PDA

View Full Version : عظیم محدث وفقیہ امام محمد الشافعی رحمہ اللہ تعالیٰ



اسامہ حماد
02-12-2012, 12:34 AM
از: مولانا مدثرجمال تونسوی

نوٹ: علم حدیث اور فقہاء اربعہ کے سلسلے میں لکھا گیا تفصیلی مضمون۔

نبی کریم ﷺکے لائے ہوئے کامل ومکمل دین اسلام کی سچائی اورحقانیت کی ایک مضبوط دلیل وہ اَصحا ب فضل وکما ل اور اربابِ علم و حکمت ہیں ،جن کی مثال پیش کرنے سے دیگر اَقوام وملل عاجزہیں ۔رسول کریم ﷺ کے وہ معجزات جو آپ کی وفات صدق آیا ت کے بعد قیا مت تک جا ری وسا ر ی ہیں، انہی معجزات میں وہ با کمال اہل علم و فضل شامل ہیں جو ”وارثینِ انبیائ“ کے معزّزوعظیم لقب سے نوازے گئے ہیں۔

فقہ شافعی کے بانی وموسس امام محمد بن ادریس شافعیؒ ایسے ہی نادر روزگار اور یگا نہ وفرد صا حب شرف وفضیلت ،عظیم محدث اور نامور مجتہد ہیں جو امت محمدیہ کیلئے باعث صدافتخا ر اور سرمایہ عزّوناز ہیں۔ آپ کی ولا دت 150ھ میں ،عین اس دن ہوئی جس دن اس امت کے پہلے نا مور مجتہد اما م اعظم ابو حنیفہ کی وفا ت ہو ئی۔ آپ کا نا م محمد ،کنیت ابو عبداللہ، لقب ناصر السنت اور سلسلہ نسب یوں ہے :
محمد بن ادریس بن عباس بن عثما ن بن شافع بن سا ئب بن عبیدبن عبد یزید بن ہاشم بن مطلب بن عبد منا ف بن قصی ۔

یہ شجرہ نسب، عبد مناف پر جاکر رسو ل اکرم ﷺ کے سا تھ مل جا تا ہے۔ آپ کے جد امجد سا ئب بن عبید غزوہ بدر کے دن مشرف با اسلا م ہوئے۔ سا ئب کے بیٹے شافع کم عمر صحا بہ میں شما ر ہو تے ہیں، اما م صا حب انہی کی طرف منسوب ہو کر شافعی کہلا تے ہیں۔ آپ کی وا لدہ عرب کے دوسرے نا مور قبیلے ازدسے تعلق رکھتی تھیں،البتہ بعض اہل علم کا کہنا یہ ہے کہ آپ کی والدہ محترمہ حضرت حسین بن علیؓ کی پڑپوتی تھیں۔ امام شافعی کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے ایک خواب دیکھا کہ جیسے ان کے بطن سے مشتری ستارہ نمودار ہوا فضا میں بلندہوا،پھر ٹوٹ کرمصر میں گرگیا اور دنیا کے مختلف حصے اس سے روشن ہوگئے ۔وہ اس خواب سے گھبرائیں اور صبح ہوتے ہی انہوں نے تعبیر بتلانے والوں سے اپنا خواب بیان کیا،انہوں نے یہ تعبیر دی کہ وہ ایک ایسے بیٹے کوجنم دیں گی جس کاعلم مصر سے پھیل کردنیا کے مختلف حصوں کواپنے علم سے بھردے گا۔ فلسطین کا مشہور مقام غزہ آپ کی جائے ولادت ہے۔ابتدا ءہی میں والد محترم کا سا یہ اُٹھ گیا ،دو سال کی عمر میں آپ کی والدہ آپ کو حجا زلے گئیں۔ آپ نے زیادہ تر نشوونما مکہ معظمہ میں پا ئی ۔آپ کا گھرانہ غربت نشا ن تھا مگرخا ندانی شرف و کما ل سے خوب آراستہ تھا ۔اما م صاحب کو ذکا وت و ذہا نت سے بھی وا فر حصہ ملا تھا، کم عمری سے ہی پوری لگن اورمحنت سے حصول علم میں مشغول ہوئے ،سا ت برس کی عمر میں قرآن شریف حفظ کر لیا، حفظ قرآن کے بعد حفظ حدیث کی طرف متوجہ ہوئے اورقوت حافظہ وذہانت کایہ حال تھا کہ صرف دس سا ل کی کم عمری میں موطااما م ما لک حفظ کرلی ،مکہ معظمہ کے قیام میں وہا ں کے معروف استاذحدیث مسلم بن خا لد زنجی سے زیا دہ تراستفا دہ کیا ،پندر ہ سال کی عمرمیں اس درجہ کمال علمی حاصل ہوگیا تھا کہ اپنے استاذکی اجا زت سے فتوے دینے لگے ۔اما م صا حب کو حد یث وفقہ کے سا تھ ادب عر بی اور لغت و شا عری میں بھی کما ل مہارت و اما مت حا صل تھی ۔آپ کی طرف منسوب درج ذیل شعر میں اسی با ت کی طرف اشا رہ مو جو د ہے:
لو لا الشعر بالعلما ءیزری
لکنت اشعر من لبید
ترجمہ :اگر شعر گوئی منصب علماءسے فروتر نہ ہو تی، تو میں لبید سے بڑا شا عر ہو تا (لبید عرب کا نہا یت نا مور اور چوٹی کا شا عر تھا )

