیں

تانیہ
02-03-2012, 04:19 PM
میں نے اکثر تمہارے قصیدے لکھے
اور آج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں
پا بہ زنجیر یاروں سے نادم ہوں میں
اپنے گیتوں کی عظمت سے شرمندہ ہوں
سرحدوں نے کبھی جب پکارا تمہیں
آنسووں سے تمہیں الوداعیں کہیں
تم ظفر مند تو خیر کیا لوٹتے
ہار کر بھی نہ جی سے اتارا تمہیں

جس جلال و رعونت سے وارد ہوئے
کس خجالت سے تم سوئے زنداں گئے
تیغ در دست و کف در دہاں آئے تھے
طوق در گردنوں پا بہ جولاں گئے
سینہ چاکان مشرق بھی اپنے ہی تھے
جن کا خوں منہ کو ملنے کو تم آئے تھے
مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے
یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے
انکی تقدیر تم کیا بدلتے مگر
انکی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے
جیسے برطانوی راج میں ڈوگرے
جیسے سفاک گورے تھے ویتنام میں
تم بھی ان سے ذرا مختلف تو نہیں
حق پرستوں پہ الزام انکے بھی تھے
وحشیوں سے چلن عام انکے بھی تھے
رائفلیں وردیاں نام انکے بھی تھے
آج سرحد سے پنجاب و مہران تک
تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو
اتنی غارتگری کس کے ایما پر ہے
کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو
کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے
کس کے آگے ہو تم سرنگوں غازیو
آج شاعر پہ ہی قرض مٹی کا ہے
اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں۔
آج تم آئینہ ہو میرے سامنے
پیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں
(نامکمل)

تانیہ
02-03-2012, 04:21 PM
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
وقت کا کیا ہے ، گزرتا ہے گزر جائے گا

اتنا مانوس نہ ہو خلوتِ غم سے اپنی
تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا

تم سرِ راہِ وفا دیکھتے رہ جاؤ گے
اور وہ بامِ رفاقت سے اتر جائے گا

زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا
تیری بخشش تری دہلیز پہ دھر جائے گا

ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں
میں نہیں، کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا

ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فراز
ظالم اب کے بھی نہ روۓ گا تو مر جائے گا

تانیہ
02-03-2012, 04:21 PM
اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم
یہ بھی بہت ہے ،تجھ کو اگر بھول جائیں ہم

صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا
سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم

اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب
اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم

تو اتنی دل زدہ تو نہ تھی اے شبِ فراق
آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم

وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فراز
ہے ہے خدا نہ کردہ تجھے بھی رلائیں ہم

تانیہ
02-03-2012, 04:24 PM
اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو
شہر میں آوازوں کا کال پڑا لوگو

ہر چہرہ دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوا
اب کے دلوں میں ایسا بال پڑا لوگو

جب بھی دیار خندہ دلاں سے گزرے ہیں
اس سے آگے شہر ملال پڑا لوگو

آئے رت اور جائے رت کی بات نہیں
اب تو عمروں کا جنجال پڑا لوگو

تلخ نوائی کا مجرم تھا صرف فراز
پھر کیوں سارے باغ پہ جال پڑا لوگو

تانیہ
02-03-2012, 04:24 PM
اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں
سر بہ زانو ہے کوئی سر بگریباں جاناں

ہم بھی کیا سادہ تھے ہم نے بھی سمجھ رکھا تھا
غم دوراں سے جدا ہے غم جاناں جاناں

ہر کوئی اپنی ہی آواز سے کانپ اٹھتا ہے
ہر کوئی اپنے ہی سائے سے ہراساں جاناں

جس کو دیکھو وہی زنجیر بہ پا لگتا ہے
شہر کا شہر ہوا داخل زنداں جاناں

اب ترا ذکر بھی شاید ہی غزل میں آئے
اور سے اور ہوئے درد کے عنواں جاناں

ہم کہ روٹھی ہوئی رت کو بھی منا لیتے تھے
ہم نے دیکھا ہی نہ تھا موسم ہجراں جاناں

ہوش آیا تو سبھی خواب تھے ریزہ ریزہ
جیسے اڑتے ہوئے اوراق پریشاں جاناں

تانیہ
02-03-2012, 04:26 PM
اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون
زخم پھولوں کی طرح مہکیں گے پر دیکھے گا کون

دیکھنا سب رقص بسمل میں مگن ہو جائیں گے
جس طرف سے تیر آئے گا ادھر دیکھے گا کون

زخم جتنے بھی تھے سب منسوب قاتل سے ہوئے
تیرے ہاتھوں کے نشاں اے چارہ گر دیکھے گا کون

وہ ہوس ہو یا وفا ہو بات محرومی کی ہے
لوگ تو پھل پھول دیکھیں گے شجر دیکھے گا کون

ہم چراغ شب ہی جب ٹھہرے تو پھر کیا سوچنا
رات تھی کس کا مقدر اور سحر دیکھے گا کون

ہر کوئی اپنی ہوا میں مست پھرتا ہے فراز
شہر نا پرساں میں تیری چشم تر دیکھے گا کون

تانیہ
02-03-2012, 04:26 PM
اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں
یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں

اوّل اوّل کی محبت کے نشے یاد تو کر
بِن پیۓ ہی ترا چہرہ تھا گُلستاں جاناں

آخر آخر تو یہ عالم تھا کہ اب یاد نہیں
رگِ مِینا سُلگ اٹھی کہ رگِ جاں جاناں

یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کِس قدر جلد بدل جاتے ہیں اِنساں جاناں

دل سمجھتا تھا کہ شاید ہو فسُردہ تُو بھی
دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں

مدّتوں سے یہی عالم ۔۔ نہ توقع، نہ اُمید
دل پُکارے ہی چلا جاتا ہے جاناں جاناں

زندگی تیری عطا تھی سو ترے نام کی ہے
ہم نے جیسی بھی گزاری ترا احساں جاناں

تانیہ
02-03-2012, 04:26 PM
اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں
جس طرح آئینے چہروں کو ترس جاتے ہیں

احتیاط اہل محبت کہ اسی شہر میں لوگ
گل بدست آتے ہیں اور پایہ رسن جاتے ہیں

جیسے تجدید تعلق کی بھی رُت ہو کوئی
زخم بھرتے ہیں تو احباب بھی آ جاتے ہیں

ساقیا ! تو نے تو میخانے کا یہ حال کیا
بادہ کش محتسب شہر کے گن گاتے ہیں

طعنۂ نشہ نہ دو سب کو کہ کچھ سوختہ جاں
شدتِ تشنہ لبی سے بھی بہک جاتے ہیں

ہر کڑی رات کے بعد ایسی قیامت گزری
صبح کا ذکر بھی آئے تو لرز جاتے ہیں

تانیہ
02-03-2012, 04:29 PM
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں
کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں

تو بھی ہیرے سے بن گیا تھا پتھر
ہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں

تو کہ یکتا تھا بے شمار ہوا
ہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں

ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریں
پھر کہیں اور مبتلا ہو جائیں

ہم اگر منزلیں نہ بن پائے
منزلوں تک کا راستہ ہو جائیں

دیر سے سوچ میں ہیں پروانے
راکھ ہو جائیں یا ہوا ہو جائیں

اب کے گر تو ملے تو ہم تجھ سے
ایسے لپٹیں تری قبا ہو جائیں

بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فراز
کیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں

تانیہ
02-03-2012, 04:31 PM
انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں
کیا بات ہے سرکار بڑی دیر سے چپ ہیں

آسان نہ کر دی ہو کہیں موت نے مشکل
روتے ہوئے بیمار بڑی دیر سے چپ ہیں

اب کوئی اشارہ ہے نہ پیغام نہ آہٹ
بام و در و دیوار بڑی دیر سے چپ ہیں

ساقی یہ خموشی بھی تو کچھ غور طلب ہے
ساقی ترے میخوار بڑی دیر سے چپ ہیں

یہ برق نشیمن پہ گری تھی کہ قفس پر
مرغان گرفتار بڑی دیر سے چپ ہیں

اس شہر میں ہر جنس بنی یوسف کنعاں
بازار کے بازار بڑی دیر سے چپ ہیں

پھر نعرۂ مستانہ فراز آؤ لگائیں
اہل رسن و دار بڑی دیر سے چپ ہیں

تانیہ
02-03-2012, 04:32 PM
اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے
مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے

محبتوں میں تو ملنا ہے یا اجڑ جانا
مزاجِ عشق میں کب اعتدال رکھا ہے

ہوا میں نشہ ہی نشہ فضا میں رنگ ہی رنگ
یہ کس نے پیرہن اپنا اچھال رکھا ہے

بھلے دنوں کا بھروسا ہی کیا رہیں نہ رہیں
سو میں نے رشتہ غم کو بحال رکھا ہے

ہم ایسے سادہ دلوں کو وہ دوست ہو کہ خدا
سبھی نے وعدہ فردا پہ ٹال رکھا ہے

حسابِ لطفِ حریفاں کیا ہے جب تو کھلا
کہ دوستوں نے زیادہ خیال رکھا ہے

بھری بہار میں اک شاخ پر کھلا ہے گلاب
کہ جیسے تو نے ہتھیلی پہ گال رکھا ہے

فراز عشق کی دنیا تو خوبصورت تھی
یہ کس نے فتنہ ہجر و وصال رکھا ہے

تانیہ
02-03-2012, 04:32 PM
اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
ہجر کی رات بام پر ماہِ تمام رکھ دیا

آمدِ دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی
میں نے بھی اک چراغ سا دل سرِ شام رکھ دیا

دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں
میں نے تو سب حسابِ جاں برسرِ عام رکھ دیا

اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے
میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا

شدتِ تشنگی میں بھی غیرتِ مے کشی رہی
اس نے جو پھیر لی نظر میں*نے بھی جام رکھ دیا

اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بس
کبکِ دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا

جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوشِ یار تھا
اس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا

اور فراز چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

تانیہ
02-03-2012, 04:33 PM
اُس کی نوازشوں نے تو حیران کر دیا
میں میزبان تھا مجھے مہمان کر دیا

اک نو بہار ناز کے ہلکے سے لمس نے
میرے تو سارے جسم کو گلدان کر دیا

کل اک نگار شہر سبا نے بہ لطف خاص
مجھ سے فقیر کو بھی سلیمان کر دیا

جینے سے اس قدر بھی لگاؤ نہ تھا مجھے
تو نے تو زندگی کو، میری جان کر دیا

نا آشنائے لُطف تصادم کو کیا خبر
میں نے ہوا کی زد پہ رکھا جان کر دیا

اتنے سکوں کے دن کبھی دیکھے نہ تھے فراز
آسودگی سے مجھ کو پریشان کر دیا

تانیہ
02-03-2012, 04:34 PM
اُس کو جُدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا
اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا

ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شبِ فراق
اے مرگِ ناگہاں! تیرا آنا بہت ہوا

ہم خُلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا
اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا

اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی
اُس سے ذرا سا ربط بڑھانا بہت ہوا

اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں
اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا

اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکا
مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا

کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل
اے یادِ یار تیرا ٹھکانہ بہت ہوا

کہتا تھا ناصحوں سے میرے منہ نہ آئیو
پھر کیا تھا ایک ہُو کا بہانہ بہت ہوا

لو پھر تیرے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر
احمد فراز! تجھ سے کہا نا، بہت ہوا

تانیہ
02-03-2012, 04:34 PM
اِس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی

ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میں
یا تو ٹوٹ کر رویا یا غزل سرائی کی

تج دیا تھا کل جن کو ہم نے تیری چاہت میں
آج ان سے مجبوراً تازہ آشنائی کی

ہو چلا تھا جب مجھ کو اختلاف اپنے سے
تو نے کس گھڑی ظالم میری ہمنوائی کی

ترک کر چکے قاصد کوئے نا مراداں کو
کون اب خبر لاوے شہر آشنائی کی

طنز و طعنہ و تہمت سب ہنر ہیں ناصح کے
آپ سے کوئی پوچھے ہم نے کیا برائی کی

پھر قفس میں شور اٹھا قیدیوں کا اور صیاد
دیکھنا اڑا دیگا پھر خبر رہائی کی

دکھ ہوا جب اس در پر کل فراز کو دیکھا
لاکھ عیب تھے اس میں خو نہ تھی گدائی کی

تانیہ
02-03-2012, 04:35 PM
اس دورِ بے جنوں کی کہانی کوئی لکھو
جسموں کو برف، خون کو پانی کوئی لکھو

کوئی کہو کہ ہاتھ قلم کس طرح ہوئے
کیوں رک گئی قلم کی روانی کوئی لکھو

کیوں اہلِ شوق سر بہ گریباں ہیں دوستو
کیوں خوں بہ دل ہے عہدِ جوانی کوئی لکھو

کیوں سرمہ در گلو ہے ہر اک طائرِ سخن
کیوں گلستاں قفس کا ہے ثانی، کوئی لکھو

ہاں تازہ سانحوں کا کرے کون انتظار
ہاں دل کی واردات پرانی کوئی لکھو

تانیہ
02-03-2012, 04:35 PM
ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں
فراز اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں

جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر
کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں

رہ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہو
سو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں

تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا
یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں

یہ کون لوگ ہیں موجود تیری محفل میں
جو لالچوں سے تجھے ، مجھ کو جل کے دیکھتے ہیں

یہ قرب کیا ہے کہ یک جاں ہوئے نہ دور رہے
ہزار ایک ہی قالب میں ڈھل کے دیکھتے ہیں

نہ تجھ کو مات ہوئی ہے نہ مجھ کو مات ہوئی
سو اب کے دونوں ہی چالیں بدل کے دیکھتے ہیں

یہ کون ہے سر ساحل کے ڈوبنے والے
سمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں

ابھی تلک تو نہ کندن ہوئے نہ راکھ ہوئے
ہم اپنی آگ میں ہر روز جل کے دیکھتے ہیں

بہت دنوں سے نہیں ہے کچھ اسکی خیر خبر
چلو فراز کوئے یار چل کے دیکھتے ہیں

تانیہ
02-03-2012, 04:37 PM
برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلربا سا
اب ذہن میں نہیں ہے پرنام تھا بھلا سا

ابرو کھچے کھچے سے آنکھیں جھکی جھکی سی
باتیں رکی رکی سی، لہجہ تھکا تھکا سا

الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر میں
بن جائے جنگلوں میں جس طرح راستہ سا

خوابوں میں خواب اس کے یادوں میں یاد اس کی
نیندوں میں گھل گیا ہو جیسے کہ رتجگا سا

پہلے بھی لوگ آئے کتنے ہی زندگی میں
وہ ہر طرح سے لیکن اوروں سے تھا جدا سا

اگلی محبتوں نے وہ نا مرادیاں دیں
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا

