PDA

View Full Version : کیا ویلنٹائن ڈے منانا صحیح ہے؟



اذان
02-14-2012, 01:28 AM
http://urdulook.info/imagehost/?di=9F1J

ہر سال 14 فروری کو منایا جانے والا یہ دن “ ویلنٹائن ڈٰے “ یا “ یومِ محبت “ پہلے پہل صرف عیسای مزہب کے پیروکارو میں، یورپ ہی میں منایا جاتا تھا اور اب کمرشلزم اور کمیونیکیشن میں حد درجہ ترقی کی بدولت دنیا بھر میں یہ تہوار منایا جاتا ہے۔ سب سے اہم تاریخی روایات کے مطابق یہ دن مذہبِ عیسائیت کے ابتدائی “ شہداﺀ “ میں شامل پوپ ویلنٹائن سے منسوب دن ہے۔ جس کو بادشاہ روم نے بت پرستی چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنے کے جرم میں سزائے موت دی تھی- لیکن جب خود رومانیوں نے عیسائیت کو قبول کیا تو انہوں نے پوپ ویلنٹائن کی سزائے موت کے دن کو “ یوم شہید محبت “ کہہ کر اپنی عید بنا لی گویا٬ مذہبِ عیسائیت میں “ یوم محبت “ سے ایک اور عید کا آغاز ہوا ۔
مسلم دنیا میں بیشمار نوجوان اس دن کو “ یوم محبت “ کے طور پر مناتے ہین جن کی مخالفت کئ طرح کے افراد کی جانب سے کی جاتی ہے۔۔۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے
اپنا تبصرہ شامل کریں

admin
02-14-2012, 10:12 AM
میں تو جی ویلنٹائن ڈے کو ویلے ٹُن لوگوں کا ڈے کہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔:Ghelyon:

بے کار دن بے کار لوگوں کے لئے:vahidrk:

عبادت
02-14-2012, 12:50 PM
ھاھاھاھاھاھاھاھاھاھھاھا
ویسے اس دن کے بارے ہسا ہی جا سکتا ہے اس کے بارے تبصرہ
کل کا اخبار دیکھ کر کیا جا سکتا
چاندنی کی جگہ اس کی ماں کو پھول مار دیا رات کا
اندھیرا مالش کا سبب بن گیا جب ایسی پیاری پیاری سرخیاں کل
اخبار کی زینت بنیں گی
ھاھاھاھاھاھاھاھاھااھاھا منانے والوں کو خود کی پتہ چل جاے گا
جب ہفتہ بھر ڈاکٹر صاحب سے ڈینٹینگ اور پینٹینگ کروانی پڑے گی
ھاھاھاھاھاھاا

انتہائی فضول دن جاہلوں کا دن ھاھاھاھاھاھاھا:Ghelyon: ا پنا خیال

تا بی
02-14-2012, 03:52 PM
JAB Beti chokhat par aa jaye
aur jab Izzat ka beyapar kary

JAB Baap ki Izzat kho jaye
JAB Bhai ko Ta'nay milte ho

JAB Behno k Dil jaltay hon
JAB Maaon ki Nazren jhuk jaye

JAB Sans Labon par ruk jaye
JAB Sharm-O-Haya ka aameza

JAB ek Kanwari doshiza
JAB Be'sharmi ko apna le

JAB Khud ko Zillat me dhalay
JAB Gair k Sine par lipat jaye

TOU AISI HALAT KO LOG KEHTE HAI

VALENTINE DAY (LANAT HO)

قرطاس
02-14-2012, 07:14 PM
http://urdulook.info/imagehost/?di=9F1J

ہر سال 14 فروری کو منایا جانے والا یہ دن “ ویلنٹائن ڈٰے “ یا “ یومِ محبت “ پہلے پہل صرف عیسای مزہب کے پیروکارو میں، یورپ ہی میں منایا جاتا تھا اور اب کمرشلزم اور کمیونیکیشن میں حد درجہ ترقی کی بدولت دنیا بھر میں یہ تہوار منایا جاتا ہے۔ سب سے اہم تاریخی روایات کے مطابق یہ دن مذہبِ عیسائیت کے ابتدائی “ شہداﺀ “ میں شامل پوپ ویلنٹائن سے منسوب دن ہے۔ جس کو بادشاہ روم نے بت پرستی چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنے کے جرم میں سزائے موت دی تھی- لیکن جب خود رومانیوں نے عیسائیت کو قبول کیا تو انہوں نے پوپ ویلنٹائن کی سزائے موت کے دن کو “ یوم شہید محبت “ کہہ کر اپنی عید بنا لی گویا٬ مذہبِ عیسائیت میں “ یوم محبت “ سے ایک اور عید کا آغاز ہوا ۔
مسلم دنیا میں بیشمار نوجوان اس دن کو “ یوم محبت “ کے طور پر مناتے ہین جن کی مخالفت کئ طرح کے افراد کی جانب سے کی جاتی ہے۔۔۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے
اپنا تبصرہ شامل کریں


میری رائے تو کچھ اس طرح شروع ہوتی ہے
کیا کسی ہندو ، نے عید منائی ہے
کیا کسی یہودی نے رمضان کے روزے رکھے ہیں
کیا کسی عیسائی نے بکر عید پر قربانی کی ہے
نہیں ناں
اور ہم کیا کر رہے ہیں
عیسائیوں کی تقلید میں ویلنٹاین منا رہے ہیں

ہندؤں کا ساتھ دیتے ہوئے بسنت بنا رہے ہیں ،

اور بھی غیر اسلامی رسومات ہیں جو نہ تو کسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ادا کیں نہ کسی صحابی نے نہ کسی تابی نے ، لیکن مسلمانوں میں چلی آ رہی ہیں ، رائب اور رائبہ دین عیسائیت میں ترک دنیا لوگ ہوتے ہیں ، جن کی مقصد عیسائی تعلیمات میں صرف دین کی خدمت کرنا ہوتا ہے ، ویلن اور ٹاین دونو محبوب محبوبہ ہوتے ہیں اور دین کے لئے وقف ہوتے ہیں 14 فروری کو آپس میں منہ کالا کر لئے ہیں یوں ان کی محبت امر ہو جاتی ہے ،
یہ ہے کہانی