جب آپ کی عمر تیرہ برس ہوئی تو مدینہ طیبہ اما م مالک کی خد مت میں حا ضر ہوئے ۔اما م ما لک نے آپ سے فر ما یا :تمہا رے دل میں نور ہے ،گنا ہو ں سے اسے ضا ئع نہ کرنا ،تقویٰ کو اپنا شعا ر بنا نا ،ایک دن آ ئے گا کہ تم بڑے شخص بنو گے ۔جب آ پ اما م ما لک سے استفا دے کیلئے بیٹھے تو انہیں مو طا زبا نی سنا تے ،جس پراما م ما لک کو بہت تعجب ہو ا اور نہا یت خوش ہوئے ۔آپ نے آ ٹھ ما ہ اما م ما لک کی خدمت میں رہ کرخوب تحصیل علم کی ،بعد ازاں دوبا ر ہ مکہ معظمہ لو ٹ آ ئے اور حضرت سفیا ن بن عیینہ سے علم حدیث میں زیا دہ استفا دہ کیا ۔ آپ کے تمام شیو خ و اسا تذہ کی تعدادکا اندا زہ لگا ناتو مشکل ہے ،البتہ سفیا ن بن عیینہ ،خا لد بن مسلم زنجی ،امام مالک اورامام محمدبن حسن شیبانی وغیرہ زیادہ مشہورہیں۔

آپ کے تلامذہ کی فہرست بھی طویل ہے، ان میں ایک وہ جماعت ہے جس نے بغداد یا مکہ معظمہ میں استفادہ کیا ،جیسے موسی بن جا رود ،ابو علی زعفرانی ،امام احمد بن حنبل ،محدث اسحا ق راہو یہ وغیرہ ،دوسری وہ جماعت وہ ہے جو آپ سے آخر عمر میں قیام مصر کے دوران مستفید ہوئی اس جماعت میں چھ حضرات خاص طور سے قابل ذکر ہیں، اما م مزنی (امام طحا وی حنفی کے ما موں)،ربیع بن سلیمان جیزی ،ربیع بن سلیمان مرادی، علا مہ یوسف بن یحییٰ بو یطی ،حرملہ بن یحیی مصری اور یو نس بن عبدالا علیٰ وغیرہ ،یہ دوسری جما عت اما م شا فعی کے جدید فقہی مسلک کی راوی ہے اور اسی جما عت نے اما م صا حب کے بعد ان کی فقہ ودیگر علوم کو مرتب و مد ون کیااور ان کی نشرواشاعت میں خوب کوشش کی جس سے ان کے تلامذہ اوران کی کتابوں کے ذریعے امام صاحب کامسلک عام ہوا ۔