کچھ یہ کہ مدتوں سے ہم بھی نہیں تھے روئے
کچھ زہر میں بُجھا تھا احباب کا دلاسا

پھر یوں ہوا کے ساون آنکھوں میں آ بسے تھے
پھر یوں ہوا کہ جیسے دل بھی تھا آبلہ سا

اب سچ کہیں تو یارو ہم کو خبر نہیں تھی
بن جائے گا قیامت اک واقعہ ذرا سا

تیور تھے بے رُخی کے انداز دوستی کے
وہ اجنبی تھا لیکن لگتا تھا آشنا سا

ہم دشت تھے کہ دریا ہم زہر تھے کہ امرت
ناحق تھا زعم ہم کو جب وہ نہیں تھا پیاسا

ہم نے بھی اُس کو دیکھا کل شام اتفاقاً
اپنا بھی حال ہے اب لوگو فراز کا سا

تانیہ
02-03-2012, 04:40 PM
پھرے گا تو بھی یونہی کو بکو ہماری طرح
دریدہ دامن و آشفتہ مو ہماری طرح

کبھی تو سنگ سے پھوٹے گی آبجو غم کی
کبھی تو ٹوٹ کے روئے گا تو ہماری طرح

پلٹ کے تجھ کو بھی آنا ہے اس طرف لیکن
لٹا کے قافلۂ رنگ و بو ہماری طرح

یہ کیا کہ اہل ہوس بھی سجائے پھرتے ہیں
دلوں پہ داغ جبیں پر لہو ہماری طرح

وہ لاکھ دشمن جاں ہو مگر خدا نہ کرے
کہ اس کا حال بھی ہو ہُو بہو ہماری طرح

ہمی فراز سزاوار سنگ کیوں ٹھرے
کہ اور بھی تو ہیں دیوانہ خو ہماری طرح

تانیہ
02-03-2012, 04:41 PM
بدن میں آگ سی چہرہ گلاب جیسا ہے
کہ زہرِ غم کا نشہ بھی شراب جیسا ہے

کہاں وہ قرب کہ اب تو یہ حال ہے جیسے
ترے فراق کا عالم بھی خواب جیسا ہے

مگر کبھی کوئی دیکھے کوئی پڑھے تو سہی
دل آئینہ ہے تو چہرہ کتاب جیسا ہے

وہ سامنے ہے مگر تشنگی نہیں جاتی
یہ کیا ستم ہے کہ دریا سراب جیسا ہے

فراز سنگ ملامت سے زخم زخم سہی
ہمیں عزیز ہے خانہ خراب جیسا ہے

تانیہ
02-03-2012, 04:42 PM
بجھا ہے دل تو غمِ یار اب کہاں تو بھی
بسانِ نقش بہ دیوار اب کہاں تو بھی

بجا کہ چشمِ طلب بھی ہوئی تہی کیسہ
مگر ہے رونقِ بازار اب کہاں تو بھی

ہمیں بھی کارِ جہاں لے گیا ہے دور بہت
رہا ہے در پۓ آزار اب کہاں تو بھی

ہزار صورتیں آنکھوں میں پھرتی رہتی ہیں
مری نگاہ میں ہر بار اب کہاں تو بھی

اُسی کو وعدہ فراموش کیوں کہیں اے دل
رہا ہے صاحبِ کردار اب کہاں تو بھی

مری غزل میں کوئی اور کیسے در آۓ
ستم تو یہ ہے کہ اے یار، اب کہاں تو بھی

جو تجھ سے پیار کرے تیری لغزشوں کے سبب
فراز ایسا گنہگار اب کہاں تو بھی

تانیہ
02-03-2012, 04:42 PM
باغباں ڈال رہا ہے گُل و گلزار پہ خاک
اب بھی میں چپ ہوں تو مجھ پر مرے اشعار پہ خاک

کیسے بے آبلہ پا بادیہ پیما ہیں کہ ہے
قطرۂ خوں کے بجائے سر ہر خار پہ خاک

سرِ دربار ستادہ ہیں پئے منصب و جاہ
تُف بر اہلِ سخن و خلعت و دستار پہ خاک

آ کے دیکھو تو سہی شہر مرا کیسا ہے
سبزہ و گل کی جگہ ہے در و دیوار پہ خاک

تا کسی پر نہ کھُلے اپنے جگر کا احوال
مَل کے آ جاتے ہیں ہم دیدۂ خونبار پہ خاک

بسکہ اک نانِ جویں رزقِ مشقت تھا فراز
آ گیا ڈال کے میں درہم و دینار پہ خاک

تانیہ
02-03-2012, 04:43 PM
اے خدا جو بھی مجھے پندِ شکیبائی دے
اس کی آنکھوں*کو مرے زخم کی گہرائی دے

تیرے لوگوں سے گلہ ہے مرے آئینوں کو
ان کو پتھر نہیں* دیتا ہے تو بینائی دے

جس کی ایما پہ کیا ترکِ تعلق سب سے
اب وہی شخص مجھے طعنۂ تنہائی دے

یہ دہن زخم کی صورت ہے مرے چہرے پر
یا مرے زخم کو بھر یا مجھے گویائی دے

اتنا بے صرفہ نہ جائے مرے گھر کا جلنا
چشم گریاں نہ سہی چشمِ تماشائی دے

جن کو پیراہنِ توقیر و شرف بخشا ہے
وہ برہنہ ہیں* انہیں* خلعتِ رسوائی دے

کیا خبر تجھ کو کہ کس وضع کا بسمل ہے فراز
وہ تو قاتل کو بھی الزامِ مسیحائی دے

تانیہ
02-03-2012, 04:43 PM
اے خدا آج اسے سب کا مقدّر کر دے
وہ محبّت کہ جو انساں کو پیمبر کر دے

سانحے وہ تھے کہ پتھرا گئیں آنکھیں میری
زخم یہ ہیں تو مرے دل کو بھی پتھّر کر دے

صرف آنسو ہی اگر دستِ کرم دیتا ہے
میری اُجڑی ہوئی آنکھوں کو سمندر کر دے

مجھ کو ساقی سے گلہ ہو نہ تُنک بخشی کا
زہر بھی دے تو مرے جام کو بھر بھر کر دے

شوق اندیشوں سے پاگل ہوا جاتا ہے فراز
کاش یہ خانہ خرابی مجھے بے در کر دے

تانیہ
02-03-2012, 04:44 PM
ایک دیوانہ یہ کہتے ہوئے ہنستا جاتا
کاش منزل سے بھی آگے کوئی رستا جاتا

اے میرے ابر گریزاں مری آنکھوں کی طرح
گر برسنا ہی تجھے تھا تو برستا جاتا

آج تک یاد ہے اظہار محبت کا وہ پل
کہ مری بات کی لکنت پہ وہ ہنستا جاتا

اتنے محدود کرم سے تو تغافل بہتر
گر ترستا ہی مجھے تھا تو ترستا جاتا

تانیہ
02-03-2012, 04:44 PM
ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے
تیرا ملنا بھی جدائی کی گھڑی ہو جیسے

اپنے ہی سائے سے ہر گام لرز جاتا ہوں
راستے میں کوئی دیوار کھڑی ہو جیسے

کتنے ناداں ہیں ترے بھولنے والے کہ تجھے
یاد کرنے کے لیئے عمر پڑی ہو جیسے

تیرے ماتھے کی شکن پہلے بھی دیکھی تھی مگر
یہ گرہ اب کے مرے دل میں* پڑی ہو جیسے

منزلیں دور بھی ہیں منزلیں نزدیک بھی ہیں
اپنے ہی پاؤں میں* زنجیر پڑی ہو جیسے

آج دل کھول کے روئے ہیں* تو یوں* خوش ہیں* فراز
چند لمحوں کی یہ راحت بھی بڑی ہو جیسے

تانیہ
02-03-2012, 04:45 PM
ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے
جو آج تو ہوتے ہیں مگر کل نہیں ہوتے

اندر کی فضاؤں کے کرشمے بھی عجب ہیں
مینہ ٹوٹ کے برسے بھی تو بادل نہیں ہوتے

کچھ مشکلیں ایسی ہیں کہ آساں نہیں ہوتیں
کچھ ایسے معمے ہیں کبھی حل نہیں ہوتے

شائستگیِ غم کے سبب آنکھوں کے صحرا
نمناک تو ہو جاتے ہیں جل تھل نہیں ہوتے

کیسے ہی تلاطم ہوں مگر قلزمِ جاں میں
کچھ یاد جزیرے ہیں کہ اوجھل نہیں ہوتے

عشاق کے مانند کئی اہل ہوس بھی
پاگل تو نظر آتے ہیں پاگل نہیں ہوتے

سب خواہشیں پوری ہوں فراز ایسا نہیں ہے
جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے

تانیہ
02-03-2012, 04:46 PM
تیرا غم اپنی جگہ دنیا کے غم اپنی جگہ
پھر بھی اپنے عہد پر قائم ہم اپنی جگہ

کیا کریں یہ دل کسی کی ناصحا سنتا نہیں
آپ نے جو کچھ کہا اے محترم، اپنی جگہ

ہم موحد ہیں بتوں کے پوجنے والے نہیں
پر خدا لگتی کہیں تو وہ صنم اپنی جگہ

یارِ بے پروا! کبھی ہم نے کوئی شکوہ کیا
ہاں مگر ان ناسپاس آنکھوں کا نم اپنی جگہ

محفلِ جاناں ہو، مقتل ہو کہ میخانہ فراز
جس جگہ جائیں بنا لیتے ہیں ہم اپنی جگہ

تانیہ
02-03-2012, 04:47 PM
تپتے صحراؤں پہ گرجا، سرِ دریا برسا
تھی طلب کس کو مگر ابر کہاں جا برسا

کتنے طوفانوں کی حامل تھی لہو کی اک بوند
دل میں اک لہر اٹھی، آنکھ سے دریا برسا

کوئی غرقاب، کوئی ماہیِ بے آب ہوا
ابرِ بے فیض جو برسا بھی تو کیسا برسا

چڑھتے دریاؤں میں طوفان اٹھانے والے
چند بوندیں ہی سرِ دامنِ صحرا برسا

طنز ہیں سوختہ جانوں پہ گرجتے بادل
یا تو گھنگھور گھٹائیں نہ اٹھا، یا برسا

ابر و باراں کے خدا، جھومتا بادل نہ سہی
آگ ہی اب سرِ گلزارِ تمنا برسا

اپنی قسمت کہ گھٹاؤں میں بھی جلتے ہیں فراز
اور جہاں وہ ہیں وہاں ابر کا سایہ برسا

تانیہ
02-03-2012, 04:48 PM
تو پاس بھی ہو تو دل بے قرار اپنا ہے
کہ ہم کو تیرا نہیں انتظار اپنا ہے

ملے کوئی بھی ترا ذکر چھیڑ دیتے ہیں
کہ جیسے سارا جہاں راز دار اپنا ہے

وہ دور ہو تو بجا ترکِ دوستی کا خیال
وہ سامنے ہو تو کب اختیار اپنا ہے

زمانے بھر کے دکھوں کو لگا لیا دل سے
اس آسرے پہ کہ اک غمگسار اپنا ہے

فراز راحتِ جاں بھی وہی ہے کیا کیجے
وہ جس کے ہاتھ سے سینہ فگار اپنا ہے

تانیہ
02-03-2012, 04:51 PM
تم بھی خفا ہو لوگ بھی برہم ہیں دوستو
اب ہو چلا یقیں کہ برے ہم ہیں* دوستو

کس کو ہمارے حال سے نسبت ہے کیا کریں
آنکھیں*تو دوشمنوں*کی بھی پرنم ہیں دوستو

اپنے سوا ہمارے نہ ہونے کا غم کسے
اپنی تلاش میں تو ہم ہی ہم ہیں دوستو

کچھ آج شام ہی سے ہے دل بھی بجھا بجھا
کچھ شہر کے چراغ بھی مدھم ہیں دوستو

اس شہرِ آرزو سے بھی باہر نکل چلو
اب دل کی رونقیں بھی کوئی دم ہیں*دوستو

سب کچھ سہی فراز پر اتنا ضرور ہے
دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ہیں*دوستو

تانیہ
02-03-2012, 04:51 PM
تم بھی خفا ہو لوگ بھی برہم ہیں دوستو
اب ہو چلا یقیں کہ برے ہم ہیں* دوستو

کس کو ہمارے حال سے نسبت ہے کیا کریں
آنکھیں*تو دوشمنوں*کی بھی پرنم ہیں دوستو

اپنے سوا ہمارے نہ ہونے کا غم کسے
اپنی تلاش میں تو ہم ہی ہم ہیں دوستو

کچھ آج شام ہی سے ہے دل بھی بجھا بجھا
کچھ شہر کے چراغ بھی مدھم ہیں دوستو

اس شہرِ آرزو سے بھی باہر نکل چلو
اب دل کی رونقیں بھی کوئی دم ہیں*دوستو

سب کچھ سہی فراز پر اتنا ضرور ہے
دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ہیں*دوستو

تانیہ
02-03-2012, 04:52 PM
تشنگی آنکھوں میں اور دریا خیالوں میں رہے
ہم نوا گر، خوش رہے جیسے بھی حالوں میں رہے

دیکھنا اے رہ نوردِ شوق! کوئے یار تک
کچھ نہ کچھ رنگِ حنا پاؤں کے چھالوں میں رہے

ہم سے کیوں مانگے حسابِ جاں کوئی جب عمر بھر
کون ہیں، کیا ہیں، کہاں ہیں؟ ان سوالوں میں رہے

بدظنی ایسی کہ غیروں کی وفا بھی کھوٹ تھی
سوئے ظن ایسا کہ ہم اپنوں کی چالوں میں رہے

ایک دنیا کو میری دیوانگی خوش آ گئی
یار مکتب کی کتابوں کے حوالوں میں رہے

عشق میں دنیا گنوائی ہے نہ جاں دی ہے فراز
پھر بھی ہم اہلِ محبت کی مثالوں میں رہے

تانیہ
02-03-2012, 04:52 PM
تری یادوں کا وہ عالم نہیں ہے
مگر دل کی اداسی کم نہیں ہے

ہمیں بھی یاد ہے مرگِ تمنّا
مگر اب فرصتِ ماتم نہیں ہے

ہوائے قربِ منزل کا بُرا ہو
فراقِ ہمسفر کا غم نہیں ہے

جنونِ پارسائی بھی تو ناصح
مری دیوانگی سے کم نہیں ہے

یہ کیا گلشن ہے جس گلشن میں لوگو
بہاروں کا کوئی موسم نہیں ہے

قیامت ہے کہ ہر مے خوار پیاسا
مگر کوئی حریفِ جم نہیں ہے

صلیبوں پر کھنچے جاتے ہیں لیکن
کسی کے ہاتھ میں پرچم نہیں ہے

فراز اس قحط زارِ روشنی میں
چراغوں کا دھواں بھی کم نہیں ہے

تانیہ
02-03-2012, 04:53 PM
تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے
پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے

پھر یوں ہوا کہ غیر کو دل سے لگا لیا
اندر وہ نفرتیں تھیں کہ باہر کے ہو گئے

کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے
اب دل سے محو نام بھی اکثر کے ہو گئے