قرطاس
02-14-2012, 07:32 PM
http://urdulook.info/imagehost/?di=IOPR

قرطاس
02-14-2012, 08:07 PM
الحمد للّہ والصلاۃ والسلام عَلی أشرف الأنبیاء والمُرسلین نبینا محمد و علی آلہ وسلم ،

پچھلے چند سالوں سے ہماری امت میں اور ہمارے پاکستانی معاشرے میں بھی ایک " دن منانے" کی رسم کو بڑے شد و مد سے رائج کیا جا رہا ہے ، دیگر بیسویں رسموں ، اور عادات کی طرح ہم مسلمان اپنی وسعت قلبی کا ثبوت پیش کرنے کے لیے اسے بھی قبول کرتے جا رہے ہیں ، جبکہ اس رسم اور اس طرح کی دوسری غیر اسلامی رسموں کو قبول کرنے کا اصل اور حقیقی سبب وسعت قلبی نہیں ، اپنے دین سے جہالت اور دین کے مخالفین کی فکری یلغار سے ہارنا ہے ،

جی میں یہاں اس رسم کی بات کرنے والا ہوں جسے " ویلنٹائن ڈے " اور "عید محبت" کہا جاتا ہے ، اور اس رسم کو پورا کررنے کے لیے ایک خاص دن " چودہ فروری " مقرر ہے ، جس دن میں اس رسم کی تکمیل کے لیے نوجوان لڑکے اور لڑکیا ں ، بلکہ مرد و عورت ایک دوسرے کو تحفے تحائف دے کر اپنی محبت اور دوستی کا اظہار و اقرار کرتے ہیں ، اور ناجائز حرام تعلقات کا آغاز یا تجدید کرتے ہیں ،

جی ہاں ، ناجائز اور حرام کام کرتے ہوئے ، ناجائز اور حرام تعلقات قائم کرتے ہیں ، آغاز بھی جہنم اور آخرت بھی جہنم ،
ٹھہریے ، "بنیاد پرستی" ، " دقیانوسیت" ، اور جدید دور کے نئے مفاہیم کے مطابق " دہشت گردی" کی بات سمجھ کر غصہ مت کیجیے ، میں نے جو کچھ کہا اس کا ثبوت اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرامین میں دینے سے پہلے ضروری ہے کہ اس " ویلنٹائن ڈے " یا " عید محبت " کی اصلیت اور تاریخ جانی جائے ، اور یہ تاریخ میری نہیں ان کی لکھی ہوئی ہے جن کے گھر کی بات ہے ،


علم و حق کی کیسی مفلسی ہے کہ جس عادت اور رسم کو اپنائے ہوئے ہیں اس کی اصلیت و تاریخ بھی ایک نہیں جانتے ، یہ مفلسی اُدھر ہی نہیں اِدھر بھی ہے کہ ہم مسلمان بھی کئی ایسے عقائد اور عبادات اور رسمیں اپنائے ہوئے ہیں جن کی حقیقیت اور اصلیت نہیں جانتے بس """ بل نتبع ما الفینا علیہ آباونا ::: بلکہ ہم اس کی پیروی کریں گے جس پر اپنے بڑوں کو پایا """ کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں ,


جی تو بات تھی " ویلنٹائن ڈے " یا " عید محبت" کی اصلیت اور تاریخ کی ، اس کی تاریخ کے بارے میں مختلف باتیں ملتی ہیں ، ان کو بہت مختصر طور پر یہاں ذکر کرتا ہوں ،


::::: (1) ::::: کہا گیا کہ تقریبا 1700 سال پہلے جب روم میں بہت سے رب مانے جاتے تھے بہت سے معبودوں کی عبادت کی جاتی تھی ، بارش والا معبود الگ ، روشنی والا الگ ، اندھیرے والا الگ ، محبت والا الگ ، نفرت والا الگ ، طاقت والا الگ ، کمزوری والا الگ ، کفر و شرک کا ایک لامتناہی سللسہ تھا ، ایسے میں رومیوں کے ایک مذہبی راہنما """ ویلنٹائن """ نے عیسائت قبول کر لی ، پس حکومت روم کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی حل نہ تھا کہ اس کو قتل کر دیا جاتا تا کہ ان کے آباو ا جداد کا اور حکومتی دین محفوظ رہے ، پس """ ویلنٹائن""" کو قتل کر دیا ، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جب روم میں عیسائیت عام ہو گئی تو لوگوں """ ویلنٹائن""" کے قتل کا دن """ منانا """ شروع کیا ، تا کہ اس کو یاد رکھا جائے اور اس کے قتل پر ندامت کا اظہار کیا جائے ، ( وہ اظہار کیسے کیا جاتا تھا اس کا ذکر ان شاء اللہ ابھی کروں گا )


::::: ( 2) ::::: کہا گیا ، 14 فروری رومیوں کی ایک مقدس معبودہ (معبود کی مونث ، دیوی ) " یونو یا جونو " کا دن تھا ، اس معبودہ کے بارے میں رومیوں کا عقیدہ تھا کہ وہ ان کے سب معبودوں کی ملکہ ہے اور اس کو عورتوں اور شادی کے معاملات کے لیے خاص سمجھا جاتا تھا ، پس اسی کفریہ عقیدے کی بنا پر اس معبودہ کا دن منانا عورتوں ، محبت اور شادی یا بغیر شادی کے ہی شادی والے تعلقات بنانے کے لیے خاص جان کر """منایا """ جانے لگا ،


::::: (3) ::::: رومیوں کی ایک اور معبودہ " لیسیوس" نامی بھی تھی ، جو ایک مونث بھڑیا تھی ، رومیوں کا عقیدہ تھا کہ اس " لیسیوس " نے روم کے دونوں بانیوں Rumulusاور Remusکو ان کے بچپن میں دودھ پلایا تھا ، پس اس 14 فروری کو انہوں نے " محبت" نامی عبادت گاہ میں اس بھیڑیا معبودہ کا دن "منانا" شروع کیا ، اس عبادت گاہ کو" محبت" نام اس لیے دیا گیا کہ ان کے کفریہ عقیدے کے مطابق ان کی یہ بھڑیا معبودہ روم بنانے والے دونوں بچوں کو محبت کرتی تھی


