PDA

View Full Version : بی ٹی فصلیں: ملکی ضرورت یا بوجھ



سید محمد عابد
02-17-2012, 06:20 PM
جنیاتی طریقے (جینیٹک انجینئرنگ) کے ذریعے تیار کی جانے والی فصلوں کو جی ایم فصلیں کہا جاتا ہے۔ ان فصلوں کی تیاری کے لئے عام سطح پر مطلوبہ جین ایک جاندار سے دوسرے جاندار میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ مطلوبہ جین منتقل کرنے کے دو طریقے ہیں۔ پہلے طریقے میں جین گن (آلہ) استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک پودے سے ڈی این اے اپنی تعداد بڑھا لیتا ہے، اس طرح جین منتقل ہو جاتا ہے۔ دوسرے طریقہ میں ایک بیکٹیریم استعمال کیا جاتا ہے جس کی مدد سے پودے میں مطلوبہ جین داخل کر دیا جاتا ہے اور وہ جنیاتی تبدیل شدہ پودا بن جاتا ہے۔
دنیا کے متعدد ممالک نے جی ایم فصلوں کو اپنایا مگر کہیں اس کے نتائج حوصلہ افزاءاور کہیں نقصان دہ برآمد ہوئے۔ 2004ء میں آسٹریلیا، ارجنٹائن، برازیل، بلغاریہ، کینیڈا، چائنہ، کولمبیا، جرمنی، انڈیا، انڈونیشیا، میکسیکو، فلپائن، رومانیہ، انگلینڈ، ساﺅتھ افریقہ، امریکہ، ہنگری، آسٹریا اور یوراگوئے نے بی ٹی فصلوں کو اپنایا مگر آج ان میں سے دیگر بائیو ٹیکنولوجی کے استعمال کو ترک کر چکے ہیں۔ انگلینڈ، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا، ہنگری اور بلغاریا جیسے ممالک بی ٹی فصلوں کے استعمال کو ترک کر چکے ہیں۔

وطن عزیز پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی کمائی یا زرمبادلہ کا دارومدار بیرون ملک فروخت کی جانے والی فصلوں پر ہے۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک کو ایسی فصلوں کی ضرورت ہے جو کم قیمت اور بہتر کوالٹی کی ہوں جبکہ ان کے استعمال سے پیداوار میں بھی مزید اضافہ ہو۔ پاکستان کی برآمدات کا زیادہ تر حصہ کپاس پر مشتمل ہے اور عام کپاس کے علاوہ بی ٹی کپاس کی کامیابی سے ہماری برآمدات کی کوالٹی میں مزید بہتری آئی ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ تمام بی ٹی فصلوں کا اگانا فائدہ مند ہی ہو۔ جنیاتی تبدیل شدہ فصلوں میں کچھ زہریلے مادے پیدا کئے جاتے ہیں۔ مثلاً بی ٹی کپاس میں کتر کر کھانے والے کیڑوں کے خلاف مدافعت کے لئے زہریلے مادے بنائے جاتے ہیں، ہوسکتا ہے کچھ وقت گزرنے کے بعد ان مادوں کے خلاف کیڑوں میں مدافعت پیدا ہوجائے اور پھر وہ معاشی نقصان کی حد پر پہنچ جائیں۔ بی ٹی فصلوں کا استعمال شروع کرنے کے بعد ان فصلوں پر خاص توجہ دینی پڑتی ہے تاکہ ہر صورتحال سے نمٹا جائے۔ یہ فصلیں زیادہ پیداوار بھی دیتی ہیں اور فصل پر وائرس کے حملے کی صورت میں پوری فصل تباہ بھی ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں بی ٹی کاٹن کو سفید انقلاب کا نام کیا دیا گیا ہے مگر عملاً یہ چھوٹے کسانوں کے لئے عذاب ثابت ہوا ہے۔ ماہرین زرعی اقتصادیات و سماجیات کا کہنا ہے کہ اگر ایک ایکڑ پر ایک روپیہ خرچ کیا جائے تو بی ٹی کاٹن سے ایک روپیہ 42 پیسے اور روایتی کپاس سے ایک روپیہ 52 پیسے حاصل ہوتے ہیں۔ بی کاٹن میں صرف سنڈیوں سے بچاﺅ کے لئے جین ڈالا گیا ہے جن میں امریکی سنڈی بھی شامل ہے۔ اس لئے اس بی ٹی کاٹن میں امریکی سنڈی سمیت سنڈیوں کے تدارک کا اہتمام کیا گیا ہے مگر پاکستان میں سفید مکھی اور تیلے سمیت پتا مروڑ وائرس اور دیگر وائرسوں سے بچاﺅ تک کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا۔ بی ٹی کاٹن سے آلودگی کا معاملہ بھی ایک سنگین مسئلہ بن کر سامنے آرہا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ جب زراعت کے حوالہ سے کوئی بھی سائنسی ٹیکنولوجی جب دریافت ہوتی ہے تو اس کے فوائد کے ساتھ کچھ نقصانات بھی متوقع ہوتے ہیں اور ان مسائل کو تحقیق کے ساتھ دور کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لئے بہت وقت درکار ہوگا۔

