PDA

View Full Version : اک کسان



تا بی
02-22-2012, 05:07 PM
كسان كى بيوى نے جو مكهن كسان كو تيار كر كے ديا تها وه اسے ليكر فروخت كرنے كيلئے اپنے گاؤں سے شہر كى طرف روانہ ہو گيا،یہ مكهن گول پيڑوں كى شكل ميں بنا ہوا تها اور ہر پيڑے كا وزن ايک كلو تها۔ شہر ميں كسان نے اس مكهن كو حسب معمول ايک دوكاندار كے ہاتھوں فروخت كيا اور دوكاندار سے چائے كى پتى، چينى، تيل اور صابن وغيره خريد كر واپس اپنے گاؤں كى طرف روانہ ہو گيا.كسان كے جانے بعد دوكاندار نے مكهن كو فريزر ميں ركهنا شروع كيا….اسے خيال گزرا كيوں نہ ايک پيڑے كا وزن كيا جائے. وزن كرنے پر پيڑا 900 گرام كا نكلا، حيرت و صدمے سے دوكاندار نے سارے پيڑے ايک ايک كر كے تول ڈالے مگر كسان كے لائے ہوئے سب پيڑوں كا وزن ايک جيسا اور 900 – 900 گرام ہى تها۔ اگلے ہفتے كسان حسب سابق مكهن ليكر جيسے ہى دوكان كے تهڑے پر چڑها،
دوكاندار نے كسان كو چلاتے ہوئے كہا کہ وه دفع ہو جائے، كسى بے ايمان اور دهوكے باز شخص سے كاروبار كرنا اسكا دستور نہيں ہے. 900 گرام مكهن كو پورا ایک كلو گرام كہہ كر بيچنے والے شخص كى وه شكل ديكهنا بهى گوارا نہيں كرتا. كسان نے ياسيت اور افسردگى سے دوكاندار سے كہا:“ميرے بهائى مجھ سے بد ظن نہ ہو ہم تو غريب اور بے چارے لوگ ہيں، ہمارے پاس تولنے كيلئے باٹ خريدنے كى استطاعت كہاں .آپ سے جو ايک كلو چينى ليكر جاتا ہوں اسے ترازو كے ايک پلڑے ميں رکھ كر دوسرے پلڑے ميں اتنے وزن كا مكهن تول كر لے آتا ہوں۔ جیسے کو تیسا ،
اب تو دکاندار کی حالت دیکھنے والی تھی ، انا للہ و انا الیہ راجعون ،
میں آج بھی محمد بن قاسم کو ڈھونڈ رھا ھوں۔۔۔۔
تابی،،،،،،

بےباک
02-22-2012, 08:13 PM
خوب تابی صاحب ، اس سبق آموز کہانی کے لیے ،
کتنا سخت اور تلخ سچ ہے یہ ،

سیما
03-01-2012, 07:44 PM
زبردست شکریہ تابی بھائ

این اے ناصر
05-05-2012, 12:54 PM
شئیرنگ کاشکریہ۔