::::: ( 4) ::::: قدیم رومی بادشاہ کلاڈیس 2 نے رومی مردوں کی مطلوبہ تعداد کو اپنی فوج میں شامل کرنے میں کافی مشکلات محسوس کیں ، کلاڈیس نے جب اس کا سبب تلاش کرنا چاہا تو پتہ چلا کہ شادی شدہ مرد اپنی بیویوں اور خاندانوں کو چھوڑ کر فوج میں شامل نہیں ہونا چاہتے تو کلاڈیس نے یہ شادیوں سے ممانعت کا فیصلہ صادر کر دیا ، اسوقت کے روم کے ایک بڑے پادری "ویلنٹائن" نے اپنے بادشاہ کی بات کو غلط جانتے ہوئے اس کی خلاف ورزی کی اور اپنے گرجا میں خفیہ طور پر محبت کرنے والے جوڑوں کی شادیاں کرواتا رہا کچھ عرصہ بعد یہ بات بادشاہ کو معلوم ہو گئی تو اس نے بتاریخ 14 ، فروری ، 269عیسوئی ویلنٹائن کو قتل کروا دیا ، اور یوں یہ ویلنٹائن محبت کرنے کروانے کے سلسلے میں ایک مثالی شخصیت بن گیا ،


::::: ( 5) ::::: قتل کیے جانے سے پہلے ویلنٹائن اور اس کے ایک اور ساتھی پادری ماریوس کو جیل میں قید رکھا گیا ، اس قید کے دوران ویلنٹائن ایک لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو گیا ، جو غالبا جیلر کی بیٹی تھی ، جو اس کو قتل والے دن یعنی 14 فروری کو دیکھنے یا ملنے آئی تو ویلنٹائن نے اسے ایک محبت نامہ دیا ،


:::: ( 6 ) ::::: قدیم روم میں جوان لڑکے اور لڑکیوں کی ملاقات اور میل جول پر سخت پابندی تھی ، سوائے ایک میلے یا عید کے موقع پر جسے"Lupercalia لیوپیرکالیا" کہا جاتا تھا ،
یہ عید بھی ایک جھوٹے باطل معبود " Lupercus لیوپرکاس" کی تعظیم کے لیے منائی جاتی تھی جسے رومی اپنے چرواہوں اور جانوروں کی حفاظت اور مدد کرنے والا سمجھتے تھے ،
اس دن جوان لڑکیاں اپنے نام کی پرچیاں بوتلوں میں ڈال کر رکھ دیتیں اور مرد یا لڑکے ان پرچیوں کو نکالتے جس کے ہاتھ جس کے نام کی پرچی لگتی ان کو ایک سال تک یعنی اگلی عید Lupercalia تک ایک دوسرے کے ساتھ تعلق استوار کرنے کی عام چھٹی ہو جاتی کبھی وہ جوڑا شادی کر لیتا اور کبھی بغیر شادی کے ہی سال بھر یا سال سے کم کسی مدت تک میاں بیوی جیسے تعلق کے ساتھ رہتا ،

اس میلے یا عید کی تاریخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فروری تھی ، اور یہ بھی لکھا جاتا ہے کہ سے فروری تک یہ عید منائی جاتی رہتی تھی ،

ویلنٹائن کی موت کی یادگار منانے کی تاریخ اسی میلے کے ساتھ جا ملی اور دونوں کی کہانیاں اور گناہ مل کر ایک دن منائے جانے لگے اور نام بدنام کیا جانے لگا محبت کا ، جو ایک مثبت جذبہ ہے اور صرف اسی کیفیت تک محدود نہیں جس کی تعلیم اس عید اور اس کی کہانی اور اس جیسی دوسری گناہ آلود کہانیوں میں دی جاتی ہے ،
١٩٦٩
عیسوئی تک تو بین الاقوامی طور پر یہ دن اُس ویلنٹائن سے منسوب کر کے رومی بنیادی گرجا کی طرف سے """ منایا """ جاتا رہا ، اور اس سے کچھ عرصہ پہلے تک اسی گرجا کی طرف سے یہ دن بھیڑیا معبودہ کی طرف منسوب کیا جاتا رہا


::::: (7 ) ::::: پندرھویں صدی کے آغاز میں """ اگن کورٹ Agincourt """کی جنگ میں ایک فرانسی ریاست اورلینز کا نواب """ Duke of Orleans """ انگریزوں کے ہاتھ قید ہوا جسے کئی سال تک لندن کے قلعے میں بند رکھا گیا ، وہاں سے وہ اپنی بیوی کے لیے عشقیہ شاعری بھیجتا رہا ، جن میں سے تقریبا ساٹھ نظمیں اب بھی برٹش میوزم میں موجود ہیں ، اس کی شاعری کو جدید دور کے """ ویلنٹائنز """ کا آغاز سمجھا جاتا ہے ،


::::: ( 8 ) ::::: اس کے تقریبا دو سو سال بعد " ویلنٹائن کے دن " پر پھول وغیرہ دینے کی رسم کا یوں آغاز ہوا کہ فرانس کے بادشاہ ہنری چہارم Henry IV کی ایک بیٹی نے " پادری ویلنٹائن کا دن " مناتے ہوئے یہ اہتمام کیا کہ ہر عورت اور لڑکی کو اس کا اختیار کردہ مرد یا لڑکا پھولوں کا ایک گلدستہ پیش کرے ،


::::: ( 9 ) ::::: انیسویں صدی کے درمیان میں اس گندگی کو پھیلانے میں تیزی پیدا ہوئی کہ طرح طرح کارڈز اور پیغامات کی چھپائی ہونے لگی ، امریکہ وغیرہ نے ان کارڈز کی ترسیل کے لیے ڈاک کے نرخ بھی کم کر دیے ، اور آہستہ آہستہ ابلیس کا شکار ہو کر بہت سے لوگ اپنی اپنی دنیا کمانے کے چکر میں طرح طرح کی ایجادات کرتے اور ان کو ہر ممکن طور نشر کرتے چلے آ رہے ہیں ،