گزشتہ چند سال سے پاکستان میں خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کیلئے جی ایم فصلوں کے تجارتی سطح پر استعمال پر زور دیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں مانسینٹو، پائیونیئر اور سین جنٹا بی ٹی فصلوں کو فروغ دینے کے لئے کام کر رہی ہیں۔ ان کمپنیز کی یہ کوشش ہے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے بی ٹی مکئی کے تجارتی سطح پر استعمال کی اجازت دے دی جائے۔ حال ہی میں ان کمپنیز نے بی ٹی مکئی کے تجارتی سطح پر استعمال کے لئے حکومت پاکستان کو درخواستیں بھی جمع کروا رکھی تھیں جس کو کسانوں کی مخالفت کے باعث رد کر دیا گیا۔ دنیا کے متعدد ممالک میں بی ٹی فصلوں کے استعمال سے حاصل شدہ نتائج کو عالمی سطح پر غیر موئثر قرار دیا جارہا ہے، تاہم اس کے باوجود سیڈ کمپنیز بی ٹی بیجوں کے پاکستان میں استعمال پر زور دے رہی ہیں۔

ایوب ایگریکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ فیصل آباد کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نور الاسلام کا کہنا ہے کہ جی ایم فصلیں جہاں ایک طرف کیڑوں کے خلاف تحفظ فراہم کرتی ہیں وہیں ان کے استعمال سے کیڑوں کے پھیلاﺅ کا خطرہ بھی اپنی جگہ موجود ہے، یعنی بی ٹی فصلوں پر فوائد کے ساتھ ساتھ نقصانات کی بھی ذمہ دار عائد ہوتی ہے۔ دوسری جانب ایگری فورم پاکستان کے چیئرمین ابراہیم مغل نے بھی بی ٹی بیجوں کے استعمال کو نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیج بنانے والی کمپنیز کسانوںاور فیصلہ سازوں کو گمراہ کر رہی ہیں۔

زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مکئی اور دیگر بیجوں کی بڑھتی قیمتیں کسانوں کےلئے نہایت پیچیدہ مسئلہ بن چکی ہیں، جبکہ بیج بنانے والی کمپنیز اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھانے میں سرگرم عمل نظر آتی ہیں۔ یہ کمپنیز ہائیبریڈ بیج 4 سے 5 گنا اضافی قیمت پر فروخت کر رہی ہیں، یہی وجہ ہے یہ کمپنیز جی ایم فصلوں کو فروغ دینے کی کوششوں میں مگن ہیں۔

ان تمام باتوں کے برعکس بعض سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اکثر گندم، چینی اور کپاس کی قلت کا سامنا رہتا ہے لیکن جینیاتی ترمیم شدہ فصلوں کی کاشت سے چار پانچ سال میں فصلوں میں مکمل خود انحصاری حاصل ہو جائے گی۔ 2009-10ء میں کاشت کاروں کو بی ٹی کپاس اگانے کی ترغیب دینے کے بعد کپاس کی پیداوار میں 10 لاکھ گانٹھوں کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بی ٹی کو انسانوں اور ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر مچھروں کو کنٹرول کرنے کے لئے کئی سالوں سے وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

بی ٹی فصلیں کا باغور جائزہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پاکستانی زراعت کے لیئے فائدہ مند کم اور نقصان دہ زیادہ ہیں کیونکہ ان فصلوں کے استعمال سے زمین کی زرخیزی اور ماحول کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔ بی ٹی فصلیں پیداوار میں اضافے کے نام پر پاکستانی زراعت کی تباہی کا ساماں ہیں۔ 2009-10ء میں بی ٹی کپاس کے آنے کے بعد سے اب تک پتہ مروڑ وائرس اور دیگر وائرسسز کے حملے پر قابو نہیں پایا جاسکا۔

تحریر: سید محمد عابد

http://smabid.technologytimes.pk/?p=700

http://www.technologytimes.pk/2012/02/14/%D8%A8%DB%8C-%D9%B9%DB%8C-%D9%81%D8%B5%D9%84%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D9%84%DA%A9%DB%8C-%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA-%DB%8C%D8%A7-%D8%A8%D9%88%D8%AC%DA%BE/