اما م صا حب کی عمر34سال تھی کہ ایک حا دثا تی وا قعے نے آپ کو اما م ابو حنیفہ کے نا مور شا گرد اور فقہ حنفی کے تر جما ن اما م محمد کی خد مت میں پہنچا دیا ،اگرچہ آپ پہلے بھی ان کے علم و فضل اور فقہ و اجتہا د کے مر تبے سے و اقف تھے ،یہا ں سے اما م شا فعی کی زند گی نے پلٹا کھا یا اور ازسر نو تحصیل علم میں مشغو ل ہوئے کیو نکہ اس سے قبل فکر معا ش کی مصرو فیا ت نے آپ کو علمی شغل سے دور کر دیا تھا ،اس مرتبہ آپ برابر تین سال امام محمد کی خد مت میں ر ہ کر ان سے بھر پور استفا دہ کرتے رہے ،آپ خود اس تحصیل علم پر اما م محمد کے احسان مند رہے ۔چنا نچہ فر ما تے ہیں کہ میں نے جوکچھ اما م محمد سے پڑھنا ،سنا ،نقل کیا اور لیا وہ ایک اونٹ کے بوجھ برا بر ہے ۔مزید فرما یا کہ میں نے کوئی ایسا عالم نہیں دیکھا کہ جب اس سے کو ئی مشکل مسئلہ دریا فت کیا گیاہواور اس کے چہرے پر نا گواری کے آثار نہ ابھرے ہوں، سوائے اما م محمد کے ۔یعنی اما م محمد سے کیسا ہی مشکل مسئلہ دریا فت کیو ں نہ کیا جا تا،ان کے چہرے پر نا گو اری کبھی ظا ہر نہ ہوتی ۔اما م محمد بھی اپنے اس لائق شاگر کابہت خیا ل فرماتے تھے ،ابو الحسن زیا دی بیا ن کرتے ہیں کہ جو بر تا ﺅ اما م محمد صا حب کا اما م شافعی کے سا تھ تھا وہ کسی اور اہل علم کے سا تھ نہیں تھا۔

اما م محمد کے حلقہ درس سے استفا دے کے بعد اما م شا فعی دوبار ہ مکہ معظمہ لو ٹ آ ئے اور ازسر نو بھر پور علمی سر گرمیا ں شروع کیں ،اسی زما نے میں اما م احمد بن حنبل نے آپ سے استفا د ہ کیا ۔علا مہ ابن حجر نے بڑی خوبصورت با ت لکھی ہے ۔فر ما تے ہیں:” مدینہ منور ہ میں فقہ کی ریا ست اما م ما لک پر ختم تھی اور عراق میں فقہ کی ریا ست امام ابو حنیفہ پر ختم تھی ،امام شا فعی نے مدینہ منورہ میں خود اما م مالک سے براہ راست استفا دہ کیا اور عراق میں اما م ابوحنیفہ کے شا گرد رشیداما م محمد سے بھر پور استفا دہ کیا ،یوں آپ کی ذات گرامی میں فقہا ءومحدثین کے دونوں طبقا ت کا علم جمع ہو گیا ، جس کی روشنی میں آپ نے دونو ں طبقا ت کے اصو ل و قوا عد کو سا منے رکھ کر نئے اصول و قو اعد مرتب کئے جو بہت جلد ایک مستقل فقہی دبستا ن فکر کی بنیا د بن گئے اور فقہ شا فعی کے عنوان سے ایک نیا فقہی مسلک وجود میں آگیا“۔اس نئے مسلک کی بنیا د میں فقہا ءو محدثین دونوں کے علوم سے روشنی لی گئی تھی جس کی وجہ سے محدثین وفقہاءکے بہت سے اختلا فا ت ونزاعا ت جو ایک دوسرے سے دوری یا غلط فہمی کیوجہ سے پیدا ہو گئے تھے ،دور ہو گئے۔ اس لئے باوجود اس کے کہ اما م شا فعی ایک محدث سے زیا دہ فقیہ و مجتہد تھے مگر محدثین نے آپ کی خد ما ت کا کھلے دل سے اعترا ف کیا اور آپ کے احسانا ت کا بر ملا اظہا ر کیا ۔