مسلمانو، اس دن کی نسبت ، اور اس کی اصلییت ، ان مندرجہ بالا قصوں میں سے کسی کے ساتھ بھی ہو ، بہر صورت اس کی اصلییت کفر و شرک گناہ و غلاظت ہی ہے ، اور اب بھی اس دن کو غیر اخلاقی اور یقینا ہمارے دین کے مطابق حرام میل ملاقات رکھنے والے مرد و عورت یا لڑکے اور لڑکیوں کے لیے شیطان ایک "عید" کا نام دے کر ، دھوکے کا ایک لباس مہیا کیا ، جسے اوڑھ کر کھلے عام ایک دوسرے کو ناجائز تعلقات کی دعوت دی جاتی ہے ، بلکہ ایسے تعلقات قائم کیے جاتے ہیں ، اور ابلیس کا دیا ہوا یہ لباس ہر دفعہ مزید خوش منظر ہو کر آتا ہے کہ اہل معاشرہ بھی اس کے پیچھے ہونے والے شیطانی کاموں کو اچھا اور بہتر اور فطری سمجھتے ہیں ،

اس بات سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں کہ یہ عید یا دن مسلمانوں کا ہر گز نہیں اور جو کچھ اس دن میں کیا جاتا ہے اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ، اسلام تو بہت بلند و برتر ہے ، عیسائی کنیسا نے بھی اس ویلنٹائن دن میں ہونے والی حرافات کو کسی دین کے ساتھ منسوب رکھنا نا مناسب سمھتے ہوئے اس کی باقاعدہ سرپرستی ترک کر دی ، لیکن افسوس ، مسلمانوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ، اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل ، اپنی تجارت کو بڑھانے چمکانے کے لیے اس غیر اسلامی حرام دن منانے کی رسم کی تمام تر ضروریات کو بدرجہ اتم مہیا کیا جاتا ہے ، اور لوگوں کو اس کی طرف مائل کرنے کے لیے ہر ممکن ذریعہ اور وسیلہ اختیار کیا جاتا ہے ،

اس عید یا دن کو منانے میں اب ہمارے مسلمان بھائی بہن بھی ابلیسی نعروں اور فکر کے زیر اثر شامل ہوتے ہیں ، اور اس کے گناہ کا کوئی شعور نہیں رکھتے ،
اس کفر و شرک اور بے حیائی اور بے غیرتی اور گناہ کی بنیاد پر منائے جانے والے دن اور اس میں کیے جانے والے کاموں کی تاریخ اور اصلییت بتانے کے بعد اب میں کوئی لمبی چوڑی تفصیلی بات کرنے کی بجائے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرامین سناتا ہوں کہ ایمان والوں کے لیے اس سے بڑھ کر حجت کوئی اور نہیں اور نہ ہی اور کی ضرورت رہتی ہے اور جو نہ مانے یا کسی تاویل کے ذریعے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کرے یا کسی فلسفے کا شکار ہو کر اس گناہ کو گناہ سمجھنے میں تردد محسوس کرے وہ اپنے ایمان کی خبر لے ،


::::::: اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا حکم ہے اور تنبیہ ہے((((( لاَّ یَتَّخِذِ المُؤمِنُونَ الکَافِرِینَ أَولِیَاء مِن دُونِ المُؤمِنِینَ وَمَن یَفعَل ذَلِکَ فَلَیسَ مِنَ اللّہِ فِی شَیء ٍ إِلاَّ أَن تَتَّقُوا مِنہُم تُقَاۃً وَیُحَذِّرُکُمُ اللّہُ نَفسَہُ وَإِلَی اللّہِ المَصِیرُ::: ایمان والے ، ایمان والوں کی بجائے کافروں کو اپنا دوست ( راہبر ، راہنما ، پیشوا ) نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس کے لیے اللہ کی طرف سے کوئی مددگاری نہیں ہاں اگر تم لوگوں (کافروں کے شر سے ) کوئی بچاو کرنا چاہو تو (صرف اس صورت میں اسیا کیا جا سکتا ہے ) ، اور اللہ تم لوگوں کو خود اُس (کے عذاب ) سے ڈراتا ہے اور اللہ کی طرف ہی پلٹنا ہے ( پس اسکے عذاب سے بچ نہ پاؤ گے ))))) سورت آل عمران / آیت 28

::::::: اور مزید حکم فرمایا اور نافرمانی کا نتیجہ بھی بتایا ((((( یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَ تَتَّخِذُوا الیَہُودَ وَالنَّصَارَی أَولِیَاء بَعضُہُم أَولِیَاء بَعضٍ وَمَن یَتَوَلَّہُم مِّنکُم فَإِنَّہُ مِنہُم إِنَّ اللّہَ لاَ یَہدِی القَومَ الظَّالِمِینَ ::: اے ایمان لانے والو یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست ( راہبر ، راہنما ،پیشوا ) نہ بناؤ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں (تمہارے ہر گز نہیں ) اور تم لوگوں میں سے جو کوئی انہیں دوست بنائے گا تو بے شک وہ ان ہی میں سے ہے بے شک اللہ ظلم کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا ))))) سورت المائدہ / آیت ٥١


یہ بات واضح ہے کہ ویلنٹائن کا دن یا محبت کی عید غیر اسلامی دینی تہوار ہے اور اس کو منایا جانا اسلام کی بجائے دوسرے دین کے لیے رضامندی کا اظہار ہے اور اس باطل دین کو پھیلانے کی کوشش اور سبب ہے ، اور اللہ توتعالیٰ کا فرمان ہے ((((( وَمَن یَبتَغِ غَیرَ الإِسلاَمِ دِیناً فَلَن یُقبَلَ مِنہُ وَ ہُوَ فِی الآخِرَۃِ مِنَ الخَاسِرِینَ ::: اور جو کوئی اسلام کے علاوہ کچھ اور کو دین چاہے گا تو اس کا کوئی عمل قُبُول نہ ہوگا اور وہ آخرت میں نقصان اُٹھانے والوں میں ہو گا ))))) سورت آل عمران / آیت ٨٥

::::::: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا فیصلہ ہے ((((( مَن تشبَّہ بِقومٍ فَھُو مِنھُم ::: جِس نے جِس قوم کی نقالی کی وہ اُن ہی ( یعنی اُسی قوم ) میں سے ہے ))))) سُنن أبو داؤد /حدیث 4025 /کتاب اللباس / باب 4 لبس الشھرۃ ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ عام ہے اور اِس میں سے کِسی چیز کو نکالنے کی کوئی گُنجائش نہیں ، لہذا لباس ، طرز رہائش ، عادات و اطوار ، رسم و رواج ، کِسی بھی معاملے میں کافروں کی نقالی کرنا جائز نہیں ، اپنی بُرائی کو اچھائی بنانے کے لیے اُسے اچھائی سے تبدیل کرنا ہوتا ہے ، کوئی اچھا نام دینے سے وہ بُرائی اچھائی نہیں بنتی ،
جی یہ سمجھ میری نہیں ، انبیاء کے بعد سب سے پاک ہستیوں کی ہے ، جنہیں صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کہا جاتا ہے ، ملاحظہ فرمایے ،