اے یادِ یار تجھ سے کریں کیا شکایتیں
اے دردِ ہجر ہم بھی تو پتھر کے ہو گئے

سمجھا رہے تھے مجھ کو سبھی ناصحانِ شہر
پھر رفتہ رفتہ خود اسی کافر کے ہو گئے

اب کے نہ انتظار کریں چارہ گر کا ہم
اب کے گئے تو کوئے ستم گرکے ہو گئے

روتے ہو اک جزیرۂ جاں کو فراز تم
دیکھو تو کتنے شہر سمندر کے ہو گئے

تانیہ
02-03-2012, 04:53 PM
تجھ پر بھی نہ ہو گمان میرا
اتنا بھی کہا نہ مان میرا

میں دکھتے ہوئے دلوں کا عیسیٰ
اور جسم لہو لہان میرا

کچھ روشنی شہر کو ملی تو
جلتا ہے جلے مکاں میرا

یہ ذات یہ کائنات کیا ہے
تو جان مری جہان میرا

تو آیا تو کب پلٹ کے آیا
جب ٹوٹ چکا تھا مان میرا

جو کچھ بھی ہوا یہی بہت ہے
تجھ کو بھی رہا ہے دھیان میرا

تانیہ
02-03-2012, 04:57 PM
جانے نشّے میں کہ وہ آفت جاں خواب میں تھا
جیسے اک فتنہ بیدار ، رواں خواب میں تھا

وہ سرِ شام ، سمندر کا کنارا ، ترا ساتھ
اب تو لگتا ہے کہ جیسے یہ سماں خواب میں تھا

جیسے یادوں کا دریچہ کوئی وا رہ جائے
اک ستارہ مری جانب نگراں خواب میں تھا

جب کھلی آنکھ تو میں تھا مری تنہائی تھی
وہ جو تھا قافلۂ ہمسفراں خواب میں تھا

ایسے قاتل کو کوئی ہاتھ لگاتا ہے فراز
شکر کر شکر کہ وہ دشمنِ جاں خواب میں تھا

تانیہ
02-03-2012, 04:59 PM
جو بھی دکھ یاد نہ تھا یاد آیا
آج کیا جانیے کیا یاد آیا

پھر کوئی ہاتھ ہے دل پر جیسے
پھر ترا عہد وفا یاد آیا

جس طرح دھند میں*لپٹے ہوئے پھول
ایک اک نقش ترا یاد آیا

ایسی مجبوری کے عالم میں* کوئی
یاد آیا بھی تو کیا یاد آیا

اے رفیقو سر منزل جا کر
کیا کوئی آبلہ پا یاد آیا

یاد آیا تھا بچھڑنا تیرا
پھر نہیں* یاد کہ کیا یاد آیا

جب کوئی زخم بھرا داغ بنا
جب کوئی بھول گیا یاد آیا

یہ محبت بھی ہے کیا روگ فراز
جس کو بھولے وہ سدا یاد آیا

تانیہ
02-03-2012, 05:01 PM
جہاں کے شور سے گھبرا گئے کیا
مسافر گھر کو واپس آ گئے کیا ؟

نہ تھی اتنی کڑی تازہ مسافت
پرانے ہم سفر یاد آ گئے کیا ؟

یہاں*کچھ آشنا سی بستیاں تھیں
جزیروں کو سمندر کھا گئے کیا؟

مری گردن میں باہیں ڈال دی ہیں
تم اپنے آپ سے اکتا گئے کیا ؟

نہیں آیا مرا جانِ بہاراں
درختوں پر شگوفے آ گئے کیا

جہاں میلہ لگا ہے قاتلوں کا
فراز اس شہر میں تنہا گئے کیا؟

تانیہ
02-03-2012, 05:02 PM
جہاں بھی جانا تو آنکھوں میں خواب بھر لانا
یہ کیا کہ دل کو ہمیشہ اداس کر لانا

میں برف برف رُتوں میں چلا تو اس نے کہا
پلٹ کے آنا تو کشتی میں دھوپ بھر لانا

بھلی لگی ہمیں خوش قامتی کسی کی مگر
نصیب میں کہاں اس سرو کا ثمر لانا

پیام کیسا مگر ہو سکے تو اے قاصد
کبھی کوئی خبر یارِ بے خبر لانا

فراز اب کے جب آؤ دیارِ جاناں میں
بجائے تحفۂ دل ارمغانِ سر لانا

تانیہ
02-03-2012, 05:02 PM
جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
اے جانِ جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو

یہ خواب ہے خوشبو ہے کہ جھونکا ہے کہ پل ہے
یہ دھند ہے بادل ہے کہ سایہ ہے کہ تم ہو

اس دید کی ساعت میں کئی رنگ ہیں لرزاں
میں ہوں کہ کوئی اور ہے دنیا ہے کہ تم ہو

دیکھو یہ کسی اور کی آنکھیں ہیں کہ میری
دیکھوں یہ کسی اور کا چہرہ ہے کہ تم ہو

یہ عمر گریزاں کہیں ٹھہرے تو یہ جانوں
ہر سانس میں مجھ کو یہی لگتا ہے کہ تم ہو

ہر بزم میں* موضوعِ سخن دل زدگاں کا
اب کون ہے شیریں ہے کہ لیلیٰ ہے کہ تم ہو

اک درد کا پھیلا ہوا صحرا ہے کہ میں ہوں
اک موج میں آیا ہوا دریا ہے کہ تم ہو

وہ وقت نہ آئے کہ دلِ زار بھی سوچے
اس شہر میں تنہا کوئی ہم سا ہے کہ تم ہو

آباد ہم آشفتہ سروں سے نہیں مقتل
یہ رسم ابھی شہر میں زندہ ہے کہ تم ہو

اے جانِ فراز اتنی بھی توفیق کسے تھی
ہم کو غمِ ہستی بھی گوارا ہے کہ تم ہو

تانیہ
02-03-2012, 05:02 PM
جُز تیرے کوئی بھی دِن رات نہ جانے میرے
تو کہاں ہے مگر اے دوست پُرانے میرے

تو بھی خوشبو ہے مگر میرا تجسس بے کار
برقِ آوارہ کی مانند ٹھکانے میرے

شمع کی لو تھی کہ وہ توُ تھا مگر ہجر کی رات
دیر تک روتا رہا کوئی سرہانے میرے

خلق کی بے خبری ہے کہ مری رُسوائی
لوگ مُجھ کو ہی سُناتے ہیں فسانے میرے

لُٹ کے بھی خوش ہوں کہ اشکوں* سے بھرا ہے دامن
دیکھ غارت گریِ دِل یہ خزانے میرے

آج اک اور برس بیت گیا اُس کے بغیر
جِس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے

کاش تو بھی میری آواز کہیں سُنتا ہو
پھر پُکارا ہے تُجھے دِل کی صدا نے میرے

کاش تو بھی کبھی آئے مسیحائی کو
لوگ آ تے ہیں بُہت دِل کو دُکھانے میرے

تو ہے کِس حال میں اے زود فراموش میرے
مُجھ کو تو چھین لیا عہدِ وفا نے میرے

چارہ گر یوں تو بُہت ہیں*مگر اے جانِ فراز
جُز ترے اور کوئی غم نہ جانے میرے

تانیہ
02-03-2012, 05:04 PM
جب ملاقات بے ارادہ تھی
اس میں آسودگی زیادہ تھی

نہ توقع نہ انتظار نہ رنج
صبحِ ہجراں نہ شامِ وعدہ تھی

نہ تکلف نہ احتیاط نہ زعم
دوستی کی زبان سادہ تھی

جب بھی چاہا کہ گنگناؤں اسے
شاعری پیش پا فتادہ تھی

لعل سے لب چراغ سی آنکھیں
ناک ستواں جبیں کشادہ تھی

حدتِ جاں سے رنگ تانبا سا
ساغر افروز موجِ بادہ تھی

زلف کو ہمسری کا دعویٰ تھا
پھر بھی خوش قامتی زیادہ تھی

کچھ تو پیکر میں* تھی بلا کی تلاش
کچھ وہ کافر تنک لبادہ تھی

اپسرا تھی نہ حور تھی نہ پری
دلبری میں مگر زیادہ تھی

جتنی بے مہر، مہرباں اتنی
جتنی دشوار ، اتنی سادہ تھی

اک زمانہ جسے کہے قاتل
میرے شانے پہ سر نہادہ تھی

یہ غزل دین اس غزال کی ہے
جس میں*ہم سے وفا زیادہ تھی

وہ بھی کیا دن تھے جب فراز اس سے
عشق کم عاشقی زیادہ تھی

تانیہ
02-03-2012, 05:04 PM
تیرے چرچے ہیں جفا سے تیری
لوگ مر جائیں بلا سے تیری

کوئی نسبت کبھی اے جان سخن
کسی محروم نوا سے تیری

اے مرے ابر گریزاں کب تک
راہ تکتے رہیں پیاسے تیری

تیرے مقتل بھی ہمیں سے آباد
ہم بھی زندہ ہیں دعا سے تیری

تو بھی نادم ہے زمانے سے فراز
وہ بھی ناخوش ہیں وفا سے تیری

تانیہ
02-03-2012, 05:06 PM
تیری باتیں ہی سنانے آئے
دوست بھی دل ہی دکھانے آئے

پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں
تیرے آنے کے زمانے آئے

ایسی کچھ چُپ سی لگی ہے جیسے
ہم تجھے حال سُنانے آئے

عشق تنہا ہے سرِ منزلِ غم
کون یہ بوجھ اُٹھانے آئے

اجنبی دوست ہمیں دیکھ کہ ہم
کچھ تجھے یاد دلانے آئے

دل دھڑکتا ہے سفر کے ہنگام
کاش پھر کوئی بلانے آئے

اب تو رونے سے بھی دل دکھتا ہے
شاید اب ہوش ٹھکانے آئے

سو رہو موت کے پہلو میں فراز
نیند کس وقت نجانے آئے

تانیہ
02-03-2012, 05:08 PM
چلی ہے شہر میں کیسی ہوا اداسی کی
سبھی نے اوڑھ رکھی ہے ردا اداسی

لباسِ غم میں تو وہ اور بن گیا قاتل
سجی ہے کیسی، کسی پر قبا اداسی کی

غزل کہوں تو خیالوں کی دھند میں مجھ سے
کرے کلام کوئی الپسرا اداسی کی

خیالِ یار کا بادل اگر کھلا بھی کبھی
تو دھوپ پھیل گئی جا بجا اداسی کی

بہت دنوں سے تیری یاد کیوں نہیں آئی
وہ میری دوست میری ہمنوا اداسی کی

فراز نے تجھے دیکھا تو کس قدر خوش تھا
پھر اُس کے بعد چلی وہ ہوا اداسی کی

تانیہ
02-03-2012, 05:09 PM
خاموش ہو کیوں دادِ جفا کیوں نہیں دیتے
بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے

وحشت کا سبب روزنِ زنداں تو نہیں ہے
مہر و مہ و انجم کو بجھا کیوں نہیں دیتے

اک یہ بھی تو اندازِ علاجِ غمِ جاں ہے
اے چارہ گرو، درد بڑھا کیوں نہیں دیتے

منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کرو گے
مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے

رہزن ہو تو حاضر ہے متاعِ دل و جاں بھی
رہبر ہو تو منزل کا پتا کیوں نہیں دیتے

کیا بیت گئی اب کے فراز اہلِ چمن پر
یارانِ قفس مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے

تانیہ
02-03-2012, 05:09 PM
خبر تھی گھر سے وہ نکلا ہے مینہ برستے میں
تمام شہر لئے چھتریاں تھا رستے میں

بہار آئی تو اک شخص یاد آیا بہت
کہ جس کے ہونٹوں سے جھڑتے تھے پھول ہنستے میں

کہاں کے مکتب و مُلّا ، کہا ں کے درس و نصاب
بس اک کتابِ محبت رہی ہے بستے میں

ملا تھا ایک ہی گاہک تو ہم بھی کیا کرتے
سو خود کو بیچ دیا بے حساب سستے میں

یہ عمر بھر کی مسافت ہے دل بڑا رکھنا
کہ لوگ ملتے بچھڑتے رہیں گے رستے میں

ہر ایک در خورِ رنگ و نمو نہیں ورنہ
گل و گیاہ سبھی تھے صبا کے رستے میں

ہے زہرِ عشق، خمارِ شراب آگے ہے
نشہ بڑھاتا گیا ہے یہ سانپ ڈستے میں

جو سب سے پہلے ہی رزمِ وفا میں کام آئے
فراز ہم تھے انہیں عاشقوں کے دستے میں

تانیہ
02-03-2012, 05:10 PM
دشتِ افسُردہ میں اک پھول کھلا ہے سو کہاں
وہ کسی خوابِ گریزاں میں مِلا ہے سو کہاں

ہم نے مدت سے کوئی ہجو نہ واسوخت کہی
وہ سمجھتے ہیں ہمیں اُن سے گلہ ہے سو کہاں

ہم تیری بزم سے اُٹھے بھی تو خالی دامن
لوگ کہتے ہیں کہ ہر دُ کھ کا صلہ ہے سو کہاں

آنکھ اسی طور برستی ہے تو دل رستا ہے
یوں تو ہر زخم قرینے سے سِلا ہے سو کہاں

بارہا کوچۂ جاناں سے بھی ہو آئے ہیں
ہم نے مانا کہیں جنت بھی دلا ہے سو کہاں

جلوۂ دوست بھی دُھندلا گیا آخر کو فراز
ورنہ کہنے کو تو غم، دل کی جلا ہے سو کہاں

تانیہ
02-03-2012, 05:10 PM
دکھ فسانہ نہیں *کہ تجھ سے کہیں
دل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیں

آج تک اپنی بے کلی کا سبب
خود بھی جانا نہیں* کہ تجھ سے کہیں

بے طرح حال دل ہے اور تجھ سے
دوستانہ نہیں* کہ تجھ سے کہیں

ایک تو حرف آشنا تھا مگر
اب زمانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں

قاصد! ہم فقیر لوگوں کا
اک ٹھکانہ نہیں* کہ تجھ سے کہیں

اے خدا درد دل ہے بخشش دوست
آب و دانہ نہیں* کہ تجھ سے کہیں

اب تو اپنا بھی اس گلی میں*فراز
آنا جانا نہیں* کہ تجھ سے کہیں

تانیہ
02-03-2012, 05:11 PM
چلو وہ عشق نہیں چاہنے کی عادت ہے
پہ کیا کریں ہمیں* اک دوسرے کی عادت ہے

تو اپنی شیشہ گری کا ہنر نہ کر ضائع
میں آئینہ ہوں* مجھے ٹوٹنے کی عادت ہے

میں کیا کہوں کہ مجھے صبر کیوں نہیں آتا
میں کیا کروں کہ تجھے دیکھنے کی عادت ہے

ترے نصیب میں اے دل ! سدا کی محرومی
نہ وہ سخی، نہ تجھے مانگنے کی عادت ہے

وصال میں* بھی وہی ہے فراق کا عالم
کہ اسکو نیند مجھے رت جگے کی عادت ہے

یہ مشکلیں ہیں تو پھر کیسے راستے طے ہوں
میں ناصبور اسے سوچنے کی عادت ہے

یہ خود اذیتی کب تک فراز تو بھی اسے
نہ یاد کر کہ جسے بھولنے کی عادت ہے

تانیہ
02-03-2012, 05:14 PM
چلو کہ کوچۂ دلدار چل کے دیکھتے ہیں
کسے کسے ہے یہ آزار چل کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ایسا مسیحا کہیں سے آیا ہے
کہ اس کو شہر کے بیمار چل کے دیکھتے ہیں