امام شا فعی کے فضل وکما ل کے اعترا ف میں چند اکا بر اہل علم کے ا قوا ل ملا حظ کریں ۔آ پ کے استاذ امام محمد فرما تے ہیں :محدثین آج جو کچھ بھی کہتے ہیں ،وہ اما م شا فعی کا فرمودہ ہے۔ اما م زعفرانی فرما تے ہیں: محدثین سوئے ہوئے تھے ،امام شا فعی نے ان کو خوا ب غفلت سے بیدار کر دیا ۔ اما م احمد بن حنبل کا فرما ن ہے: قلم ودوا ت پکڑنے والا ہر طا لب حدیث ،اما م شا فعی کا ممنون احسا ن ہے ۔اما م داﺅد بن علی ظا ہری فرما تے ہیں: اما م شا فعی جن فضا ئل سے آراستہ تھے ،وہ بہت کم لوگوں میں جمع ہو تے ہیں ۔آپ نہا یت شریف النسب ،صحیح العقیدہ ،کریم النفس ،زبر دست نا قد حدیث ،نا سخ و منسوخ کے جیّد فاضل ،کتا ب و سنت کے حافظ ، خلفا ءکی سیرت سے وا قف اور بہترین مصنف تھے ۔آپ کے اصحا ب و تلامذہ کثیر التعداداور نہا یت لا ئق تھے۔

اما م شا فعی نے اما م محمد سے استفا دے کے بعد جو سر گرم علمی زندگی شروع کی تھی تا دم وفا ت اس میں اضا فہ ہو تا رہا ،آخر عمر میں آپ نے مصر میں مستقل قیا م اختیا ر کر لیا تھا ،یہیں رجب ۴۰۲ھ میں اپنے اصحا ب و تلامذہ کی ایک ما ہر جما عت چھوڑ کر چوّن سال کی عمر میں اس دار فا نی سے رخصت ہو گئے ۔آپ کا مزار مبا رک مصر میں وا قع ہے۔ آپ کی نما ز جنا زہ امیر مصر سری بن حا کم نے پڑھا ئی۔ آپ کے شاگر امام ربیع کا بیان ہے کہ امام صاحب کی وفات کے بعد ہم ان کے حلقہ درس کی جگہ بیٹھے تھے ،ایک اعرابی نے آکر سلام کیا اور پوچھا:اس حلقے کے آفتاب وماہتاب کہاں ہیں؟۔ہم نے اسے امام صاحب کے انتقال کا بتایا تو یہ سن کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا اوریہ کہہ کرچلا گیا: ”اللہ تعالیٰ ان پررحم کرے اوران کی مغفرت کرے۔ کس خوبی اورعمدگی سے دلیل وبرہان کی پیچیدہ گتھیاں سلجھاتے اور اپنے مقابل کوواضح ہدایت دکھا دیتے تھے۔وہ شرمسار چہروں سے عار دھو دیتے اور اپنے اجتہاد سے مسائل کے بند دروازے کھول دیتے تھے“۔

آپ کی اولاد کے بارے میں علامہ ابن حزم نے لکھا ہے کہ آپ کے دو صاحبزادے تھے۔ایک ابوالحسن جو قنسرین اور عواصم کے قاضی تھے،انہوں نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی۔دوسرے عثمان تھے جنہوں نے امام احمدبن حنبل سے علم حاصل کیا تھا،ان سے بھی اولاد کاسلسلہ نہیں چلا۔آپ کی ایک صاحبزادی بھی تھیں جن کانام زینب بتایاگیاہے ان کے بطن سے ایک بیٹے ابومحمداحمد پیداہوئے ،یہ اپنے والد کے واسطے سے اپنے نانا امام شافعی سے روایت کرتے تھے۔کہاجاتا ہے کہ ان کی آل میں امام صاحب کے بعد اس نوجوان کے مثل کوئی عالم پیدا نہیں ہوا،ان کو اپنے نانا کی برکت حاصل تھی۔

