PDA

View Full Version : بلوچستان سب پہ حاوی



راجہ فھیم انور خان جنجوعہ
02-21-2012, 09:00 PM
پاکستان کے صوبے بلوچستان میں مسخ شدہ لاشیں ملنے اور سیکورٹی فورسز پر حملوں کا ذکر تو کئی برسوں سے ہو رہاہے لیکن آج کل بلوچستان کا چرچا پاکستان کی پارلیمان، سیاسی اور صحافتی حلقوں میں کچھ زیادہ ہی ہے۔
اس کی ایک بڑی وجہ امریکی کانگریس میں ریپبلکن رکن ڈینا روہرباکر کی بلوچستان کو خودمختاری دینے کے بارے میں پیش کردہ قرارداد ہے۔ حکومت ہو یا حزب اختلاف یا پھر میڈیا، ہر جگہ امریکہ کی مذمت ہو رہی ہے۔ امریکی حکومت وضاحتیں کرتی پھر رہی ہے کہ ان کی حکومت کی یہ پالیسی نہیں ہے۔ لیکن اس عذر کو کوئی تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور پاکستان میں حکومت، حزب اختلاف، مذہبی جماعتیں اور میڈیا امریکی ایوان نمائندگاں کے رکن کی قرارداد کو پاکستان کی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہیں۔

فوری طور پر امریکی کانگریس میں پیش کی گئی قرارداد کا مقصد تو پاکستان کو دبانے کی کوشش نظر آتا ہے۔ کیونکہ یہ اس روز پیش ہوئی جس روز ایران کے صدر پاکستان کے دورے پر تھے۔ بعض مبصرین کے مطابق امریکہ اپنے لیے بلوچستان میں سیاسی خیر خواہی حاصل کرنا چاہتا ہے۔
لیکن بعض بلوچ قوم پرست کہتے ہیں کہ امریکہ نے جو حشر اپنے خیر خواہوں کا کیا ہے بلوچ اس سے با خبر ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جتنا شور پاکستان میں امریکہ کے خلاف مچایا جا رہا ہے اگر اس سے نصف دباؤ سیاسی جماعتیں اور میڈیا حکومت اور سیکورٹی فورسز پر ڈالتیں تو شاید بلوچستان میں مسخ شدہ لاشیں ملنے سلسلہ تھم جاتا اور صورتحال بہتر ہو جاتی۔

کیونکہ بلوچستان میں گزشتہ دو برسوں سے بھی کم عرصے میں بلوچ نیشنل وائیس نامی تنظیم کے مطابق اب تک چار سو کے قریب مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔ پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن، ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دیگر عالمی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بلوچستان کے حالات کے بارے میں ماضی میں سخت تشویش ظاہر کرتی رہی ہیں لیکن حکومت نے اِتنی توجہ نہیں دی جتنی دی جانی چاہیے تھی۔
حکومت کے بلوچستان پر کم توجہ دینی کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک تو چائے کی پیالی میں اٹھنے والے آئے دن بحران سے نمٹنا اور دوسرا یہ کہ وہاں سیکورٹی فورسز کی مداخلت اتنی ہے کہ حکومت کے بھی شاید پر جلتے ہوں۔
لیکن اس کے باوجود بھی حکومت بلوچستان میں جو چار پانچ ہزار لوگوں کو ملازمتیں فراہم کرنے، بلوچستان اسمبلی کے اراکین کو کروڑوں روپے کے فنڈز مہیا کرنے سمیت دیگر اقدامات کی بات کرتی ہے وہ تاحال ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔
بلوچ سیاسی رہنما اکثر یہ بات کرتے ہیں کہ انیس سو چون سے لے کر سنہ دو ہزار دو تک کبھی ڈیرہ بگٹی میں گیس کمپنیوں کے ملازمین پر کوئی گولی چلی اور نہ ہی گیس پائپ لائن اڑائی گئی۔
لیکن اس وقت کی بیورو کریسی نے نواب بگٹی کے مطالبات تسلیم نہ کرنے اور طاقت کے استعمال کے لیے پرویز مشرف کو اکسایا اور دو کروڑ بچانے کے لیے دو ہزار کروڑ کا نقصان برداشت کیا اور حالات بھی بگڑ گئے۔
کچھ بلوچ سیاسی رہنما یہ بھی کہتے ہیں کہ بہت سا پانی پلوں سے گزر چکا ہے اور بلوچستان کی مسلح جدوجہد کرنے والی چار بڑی تنظیموں کے سربراہ زیادہ تر نوجوان ہیں اور اب وہ اپنے سیاسی رہنماؤں کی بات بھی شاید نہ سنیں۔
لیکن بعض ایسے رہنما بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ حکومت اب بھی اگر لاپتہ لوگوں کو چھوڑ دے اور سیکورٹی فورسز کی نقل حمل کو محدود کرے اور مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ بند ہو تو شاید بات چیت کا ماحول بن سکتا ہے کیونکہ دنیا میں کہیں پر بھی ہر مسئلے کا حل گفتگو سے ہی نکلتا ہے اور نہ کہ طاقت کے استعمال سے۔