ہم اپنے بت کو، زلیخا لیے ہے یوسف کو
ہے کون رونق بازار چل کے دیکھتے ہیں

سنا ہے دیر و حرم میں تو وہ نہیں*ملتا
سو اب کے اس کو سرِ دار چل کے دیکھتے ہیں

اس ایک شخص کو دیکھو تو آنکھ بھرتی نہیں
اس ایک شخص کو ہر بار چل کے دیکھتے ہیں

وہ میرے گھر کا کرے قصد جب تو سائے سے
کئی قدم در و دیوار چل کے دیکھتے ہیں

فراز اسیر ہے اس کا کہ وہ فراز کا ہے
ہے کون کس کا گرفتار؟ چل کے دیکھتے ہیں

تانیہ
02-03-2012, 05:15 PM
چلو اسی سے کہیں دل کا حال جو بھی ہو
وہ چارہ گر تو ہے اس کو خیال جو بھی ہو

اسی کے درد سے ملتے ہیں سلسلے جاں کے
اسی کے نام لگا دو ملال جو بھی ہو

مرے نہ ہار کے ہم قیس و کوہکن کی طرح
اب عاشقی میں ہماری مثال جو بھی ہو

یہ رہ گزر پہ جو شمعیں دمکتی جاتی ہیں
اسی کا قامتِ زیبا ہے ، چال جو بھی ہو

فراز اس نے وفا کی بے وفائی کی
جوابدہ تو ہمیں ہیں سوال جو بھی ہو

تانیہ
02-03-2012, 05:16 PM
چشم گریاں میں وہ سیلاب تھے اے یار کہ بس
گرچہ کہتے رہے مجھ سے میرے غم خوار کہ بس

گھر تو کیا گھر کی شباہت بھی نہیں ہے باقی
ایسے ویران ہوئے ہیں در و دیوار کہ بس

زندگی تھی کہ قیامت تھی کہ فرقت تیری
ایک اک سانس نے وہ وہ دیئے آزار کہ بس

اس سے پہلے بھی محبت کا قرینہ تھا یہی
ایسے بے حال ہوئے ہیں مگر اس بار کہ بس

اب وہ پہلے سے بلا نوش و سیہ مست کہاں
اب تو ساقی سے یہ کہتے ہیں قدح خوار کہ بس

لوگ کہتے تھے فقط ایک ہی پاگل ہے فراز
ایسے ایسے ہیں محبت میں گرفتار کہ بس

تانیہ
02-03-2012, 05:16 PM
جو سر بھی کشیدہ ہو اسے دار کرے ہے
اغیار تو کرتے تھے سو اب یار کرے ہے

وہ کون ستمگر تھے کہ یاد آنے لگے ہیں
تو کیسا مسیحا ہے کہ بیمار کرے ہے

اب روشنی ہوتی ہے کہ گھر جلتا ہے دیکھیں
شعلہ سا طوافِ در و دیوار کرے ہے

کیا دل کا بھروسہ ہے یہ سنبھلے کہ نہ سنبھلے
کیوں خود کو پریشاں مرا غم خوار کرے ہے

ہے ترکِ تعلق ہی مداوائے غمِ جاں
پر ترکِ تعلق تو بہت خوار کرے ہے

اس شہر میں ہو جنبشِ لب کا کسے یارا
یاں جنبشِ مژگاں بھی گنہگار کرے ہے

تو لاکھ فراز اپنی شکستوں کو چھپائے
یہ چپ تو ترے کرب کا اظہار کرے ہے

تانیہ
02-03-2012, 05:18 PM
جو سادہ دل ہوں بڑی مشکلوں میں ہوتے ہیں
کہ دوستوں میں ،کبھی دشمنوں میں ہوتے ہیں

ہوا کے رخ پہ کبھی بادباں نہیں رکھتے
بلا کے حوصلے دریا دلوں میں ہوتے ہیں

پلٹ کے دیکھ ذرا اپنے رہ نوردوں کو
جو منزلوں پہ نہ ہوں راستوں میں ہوتے ہیں

پیمبروں کا نسب شاعروں سے ملتا ہے
فراز ہم بھی انہیں سلسلوں سے ملتے ہیں

تانیہ
02-03-2012, 05:18 PM
جو چل سکو تو کوئی ایسی چال چل جانا
مجھے گماں بھی نہ ہو اور تم بدل جانا

یہ شعلگی ہو بدن کی تو کیا کیا جائے
سو لازمی تھا ترے پیرہن کا جل جانا

تمہیں کرو کوئی درماں ، یہ وقت آ پہنچا
کہ اب تو چارہ گروں کو بھی ہاتھ مل جانا

ابھی ابھی تو جدائی کی شام آئی تھی
ہمیں عجیب لگا زندگی کا ڈھل جانا

سجی سجائی ہوئی موت زندگی تو نہیں
مورّخوں نے مقابر کو بھی محل جانا

یہ کیا کہ تو بھی اسی ساعتِ زوال میں ہے
کہ جس طرح ہے سبھی سورجوں کو ڈھل جانا

ہر ایک عشق کے بعد اور اس کے عشق کے بعد
فراز اتنا بھی آساں نہ تھا سنبھل جانا

تانیہ
02-03-2012, 05:19 PM
جو بھی قاصد تھا وہ غیروں کے گھروں تک پہنچا
کوئی نامہ نہ ترے در بدروں تک پہنچا

مجھ کو مٹی کیا تو نے تو یہ احسان بھی کر
کہ مری خاک کو اب کوزہ گروں تک پہنچا

تو مہ و مہر لئے ہے مگر اے دستِ کریم
کوئی جگنو بھی نہ تاریک گھروں تک پہنچا

دل بڑی چیز تھا بازارِ محبت میں کبھی
اب یہ سودا بھی مری جان ، سروں تک پہنچا

اتنے ناصح ملے رستے میں کہ توبہ توبہ
بڑی مشکل سے میں شوریدہ سروں تک پہنچا

اہلِ دنیا نے تجھی کو نہیں لوٹا ہے فراز
جو بھی تھا صاحبِ دل ، مفت بروں تک پہنچا

تانیہ
02-03-2012, 05:21 PM
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ

کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ
تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لئے آ

پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو
رسم و رہ، دنیا نبھانے کیلئے آ

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لئے آ

اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروم
اے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لئے آ

اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لئے آ

تانیہ
02-03-2012, 05:22 PM
رونے سے ملال گھٹ گیا ہے
بادل تھا برس کے چھٹ گیا ہے

اب دوش پہ سر نہیں تو گویا
اک بوجھ سا دل سے ہٹ گیا ہے

یہ خلوت جاں میں کون آیا
ہر چیز الٹ پلٹ گیا ہے

کیا مالِ غنیم تھا مرا شہر
کیوں لشکریوں میں* بٹ گیا ہے

اب دل میں فراز کون آئے
دنیا سے یہ شہر کٹ گیا ہے

تانیہ
02-03-2012, 05:22 PM
زخم کو پھول تو صَرصَر کو صبا کہتے ہیں
جانے کیا دور ہے ، کیا لوگ ہیں، کیا کہتے ہیں

کیا قیامت ہے کہ جن کے لئے رک رک کے چلے
اب وہی لوگ ہمیں آبلہ پا کہتے ہیں

کوئی بتلاؤ کہ اک عمر کا بِچھڑا محبوب
اتفاقا کہیں*ملا جائے تو کیا کہتے ہیں

یہ بھی اندازِ سخن ہے کہ جفا کو تیری
غمزہ و عشوہ و انداز و ادا کہتے ہیں

جب تلک دور ہے تو تیری پرستش کر لیں
ہم جسے چھو نہ سکیں اس کو خدا کہتے ہیں

کیا تعجب ہے کہ ہم اہل تمنا کو فراز
وہ جو محرومِ تمنا ہیں*برا کہتے ہیں

تانیہ
02-03-2012, 05:23 PM
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

تو محبت سے کوئی چال تو چل
ہار جانے کا حوصلہ ہے مجھے

دل دھڑکتا نہیں ٹپکتا ہے
کل جو خواہش تھی آبلہ ہے مجھے

ہم سفر چاہیے ہجوم نہیں
اِک مسافر بھی قافلہ ہے مجھے

کوہ کن ہو کہ قیس ہو کہ فراز
سب میں اِک شخص ہی ملا ہے مجھے

تانیہ
02-03-2012, 05:24 PM
ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے
ہم کو جانا ہے کہیں شام سے پہلے پہلے

نو گرفتار وفا، سعی رہائی ہے عبث
ہم بھی الجھے تھے بہت دام سے پہلے پہلے

خوش ہوا اے دل کی محبت تو نبھا دی تو نے
لوگ اجڑ جاتے ہیں انجام سے پہلے پہلے

اب ترے ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں
کتنی رغبت تھی ترے نام سے پہلے پہلے

سامنے عمر پڑی ہے شب تنہائی کی
وہ مجھے چھوڑ گیا شام سے پہلے پہلے

کتنا اچھا تھا کہ ہم بھی جیا کرتے تھے فراز
غیر معروف سے ، گمنام سے ، پہلے پہلے

تانیہ
02-03-2012, 05:25 PM
دیوانگی خرابیِ بسیار ہی سہی
کوئی تو خندہ زن ہے چلو یار ہی سہی

رشتہ کوئی تو اس سے تعلق کا چاہیے
جلوہ نہیں تو حسرتِ دیدار ہی سہی

اہلِ وفا کے باب میں اتنی ہوس نہ رکھ
اس قحط زارِ عشق میں دو چار ہی سہی

خوش ہوں کہ ذکرِ یار میں گزرا تمام وقت
ناصح سے بحث ہی سہی تکرار ہی سہی

شامِ اسیری و شبِ غربت تو ہو چکی
اک جاں کی بات ہے تو لبِ دار ہی سہی

ہوتی ہے اب بھی گاہے بگاہے کوئی غزل
ہم زندگی سے بر سرِ پیکار ہی سہی

اک چارہ گر ہے اور ٹھکانے کا ہے فراز
دنیا ہمارے در پۓ آزار ہی سہی

تانیہ
02-03-2012, 05:25 PM
دوست بھی ملتے ہیں محفل بھی جمی رہتی ہے
تو نہیں ہوتا تو ہر شے میں کمی رہتی ہے

اب کے جانے کا نہیں موسم گر یہ شاید
مسکرائیں بھی تو آنکھوں میں نمی رہتی ہے

عشق عمروں کی مسافت ہے کسے کیا معلوم؟
کب تلک ہم سفری ہم قدمی رہتی ہے

کچھ جزیروں میں کبھی کھلتے نہیں چاہت کے گلاب
کچھ جزیروں پہ سدا دھند جمی رہتی ہے

تانیہ
02-03-2012, 05:26 PM
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا

اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار مرا
سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا

صبح دم چھوڑ گیا نکہتِ گل کی صورت
رات کو غنچۂ دل میں سمٹ آنے والا

کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے
وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا

تیرے ہوتے ہوئے آ جاتی تھی ساری دنیا
آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا

منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں
کون آئے گا یہاں کون ہے آنے والا

کیا خبر تھی جو مری جاں میں گھلا ہے اتنا
ہے وہی مجھ کو سرِ دار بھی لانے والا

میں نے دیکھا ہے بہاروں میں چمن کو جلتے
ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

تانیہ
02-03-2012, 05:27 PM
دل گرفتہ ہی سہی بزم سجالی جائے
یادِ جاناں سے کوئی شام نہ خالی جائے

رفتہ رفتہ یہی زنداں میں بدل جاتے ہیں
اب کسی شہر کی بنیاد نہ ڈالی جائے

مصحف رخ ہے کسی کا کہ بیاضِ حافظ
ایسے چہرے سے کبھی فال نکالی جائے

وہ مروت سے ملا ہے تو جھکادوں گردن
میرے دشمن کا کوئی وار نہ خالی جائے

بے نوا شہر کا سایہ ہے مرے دل پہ فراز
کس طرح سے مری آشفتہ خیالی جائے

تانیہ
02-03-2012, 05:30 PM
دل سُلگتا ہے مگر سوختہ جانی کم ہے
شعر کیا کہوں کہ طبیعت میں روانی کم ہے

زیست اک آدھ محبت سے بسر ہو کیسے؟
رات لمبی ہو تو پھر ایک کہانی کم ہے

تجھ سے کہنا تو نہیں چاہیے پر کہتے ہیں
ہم نے بھی دولتِ جاں اب کے لٹانی کم ہے

دل کو کیا روئیں کہ جب سوکھ گئی ہوں آنکھیں
شہر ویراں ہے کہ دریاؤں میں پانی کم ہے

ہم نے اندوہ زمانہ سے نہ خم کھایا ہے
شاید اب یوں ہے کہ آشوبِ جوانی کم ہے

جس طرح سانحے گزرے ہیں تیری جاں پہ فراز
اس کو دیکھیں تو یہ آشفتہ بیانی کم ہے

تانیہ
02-03-2012, 05:31 PM
دل ٹھہرنے دے تو آنکھیں بھی جھپکتے جاویں
ہم کہ تصویر بنے بس تجھے تکتے جاویں

چوب نم خوردہ کی مانند سلگتے رہے ہم
نہ تو تجھ پائیں نہ بھڑکیں نہ دہکتے جاویں

تیری بستی میں تیرا نام پتہ کیا پوچھا
لوگ حیران و پریشاں ہمیں تکتے جاویں

کیا کرے چارہ کوئی جب تیرے اندوہ نصیب
منہ سے کچھ بھی نہ کہیں اور سسکتے جاویں

کوئی نشے سے کوئی تشنہ لبی سے ساقی
تیری محفل میں سبھی لوگ بہکتے جاویں

مژدۂ وصل سے کچھ ہم ہی زخود رفتہ نہیں
اس کی آنکھوں میں بھی جگنو سے چمکتے جاویں

کبھی اس یارِ سمن بر کے سخن بھی سنیو
ایسا لگتا ہے کہ غنچے سے چٹکتے جاویں

ہم نوا سنجِ محبت ہیں ہر اک رُت میں فراز
وہ قفس ہو کہ گلستاں ہو، چہکتے جاویں

تانیہ
02-03-2012, 05:31 PM
دل بہلتا ہے کہاں انجم و مہتاب سے بھی
اب تو ہم لوگ گئے دیدۂ بے خواب سے بھی

