PDA

View Full Version : ریمارکس



قرطاس
02-07-2012, 10:06 PM
[size=large]ادبی تحریر کا نام ریمارکس (ادبی انشائیہ ۔
تحریر از قلم عبدالقدیر قرطاس


ریمارکس سننے اور سنانے کی ایک دنیا شوقین ہے ، کچھ لوگوں کی ذاتی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے سرانجام کردہ کام پر ریمارکس ملیں ، کچھ فکری اور ذہنی عدم مطابقت کی وجہ سے ہمیں اپنی بیوی کو طلاقیں دینا پڑ گیں ، اس کے بعد جو آفات سر پڑیں زینت قرطاس بنائے جانے کے قابل ہیں
ہمیں ریمارکس اور وضاحت دینے سے ڈر لگتا ہے ، جہاں تک ممکن ہو ہم ان چکروں سے فاصلہ رکھ کر گزرنے کے قائل ہیں، علیدگی کے بعد ہم نے اپنا بناؤ سنگھار یکسر موقوف کر دیا کہ معبادہ کوئی یہ خیال نہ کرئے کہ ہم دوسری کے چکر میں اس کے ائل خانہ میں سے کسی پر نظر رکھے ہوئے ہیں، نہانا دھونا تک ترک کر دیا ، ابھی بھی ایک جوں ہمارے سر مبارک پر رینگ رہی ہے پر ہم اسے ڈسٹرب کرنے کی جسارت ہرگزنہیں کر سکتے کی آسے پاسے سے گزرنے والی کوئی دوشیزی یا عمررسیدہ یہ خیال کرئے کہ ہم سے اسے سلامی پیش کی ہے ،
ایک مذید تبدیلی بھی ہماری نفسیات میں داخل ہونے کی کامیاب کوشش کر چکی تھی ، گھر آئی خاتون چائے وہ چھوٹی ہو یا بڑی کہ سر پر ہاتھ پھیرنا کہ تم ہماری بہو بیٹیوں کہ جگہ ہو شادی کا کوئی ارادہ نہیں ،
کل ہی ہماری ایک رشتے کی دادی اماں ہمارے گھر تشریف لائیں بڑی مشکل سے خود کو ان کے سر پر دست شفقت پھیرنے سے روکا
ایک خوبصورت دوپہر کو ہمارے والد محترم کی کال ہمیں اپنے آفس موصول ہوئی کہ چھٹی لے کر گھر آجاؤ تمارے لئے لڑکی دیکھنے جانا ہے تمہیں بھی ساتھ ہی چلنا ہو گا،
والد گرامی کے حکم کو سر انکھوں پر رکھتے ہوئے ہم نے دفتر چھوڑنے کا قصد کیا ،گھر آکر پتہ چلا کہ ہمارہ ہمشیرہ محترمہ اپنی چھوٹی سی دختر کے ساتھ اس کار خیر میں حصہ ڈالنے کے لئے ہمارے ساتھ روانہ ہو رہی ہیں ،
یہاں ہمیں واقعی اپنی سالیوں کے سر پر دست شفقت رکھنا تھا مگر ڈرتے تھے کہیں منگیتر ہی نہ نکل آئے ، سب کے ساتھ سلام دعا ہوئی بہت اچھا لگا سالیوں کے سر پر دست شفقت رکھنا ، پھر چائے کہ ساتھ ایک عدد لڑکی برامد ہوئی ، شرما اسے رہی تھی جیسے مایوں بٹھایا ہو ، پہچان گے یہی ہے جسے دیکھنے ہم سب آئے ہیں ،بس ایک نظر دیکھا اور نظریں جھکا دیں ریمارکس دینے کی عادت نہیں مغرب کی نماز کا وقت بھی تھا ، دو نوافل ذیادہ ادا کئے وہ شکرانے کے تھے