PDA

View Full Version : تین سازشیں



مدنی
02-14-2012, 11:39 PM
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین حضرت
ابوبکررضی اللہ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قبور کی بے حرمتی کرنے کی
بار بار کوشش کی ۔آپ تینوں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی شریف میں دفن
ہیں۔دشمنوں نے باربار کوشش کی کہ ان کے اجسام مبارک کو ان کی قبروں سے نکال
لیا جائے تاکہ مسجد نبوی شریف اور مدینہ منورہ توجہ کا مرکز نہ رہیں ۔شیخ
محمد عبدالحق محدث دہلوی نے اپنی کتاب تاریخ مدینہ میں تین بڑی سازشوںکا
ذکر کیا ہے ۔
پہلی سازش
ابن نجار نے اپنی کتاب بغداد کی تاریخ میں لکھا ہے کہ 386ھ سے 411ھ تک
ایک فاطمی حکمران مصر کا بادشاہ تھا اور مدینہ منورہ اس کے زیر اثر تھا ۔اس
حکمران کی سوچ اور کوشش یہ تھی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے
دو صحابہ کرام رضی اللہ عنھما کے اجسام مبارک کو مدینہ منورہ سے مصر منتقل
کیا جائے ۔اس طرح لوگوں کی توجہ مدینہ منورہ سے کی بجائے مصر کی طرف مبذول ہوجائے گی ۔اس نے اس مقصد کے لئے مصر میں ایک نہایت شاندار عمارت تعمیر کی جس میں وہ ان اجسام کو رکھنا چاہتا تھا۔
حکمران نے اس مقصد کے لئے اپنے ایک کارندے ابوالفتوح کو مدینہ بھیجا ۔جب یہ کارندہ مدینہ پہنچا تو اہل مدینہ کو اس سازش کی خبر ہوگئی ۔اہل مدینہ کو ابوالفتوح پر بہت غصہ آیا ۔وہ ابوالفتوح اور اس کے ساتھیوں کو قتل کردینے کو تیار ہوگئے ۔ابوالفتوح ڈرگیااوربول اٹھا۔میں اس سازش کو کبھی بھی عملی جامہ نہ پہناوں گاخواہ حاکم مصر مجھے قتل ہی کردے ۔اسی دوران مدینہ منورہ میں ایک بہت بڑا طوفان آیاجس سے کئی گھر تباہ ہوئے اور جانی ومالی نقصان ہوا۔ابوالفتوح کو مدینہ سے بھاگنے کا ایک اچھا بہانہ مل گیا اس طرح سے اللہ تعالی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو ان مجرموں سے نجات دی ۔اس حکمران نے ایک اور کوشش بھی کی لیکن وہ دوبارہ ناکام ہوا۔

دوسری سازش
سمہودی کے قول کے مطابق عیسائیوں نے یہ سازش 557 ھ میں مرتب کی اس وقت شام کے بادشاہ کا نام سلطان نورالدین زنگی تھا۔او راس کے مشیر کا نام جمال الدین اصفہانی تھا۔ایک رات نورالدین زنگی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میںتین بار دیکھا ۔ہربار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوآدمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سلطان سے کہا مجھے ان دونوں کی شرارت سے بچاو۔
سلطان کو خیال گزرا کہ یقینا مدینہ منورہ میں کوئی نئی چیز رونما ہوئی ہے۔اس لئے وہ اپنے مشیر کےہمراہ مدینہ پہنچا ۔اور اپنے ساتھ اہل مدینہ کے لئے قیمتی تحفے لایا ۔مشیر نے مدینہ پہنچ کر اعلان کیا کہ ہرشخص اپنا تحفہ حاصل کرنے کے لئے خود حاصر ہو۔سلطان نے اہل مدینہ کو تحفے تقسیم کئےلیکن وہ دو شخص نظر نہ آئے ۔بالآخر سلطان نے پوچھا۔ کیاکوئی شخص باقی رہ گیاہے؟ لوگوںنے جواب دیاکہ دو بہت متقی اور مالدار افراد ہیں ۔جو کسی سے کوئی تحفہ وغیرہ نہیں لیتے بلکہ دیگر لوگوںکو تحفے تحائف عطا کرتے ہیں ۔وہ عبادت اور ذکر الہی میں مشغول ہیں کہ یہاں تک نہیں آئے ۔سلطان نے حکم دیا کہ ان کو بھی حاضر کیا جائے ۔جب سلطان نے ان دونوں کو دیکھا تو وہ ہوبہووہی اشخاص تھے جواس نے خواب میںدیکھے تھے ۔سلطان نے ان سے پوچھا کہ تم کون ہو؟وہ کہنے لگے ہم مراکش کے باشندے ہیں ۔حج آئےتھے اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوسی کی حیثیت سے یہاں مقیم ہیں ۔سلطان پوچھا تمہاری رہائش کہاں ہے ؟ ان کی رہائش روضہ مبارک کے قریب مسجد نبوی کی جنوبی دیوار میںکھڑکی کے پاس تھی ۔یہ کھڑکی اب بھی موجود ہے ۔سلطان ان کی رہائش گاہ میں تشریف لے گئےاور فرش پر سے ایک دری کو ہٹایا ۔سلطان کو دری کےنیچے ایک سرنگ کا دھانہ نظر آیا۔یہ سرنگ روضہ مبارک تک پہنچ چکی تھی ۔سلطان نے ان دونوں سے کہا کہا اب سچی بات بتاؤ۔انہوں نے اقرار کیا کہ ہم دونوں عیسائی ہیں ۔اور ہمیںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو نکالنے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ہم ہرروز سرنگ کھودتے ہیں ۔اور رات کے وقت منٰی کو تھیلوںمیں بھر کر جنت البقیع قبرستان میں بکھیرتے ہیں ۔یہ ہمارا روز مرہ کا مشغلہ ہے ۔جب ہم اس سرنگ کے ذریعے قبر کے پاس پہنچے تو ایک طوفان آیا اور زبردست بجلی کڑکی علاوہ ازیں ایک زلزلہ آیا۔اب ہماری سازش ظاہر ہوگئی ہے۔
سلطان کو انسانی اقدار سےگری ہوئی سازش کا بہت الم ہوا اور وہ بے اختیار روپڑا جب سنبھلا تو اللہ کا شکر ادا کیا جس نے اسے اس کام کیلئے چنا۔سلطان نے ان دونوں مجرموں کے سر اڑانے کا حکم دیا۔پھر سلطان نے روضہ مبارک کے گرد ایک گہری خندق کھدوائی ۔اور اس میں بگھلا ہوا سیسہ ڈالا۔تاکہ مستقبل میں کوئی شخص سرنگ کھود کر ان قبور تک نہ پہنچ سکے ۔
سلطان نے روضہ مبارک کےقریب ایک چبوترہ بھی بنوایا ۔تا کہ اس پر ان قبور کی حفاظت کے لئے ہروقت پاسبان رہیں ۔یہ چبوترہ اب بھی موجود ہے۔اورباب جبریل سے داخل ہوتے ہی دائیں جانب ہے ۔بعض زائرین اسے مقام صفہ سمجھتے ہیں ۔حالانکہ مقام اصحاب صفہ مسجد نبوی کے اندر تھا۔جب کہ چبوترہ اُس وقت کی مسجد کی چاردیواری سے باہر تھا۔
مقام اصحاب صفہ کے تعین کے لئے استونہ عائشہ سے شمال کو چلئے (یعنی قبلہ کی سمت کے خلاف)پانچویں ستوں کے قریب مقام اصحاب صفہ ہے ۔یا یہ کہ پرانے باب جبریل کےبالمقابل یہ مقام تھا۔یادرہے کہ وہاں اس وقت کوئی چبوترہ نہیں ۔