رو پڑا ہوں تو کوئی بات ہی ایسی ہو گی
میں کہ واقف تھا ترے ہجر کے آداب سے بھی

کچھ تو اُس آنکھ کا شیوہ ہے خفا ہو جانا
اور کچھ بھول ہوئی ہے دلِ بیتاب سے بھی

اے سمندر کی ہوا تیر اکرم بھی معلوم
پیاس ساحل کی تو بجھتی نہیں سیلاب سے بھی

کچھ تو اُس حُسن کو جانے ہے زمانہ سارا
اور کچھ بات چلی ہے مرے احباب سے بھی

تانیہ
02-03-2012, 05:32 PM
دل بھی بُجھا ہو شام کی پرچھائیاں بھی ہوں
مر جائیے جو ایسے میں تنہائیاں بھی ہوں

آنکھوں کی سرخ لہر ہے موجِ سپردگی
یہ کیا ضرور ہے کہ اب انگڑائیاں بھی ہوں

ہر حسن سادہ لوح نہ دل میں اُتر سکا
کچھ تو مزاجِ یار میں گہرائیاں بھی ہوں

دنیا کے تذکرے تو طبیعت ہی لے بجھے
بات اس کی ہو تو پھر سخن آرائیاں بھی ہوں

پہلے پہل کا عشق ابھی یاد ہے فراز
دل خود یہ چاہتا تھا کہ رسوائیاں بھی ہوں

تانیہ
02-03-2012, 05:35 PM
شعار اپنا ہی جس کا بہانہ سازی تھا
وہ میرے جھوٹ سے خوش تھا نہ سچ پہ راضی تھا

تمام عمر اسی کے رہے یہ کیا کم ہے
بلا سے عشق حقیقی نہ تھا مجازی تھا

یہ دو دلوں کی قرابت بڑی گواہی ہے
سو کیا ہوا کوئی شاہد نہ قاضی تھا

نہ طنز کر کہ کئی بار کہہ چکا تجھ سے
وہ میری پہلی محبت تو میرا ماضی تھا

نہ دوست یار، نہ ناصح، نہ نامہ بر، نہ رقیب
بلا کشانِ محبت سے کون راضی تھا

یہ گل شدہ سی جو شمعیں دکھائی دیتی ہیں
ہنر ان آنکھوں کا آگے ستارہ سازی تھا

عدو کے سامنے ہتھیار ڈالنے والا
کوئی فراز سا کافر نہیں تھا غازی تھا

تانیہ
02-03-2012, 05:35 PM
شعلہ سا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو
میں کب کا جا چکا ہوں صدائیں مجھے نہ دو

جو زہر پی چکا ہوں تمہی نے مجھے دیا
اب تم تو زندگی کی دعائیں مجھے نہ دو

یہ بھی بڑا کرم ہے سلامت ہے جسم ابھی
اے خسروان شہر ، قبائیں مجھے نہ دو

ایسا نہ ہو کبھی کہ پلٹ کر نہ آ سکوں
ہر بار دور جا کے صدائیں مجھے نہ دو

کب مجھ کو اعتراف محبت نہ تھا فراز
کب میں نے یہ کہا تھا سزائیں مجھے نہ دو

تانیہ
02-03-2012, 05:36 PM
شہرِ محبت ، ہجر کا موسم، عہد وفا اور میں
تو تو اس بستی سے خوش خوش چلا گیا، اور میں؟

تو جو نہ ہو تو جیسے سب کو چپ لگ جاتی ہے
آپس میں کیا باتیں کرتے رات، دیا اور میں

سیرِ چمن عادت تھی پہلے اب مجبوری ہے
تیری تلاش میں*چل پڑتے ہیں* بادِ صبا اور میں

جس کو دیکھو تیری خو میں پاگل پھرتا ہے
ورنہ ہم مشرب تو نہیں*تھے خلقِ خدا اور میں

ایک تو وہ ہمراز مرا ہے ، پھر تیرا مداح
بس تیرا ہی ذکر کیا کرتے ہیں*ضیا اور میں

ایک زمانے بعد فراز یہ شعر کہے میں*نے
اک مدت سے ملے نہیں*ہیں*یار مرا اور میں

تانیہ
02-03-2012, 05:36 PM
صنم تراش پر آدابِ پر آدابِ کافرانہ سمجھ
ہر ایک سنگِ سرِ راہ کو خدا نہ سمجھ

میں تجھ کو مانگ رہا ہوں قبول کر کہ نہ کر
یہ بات تیری مری ہے اسے دعا نہ سمجھ

پلٹ کے آئے گا وہ بھی گئی رتوں کیطرح
جو تجھ سے روٹھ گیا ہے اسے جدا نہ سمجھ

رہِ وفا میں کوئی آخری مقام نہیں
شکستِ دل کو محبت کی انتہا نہ سمجھ

ہر ایک صاحبِ منزل کو با مراد نہ جان
ہر ایک راہ نشیں کو شکستہ پا نہ سمجھ

فراز آج کی دنیا مرے وجود میں ہے
مرے سخن کو فقط میرا تذکرہ نہ سمجھ

تانیہ
02-03-2012, 05:37 PM
عجیب رت تھی کہ ہر چند پاس تھا وہ بھی
بہت ملول تھا میں بھی، اداس تھا وہ بھی

کسی کے شہر میں کی گفتگو ہواؤں سے
یہ سوچ کر کہ کہیں آس پاس تھا وہ بھی

ہم اپنے زعم میں خوش تھے کہ اس کو بھول چکے
مگر گمان تھا یہ بھی، قیاس تھا وہ بھی

کہاں ہے اب غم دنیا، کہاں ہے اب غم جاں
وہ دن بھی تھے کہ ہمیں یہ بھی راس تھا وہ بھی

فراز تیرے گریباں پہ کل جو ہنستا تھا
اسے ملے تو دریدہ لباس تھا وہ بھی

تانیہ
02-03-2012, 05:38 PM
عشق بس ایک کرشمہ ہے ، فسوں ہے ، یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں، یوں ہے ، یوں ہے

جیسے کوئی درِ دل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے ، نہ بروں ہے ، یوں ہے

تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جنوں ہے ، یوں ہے

اب تم آئے ہو میری جان تماشا کرنے
اب تو دریا میں تلاطم نہ سکوں ہے ، یوں ہے

تو نے دیکھی ہی نہیں دشتِ وفا کی تصویر
نوکِ ہر خار پے اک قطرۂ خوں ہے ، یوں ہے

ناصحا تجھ کو خبر کیا کہ محبت کیا ہے
روز آ جاتا ہے سمجھاتا ہے یوں ہے ، یوں ہے

شاعری تازہ زمانوں کی ہے معمار فراز
یہ بھی اک سلسلۂ کن فیکوں ہے ، یوں ہے

تانیہ
02-03-2012, 05:38 PM
غزل سُن کر پریشاں ہوگئے کیا
کسی کے دھیان میں تم کھو گئے کیا

یہ بیگانہ روی پہلی نہیں تھی
کہو تم بھی کسی کے ہو گئے کیا

نہ پرسش کو نہ سمجھانے کو آئے
ہمارے یار ہم کو رو گئے کیا

ابھی کچھ دیر پہلے تک یہیں تھے
زمانہ ہو گیا تم کو گئے کیا

کسی تازہ رفاقت کی جھلک ہے
پرانے زخم اچھے ہو گئے کیا

پلٹ کر چارہ گر کیوں آ گئے ہیں
شبِ فرقت کے مارے سو گئے کیا

فراز اتنا نہو اترا حوصلے پر
اسے بھولے زمانے ہو گئے کیا

تانیہ
02-03-2012, 05:40 PM
فراز اب کوئی سودا کوئی جنوں بھی نہیں
مگر قرار سے دن کٹ رہے ہوں یوں بھی نہیں

لب و دہن بھی ملا گفتگو کا فن بھی ملا
مگر جو دل پہ گزرتی ہے کہہ سکوں بھی نہیں

مری زبان کی لکنت سے بدگمان نہ ہو
جو تو کہے تو تجھے عمر بھر ملوں بھی نہیں

فراز جیسے دیا تربتِ ہوا چاہے
تو پاس آۓ تو ممکن ہے میں رہوں بھی نہیں

تانیہ
02-03-2012, 05:41 PM
فقط ہنر ہی نہیں عیب بھی کمال کے رکھ
سو دوسروں کے لئے تجربے مثال کے رکھ

نہیں ہے تاب تو پھر عاشقی کی راہ نہ چل
یہ کارزار جنوں ہے جگر نکال کے رکھ

سبھی کے ہاتھ دلوں پر نگاہ تجھ پر ہے
قدح بدست ہے ساقی قدم سنبھال کے رکھ

فراز بھول بھی جا سانحے محبت کے
ہتھیلیوں پہ نہ اِن آبلوں کو پال کے رکھ

تانیہ
02-03-2012, 05:42 PM
کٹھن ہے راہ گزر، تھوڑی دور ساتھ چلو
بہت بڑا ہے سفر، تھوڑی دور ساتھ چلو

تمام عمر کہاں کوئی ساتھ دیتا ہے
میں جانتا ہوں مگر تھوڑی دور ساتھ چلو

نشے میں چور ہوں میں بھی، تمہیں بھی ہوش نہیں
بڑا مزا ہو اگر تھوڑی دور ساتھ چلو

یہ ایک شب کی ملاقات بھی غنیمت ہے
کسے ہے کل کی خبر تھوڑی دور ساتھ چلو

ابھی تو جاگ رہے ہیں چراغ راہوں کے
ابھی ہے دور سحر، تھوڑی دور ساتھ چلو

طوافِ منزلِ جاناں ہمیں بھی کرنا ہے
فراز تم بھی اگر تھوڑی دور ساتھ چلو

تانیہ
02-03-2012, 05:43 PM
کچھ نہ کسی سے بولیں گے
تنہائی میں رو لیں گے

ہم بے راہ رووں کا کیا
ساتھ کسی کے ہو لیں گے

خود تو ہوئے رسوا لیکن
تیرے بھید نہ کھولیں گے

جیون زہر بھرا ساگر
کب تک امرت گھولیں گے

ہجر کی شب سونے والے
حشر کو آنکھیں کھولیں گے

پھر کوئی آندھی اُٹھے گی
پنچھی جب پر تولیں گے

نیند تو کیا آئے گی فراز
موت آئی تو سو لیں گے

تانیہ
02-03-2012, 05:44 PM
کروں نہ یاد اگر کس طرح بھلاؤں اسے
غزل بہانہ کروں اور گنگناؤں اسے

وہ خار خار ہے شاخِ گلاب کی مانند
میں زخم زخم ہوں پھر بھی گلے لگاؤں اسے

یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں سے
میں کیسے بات کروں اور کہاں سے لاؤں اسے

مگر وہ زود فراموش زود رنج بھی ہے
کہ روٹھ جائے اگر یاد کچھ دلاؤں اسے

وہی جو دولتِ دل ہے وہی جو راحتِ جاں
تمہاری بات پہ اے ناصحو گنواؤں اسے

جو ہم سفر سرِ منزل بچھڑ رہا ہے فراز
عجب نہیں کہ اگر یاد بھی نہ آؤں اسے

تانیہ
02-03-2012, 05:44 PM
کسی سے دل کی حکایت کبھی کہا نہیں کی
وگرنہ زندگی ہم نے بھی کیا سے کیا نہیں کی

ہر اک سے کون محبت نباہ سکتا ہے
سو ہم نے دوستی یاری تو کی ، وفا نہیں کی

شکستگی میں بھی پندارِ دل سلامت ہے
کہ اس کے در پہ تو پہنچے مگر صدا نہیں کی

شکایت اس کی نہیں ہے کہ اس نے ظلم کیا
گلہ تو یہ ہے کہ ظالم نے انتہا نہیں کی

وہ نا دہند اگر تھا تو پھر تقاضا کیا
کہ دل تو لے گیا قیمت مگر ادا نہیں کی

عجیب آگ ہے چاہت کی آگ بھی کہ فراز
کہیں جلا نہیں کی اور کہیں بجھا نہیں کی

تانیہ
02-03-2012, 05:45 PM
کل پرسش احوال جو کی یار نے میرے
کس رشک سے دیکھا مجھے غم خوار نے میرے

بس ایک ترا نام چھپانے کی غرض سے
کس کس کو پکارا دلِ بیمار نے میرے

یا گرمیِ بازار تھی یا خوف زباں تھا
پھر بیچ دیا مجھ کو خریدار نے میرے

ویرانی میں بڑھ کر تھے بیاباں سے تو پھر کیوں
شرمندہ کیا ہے در و دیوار نے میرے

جب شاعری پردہ ہے فراز اپنے جنوں کا
پھر کیوں مجھے رسوا کیا اشعار نے میرے

تانیہ
02-03-2012, 05:47 PM
سو صلیبیں تھیں ہر اک حرف جنوں سے پہلے
کیا کہوں اب میں’ کہوں یا نہ کہوں‘ سے پہلے

اس کو فرصت ہی نہیں دوسرے لوگوں کی طرح
جس کو نسبت تھی مرے حال زبوں سے پہلے

کوئی اسم ایسا کہ اس شخص کا جادو اترے
کوئی اعجاز مگر اس کے فسوں سے پہلے

بے طلب اس کی عنایت ہے تو حیران ہوں میں
ہاتھ مانوس نہ تھے شاخ نگوں سے پہلے

حرف دل آیا کہ آیا میرے ہونٹوں پہ اب
بڑھ گئی بات بہت سوز دروں سے پہلے

تشنگی نے نگہ یار کی شرمندہ کیا
دل کی اوقات نہ تھی قطرۂ خوں سے پہلے

خوش ہو آشوب محبت سے کہ زندہ ہو فراز
ورنہ کچھ بھی تو نہیں دل کے سکوں سے پہلے

تانیہ
02-03-2012, 05:48 PM
سو دوریوں پہ بھی مرے دل سے جدا نہ تھی
تو میری زندگی تھی مگر بے وفا نہ تھی

دل نے ذرا سے غم کو قیامت بنا دیا
ورنہ وہ آنکھ اتنی زیادہ خفا نہ تھی

یوں دل لرز اٹھا ہے کسی کو پکار کر
میری صدا بھی جیسے کہ میری صدا نہ تھی

برگ خزاں جو شاخ سے ٹوٹا وہ خاک تھا
اس جاں سپردگی کے تو قابل ہوا نہ تھی

جگنو کی روشنی سے بھی کیا کیا بھڑک اٹھی
اس شہر کی فضا کہ چراغ آشنا نہ تھی

تانیہ
02-03-2012, 05:49 PM
سنگ دل ہے وہ تو کیوں اس کا گلہ میں نے کیا
جبکہ خود پتھر کو بت، بت کو خدا میں نے کیا

کیسے نامانوس لفظوں کی کہانی تھا وہ شخص
اس کو کتنی مشکلوں سے ترجمہ میں نے کیا

وہ مری پہلی محبت وہ مری پہلی شکست
پھر تو پیمان وفا سو مرتبہ میں نے کیا

ہوں سزاوار سزا کیوں جب مقدر میں مرے
جو بھی اس جانِ جہاں نے لکھ دیا میں نے کیا

تانیہ
02-03-2012, 05:49 PM
سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
تو اس کے شہر میں*کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی
سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے حشر ہیں*اس کی غزال سی آنکھیں
سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں*کاکلیں اس کی
سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے
سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں
مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی
جو سادہ دل ہیں*اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں

سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ امکاں میں
پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں

وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں
کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں

