PDA

View Full Version : دسمبر سو گیا ہے



تا بی
02-21-2012, 08:18 PM
اُسے کہنا کتابوں میں رکھے سوکھےہوےَ کچھ پھول
اُس کے لوٹ اںے کا یقیں اب تک د لاتے ہیں
اُسے کہنا کہ اس کی جھیل سی آنکھیں کسی منظرپہ چھا جاہیں
توسب منظر یونہی پھر بھیگ جاتےہیں
اُسےکہناکہ ٹھنڈی برف پر کوہَی کسی کے ساتھ چلتا ہے
تو قدموں کےنٖٖشاں پھرسےاُسی کےلوٹ اَنےکے دل پر بناتے ہیں
اُسے کہنا کہ اُس کی بھیگتی اَنکھوں کا وہ اَنسو
ستارے کی طرح اب تک ہمیں شب کو جگاتا ہے
اُسے کہناکہ بارش کٹھرکیوں پہ اُس کے آنسو پنیٹ کرتی ہے
ُاُسی کا نام لکھتی ہے
اُسےہی گنگناتی ہے
اُسے کہنا کہ خوشبو،چاندنی،تارے،صبا،رست ے،گھٹا،کاجل
محبت،چاندنی،شبنم،ہواہیں،ر ات،دن،بادل
سبھی ناراض ہیں ہم سے
اُسےکہنا جداہی کے درٍٖختوں پرجوسوکھی ٹہنیاں ہیں
وہ ساری برف کی چادر میں کب کی ڈھک چُکھی ہیں
اوراُن شاخوں پہ یادوں کے
جوپتے تھے سنہری ھو گےَہیں
اُسے کہنا دسمبر سو گیا ہے
اورنح بستہ وہ جنوری پھر لوٹ ایَ ہے
اُسے کہنا کہ لوٹ آےَ

راجہ فھیم انور خان جنجوعہ
02-21-2012, 09:37 PM
واہ واہ واہ۔۔۔اس کے سوا بندہ ابھی اور کیا لکھے۔۔۔۔!

سیما
02-22-2012, 12:11 AM
شکریہ تابی بھائ بہت اچھا لکھا اپ نے