PDA

View Full Version : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت سے محبت



مدنی
02-12-2012, 07:48 AM
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے میںتھے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا ایک ساتھی نظر نہ آیا۔صحابہ کرام سے پوچھا :کیاتمہارا کوئی ساتھی لاپتہ ہے ؟وہ کہنے لگے جی ہاں !فلاں ،فلاں ،فلاں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسم نے دوبارہ فرمایا:تمہارا کوئ ساتھی لاپتہ ہے ؟صحابہ نے وہی جواب دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ اپنا سوال دہرایا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے نفی میں میں جواب دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو جلیبیب کو مفقود پاررہا ہوں ۔لہذا تم اسے تلاش کرو۔انہیں تلاش کیاگیا تو وہ شہداء میں نظرآئے ۔اور ان کے ساتھ سات کافر پڑے تھے جنہیں جلیبیب رضی اللہ عنہ نے واصل جہنم کیا اور پھر انہوں نے اسے شہید کردیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: یہ مجھ سے ہے اور میںاس سے ہوں “۔پھر آپ نے انہیں اپنے مبارک بازوؤںپر رکھ لیا۔ان کی چار پائی بس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مباک بازو ہی تھے۔(صحیح مسلم :2472)
سیدنا زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہہ تو زید الحب (زید جو نبی پاک کے محبوب ہیں )کے نا م سے معروف تھے ۔اسی طرح ان کے لخت جگر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت محبت فرماتے تھے۔لشکر اسامہ کی روانگی کے موقع پر فرمایا تھا۔ان کان لمن احب الناس الی ،وان ھذا لمن احب الناس الی بعدہ ۔“ یقینا وہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ میرے محبوب ترین لوگوں میںسے تھے ۔اور ان کے بعد یہ ان کے بیٹے میرے محبوب ترین لوگوں میں سے ہیں ۔(صحیح البخاری :3730)
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمانے لگے ۔یامعاذ ! واللہ ! انی لاحبک ۔اے معاذ! اللہ کی قسم ! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں ۔پھر فرمایا اے معاذ! میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ ہرنماز کے بعد ان کلمات کو نہ چھوڑنا ۔اللھم انی علی ذکرک وشکرک وحسن عبادتک۔ اے اللہ اپنے ذکر ، شکر اور اچھی عبادت پر میری معاونت فرمایا۔(سنن ابوداؤد:1522،صحیح )
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ کے نزدیک پسندیدہ ترین شخصیت کون سی ہے ؟ فرمایا: عائشۃ رضی اللہ عنہا۔عرض کرنے لگے ۔مردوںمیں سے کون ہے ؟ فرمایا: ان کے والد ۔ کہتے ہیں : میں نے پھر دریافت کیا انکے بعد کون ؟ فرمایا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ ۔پھر آپ نے اور اصحاب کے بھی نام گنوائے ۔(صحیح البخاری :3662)
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے محبت کا اظہار اس طرح فرمایا: تیر اندازی کرو !میرے ماں باپ آپ پر قربان !“(صحیح البخاری:4055)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین اگرچہ بقید حیات نہیں تھے مگر یہ سعد رضی اللہ عنہ سے محبت کا اظہار تھا۔
سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فتح خیبر کےبعد حبشہ سے واپس آئے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ملے ،گلے لگایااور پیشانی پر بوسہ دیا اور فرمانے لگے مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ مجھے زیادہ خوشی جعفر کے آنے کی ہے یا خبیر کے فتح ہونے کے ؟(اسدالغابہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے خواہش ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھتے ! صحابہ کہنےلگے :اے اللہ کے رسول !کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟فرمایا تم میرے صحابہ ہو۔ میرے بھائ تو وہ ہیں جوابھی تک نہیں آئے ۔صحابہ نے عرض کی ۔آپ اپنے ان امتیوں کو کیسے پہچانیں گے جوابھی تک آئے ہی نہیں ؟فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کسی آدمی کے ایسے گھوڑے ہوں جن کی پیشانی اورٹانگین سفید ہوں اور کالے سیاہ گھوڑوں میں سے اپنے گھوڑے پہچان نہین لے گا؟ صحابہ نے عرض کی کیوںنہیں ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!مزید فرمایا: ان کے اعضاء وضو کی وجہ سے چمک رہے ہوں گے ۔ (صحیح مسلم :249)
عمومی طورپر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے کا درس دیا جاتا ہے اور آپ سے محبت عین ایمان ہے مگر جب ایک امتی کو یہ احسا س ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی امت سے بہت محبت فرمایا کرتے تھےتو یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے سفر کو آسان بنا دے گی ۔
یا اللہ !ہمیں ان خوش نصیب لوگوں کی فہرست میں شامل فرما جو آپ کو پیارے ہیں،اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی محبت کرنے اور محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطاء فرما۔ آمین [/color][/size][/font]

بےباک
02-17-2012, 11:19 PM
جزاک اللہ ، مدنی بھائی ،
سچ کہا شفاعت بھی امت کے لیے استعمال ہو گی ،آخرت میں

pervaz khan
06-02-2012, 05:58 PM
جزاک اللہ