بس اک نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل کا
سو رہ روان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کے شبستاں سے متُّصل ہے بہشت
مکیں* اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں

کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے
کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں

رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں
چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں

کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی
اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں

اب اس کے شہر میں*ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں*

تانیہ
02-03-2012, 05:50 PM
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں*بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے

جشنِ مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے

اس کی وہ جانے اسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھا
تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے

تانیہ
02-03-2012, 05:50 PM
سکوتِ شامِ خزاں ہے قریب آ جاؤ
بڑا اداس سماں ہے قریب آ جاؤ

نہ تم کو خود پہ بھروسا نہ ہم کو زعمِ وفا
نہ اعتبارِ جہاں ہے قریب آ جاؤ

رہِ طلب میں کسی کو کسی کا دھیان نہیں
ہجومِ ہم سفراں ہے قریب آ جاؤ

جو دشتِ عشق میں بچھڑے وہ عمر بھر نہ ملے
یہاں دھواں ہی دھواں ہے قریب آ جاؤ

یہ آندھیاں ہیں تو شہرِ وفا کی خیر نہیں
زمانہ خاک فشاں ہے قریب آ جاؤ

فقیہِ شہر کی مجلس نہیں کہ دور رہو
یہ بزمِ پیرِ مغاں ہے قریب آ جاؤ

فراز دور کے سورج غروب سمجھے گئے
یہ دورِ کم نظراں ہے قریب آ جاؤ

تانیہ
02-03-2012, 05:51 PM
سکوت بن کے جو نغمے دلوں میں پلتے ہیں
وہ زخمۂ رگِ جاں توڑ کر نکلتے ہیں

حضور آپ شب آرائیاں کریں لیکن
فقط نمودِ سحر تک چراغ جلتے ہیں

اگر فضا ہے مخالف تو زلف لہراؤ
کہ بادبان ہواؤں کا رُخ بدلتے ہیں

کوئی بھی فیصلہ دینا ابھی درست نہیں
کہ واقعات ابھی کروٹیں بدلتے ہیں

یہ پاسِ پیر مغاں ہے کہ ضعفِ تشنہ لبی
نشہ نہیں ہے مگر لڑکھڑا کے چلتے ہیں

خدا کا نام جہاں بیچتے ہیں لوگ فراز
بصد وثوق وہاں کاروبار چلتے ہیں

تانیہ
02-03-2012, 05:52 PM
سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی
دل نے چاہا بھی اگر ، ہونٹوں نے جنبش نہیں کی

اہلِ محفل پہ کب احوال کھلا ہے اپنا
ہم بھی خاموش رہے اس نے بھی پُرسش نہیں کی

جس قدر اس سے تعلق تھا چلا جاتا ہے
اس کا کیا رنج کہ جس کی کبھی خواہش نہیں کی

یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے
اس نے بخشش نہیں کی ہم نے گزارش نہیں کی

اک تو ہم کو ادب آداب نے پیاسا رکھا
اس پہ محفل میں صراحی نے بھی گردش نہیں کی

ہم کہ دکھ اوڑھ کے خلوت میں پڑے رہتے ہیں
ہم نے بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کی

اے مرے ابرِ کرم دیکھ یہ ویرانۂ جاں
کیا کسی دشت پہ تو نے کبھی بارش نہیں کی

کٹ مرے اپنے قبیلے کی حفاظت کے لیے
مقتلِ شہر میں ٹھہرے رہے جنبش نہیں کی

وہ ہمیں بھول گیا ہو تو عجب کیا ہے فراز
ہم نے بھی میل ملاقات کی کوشش نہیں کی

تانیہ
02-03-2012, 05:56 PM
گئے دنوں میں محبت مزاج اس کا تھا
مگر کچھ اور ہی انداز آج اس کا تھا

وہ شہر یار جب اقلیم حرف میں آیا
تو میرا دست نگر تخت و تاج اس کا تھا

میں کیا بتاؤں کہ کیوں اس نے بے وفائی کی
مگر یہی کہ کچھ ایسا مزاج اس کا تھا

لہو لہان تھا میں اور عدل کی میزان
جھکی تھی جانبِ قاتل کہ راج اس کا تھا

تجھے گلہ ہے کہ دنیا نے پھیر لیں* آنکھیں
فراز یہ تو سدا سے رواج اس کا تھا

تانیہ
02-03-2012, 05:56 PM
گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا
مدتوں کے بعد کوئی ہمسفر اچھا لگا

دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں
اُس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا

ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود
آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا

باغباں گلچیں کو چاہے جو کہے ہم کو تو پھول
شاخ سے بڑھ کر کفِ دلدار پر اچھا لگا

کون مقتل میں نہ پہنچا کون ظالم تھا جسے
تیغِ قاتل سے زیادہ اپنا سر اچھا لگا

ہم بھی قائل ہیں وفا میں استواری کے مگر
کوئی پوچھے کون کس کو عمر بھر اچھا لگا

اپنی اپنی چاہتیں ہیں لوگ اب جو بھی کہیں
اک پری پیکر کو اک آشفتہ سر اچھا لگا

میر کے مانند اکثر زیست کرتا تھا فراز
تھا تو وہ دیوانہ سا شاعر مگر اچھا لگا

تانیہ
02-03-2012, 05:57 PM
گُل بھی گلشن میں کہاں غنچہ دہن تم جیسے
کوئی کس منہ سے کرے تم سے سُخن، تم جیسے

یہ میرا حُسنِ نظر ہے تو دکھا دے کوئی
قامت و گیسو و رُخسار و دہن تم جیسے

اب تو قاصد سے بھی ہر بات جھجک کر کہنا
لے گئے ہو میرا بے ساختہ پن تم جیسے

اب تو نایاب ہوئے دشمنِ دیرینہ تک
اب کہاں اے میرے یارانِ کہن، تم جیسے؟

کبھی ہم پر بھی ہو احسان کہ بنا دیتے ہو
اپنی آمد سے بیاباں کو چمن تم جیسے

کبھی ان لالہ قباؤں کو بھی دیکھا ہے فراز
پہنے پھرتے ہیں جو خوابوں کے کفن تم جیسے

تانیہ
02-03-2012, 05:57 PM
گماں یہی ہے کہ دل خود ادھر کو جاتا ہے
سو شک کا فائدہ اس کی نظر کو جاتا ہے

یہ دل کا درد تو عمروں کا روگ ہے پیارے
سو جائے بھی تو پہر دو پہر کو جاتا ہے

یہ حال ہے کہ کئی راستے ہیں پیش نظر
مگر خیال تری رہ گزر کو جاتا ہے

تو انوری ہے ، نہ غالب تو پھر یہ کیوں ہے فراز
ہر ایک سیل بلا تیرے گھر کو جاتا ہے

تانیہ
02-03-2012, 05:58 PM
مزاج ہم سے زیادہ جدا نہ تھا اس کا
جب اپنے طور یہی تھے تو کیا گلہ اس کا

وہ اپنے زعم میں تھا، بے خبر رہا مجھ سے
اسے گماں بھی نہیں میں نہیں رہا اس کا

وہ برق رو تھا مگر رہ گیا کہاں جانے
اب انتظار کریں گے شکستہ پا اس کا

چلو یہ سیل بلا خیز ہی بنے اپنا
سفینہ اس کا، خدا اس کا، ناخدا اس کا

یہ اہل درد بھی کس کی دہائی دیتے ہیں
وہ چپ بھی ہو تو زمانہ ہے ہمنوا اس کا

ہمیں نے ترک تعلق میں پہل کی کہ فراز
وہ چاہتا تھا مگر حوصلہ نہ تھا اس کا

تانیہ
02-03-2012, 06:00 PM
مسافرت میں بھی تصویر گھر کی دیکھتے ہیں
کوئی بھی خواب ہو تعبیر گھر کی دیکھتے ہیں

وطن سے دُور بھی آزادیاں نصیب کسے
قدم کہیں بھی ہوں زنجیر گھر کی دیکھتے ہیں

اگرچہ جسم کی دیوار گرنے والی ہے
یہ سادہ لوح کی تعمیر گھر کی دیکھتے ہیں

کوئی تو زخم اسے بھولنے نہیں دیتا
کوئی تو یاد عناں گیر، گھر کی دیکھتے ہیں

ہم ایسے خانہ بر انداز، کنج غربت میں
جو گھر نہیں تو تصاویر گھر کی دیکھتے ہیں

بنائے دل ہے کسی خوابگاہ زلزلہ پر
سو اپنی آنکھوں سے تقدیر گھر کی دیکھتے ہیں

فراز جب کوئی نامہ وطن سے آتا ہے
تو حرف حرف میں تصویر گھر کی دیکھتے ہیں

تانیہ
02-03-2012, 06:01 PM
منتظر کب سے تحیر ہے تری تقریر کا
بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا

رات کیا سویا کہ باقی عم کی نیند اڑ گئی
خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا

جس طرح بادل کا سایہ پیاس بھڑکاتا رہے
میں نے وہ عالم بھی دیکھا ہے تری تصویر کا

کس طرح پایا تجھے پھر کس طرح کھویا تجھے
مجھ سا منکر بھی تو قائل ہو گیا تقدیر کا

عشق میں سر پھوڑنا بھی کیا کہ یہ بے مہر لوگ
جوئے خوں کو نام دے دیتے ہیں جوئے شیر کا

جس کو بھی چاہا اسے شدت سے چاہا ہے فراز
سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے درد کی زنجیر کا

تانیہ
02-03-2012, 06:02 PM
منزلیں ایک سی آوارگیاں ایک سی ہیں
مختلف ہو کے بھی سب زندگیاں ایک سی ہیں

کوئی مقاصد ہو کہ ناصح، کوئی عاشق کہ عدو
سب کی اُس شوخ سے وابستگیاں ایک سی ہیں

دشتِ مجنوں میں نہ سہی تیشۂ فرہاد سہی
سفرِ عشق میں واماندگیاں ایک سی ہیں

یہ الگ بات کہ احساس جُدا ہوں ورنہ
راحتیں ایک سی، افسردگیاں ایک سی ہیں

صوفی و رند کے مسلک میں سہی لاکھ تضاد
مستیاں ایک سی، وارفتگیاں ایک سی ہیں

وصل ہو، ہجر ہو، قربت ہو کہ دُوری ہو فراز
ساری کیفیتیں، سب تشنگیاں ایک سی ہیں

تانیہ
02-03-2012, 06:02 PM
میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا
قرعۂ فال مرے نام کا اکثر نکلا

تھا جنہیں ز عم وہ دریا بھی مجھی میں ڈوبے
میں کہ صحرا نظر آتا تھا سمندر نکلا

میں نے اس جان بہاراں کو بہت یاد کیا
جب کوئی پھول مری شاخ ہنر پر نکلا

شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگر
میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا

تانیہ
02-03-2012, 06:03 PM
میں کہ پر شور سمندر تھے مرے پاؤں میں
اب کہ ڈوبا ہوں تو سوکھے ہوئے دریاؤں میں

نامرادی کا یہ عالم ہے کہ اب یاد نہیں
تو بھی شامل تھا کبھی میری تمناؤں میں

دن کے ڈھلتے ہی اُجڑ جاتی ہیں آنکھیں ایسے
جس طرح شام کو بازار کسی گاؤں میں

چاک دل سی کہ نہ سی زخم کی توہین نہ کر
ایسے قاتل تو نہ تھے میرے مسیحاؤں میں

ذکر اُس غیرتِ مریم کا جب آتا ہے فراز
گھنٹیاں بجتی ہیں لفظوں کے کلیساؤں میں

تانیہ
02-03-2012, 06:04 PM
میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری
اسے خبر ہی نہ تھی ، خاک کیمیا تھی مری

میں چپ ہوا تو وہ سمجھا کہ بات ختم ہوئی
پھر اس کے بعد تو آواز جا بجا تھی مری

جو طعنہ زن تھا مری پوششِ دریدہ پر
اسی کے دوش پہ رکھی ہوئی قبا تھی مری

میں اس کو یاد کروں بھی تو یاد آتا نہیں
میں اس کو بھول گیا ہوں ، یہی سزا تھی مری

شکست دے گیا اپنا غرور ہی اس کو
وگرنہ اس کے مقابل بساط کیا تھی مری

کہیں دماغ کہیں دل کہیں بدن ہی بدن
ہر اک سے دوستی یاری جدا جدا تھی مری

کوئی بھی کوئے محبت سے پھر نہیں گزرا
تو شہرِ عشق میں کیا آخری صدا تھی مری؟

جو اب گھمنڈ سے سر کو اٹھائے پھرتا ہے
اسی طرح کی تو مخلوق خاکِ پا تھی مری

ہر ایک شعر نہ تھا در خورِ قصیدۂ دوست
اور اس سے طبعِ رواں خوب آشنا تھی مری

میں اس کو دیکھتا رہتا تھا حیرتوں سے فراز
یہ زندگی سے تعارف کی ابتدا تھی مری

تانیہ
02-03-2012, 06:04 PM
نئے سفر میں ابھی ایک نقص باقی ہے
جو شخص ساتھ نہیں اسکا عکس باقی ہے

اٹھا کے لے گئے دزدان شب چراغ تلک
سو، کور چشم پتنگوں کا رقص باقی ہے

گھٹا اٹھی ہے مگر ٹوٹ کر نہیں برسی
ہوا چلی ہے مگر پھر بھی حبس باقی ہے

الٹ پلٹ گئی دنیا وہ زلزلے آئے
مگر خرابۂ دل میں وہ شخص باقی ہے

فراز آئے ہو تم اب رفیق شب کے لئے
کہ دور جام نا ہنگام رقص باقی ہے

تانیہ
02-03-2012, 06:06 PM
نبھاتا کون ہے قول و قسم تم جانتے تھے
یہ قربت عارضی ہے کم سے کم تم جانتے تھے

رہا ہے کون کس کے ساتھ انجام سفر تک
یہ آغاز مسافت ہی سے ہم تم جانتے تھے

مزاجوں میں اتر جاتی ہے تبدیلی مری جاں
سو رہ سکتے تھے کیسے ہم بہم تم جانتے تھے

سو اب کیوں ہر کس و ناکس سے یہ شکوہ شکایت
یہ سب سود و زیاں ، یہ بیش و کم تم جانتے تھے

فرار اس گمرہی پر کیا کسی کو دوش دینا
کہ راہ عاشقی کے بیچ و خم تم جانتے تھے

تانیہ
02-03-2012, 06:08 PM
نہ تیرا قرب نہ بادہ ہے کیا کیا جائے
پھر آج دکھ بھی زیادہ ہے کیا کیا جائے

ہمیں بھی عرضِ تمنا کا ڈھب نہیں آتا
مزاج یار بھی سادہ ہے کیا کیا جائے

کچھ اپنے دوست بھی ترکش بدوش پھرتے ہیں
کچھ اپنا دل بھی کشادہ ہے کیا کیا جائے

وہ مہرباں ہے مگر دل کی حرص بھی کم ہو
طلب، کرم سے زیادہ ہے کیا کیا جائے

نہ اس سے ترکِ تعلق کی بات کر پائیں
نہ ہمدمی کا ارادہ ہے کیا کیا جائے

سلوکِ یار سے دل ڈوبنے لگا ہے فراز
مگر یہ محفلِ اعداء ہے کیا کیا جائے

تانیہ
02-03-2012, 06:09 PM
گئی رتوں میں تو شام و سحر نہ تھے ایسے
کہ ہم اداس بہت تھے مگر نہ تھے ایسے