تیسری سازش
طبری نے اپنی کتاب الریاض النضرہ مین اس کا یوں ذکر کیا ہے:
حلب شہر(شام)کے چند لوگ مدینہ منورہ آئے وہ مدینہ کے گورنر کے لئے بیش بہا تحائف لائے۔ان کی خواہش تھی کہ روضہ مبارک میںداخل ہوکر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما کے اجسام مبارک نکال کر یہاںسے باہر پھینکیں۔گورنر کی مذہبی سوچ بھی ایسی ہی تھی ۔اس نے منظوری دے دی ۔گورنر نے مسجد کے خادم سے کہا کہ اگر رات کو کچھ لوگ آئیں تو ان کےلئے مسجد کا دروازہ کھول دینا اوروہ جو کچھ کرنا چاہیں اس میں مداخلت نہ کرنا۔
عشاء کی نماز سے کافی دیر بعد کسی نے باب السلام پر دستک دی ۔خادم نے مسجد کا دروازہ کھول دیا۔تقریبا چالیس آدمی مسجد میںداخل ہوگئے ۔ان کے پاس توڑ پھوڑ اور کھدائی کے ہتھیار بھی تھے ۔خادم سہم گیا۔اور ایک کونے میں دبک کر بیٹھ گیا۔یہ لوگ روضہ مبارک کی طرف بڑھے ۔ابھی منبر تک نہ پہنچے تھےکہ اچانک ان کےنیچے کی زمین پھٹ گئی یہ سب لوگ اپنے ہتھیاروںسمیت اس زمین میں دفن ہوگئے ۔
گورنر ان لوگوں کا بے تابی سے انتظار کرتا رہا ۔بالآخر خادم کو بلایا اور ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا ۔خادم نے اسے سارا واقعہ بتادیا۔گورنر نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے ۔تم یقینا پاگل ہو۔خادم نے گورنر کو دعوت دی کہ وہ اپنی آنکھوںسےموقع دیکھے ۔گورنر نے اس جگہ کی زمین کو دھنسا ہوا پایا تو خادم سے کہنے لگا۔تم اس معاملے کے بارے میں زبان نہ کھولناورنہ میںتمہارا سر اُڑا دوں گا۔“

اللہ کے دشمن اپنی عقل کی تدبیریںبناتے ہیں اور اللہ تعالی بھی اپنی تدبیرین بناتے ہیں یقینا اللہ کی تدبیریں انسانی تدبیروں پر حاوی ہیں ۔سورۃ الانفال:30
ویمکرون ویمکراللہ ،واللہ خیرالماکرین ۔
یادرہے کہ اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا وعدہ پورا کیا اور آپ کی دنیاوی حیات میں اور اس کے بعد بھی سب لوگوںسے حفاظت فرمائی ۔سورۃ المائدہ :67
واللہ یعصمک من الناس ۔

دعا کہ کہ اللہ سب مسلمانوں کی ان کے دشمنوںکے بُرے منصوبوں اور ذلیل سازشوں سے حفاظت فرمائیں۔اور مسلمانوںکو اچھے اعمال کی توفیق دے ۔تاکہ وہ رب العزت کی حفاظت کے مستحق بن جائیں ۔آمین [/php]

pervaz khan
06-02-2012, 06:03 PM
جزاک اللہ