اما م شا فعی کا علمی آفتا ب جب نصف النہا ر پرپہنچا تو اگر چہ اس وقت علم حدیث کی تد وین برگ وبا ر لا چکی تھی اور فقہ حنفی وفقہ ما لکی شرعی دلا ئل کی روشنی میں مدون ہو چکی تھیں مگر اما م شا فعی نے فقہ و حدیث کی تر تیب و تد وین میں بہت سے نئے اصول و قواعد متعا رف کرا ئے اور علم و تحقیق کی نئی راہیں کھول دیں۔جس سے بعد میں آنیوالوں نے اصول حدیث کی تدوین میں پوری رہنما ئی لی ۔معروف عرب سکا لر استا ذمحمدمحمد ابوزہو” تا ریخ حدیث و محدثین “میں رقمطراز ہیں : ”ہم بڑے وثوق کیسا تھ یہ کہنے کی جرات کرتے ہیں کہ اما م شا فعی پہلے مصنف ہیں جنہوں نے اصول حدیث کی بنیا د ڈالی ،قوانین روایت پر کتاب تحریر کی اور محدثین کیلئے علوم حدیث کی تا لیف و تدوین کی راہ ہموار کی ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ علوم حدیث پرکتا بیںتحریر کرنے والے امام شافعی کے دست نگر اور ان کے بحر علم سے استفا دہ کرنے والے ہیں ۔اما م شافعی نے علم حدیث کے جو اصول و قوا عد مرتب کئے تھے ، بعد کے علما ءنے صرف ان کی تشریح و توضیح کی ہے یا ان کی فروعا ت بیا ن کی ہیں ۔ جو شخص اما م شا فعی کی کتا ب” الرسا لة“ میں حدیث و محد ثین سے متعلق ان کی تحقیقا ت پڑھتا ہے اور پھر متا خرین مثلا ًعلا مہ ابن الصلا ح وغیرہ کی کا وشوں کا جائزہ لیتا ہے ، تو وہ یہ ما ننے پر مجبور ہوتا ہے کہ ان فنون میں اما م شا فعی سب کے استا ذاور پیش رو ہیں “۔

اما م شا فعی کی متعدد تصا نیف کا ذکر کیا گیا ہے ،ان میں الرسا لہ ،کتا ب الا ُمّ اور مسند شا فعی زیا دہ مشہور ہیں ۔ہم ذیل میں آپ کی روایا ت و احا دیث پر مشتمل مجمو عہ” مسند شا فعی “کا تعا رف ذکرکرتے ہیں۔ یہ کتا ب خو د اما م صا حب کی تصنیف کردہ نہیں ہے ،بلکہ آپ کی تا لیف کردہ کتا بو ںمیں مو جود احادیث سے انتخا ب کرکے اسے مرتب کیا گیا ہے ۔اس اہم کا م کو ابو جعفر محمد بن مطر نیشا پوری نے اما م شا فعی کے بیک واسطہ شا گرد ابو العباس اصم کے حکم و رہنما ئی سے انجا م دیا ہے چونکہ اس کا م کے اصل محرک ابو العبا س تھے اس لئے انہی کو مولف کی حیثیت سے شہرت ملی ۔بعض علما ءکا خیا ل ہے کہ یہ کتاب ابو العبا س ہی کا انتخا ب ہے ، ابو جعفرصرف کا تب ہے ۔”مسند شا فعی“ میں موجود روا یا ت و احا دیث تکرا ر کیساتھ1900ہیں اور مکررات کو حذف کرکے ان کی تعدا د 940ہے۔مسند شا فعی کی ابتدا ئی تدوین کسی مناسب اسلوب اور عمدہ ترتیب سے خا لی تھی مگر بعد کے متعدد اہل علم نے جدید طرز سے اس کی تدوین کی جس سے یہ کتا ب بڑی حد تک مفید اور لا ئق استفا دہ ہو گئی ہے ۔

اما م شافعی کے عجا ئب روزگا ر واقعا ت میں اس حقیقت کا اظہا ر بھی دلچسپی اور حیرت سے خا لی نہ ہو گا کہ انہوں نے درس حدیث کی با قا عدہ مجلس نہیں قا ئم کی تھی ،کیوں کہ آپ پر فقہی واجتہا دی نسبت کاغلبہ تھا ،اس لیے حدیث پر فقہی حثیت سے گفتگو کرتے تھے اور حدیث کو مسا ئل کی تہہ تک پہنچنے کیلئے تلا ش کرتے مگرحدیث اور اصول حدیث کی تاریخ میں آپ کے کار ہا ئے نما یا ں اس قدر دیرپا اور روشن ہیں ،جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔

اما م شا فعی چونکہ صاحب علم وفضل اورحدیث وفقہ میں مہارت وامامت کے ساتھ عربی شعر وادب اورحکمت وبلاغت کا خاص ذوق رکھتے تھے ،اس لئے آپ سے بڑے اثرانگیز حکیما نہ اقوال و ارشا دا ت بھی منقول ہیں ،جن میں حکمت ودانش کے ساتھ فصاحت وبلاغت کی چاشنی بھی ہے۔چند ایک حکیمانہ اقوال یہاں ملا حظ فرما لیں:
٭....اس شہر میں کبھی رہا ئش اختیا ر نہ کی جائے جہاں کوئی عا لم اور طبیب نہ ہو ۔
٭....وہ شخص خود اپنے حق میں بڑا ظا لم ہے جسے بلند مرتبہ حاصل ہواور پھر وہ اپنے عزیز واقارب سے بے رُخی کر جا ئے، ا ن کی اچھائیا ں بھلا دے ،شریف لو گوں کو ذلیل کرے اور معزز لو گوں کیسا تھ تکبر سے پیش آئے۔
٭....تین چیزوں کا چھپا نا خود اپنے حق میںظلم ہے (۱)طبیب سے بیما ری چھپا نا (۲)سچے دوست سے فقروفاقہ چھپانا (۳)حا کم وقت سے خیر کی با ت چھپا نا ۔
٭....چا ر چیزوں کو کبھی چھوٹا نہ سمجھو (۱)بیما ری (۲)فقروغربت (۳)دشمنی (۴)آگ
٭....جس شخص نے تین عا دا ت اپنا لیں اس نے اپنا ایما ن کا مل کر لیا (۱)نیکی کا حکم دے اور خود نیک کا م کرے (۲)برائی سے روکے اور خود برائی سے بچتا رہے (۳)اللہ تعا لٰی کی بیا ن کردہ نیکی اور برا ئی کی حدودکی حفاظت کرتا رہے ،ان حدود سے تجا وزنہ کرے۔

محمد یونس عزیز
02-18-2012, 07:59 AM
اما م شا فعی چونکہ صاحب علم وفضل اورحدیث وفقہ میں مہارت وامامت کے ساتھ عربی شعر وادب اورحکمت وبلاغت کا خاص ذوق رکھتے تھے ،اس لئے آپ سے بڑے اثرانگیز حکیما نہ اقوال و ارشادات بھی منقول ہیں ،جن میں حکمت ودانش کے ساتھ فصاحت وبلاغت کی چاشنی بھی ہے۔چند ایک حکیمانہ اقوال یہاں ملا حظ فرما لیں:
٭....اس شہر میں کبھی رہائش اختیا ر نہ کی جائے جہاں کوئی عا لم اور طبیب نہ ہو ۔
٭....وہ شخص خود اپنے حق میں بڑا ظالم ہے جسے بلند مرتبہ حاصل ہواور پھر وہ اپنے عزیز واقارب سے بے رُخی کر جائے، ا ن کی اچھائیاں بھلا دے ،شریف لو گوں کو ذلیل کرے اور معزز لوگوں کے ساتھ تکبر سے پیش آئے۔
٭....تین چیزوں کا چھپانا خود اپنے حق میں ظلم ہے (۱)طبیب سے بیما ری چھپانا (۲) سچے دوست سے فقروفاقہ چھپانا (۳)حاکم وقت سے خیر کی با ت چھپانا ۔
٭....چار چیزوں کو کبھی چھوٹا نہ سمجھو (۱)بیماری (۲)فقروغربت (۳) دشمنی (۴)آگ
٭....جس شخص نے تین عادات اپنا لیں اس نے اپنا ایمان کامل کر لیا (۱)نیکی کا حکم دے اور خود نیک کام کرے (۲)برائی سے روکے اور خود برائی سے بچتا رہے (۳)اللہ تعالٰی کی بیان کردہ نیکی اور برائی کی حدود کی حفاظت کرتا رہے ،ان حدود سے تجا وزنہ کرے۔


جزاک اللہ محترم ،
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ، واقعی ایک اعلی درجے کے محدث تھے ، ان کے اقوال سنہری الفاظ میں لکھنے کے قابل ہیں ،[/quote]

pervaz khan
06-27-2012, 04:44 PM
جزاک اللہ