یہاں بھی پھول سے چہرے دکھا ئی دیتے تھے
یہ اب جو ہیں یہی دیوار و در نہ تھے ایسے

ملے تو خیر نہ ملنے پہ رنجشیں کیسی
کہ اس سے اپنے مراسم تھے پر نہ تھے ایسے

رفاقتوں سے مرا ہوں مسافتوں سے نہیں
سفر وہی تھا مگر ہم سفر نہ تھے ایسے

ہمیں تھے جو ترے آنے تلک جلے ورنہ
سبھی چراغ سر رہگزر نہ تھے ایسے

دل تباہ تجھے اور کیا تسلی دیں
ترے نصیب ترے چارہ گر نہ تھے ایسے

تانیہ
02-03-2012, 06:09 PM
کیوں طبیعت کہیں ٹھہرتی نہیں
دوستی تو اداس کرتی نہیں

ہم ہمیشہ کے سیر چشم سہی
تجھ کو دیکھیں تو آنکھ بھرتی نہیں

شبِ ہجراں بھی روزِ بد کی طرح
کٹ تو جاتی ہے پر گزرتی نہیں

شعر بھی آیتوں سے کیا کم ہیں
ہم پہ مانا وحی اترتی نہیں

اس کی رحمت کا کیا حساب کریں
بس ہمیں سے حساب کرتی نہیں

یہ محبت ہے ، سن! زمانے سن!
اتنی آسانیوں سے مرتی نہیں

جس طرح تم گزرتے ہو فراز
زندگی اس طرح گزرتی نہیں

تانیہ
02-03-2012, 06:11 PM
کوئی سخن برائے قوافی نہیں *کہا
اک شعر بھی غزل میں اضافی نہیں کہا

ہم اہلِ صدق جرم پہ نادم نہیں رہے
مر مِٹ گئے پہ حرفِ معافی نہیں کہا

آشوبِ* زندگی تھا کہ اندوہ عاشقی
اک غم کو دوسرے کی تلافی نہیں کہا

ہم نے خیالِ یار میں کیا کیا غزل کہی
پھر بھی یہی گُماں ہے کہ کافی نہیں کہا

بس یہ کہا تھا دل کی دوا ہے مغاں کے پاس
ہم نے کبھی شراب کو شافی نہیں کہا

پہلے تو دل کی بات نہ لائے زبان پر
پھر کوئی حرف دل کے منافی نہیں کہا

اُس بے وفا سے ہم نے شکایت نہ کی فراز
عادت کو اُس کی وعدہ خلافی نہیں کہا

تانیہ
02-03-2012, 06:12 PM
کہا تھا کس نے تجھے آبرو گنوانے جا
فراز اور اسے حال دل سنانے جا

کل اک فقیر نے کس سادگی سے مجھ سے کہا
تری جبیں کو بھی ترسیں گے آستانے جا

اسے بھی ہم نے گنوایا تری خوشی کے لئے
تجھے بھی دیکھ لیا ہے ارے زمانے جا

بہت ہے دولت پندار پھر بھی دیوانے
جو تجھ سے روٹھ چکا ہے اسے منانے جا

سنا ہے اس نے سوئمبر کی رسم تازہ کی
فراز تو بھی مقدر کو آزمانے جا

تانیہ
02-03-2012, 06:12 PM
کل ہم نے بزمِ یار میں کیا کیا شراب پی
صحرا کی تشنگی تھی سو دریا شراب پی

اپنوں نے تج دیا ہے تو غیروں میں جا کے بیٹھ
اے خانماں خراب! نہ تنہا شراب پی

تو ہم سفر نہیں ہے تو کیا سیرِ گلستاں
تو ہم سبو نہیں ہے تو پھر کیا شراب پی

اے دل گرفتۂ غم جاناں سبو اٹھا
اے کشتۂ جفائے زمانہ شراب پی

دو صورتیں ہیں یارو دردِ فراق کی
یا اس کے غم میں ٹوٹ کے رویا شراب پی

اک مہرباں بزرگ نے یہ مشورہ دیا
دکھ کا کوئی علاج نہیں ، جا شراب پی

بادل گرج رہا تھا ادھر محتسب ادھر
پھر جب تلک یہ عقدہ نہ سلجھا شراب پی

اے تو کہ تیرے در پہ ہیں رندوں کے جمگھٹے
اک روز اس فقیر کے گھر آ ، شراب پی

دو جام ان کے نام بھی اے پیر میکدہ
جن رفتگاں کے ساتھ ہمیشہ شراب پی

کل ہم سے اپنا یار خفا ہو گیا فراز
شاید کہ ہم نے حد سے زیادہ شراب پی

تانیہ
02-03-2012, 06:13 PM
کل نالۂ قمری کی صدا تک نہیں آئی
کیا ماتمِ گل تھا کہ صبا تک نہیں آئی

آدابِ خرابات کا کیا ذکر یہاں تو
رندوں کو بہکنے کی ادا تک نہیں آئی

تجھ ایسے مسیحا کے تغافل کا گلہ کیا
ہم جیسوں کی پرسش کو قضا تک نہیں آئی

جلتے رہے بے صرفہ چراغوں کی طرح ہم
تو کیا، ترے کوچے کی ہوا تک نہیں آئی

کس جادہ سے گزرا ہے مگر قافلۂ عمر
آوازِ سگاں ، بانگِ درا تک نہیں آئی

اس در پہ یہ عالم ہوا دل کا کہ لبوں پر
کیا حرفِ تمنا کہ دعا تک نہیں آئی

دعوائے وفا پر بھی طلب دادِ وفا کی
اے کشتۂ غم تجھ کو حیا تک نہیں آئی

جو کچھ ہو فراز اپنے تئیں ، یار کے آگے
اس سے تو کوئی بات بنا تک نہیں ہوئی

تانیہ
02-03-2012, 06:14 PM
کل رات ہم سخن کوئی بُت تھا خدا کہ میں
میں سوچ ہی رہا تھا کہ دل نے کہا کہ میں

تھا کون جو گرہ پہ گرہ ڈالتا رہا
اب یہ بتا کہ عقدہ کشا تُو ہوا کہ میں

جب سارا شہر برف کے پیراہنوں میں تھا
ان موسموں میں لوگ تھے شعلہ قبا کہ میں

جب دوست اپنے اپنے چراغوں کے غم میں تھے
تب آندھیوں کی زد پہ کوئی اور تھا کہ میں

جب فصلِ گل میں فکرِ رفو اہلِ دل کو تھی
اس رُت میں بھی دریدہ جگر تُو رہا کہ میں

کل جب رُکے گا بازوئے قاتل تو دیکھنا
اے اہلِ شہر تم تھے شہیدِ وفا کہ میں

کل جب تھمے گی خون کی بارش تو سوچنا
تم تھے عُدو کی صف میں سرِ کربلا کہ میں

تانیہ
02-03-2012, 06:17 PM
نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو
کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو

کسے زندگی ہے عزیز اب، کسے آرزوئے شب طرب
مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو

کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے
کہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو

یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر
چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو

یہ سکون جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغ دل ہی نہ بجھ چلے
وہ بلا سے ہو غم عشق یا غم روزگار کوئی تو ہو

سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبرو
جو نہیں عدد تو فراز تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو

تانیہ
02-03-2012, 06:21 PM
ہم سے کہیں کچھ دوست ہمارے مت لکھو
جان اگر پیاری ہے پیارے مت لکھو

حاکم کی تلوار مقدس ہوتی ہے
حاکم کی تلوار کے بارے مت لکھو

کہتے ہیں یہ دار و رسن کا موسم ہے
جو بھی جس کی گردن مارے ، مت لکھو

لوگ الہام کو بھی الحاد سمجھتے ہیں
جو دل پر وجدان اتارے مت لکھو

وہ لکھو بس جو بھی امیرِ شہر کہے
جو کہتے ہیں درد کے مارے مت لکھو

خود منصف پا بستہ ہیں لب بستہ ہیں
کون کہاں اب عرض گزارے مت لکھو

کچھ اعزاز رسیدہ ہم سے کہتے ہیں
اپنی بیاض میں نام ہمارے مت لکھو

دل کہتا ہے کھل کر سچی بات کہو
اور لفظوں کے بیچ ستارے مت لکھو

تانیہ
02-03-2012, 06:22 PM
ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو
کہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر تو

مری مثال کہ اک نخل خشک صحرا ہوں
ترا خیال کہ شاخ چمن کا طائر تو

میں جانتا ہوں کہ دنیا تجھے بدل دے گی
میں مانتا ہوں کہ ایسا نہیں بظاہر تو

ہنسی خوشی سے بچھڑ جا اگر بچھڑنا ہے
یہ ہر مقام پہ کیا سوچتا ہے آخر تو

فضا اداس ہے ، رت مضمحل ہے ، میں چپ ہوں
جو ہو سکے تو چلا آ کسی کی خاطر تو

فراز تو نے اسے مشکلوں میں ڈال دیا
زمانہ صاحب زر اور صرف شاعر تو

تانیہ
02-03-2012, 06:23 PM
ہوئے جاتے ہیں کیوں غم خوار قاتل
نہ تھے اتنے بھی دل آزار قاتل

مسیحاؤں کو جب آواز دی ہے
پلٹ کر آ گئے ہر بار قاتل

ہمیشہ سے ہلاک اک دوسرے کے
مرا سر اور تری تلوار قاتل

تری آنکھوں کو جاناں کیا ہوا ہے
کبھی دیکھے نہ تھے بیمار قاتل

وہاں کیا داد خواہی کیا گواہی
جہاں ہوں منصفوں کے یار قاتل

فراز اس دشمن جاں سے گلہ کیا
ہمیشہ سے رہے دلدار قاتل

تانیہ
02-03-2012, 06:24 PM
ہونٹ ہیروں سے نہ چہرہ ہے ستارے
*پھِر بھی لادے تو کوئی دوست ہمارے کی مثال

مجھ سے کیا ڈوبنے والوں کا پتہ پوچھتے ہو
میں سمندر کا حوالہ نہ کنارے کی مثال

زندگی اوڑھ کے بیٹھی تھی ردائے شب غم
تیرا غم ٹانک دیا ہم نے ستارے کی مثال

عاشقی کو بھی ہوس پیشہ تجارت جانیں
وصل ہی نفع تو ہجراں ہے خسارے کی مثال

ہم کبھی ٹوٹ کے روئے نہ کبھی کھل کے ہنسے
رات شبنم کی طرح صبح ستارے کی مثال

نا سپاسی کی بھی حد ہے جو یہ کہتے ہو فراز
زندگی ہم نے گزاری ہے گزارے کی مثال

تانیہ
02-03-2012, 06:25 PM
وحشتِ دل صلۂ آبلہ پائی لے لے
مجھ سے یا رب مرے لفظوں کی کمائی لے لے

عقل ہر بار دکھاتی تھی جلے ہاتھ اپنے
دل نے ہر بار کہا، آگ پرائی لے لے

میں تو اس صبحِ درخشاں کو تونگر جانوں
جو مرے شہر سے کشکولِ گدائی لے لے

تو غنی ہے مگر اتنی ہیں شرائط میری
یہ محبت جو ہمیں راس نہ آئی لے لے

اپنے دیوان کو گلیوں میں لیے پھرتا ہوں
ہے کوئی جو ہنرِ زخم نمائی لے لے

تانیہ
02-03-2012, 06:25 PM
وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ
اب تو ہم بات بھی کرتے ہیں غم خوار کے ساتھ

ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ
میر دو دن نہ جئے ہجر کے آزار کے ساتھ

اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں
طاق پر عزتِ سادات بھی دستار کے ساتھ

اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوں میں کہ لوگ
چاپ سُنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ

ایک تو خواب لیے پھرتے ہو گلیوں گلیوں
اس پہ تکرار بھی کرتے ہو خریدار کے ساتھ

شہر کا شہر ہی ناصح ہو تو کیا کیجیے گا
ورنہ ہم رند تو بھڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ

ہم کو اس شہر میں تعمیر کا سودا ہے جہاں
لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ

جو شرف ہم کو ملا کوچۂ جاناں سے فراز
سوئے مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ

تانیہ
02-03-2012, 06:26 PM
وفا کے باب میں الزام عاشقی نہ لیا
کہ تیری بات کی اور تیرا نام بھی نہ لیا

خوشا وہ لوگ کہ محروم التفات رہے
ترے کرم کو بہ انداز سادگی نہ لیا

تمہارے بعد کئی ہاتھ دل کی سمت بڑھے
ہزار شکر گریباں کو ہم نے سی نہ لیا

تمام مستی و تشنہ لبی کے ہنگامے
کسی نے سنگ اٹھایا، کسی نے مینا لیا

فراز ظلم ہے کچھ اتنی خود اعتمادی بھی
کہ رات بھی تھی اندھیری، چراغ بھی نہ لیا

تانیہ
02-03-2012, 06:27 PM
وفا کے خواب، محبت کا آسرا لے جا
اگر چلا ہے تو جو کچھ مجھے دیا لے جا

مقامِ سُود و زیاں آ گیا ہے پھر جاناں
یہ زخم میرے سہی، تِیر تو اٹھا لے جا

یہی ہے قسمتِ صحرا، یہی کرم تیرا
کہ بوند بوند عطا کر، گھٹا گھٹا لے جا

غرورِ دوست سے اتنا بھی دل شکستہ نہ ہو
پھر اس کے سامنے دامانِ التجا لے جا

ندامتیں ہوں تو سر بارِ دوش ہوتا ہے
فراز جاں کے عوض آبرو بچا لے جا

تانیہ
02-03-2012, 06:28 PM
وہ جو آ جاتے تھے آنکھوں میں*ستارے لے کر
جانے کس دیس گئے خواب ہمارے لے کر

چھاؤں میں بیٹھنے والے ہی تو سب سے پہلے
پیڑ گرتا ہے تو آ جاتے ہیں آرے لے کر

وہ جو آسودۂ ساحل ہیں انہیں کیا معلوم
اب کے موج آئی تو پلٹے گی کنارے لے کر

ایسا لگتا ہے کہ ہر موسم ہجراں میں بہار
ہونٹ رکھ دیتی ہے شاخوں پہ تمہارے لے کر

شہر والوں کو کہاں یاد ہے وہ خواب فروش
پھرتا رہتا تھا جو گلیوں میں غبارے لے کر

نقدِ جاں صرف ہوا کلفتِ ہستی میں* فراز
اب جو زندہ ہیں*تو کچھ سانس ادھارے لے کر

تانیہ
02-03-2012, 06:29 PM
وہ شکل وہ لالے کی سی کیاری نہیں بھولے
اگبور میں جو شام گزاری نہیں بھولے

