PDA

View Full Version : ایک مجذوب اُداسی میرے اندر گُم ہے



سیما
02-22-2012, 12:34 AM
ایک مجذوب اُداسی میرے اندر گُم ہے
اس سمندر میں کوئی اور سمندر گُم ہے

بے بسی کیسا پرندہ ہے تُمھیں کیا معلوم
اُسے معلوم ہے جو میرے برابر گُم ہے

چرخِ سو رنگ کو فُرصت ہو تو ڈھونڈے اُس کو
نیلگوں سوچ میں جو مست قلندر گُم ہے

دھُوپ چھاؤں کا کوئی کھیل ہے بینائی بھی
آنکھ کو ڈھونڈ کے لایا ہوں تو منظر گُم ہے

سنگریزوں میں مہکتا ہے کوئی سُرخ گُلاب
وُہ جو ماتھے پہ لگا تھا وُہی پتھر گُم ہے

ایک مدفون دفینہ اِنہیں اطراف میں تھا
خاک اُڑتی ہے یہاں اور وُہ گوہر گُم ہے

رفیع رضا