::::::: دوسرے بلا فصل خلیفہ امیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے ((((( أجتنبُوا أعداء اللَّہ فی أعیادھم ::: اللہ کے دشمنوں سے ان کی عیدوں (کے دنوں ) میں دور رہو ))))) سنن البیہقی الکبُریٰ ، کتاب الجزیۃ ، باب 56 ، اسنادہ صحیح ،
یعنی جب کسی جگہ پر کفار کے ساتھ معاشرتی ساتھ ہو تو خاص طور پر ان کی عیدوں کے دنوں میں ان سے دور رہا کرو ،

::::::: چوتھے بلا فصل خلیفہ ، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کو ایک دن کچھ تحفہ موصول ہوا ، دریافت فرمایا (((((ما ہذہ ؟ ::: یہ کیا ہے ؟ ))))) بتایا گیا "" اے امیر المؤمنین یہ نیروز (تہوار )کا دن ہے (اور یہ اس تہوار کا تحفہ ہے ) """ فرمایا ((((( فاصنعوا کل یوم نیروز::: تو ہر ایک دن کو ہی نیروز بنا لو ))))) ابو اسامہ اس روایت کے ایک راوی فرماتے ہیں کہ " کرہ أن یقول نیروز ::: (امیر المؤمنین )علی رضی اللہ عنہ نے اس چیز سے کراہت کا اظہار فرمایا کہ کسی دن کو نیروز کہا جائے """ سابقہ حوالہ ، باسناد صحیح


غور فرمایے ، کہ علی رضی اللہ عنہ نے کسی دن کو وہ نام تک دینا پسند نہیں فرمایا جو کافروں نے دیا ہوا تھا ، اور یہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکام کی قلبی قبولیت اورعملی تطبیق کی ایک بہترین مثال ہے ،
آج ہم انہی شخصیات سے محبت اور ان کی پیروی کا دعویٰ کرتے ہیں ، لیکن ہماری سوچ و فکر ، ایمان و عمل ان سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے ، انا للہ و انا الیہ راجعون،
::::::: عبداللہ بن عَمرو العاص رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے ((((( مَن بَنیٰ ببلاد الأعاجم و صنع نیروزھم و مھرجانھم ، و تشبھ بھم حتیٰ یَموت و ھو کذلک حُشِرَ معھم یوم القیامۃ ::: جس نے کفار کے شہروں میں رہائش گاہیں بنائیں اور ان کے تہوار اور میلے منائے اور ان کی نقالی کی یہاں تک کہ اسی حال میں مر گیا قیامت والے دِن اُس کا حشر اُن کافروں کے ساتھ ہی ہو گا ))))) سابقہ حوالہ ، صحیح الاسناد ،

ایسی روایات کو حُکماً مرفوع یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا قول سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ غیب کی خبر اور غیب کی خبر صرف اللہ کو ہے اور اللہ کی طرف سے جتنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو دی گئی پس کسی صحابی رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایسی کوئی خبر اس کی اپنی بات نہیں ہو سکتی ،

اس ویلنٹائن کے دن ، یا عیدء ِ محبت منانے کو ایک اور زوایے سے بھی دیکھتے چلیں کہ اس دن ، اس نسبت سے اور اس کو منانے کے لیے جو کچھ بھی کیا جاتا ہے وہ قطعا غیر ضروری ہے اور ان غیر ضروری چیزوں پر ایک پائی بھی خرچ کرنا فضول خرچی ہے ، اور فضول خرچی کرنے والوں کا اللہ کے ہاں کیا رتبہ ہے وہ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے ((((( اِنَّ المبذِرِینَ کان أِخوان الشیاطین و کان الشیطنُ لِربِّہِ کَفُوراً ::: فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی نا شکرا ہے ))))) سورت الا سراء َ ، ( بنی اسرائیل )/آیت ،27 ،
کفر وشرک ، گناہ و غلاظت کے اس دن کو مناتے ہوئے اگر ایک پیسہ بھی خرچ کیا جائے ، ایک لمحہ بھی خرچ کیا جائے تو وہ سوائے اللہ کے عذاب کے کچھ اور نہیں کمائے گا ، اور اگر یہی کچھ ، کسی مسلمان کی مدد کے لیے خرچ کیا جائے ، یا اپنی اور اپنوں کی کوئی جائز ضرورت پوری کرنے کے لیے خرچ کیا جائے تو ان شاء اللہ تعالیٰ نتیجہ بالعکس ہو گا ،
جو لوگ اس عیدء ِ محبت کو گوارہ کرتے ہیںاور دوسروں کی خواتین کو پھانسنے کی کوشش کرتے ہیں یا ایسا کر گذرنے کو بڑا کارنامہ سمجھتے ہیں اور اس کارنامے کی انتہا جنسی بے راہ روی تک لے جانے کے خواہش مند ہوتے ہیں ، انہیں یہ شعر سناتا چلوں

::: إن الزنا دین فإن أقرضتہ ::: کان الوفاء من أہل بیتک فاعلم
زنا قرض ہے اگر تم نے یہ قرض لیا تو یاد رکھو ::: اس کی ادائیگی تمہارے گھر والوں میں سے ہو گی
من یَزنی یُزنی ولَو بجدارہ ::: إن کنت یا ہذا لبیباً فافہم
جو زنا کرے گا ، اس کے ساتھ زنا ہو گا خواہ اس کی دیوار کے ساتھ کیا جائے ::: اگر اے سننے والے تم عقل مند ہو تو (میری بات )سمجھ جاؤ ( اور ایسے کاموں سے باز رہو )
اللہ تعالیٰ میرے یہ الفاظ ، میرے اور ہر پڑھنے والے کے دین دنیا اور آخرت کی خیر کے اسباب میں بنا دے، ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم کسی ضد ، تعصب اور منطق و فلسفے کا شکار نہ ہوں اور حق پہچانیں ، قبول کریں اور اسی پر عمل کرتے ہوئے ہماری زندگیاں تمام ہوں اور اسی پر یوم قیامت ہمارا حشر ہو ،