tashfin28
02-22-2012, 02:07 AM
بلوچستان کا مسئلہ - اور امریکی موقف

پيارے دوست،

میں کہنے کے لئے معافی چاہتا ہوں لیکن آپ کو امریکی کانگریس اور جس طرح سے یہ کام کرتا ہے کے بارے میں واضح طور پر کوئی بھی سمجھ نہیں ہے؟ یہ نہايت افسوسناک ہے کہ پاکستان میں کچھ لوگوں کو اب بھی یقین ہے کہ کانگریس میں ایک منتخب رکن کی طرف سے کسی بھی بیان یا ایک بل پیش کرنا امریکی سرکاری پالیسی کی تشکیل کرتا ہے ۔ کیا پاکستانی پارلیمنٹ کے ایک رکن کی طرف سے ہر بیان سرکاری پاکستانی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے؟


کانگریس اور سینیٹ کے منتخب ارکان کے طرف سے بیانات ان کے ذاتی خیالات اور رائے پر مبنی ہیں اور کسی صورت ميں امریکی حکومت کے سرکاری موقف کی ترجمانی نہيں کرتی ۔ کسی صورت ميں کانگرس مين روھراباچر وائٹ ہاؤس یا امریکی حکومت کے سرکاری پوزیشن کی نمائندگی نہيں کرتا ۔ اس کے علاوہ، کانگریس کے معمول میں اس قسم کے کئی غیر ملکی معاملات اور موضوعات زیرسماعت آتے ہيں ۔ اس سماعت سے ضروری نہیں ہے کہ امریکی حکومت کسی ايک نقطہ نظر کی توثیق کرتا ہے ۔ مجھے واضح کرنے ديجیۓ، کہ امريکہ قول و عمل سے سنجیدگی سے پاکستان کے اتحاد اور استحکام کی حمایت کرتا ہے اور یہ کہ بلوچستان کو پاکستان کے حصے کے طور پر قائم رکھنے کے لے خواہاں ہے –


اس کے علاوہ، ميں فورم کے تمام ممبران کو بتانا چاہتا ہوں کہ بلوچستان کے متعلق امريکی موقف بالکل واضح ہے ۔ امریکی حکومت بلوچستان میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کئی رپورٹوں کے بارے میں کافی فکرمند ہے. امريکی حکومت ان تمام سنگين انسانی حقوق کے خلاف ورزيوں کے ان الزامات کو سنجیدگی سے ليتا ہے اور پختہ یقین رکھتا ہے کہ پاکستانی حکومت کی يہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ ان مسائل کو پرامن بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ممکن کوشش کرے۔


یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایک مضبوط، مستحکم اور متحد پاکستان امریکہ کے بہترین اسٹریٹجک مفاد میں ہے


ڈیجیٹل آؤٹ ریچ ٹیم، شعبہ امریکی وزارت خارجہ

تاشفين

ای میل : digitaloutreach@state.gov