صورت تھی کہ ہم جیسے صنم ساز بھی گم تھے
مورت تھی کہ ہم جیسے پجاری نہیں* بھولے

اب اس کا تغافل بھی گوارا کہ ابھی تک
ہم ترکِ ملاقات کی خواری نہیں بھولے

یاروں کی خطاؤں پہ نظر ہم نے نہ رکھی
اور یار کوئی بھول ہماری نہیں بھولے

خلعت کے لئے حرف کا سودا نہیں کرتے
کچھ لوگ ابھی وضع ہماری نہیں بھولے

دانے کی ہوس لا نہ سکی دام میں مجھ کو
یہ میری خطا میرے شکاری نہیں بھولے

ہم اپنے تئیں لاکھ زِخود رفتہ ہوں لیکن
یوں ہے کہ کوئی بات تمہاری نہیں *بھولے

اک لبعتِ ہندی نے فراز اب کے لکھا ہے
رادھا کو کبھی کرشن مراری نہیں بھولے

تانیہ
02-03-2012, 06:30 PM
وہی عشق جو تھا کبھی جنوں اسے روزگار بنا دیا
کہیں*زخم بیچ میں* آ گئے کہیں*شعر کوئی سنا دیا

وہی ہم کہ جن کو عزیز تھی درِ آبرو کی چمک دمک
یہی ہم کہ روزِ سیاہ میں* زرِ داغِ دل بھی لٹا دیا

کبھی یوں*بھی تھا کہ ہزار تیر جگر میں*تھے تو دکھی نہ تھے
مگر اب یہ ہے کسی مہرباں کے تپاک نے بھی رلا دیا

کبھی خود کو ٹوٹتے پھوٹتے بھی جو دیکھتے تو حزیں*نہ تھے
مگر آج خود پہ نظر پڑی تو شکستِ جاں نے بلا دیا

کوئی نامہ دلبر ِ شہر کا کہ غزل گری کا بہانہ ہو
وہی حرف دل جسے مدتوں سے ہم اہل ِ دل نے بھلا دیا

تانیہ
02-03-2012, 06:30 PM
یہ جو سرگشتہ سے پھرتے ہیں کتابوں والے
ان سے مت مل کہ انہیں روگ ہیں خوابوں والے

اب نۓ سال کی مہلت نہیں ملنے والی
آ چکے اب تو شب و روز عذابوں والے

اب تو سب دشنہ و خنجر کی زباں بولتے ہیں
اب کہاں لوگ محبت کے نصابوں والے

زندہ رہنے کی تمنا ہو تو ہو جاتے ہیں
فاختاؤں کے بھی کردار عقابوں والے

نہ مرے زخم کھلے ہیں نہ ترا رنگ حنا
موسم آۓ ہی نہیں اب کے گلابوں والے

تانیہ
02-03-2012, 06:31 PM
یہ دل کا چور کہ اس کی ضرورتیں تھیں بہت
وگرنہ ترک تعلق کی صورتیں تھیں بہت

ملے تو ٹوٹ کے روئے ، نہ کھل کے باتیں کیں
کہ جیسے اب کے دلوں میں کدورتیں تھیں بہت

بھلا دیے ہیں ترے غم نے دکھ زمانے کے
خدا نہیں تھا تو پتھر کی مورتیں تھیں بہت

دریدہ پیرہنوں کا خیال کیا آتا
امیر شہر کی اپنی ضرورتیں تھیں بہت

فراز دل کو نگاہوں سے اختلاف رہا
وگرنہ شہر میں ہم شکل صورتیں تھیں بہت

تانیہ
02-03-2012, 06:32 PM
یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہم
چارہ گر روئینگے اور غمخوار بن جائیں گے ہم

ہم سرِ چاکِ وفا ہیں اور ترا دستِ ہنر
جو بنا دے گا ہمیں اے یار بن جائیں گے ہم

کیا خبر تھی اے نگارِ شہر تیرے عشق میں
دلبرانِ شہر کے دلدار بن جائیں گے ہم

سخت جاں ہیں پر ہماری استواری پر نہ جا
ایسے ٹوٹیں گے ترا اقرار بن جائیں گے ہم

اور کچھ دن بیٹھنے دو کوئے جاناں میں ہمیں
رفتہ رفتہ سایۂ دیوار بن جائیں گے ہم

اس قدر آساں نہ ہو گی ہر کسی سے دوستی
آشنائی میں ترا معیار بن جائیں گے ہم

میر و غالب کیا کہ بن پائے نہیں فیض و فراق
زعم یہ تھا رومی و عطار بن جائیں گے ہم

دیکھنے میں شاخِ گل لگتے ہیں لیکن دیکھنا
دستِ گلچیں کے لئے تلوار بن جائیں گے ہم

ہم چراغوں کو تو تاریکی سے لڑنا ہے فراز
گل ہوئے پر صبح کے آثار بن جائیں گے ہم

تانیہ
02-03-2012, 06:39 PM
یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے

یہ کن نظروں سے تو نے آج دیکھا
کہ تیرا دیکھنا دیکھا نہ جائے

ہمیشہ کے لئے مجھ سے بچھڑ جا
یہ منظر بار ہا دیکھا نہ جائے

غلط ہے جو سنا، پر آزما کر
تجھے اے بے وفا دیکھا نہ جائے

یہ محرومی نہیں پاسِ وفا ہے
کوئی تیرے سوا دیکھا نہ جائے

یہی تو آشنا بنتے ہیں آخر
کوئی نا آشنا دیکھا نہ جائے

فراز اپنے سوا ہے کون تیرا
تجھے تجھ سے جدا دیکھا نہ جائے

تانیہ
02-03-2012, 06:41 PM
یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی
فراز تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنی

یہ قرب کیا ہے کہ تو سامنے ہے اور ہمیں
شمار ابھی سے جدائی کی ساعتیں کرنی

کوئی خدا ہو کے پتھر جسے بھی ہم چاہیں
تمام عمر اسی کی عبادتیں کرنی

سب اپنے اپنے قرینے سے منتظر اس کے
کسی کو شکر کسی کو شکایتیں کرنی

ہم اپنے دل سے ہیں مجبور اور لوگوں کو
ذرا سی بات پہ برپا قیامتیں کرنی

ملیں جب ان سے تو مبہم سی گفتگو کرنا
پھر اپنے آپ سے سو سو وضاحتیں کرنی

یہ لوگ کیسے مگر دشمنی نباہتے ہیں
ہمیں تو راس نہ آئیں محبتیں کرنی

کبھی فراز نئے موسموں میں رو دینا
کبھی تلاش پرانی رقابتیں کرنی

تانیہ
02-03-2012, 06:43 PM
یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے
کہاں لے جاؤں تجھے اے دلِ تنہا میرے

وہی محدود سا حلقہ ہے شناسائی کا
یہی احباب مرے ہیں، یہی اعدا میرے

میں تہِ کاسہ و لب تشنہ رہوں گا کب تک
تیرے ہوتے ہوئے ، اے صاحبِ دریا میرے

مجھ کو اس ابرِ بہاری سے ہے کب کی نسبت
پر مقدر میں وہی پیاس کے صحرا میرے

دیدہ و دل تو ترے ساتھ ہیں اے جانِ فراز
اپنے ہمراہ مگر خواب نہ لے جا میرے

تانیہ
02-03-2012, 06:43 PM
ہم سنائیں تو کہانی اور ہے
یار لوگوں کی زبانی اور ہے

چارہ گر روتے ہیں تازہ زخم کو
دل کی بیماری پرانی اور ہے

جو کہا ہم نے وہ مضمون اور تھا
ترجماں کی ترجمانی اور ہے

ہے بساطِ دل لہو کی اک بوند
چشمِ پر خوں کی روانی اور ہے

نامہ بر کو کچھ بھی ہم پیغام دیں
داستاں اس نے سنانی اور ہے

آبِ زمزم دوست لائے ہیں عبث
ہم جو پیتے ہیں* وہ پانی اور ہے

سب قیامت قامتوں کو دیکھ لو
کیا مرے جاناں کا ثانی اور ہے

شاعری کرتی ہے اک دنیا فراز
پر تری سادہ بیانی اور ہے

تانیہ
02-03-2012, 06:44 PM
ہم اپنے آپ میں گم تھے ہمیں خبر کیا تھی
کہ ماورائے غمِ جاں بھی ایک دنیا تھی

وفا پہ سخت گراں ہے ترا وصالِ دوام
کہ تجھ سے مل کے بچھڑنا مری تمنا تھی

ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد اب معلوم
کہ تو نہیں تھا ترے ساتھ ایک دنیا تھی

خوشا وہ دل جو سلامت رہے بزعمِ وفا
نگاہِ اہلِ جہاں ورنہ سنگِ خارا تھی

دیارِ اہلِ سخن پر سکوت ہے کہ جو تھا
فراز میری غزل بھی صدا بصحرا تھی

تانیہ
02-03-2012, 06:44 PM
ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے
کس کو سیراب کرے وہ کسے پیاسا رکھے

عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنا
اے مری جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے

ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام ترا
کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے

دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے
جو کسی اور کا ہونے دے نہ اپنا رکھے

ہنس نہ اتنا بھی فقیروں کے اکیلے پن پر
جا، خدا میری طرح تجھ کو بھی تنہا رکھے

یہ قناعت ہے اطاعت ہے کہ چاہت ہے فراز
ہم تو راضی ہیں وہ جس حال میں جیسا رکھے

تانیہ
02-03-2012, 06:45 PM
ہر کوئی جاتی ہوئی رت کا اشارہ جانے
گل نہ جانے بھی تو کیا باغ تو سارا جانے

کس کو بتلائیں کہ آشوب محبت کیا ہے
جس پہ گزری ہو وہی حال ہمارا جانے

جان نکلی کسی بسمل کی نہ سورج نکلا
بجھ گیا کیوں شب ہجراں کا ستارا جانے

جو بھی ملتا ہے وہ ہم سے ہی گلہ کرتا ہے
کوئی تو صورت حالات خدارا جانے

دوست احباب تو رہ رہ کے گلے ملتے ہیں
کس نے خنجر مرے سینے میں اتارا جانے

تجھ سے بڑھ کر کوئی نادان نہیں ہو گا فراز
دشمن جاں کو بھی تو جان سے پیارا جانے

تانیہ
02-03-2012, 06:46 PM
ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگے
کہ ہم کو دستِ زمانہ کے زخم کاری لگے

اداسیاں ہوں* مسلسل تو دل نہیں* روتا
کبھی کبھی ہو تو یہ کیفیت بھی پیاری لگے

بظاہر ایک ہی شب ہے فراقِ یار مگر
کوئی گزارنے بیٹھے تو عمر ساری لگے

علاج اس دلِ درد آشنا کا کیا کیجئے
کہ تیر بن کے جسے حرفِ غمگساری لگے

ہماری پاس بھی بیٹھو بس اتنا چاہتے ہیں
ہمارے ساتھ طبیعت اگر تمہاری لگے

فراز تیرے جنوں کا خیال ہے ورنہ
یہ کیا ضرور وہ صورت سبھی کو پیاری لگے

تانیہ
02-03-2012, 06:47 PM
ہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیں
کی عبادت بھی تو وہ ، جس کی جزا کوئی نہیں

آ کہ اب تسلیم کر لیں تو نہیں تو میں سہی
کون مانے گا کہ ہم میں بے وفا کوئی نہیں

وقت نے وہ خاک اڑائی ہے کہ دل کے دشت سے
قافلے گزرے ہیں پھر بھی نقشِ پا کوئی نہیں

خود کو یوں* محصور کر بیٹھا ہوں اپنی ذات میں
منزلیں چاروں طرف ہیں راستہ کوئی نہیں

کیسے رستوں سے چلے اور یہ کہاں پہنچے فراز
یا ہجومِ دوستاں تھا ساتھ ۔ یا کوئی نہیں

تانیہ
02-03-2012, 06:48 PM
نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں
عجب سفر ہے کہ بس ہمسفر کو دیکھتے ہیں

نہ پوچھ جب وہ گزرتا ہے بے نیازی سے
تو کس ملال سے ہم نامہ بر کو دیکھتے ہیں

تیرے جمال سے ہٹ کر بھی ایک دنیا ہے
یہ سیر چشم مگر کب ادھر کو دیکھتے ہیں

عجب فسونِ خریدار کا اثر ہے کہ ہم
اسی کی آنکھ سے اپنے ہنر کو دیکھتے ہیں

کوئی مکاں کوئی زنداں سمجھ کے رہتا ہے
طلسم خانۂ دیوار و در کو دیکھتے ہیں

فراز در خورِ سجدہ ہر آستانہ نہیں
ہم اپنے دل کے حوالے سے در کو دیکھتے ہیں

وہ بے خبر میری آنکھوں کا صبر بھی دیکھیں
جو طنز سے میرے دامانِ تر کو دیکھتے ہیں

یہ جاں کنی کی گھڑی کیا ٹھہر گئی ہے کہ ہم
کبھی قضا کو کبھی چارہ گر کو دیکھتے ہیں

ہماری دربدری کا یہ ماجرا ہے کہ ہم
مسافروں کی طرح اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

فراز ہم سے سخن دوست، فال کے لئے بھی
کلامِ غالب آشفتہ سر کو دیکھتے ہیں

تانیہ
02-03-2012, 06:49 PM
نہ کوئی تازہ رفاقت نہ یارِ دیرینہ
وہ قحطِ عشق کہ دشوار ہو گیا جینا

مرے چراغ تو سورج کے ہم نسَب نکلے
غلط تھا اب کے تری آندھیوں کا تخمینہ

یہ زخم کھائیو سر پر بپاسِ دستِ سبُو
وہ سنگِ محتسب آیا، بچائیو مینا

تمھیں بھی ہجر کا دکھ ہے نہ قُرب کی خواہش
سنو کہ بھول چکے ہم بھی عہدِ پارینہ

چلو کہ بادہ گساروں کو سنگسار کریں
چلو کہ ٹھہرا ہے کارِ ثواب خوں پینا

اس ایک شخص کی سج دھج غضب کی تھی کہ فراز
میں دیکھتا تھا، اسے دیکھتا تھا آئینہ

تانیہ
02-03-2012, 06:50 PM
نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے
کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے

ہم کہ دونوں کے گرفتار رہے، جانتے ہیں
دامِ دنیا سے کہیں زلف کا جال اچھا ہے

میں نے پوچھا تھا کہ آخر یہ تغافل کب تک؟
مسکراتے ہوئے بولے کہ سوال اچھا ہے

دل نہ مانے بھی تو ایسا ہے کہ گاہے گاہے
یارِ بے فیض سے ہلکا سا ملال اچھا ہے

لذتیں قرب و جدائی کی ہیں اپنی اپنی
مستقل ہجر ہی اچھا نہ وصال اچھا ہے

رہروانِ رہِ اُلفت کا مقدر معلوم
ان کا آغاز ہی اچھا نہ مال اچھا ہے

دوستی اپنی جگہ، پر یہ حقیقت ہے فراز
تیری غزلوں سے کہیں تیرا غزال اچھا ہے

تا بی
02-04-2012, 05:43 PM
g@ sis