بےباک
02-16-2012, 04:37 PM
جزاک اللہ قرطاس بھائی ،
آنکھیں کھول دیں آپ نے،
الحمد للہ ہم مسلمان پہلے ہیں ، اور باقی کام بعد میں ،

اذان
02-16-2012, 07:52 PM
http://urdulook.info/imagehost/?di=5GGV
بہت ہی زبردست تحریر ہے آپکی
http://urdulook.info/imagehost/?di=J7ZA
http://urdulook.info/imagehost/?di=IRJM
http://urdulook.info/imagehost/?di=GGO6

اذان
02-16-2012, 09:55 PM
ویلنٹائن ڈے ہے کیا اور ہم کیوں منائیں؟

اللہ تعالی نے قرآن کریم میں سورة المائدہ میں فرمایا۔ ان لوگوں کی نفسانی خواہشات کی پیروی مت کرو جو پہلے ہی بھٹک چکے ہیں اور بہتوں کو بہکا چکے ہیں اور سیدھی راہ سے ہٹ چکے ہیں۔ اللہ تعالی نے اپنے محبوب نبی حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے کہلوایا کہ کہہ دیجیے میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ تعالی کے لیے ہی ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا کہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیاں ہیں۔ قرآن مجید صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لئے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ لیکن اگر ہم بات کریں مسلمانوں کی تو مسلمانوں کی زندگی قرآنی تعلیمات کے مطابق ہونی چاہیے نشانیاں یا شعار وہ علامتیں ہوتی ہیں جن سے قومیں پہچانی جاتی ہیں۔ وہ تہوار وہ عبادات جن کی اسلام اجازت دیتا ہے وہ ہم مسلمانوں کی پہچان ہیں اور کچھ ایسے تہوار بھی دنیا میں منائے جاتے ہیں جن کا نا صرف ہمارے دین میں دور دور تک کوئی نام ونشان نہیں ملتا بلکہ وہ جس طریقے سے منائے جاتے ہیں ۔ ہمارا دین ہمیں منع فرماتا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج ہماری نوجوان نسل ایسے واہیات تہوار جوش وخروش سے مناتی ہے اور اس طرح ہم اپنی دنیا و آخرت کو تبا و برباد کر رہے ہیں۔ اور اگر ہم غیر مذہب لوگوں کی پیروی چھوڑ کر اللہ تعالی کے دین اسلام کی پیروی کر لیں تو ہمارا دین بھی بچ سکتا ہے اور دنیا بھی اور جو تھوڑا سا وقت ہمیں ملا ہے اس دنیا میں گزارنے کے لیے اگر ہم اس کی قدر وقیمت سمجھ جائیں تو ہم کبھی ایک لمحہ بھی ضائع نہ کریں۔ دنیا میں بہت سے لوگ وقت کی حقیقی قدر و قیمت کا احساس کئے بغیر ماہ سال گزارتے چلے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ وقت قدرت کا سب سے گراں قدر تحفہ ہے۔ دنیا میں کسی کے پاس بھی لامحدود وقت نہیں۔ اور کوئی بھی اس دنیا میں سدا نہیں رہنے والا۔ ہم اس دنیا میں مختصر وقت کے لیے آئے ہیں اور ہمیں جلد اس دنیا سے جانا ہوگا اور جو لوگ وقت کی قدر نہیں کرتے وقت بھی ان کو بھول جاتا۔ جولوگ زندگی کے قیمتی وقت کی قدر کرتے ہیں اور احتیاط، شعور اور اچھی عادتوں کے ذریعے وقت کو اچھے اور کامیاب طریقے سے گزارتے ہیں۔ وقت بھی ایسے لوگوں کو ان کے جانے کے بعد تک یاد رکھتا ہے اور وہ لوگ مر کر بھی نہیں مرتے۔ وہ اپنے کارناموں میں زندہ رہتے ہیں۔ اچھائی اور برائی ہر جگہ موجود ہے کوئی بھی انسان برا نہیں ہوتا ہرانسان اپنے عملوں کی وجہ سے اچھا یا برا بنتا ہے۔ جس کے (عمل) اچھے وہ اچھا ہوتا ہے اور جو کوئی برے عمل کرے تو وہ برا۔ دور حاضر میں ہمیں شدید ضرورت ہے کہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا ہے۔ ہم ساری دنیا کے مسلمان اللہ کے دین سے دور ہونے کی وجہ سے مشکلات میں گھر چکے ہیں اور ہمارے معاشرے میں دنیا کی وہ تمام برائیاں بھی موجود ہیں اسلام جن سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔ جس طرح ہم ہر سال بڑے شوق سے وہلنٹائن ڈے مناتے ہیں۔ جب کہ مسلمانوں کا اس دن سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں بنتا۔ وہلنٹائن خالصتا غیر مذہب لو گوں کا تہوار ہے۔ اپنے مطالعے کے مطابق میں وہلنٹائن کا ذکر کرتا چلوں کے یہ کب سے اور کیوں منایا جاتا ہے۔ پہلی دفعہ یہ دن 14 فروری 269ء کو ایک سائن وہلنٹائن نامی شخص کی نسبت سے منایا گیا۔ سائن وہلنٹائن کو عیسائیت پر ایمان کے جرم میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ وہ عیسائیت کی مقررہ حدود سے بالا تر ہو خدمات انجام دیا کرتا تھا اورسنا ہے پسند کی شادیاں کرواتے وقت اپنے مذہب کی حدود سے تجاوز کرتا تھا۔ پھانسی کے بعد اس کے حامی یہ دن تعزیت کے طور پر منایا کرتے تھے۔ بعدازاں یہ دن یوم محبت کی شکل اختیار کر گیا کیونکہ پھانسی سے پہلے جب وہلنٹائن جیل میں تھا تو جیل میں اسے جیلر کی بیٹی سے عشق ہوگیا اور وہ جیلر کی لڑکی کو عشقیہ خطوط لکھا کرتا تھا۔ اور جیلر کی لڑکی سائن کے لیے گلاب کے پھول لایا کرتی تھی۔ سائن وہلنٹائن کے وہ خطوط اس کی پھانسی کے بعد منظر عام پر آئے تو برطانیہ میں ان خطوط کو بہت پذیرائی ملی جس کے بعد برطانیہ میں یہ دن تہوارکی شکل اختیار کر گیا ۔ شروع کے دنوں میں یہ تہوار صرف برطانیہ میں منایا جاتا تھا اور پھر پھیلتا ہوا ہم تک بھی آپہنچا۔ برطانیہ کے نوجوان اس دن محبت کے گیت گاتے ہیں (غیر محرم عورت ومرد کی محبت میں) ایک دوسرے کو پھول، کارڈ اور عشقیہ خطوط لکھتے ہیں۔ قصہ مختصر کہ اس واقعہ سے مسلمانوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ جاننے، سمجھنے کے باوجود کے یہ تہوار ہمارا نہیں ہے پھر بھی ہماری نوجوان نسل اس دن کو وہلنٹائن ڈے کے طور پر بھر پور طریقے سے مناتی ہے۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں اور اللہ تعالی کے احکامات بھی نہیں مانتے۔ وہلنٹائن ڈئے منا کر لوگ اپنی نفسانی خواہشات کو عملی جامہ پہناتے ہیں۔ جس کی وجہ سے آج ہم بحیثیت مسلم قوم دنیامیں ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔ و ہلنٹائن ڈئے جیسے واہیات تہوار منا کر ہم صرف قیمتی وقت کا زیاں ہی نہیں کر رہے بلکہ اس طرح ہماری نوجوان نسل تیزی سے جنسی بے راروی کاشکار ہو رہی ہے۔ یہ ہمارے لیے مقام فکر ہے ہم ہیں تو مسلمان لیکن غیر مذہبوں کے تہوار بڑے جوش وخروش کے ساتھ مناتے ہیں۔ جب تک نوجوان نسل قرآنی تعلیمات سے واقف نہیں ہوگی تب تک معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیاں ختم نہیں ہونگی۔ اللہ کا دین ہی واحد راستہ ہے سب مشکلوں سے نکلنے کا۔ اگر ہم اللہ تعالی کے دین پر عمل پیرا ہوجائیں تو دنیا میں ہر طرح کی ناانصافی ناپید ہوجائے گی کیونکہ اسلام میں کسی انسان کی تذلیل کرنے کو بہت ہی برا کہا گیا ہے۔ انسان کی عظمت کو اللہ تعالیٰ نے روز ابد سے ہی اپنے فرشتوں سے سجدہ کروا کے ثابت کر دیا ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام مخلوقات سے اعلیٰ وافضل بنا کر اشرف ا لمخلوقات ہونے کا شرف بخشا ہے۔ ایک ایسا ضابطہ حیات قرآن کریم کی صورت عطا کیا جس کی پوری کائنات میں کوئی دوسری مثال نہیں ہے اور نہ ہی کبھی ہوگی، آج ہم مسلمان اسلام کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں۔ ہم اللہ تعالی کے دین کا نعرہ بھی بلند کرتے ہیں۔ مگر بلندو بالا نعروں کے با وجود ہم اسلام سے بہت دور ہیں۔ سوال یہ پیدہ ہوتا ہے کہ ہم دین کے ساتھ اتنی زیادہ محبت کرنے کے باوجود دین سے دور کیوں ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم حقیقت سے دور نکل آئے ہیں اور دن بدن دور ہی ہوتے جا رہے ہیں۔ اور صرف دیکھاوے کی محبت کرتے ہیں۔ کیونکہ اللہ کا دین خالی نعروں کا نہیں بلکہ عمل کا درس دیتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ہم نے عمل کا دامن چھوڑ دیا ہے۔ لیکن اگر ہم آج بھی وقت کی قدر کریں اور وقت کو ضائع کیے بغیر اپنے دین کی طرف پلٹ جائیں تو بہتر ہوگا
یہ تہوار عیسائیوں نے شروع کیا ہے اس میں مقصود محبت زوجیت کے دائرے سے باہر رہتے ہوئے عشق اور دل کوعذاب میں ڈالنے والی محبت مراد ہے جس کے نتیجہ میں زنا اور فحاشی پھیلے اورعام ہو اور اسی لیے کئی اوقات میں عیسائیوں کے دینی لوگوں نے اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے اس کیخلاف کام کیا اوراسے باطل قرار دیا اور اسے ختم کیا لیکن انیسویں صدی میں دوبارہ زندہ کیا گیا۔ چونکہ عشق کا تعلق انسان کے اندرونی جذبہ سے ہے اسی کا استحصال کرنے کیلئے تجارتی کمپنیوں نے ویلنٹائن ڈے کو ذرائع ابلاغ اور میڈیا کے ذریعہ خوب شہرت دی اور دلفریب بنا کر پیش کیا۔ اس دن کھربوں ڈالرز کا فائدہ یہ اپنی مصنوعات محبت کے دیوانوں کو فروخت کر کے حاصل کرتی ہیں۔ انہیں کے زیر اثر دنیا تمام ذرائع ابلاغ اس دن کو بڑے تزک و احتشام سے نشر کرتے ہیں خصوصا اسلامی ممالک میں براہ راست موسیقی اور گندی تصاویر اور رقص و سرور کی محافل نقل کرتے ہیں جس کی بنا پر بہت سے مسلمان لوگ بھی اس کے دھوکہ میں آنا شروع ہو چکے ہیں۔ اسی لئے پچھلے چند برسوں میں بہت سے مسلمان نوجوان لڑکے لڑکیوں میں بھی یہ دن منانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
اس دن ایک خاص قسم کے کارڈ کا تبادلہ ہوتا ہے، جس پر لکھا ہوتا ہے کہ میرے والنٹائن محبوب بنو۔ سرخ گلاب کے پھولوں کا تبادلہ مٹھائیوں، خاص بدقسمتی سے اِسے بھرپور انداز میں منانے والے اِس بات سے لاعلم ہیں کہ اِسے کیوں منایا جاتا ہے۔ اِس دن شہر کی سڑکوں پر عجیب و غریب مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ پھولوں کی دکانوں سے پھول اچانک غائب ہوجاتے ہیں، تعلیمی اداروں بازاروں اور بس اسٹاپ پر منچلے لڑکے لڑکیوں سے چھیڑ خانی کرتے اور پھول پھینکتے ہوئے دکھا ئی دیتے ہیں جبکہ تمام پارکوں اور گارڈنس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے اور اِس دن کے لحاظ سے لڑکیوں نے سرخ لباس زیبِ تن کئے ہوتے ہیں تاکہ اِس دن بھرپور انداز میں لطف اندوز ہوا جاسکے۔ اِب یہ ایک فیشن بن گیا ہے اور ہر کوئی اِس فیشن کو اپنانے کیلئے سرگرداں ہے۔ یہ دن سڑک چھاپ عاشقوں کیلئے ایک نعمت بن کر وارد ہوا ہے۔ اِب آپ جس سے محبت کرتے ہیں مگر اِب تک اظہار کرنے کی جرات نہیں کر پائے اسے صرف پھول یا پھر ایک سستا سا کارڈ بھیج کر اپنے دل کی آواز اس تک پہنچا سکتے ہیں۔ آگے آپ کے محبوب کی مرضی ہے کہ وہ بہت ساری آفروں میں سے کس کی آفر قبول کرتا ہے اور کتنی مدت کیلئے۔
یہاں اِس کا ذکر انتہائی ضروری ہے خصوصا نئی نسل کیلئے جو ایسے فیشن اختیار کرتی ہے اور ایسے ایام خوشی سے مناتی ہے جو ہمارے ہیں ہی نہیں۔ بلکہ اس تہذیب سے بھیجے گئے ہیں جسے دیکھ کر ہم شرم سے جھک جاتے ہیں۔ اِس تناظر میں اِس امر کو ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ مسلم ممالک اور معاشروں پر تہذیب کی جنگ مسلط کر دی گئی ہے چند سال پہلے کسی کویہ معلوم نہیں تھا کہ دنیا گلوبل ویلیج ہے۔ گلوبل ویلیج کا نعرہ مغرب سے آیا اور مغرب کے پیروکاروں نے اِسے پھیلایا جس کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کو ایک تہذیب کے زیر اثر لایا جائے جہاں ایک نظام ہو، ایک تہذیب ہو اور اِسکے ہر رسم و رواج کو دوسری تہذیبیں قبول کریں۔ اِسے اپنی زندگی کا جزوِ لازم بنالیں اور اِسی منصوبے کے تکمیل کیلئے وہ جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم احساس کمتری کا اس قدر شکار ہوچکے ہیں کہ مغرب کی ہر روایت کو اپنا کر فخر محسوس کرتے ہیں اور ہمارے معاشرے میں ماڈرن اور روشن خیال ہونے کی دلیل ہے مغرب کی تقلید بن گئی ہے۔
۔
بے شک اسلام میں محبت توایک صورت یعنی آدمی اورعورت کے مابین محبت میں ہی منحصر ہونے کی بجائے عام ہے زیادہ بہتر ہے وہ اس طرح کہ دین اسلام میں اللہ تعالی سے محبت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا، صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے محبت کرنا، اولیا اللہ بزرگانِ دین اور خیر و بھلائی اور اصلاح اور دین سے محبت کرنے والوں اور دین کی مدد کرنے والوں سے محبت کرنا، اور اللہ تعالی کے راستے میں شہادت پانے سے محبت کرنا اور اسی طرح بہت ساری اور بھی محبتیں ہیں جو اسلام ہمیں بتلاتا ہے، لہذا جب محبت کے اس وسیع معنی کو صرف محبت کی اس نوع اور قسم میں ہی منحصر کر دیا جائے تو پھر بہت ہی خطرناک بات ہے غلط ہے۔ در اصل یہ محبت نہیں ہوس ہے جو موقعوں کی تلاش میں رہتی ہے۔ بے شک جو لوگ یہ گمان اور خیال رکھتے ہیں کہ شادی سے قبل محبت کرنا شادی کے لیے مفید اور بہتر نتائج کا باعث ہے اور اس سے اچھے اور بہتر تعلقات قائم ہوتے ہیں توان کا یہ خیال اور گمان تباہ کن اور خسارے والا ہے۔ جیسا کہ تجربات و واقعات اور سروے سے بھی یہ ثابت ہوچکا ہے، محبت کی شادی کے بارے میں جو ریسرچ کی ہے اس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ وہ شادی جو محبت کی شادی یا محبت ہونے کے بعد شادی کی جاتی ہے اس میں اٹھاسی فیصد شادیاں ناکامی کا شکار ہوتی ہیں یعنی اس میں کامیابی کا تناسب صرف بارہ فیصد سے زیادہ نہیں۔
یہ ہماری انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اس برائی کو روکنے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں۔ لوگوں میں اسلامی تعلیمات کے حوالے سے آگہی پیدا کریں، اس دن اور ایسے دیگر تہواروں کے خرابیوں اور خرافات سے اپنی نوجوان نسل کو آگا کرنے کے ساتھ اسے اس دلدل میں گرنے سے بچانے کی کوشش کریں۔ اگر ہم نے ابھی آنکھیں نہ کھولیں، اپنی روایات کا پاس نہ رکھا اور مغرب کی تقلید میں مست رہے تو وہ وقت دور نہیں کہ ہم اخلاقی زوال میں مغرب سے آگے نکل جائیں۔
ویلنٹائن ڈے ہے کیا اور ہم کیوں منائیں؟

شاہنواز
03-24-2012, 01:19 AM
اصل ویلنٹائن ڈے کی کہانی یہ ہے کہ جب روم میں خانہ جنگی کا دور دورہ تھا تو اس وقت روم کے بادشاہ نے جنگی بنیادوں پر شادیوں پر پابندی لگادی تو اس وقت کے پادری ویلنٹائن نے خفیہ شادیاں کروائیں اور اور خود بھی غیر قانونی طور پر خفیہ طور پر ایک لڑکی سے تعلقات قائم کرلئے اور ویلنٹائن کو گرفتار کرلیا گیا اور سزائے موت کا حکم صادر کردیا جس پر وہاں پر ویلنٹائن ڈے منایا جانے لگا لیکن اس وقت کے مذہب ممالک یورپی ممالک نے اس دن کو منانے پر پابندی عائد کردی اور اب یہ کچھ عرصہ قبل ہی یہ پابندی ہٹائی گئی ہے کہ لوگ پابندی کے باوجود اس کو منارہے تھے خاص طور پر انگلینڈ کا نام قابل ذکر ہے