PDA

View Full Version : مِیرا تمہاری....اردو ہماری



تانیہ
03-01-2012, 10:32 AM
رفتہ ہفتے میڈیا پرپر لوک سبھا سپیکرشریمتی میرا کماری کی اردو تقاریر اور سخن شناسی کا بہت چرچا رہا۔ بہترین سفارت کاری کا ہمیشہ سے یہ اصول رہا ہے کہ سیاسی شخصیات یا سیاسی وفود جس ملک میں بھی جاتے ہیں۔ وہاں کے معروضی حالات سماجیات اور سیاسیات سے مکمل آگہی حاصل کر کے جاتے ہیں اور یہ کام ان کی وزارت خارجہ کے کارگذاروں کا ہوتا ہے کہ انہیں اوامرونہی سے آگاہ کریں نازک معاملات کی نزاکتوں کا ادراک بخشیں اور دوستانہ ڈپلومیٹک تقاریر تیار کر کے دیں۔
انڈیا میں جب کبھی ہمیں جانے کا اتفاق ہوا وہاں کے ادیب طبقے نے ہمیشہ اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان میں نہایت عمدہ اردو بولی لکھی جاتی ہے۔ اس بات کا بھی انہوں نے ذکر کیا کہ انڈیا میں اردو کی نفی کرنے کےلئے اس کے اندر سنسکرت اور ہندی کے بے شمار الفاظ شامل کر کے نہ صرف یہ کہ اسے عام آدمی کے لئے مشکل بنا دیا بلکہ نہ وہ ہندی رہی، نہ اردو:
لیکن ہمیں انڈیا کی فلم انڈسٹری کا ممنون ہونا چاہئے کہ باوجود اردو کی نفی کرنے کے اور اردو کو ہندی لکھتے رہنے کے، ان کی زیادہ تر وہی فلمیں ہٹ ہوئیں۔ جس میں شستہ اردو بولی گئی۔ جہاں تک موسیقی کا تعلق ہے تو ساری دنیا جانتی ہے۔ انڈین موسیقی اردو کے بغیر زندہ رہ نہیں سکتی۔ ان کے سب گانوں میں وہ عشقیہ ہوں یا حزنیہ اردو لغت کا خوبصورتی سے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں ان سب گیتوں اور غزلوں کی فہرست پیش کرنا ممکن نہیں.... مگر یہ گیت آپ بھی ہر صبح دوپہر شام سنتے ہیں۔ ایک اور بات کے لئے بھی ہمیں انڈین فلم انڈسٹری کا ممنون ہونا چاہئے کہ جب کبھی وہ اپنی فلموں میں کوئی مسلم معاشرتی کہانی پیش کرتے ہیں۔ یا مسلم گھرانے کی کوئی لڑکی دکھا تے ہیں تو اس کا لباس ہمیشہ مسلمان عورت والا لباس ہوتا ہے۔ یعنی پورے آستینوں کی قمیض اور سر پر ہمیشہ دوپٹہ رکھے ہوئے.... اگر اسے برقعہ نہ پہنایا جائے تو آپ فلم کے اندر ہندو لڑکی اور مسلمان لڑکی کو اس کے لباس سے شناخت کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مسلم ثقافت کے اندر عورت ملبوس اور محجوب ہوتی ہے.... بہت سی فلموں کا حوالہ نہیں دونگی آپ ویر زارا کو ہی لیں۔ جس میں رانی مکر جی نے ایک مسلمان وکیل عورت کا کردار نبھایا تھا۔ اس کے سادہ اور پروقار لباس کر یاد کریں۔ یہ باتیں لکھتے ہوئے میں ایک اندرونی کرب میں بھی مبتلا ہو جاتی ہوں۔ جب میں پاکستانی معاشرے کے اندر بھلے خاندانوں کی لڑکیوں کو شادی بیاہ کی تقریبات کے علاوہ بھی بہت معیوب لباس میں دیکھتی ہوں۔ ہمارے بعض پرائیویٹ چینلز کے مارننگ شوز اور دیگر تفریحی شوز میں جو لڑکیاں نظر آتی ہیں‘ کیا ان کی تربیت پاکستانی ماوں نے کی ہے۔ حیرت ہوتی ہے انڈین فلموں میں دوپٹہ مسلم عورت کی علامت کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ پاکستان کے مسلم معاشرے میں لڑکیاں اور مائیں بھی دوپٹے سے بے نیاز نظر آنا چاہتی ہیں۔ مجھے ایک بار امریکہ سے ایک مقیم پاکستانی نے فون کرکے کہا تھا کہ یہاں ہم کثیر رقم خرچ کر کے پاکستانی چینلز خریدتے ہیں تاکہ اپنے وطن کے ساتھ وابستہ رہیں مگر جب لڑکوں اور لڑکیوں کے ملبوسات ان کی زبان اور ان کے پروگرام دیکھتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے....“۔
میں انہیں کیا بتاتی کہ سب پیسے کی دوڑ ہے.... خیر میرا آج کا موضوع بے محابا چینلز نہیں۔ میں اس بے چاری اردو زبان کی کسمپرسی پر بات کرنے چلی تھی۔ جس کا احساس ابھی ابھی میرا کماری جی دلا کر گئی ہیں۔
ان لوگوں کو معلوم ہے پاکستان کی قومی زبان اردو ہے۔ ا ور یہ لوگ اپنی تقاریر میں اشعار کو بہت استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے میرا کماری جی نے اپنی تقریر کی دلکشی میں اضافہ کرنے کےلئے خوبصورت اشعار کا سہارا لیا۔ یہ اور بات ہے کہ ان کا لحن انتہائی شیریں اور دلپذیر تھا اور مسکراہٹ کے نقرئی ورق سے وہ اثر پذیری کے نمبر بھی لے رہی تھیں۔ پرانا سا محاورہ ہے کہ جب روم میں جاﺅ تو وہی کرو جو رومی کرتے ہیں....“۔
لاہور میں آکر شریمتی میرا کماری داتا دربار بھی گئیں۔ ان کو اندازہ ہو گیا کہ یہ داتا کی نگری ہے اور پاکستان کی کمان ان کو ودیعت کی گئی ہے اور انہیں یہ بھی احساس تھا کہ مزارات پر سر ڈھک کے سر جھکا کے جاتے ہیں۔ امید ہے ان کے ملک میں ان پر کوئی فتویٰ بھی نہیں لگے گا۔ مذاہب کا احترام، مذہب بدلنے کا الزام نہیں بن جاتا جبکہ چند سال پہلے نیشنل اسمبلی کی ایک رکن انہی جذبات کے ساتھ اقلیتوں کے ایک مذہبی تہوار کے موقع پر لاہور کے ایک مندر میں چیف گیسٹ کے طور پر چلی گئی تھیں تو ا یک متعصب طبقے نے سنگ باری اور تعصب کی انتہا کر دی تھی (خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا جو بیچ میں آ گیا)
ہم نے تو سونیا گاندھی کو بھی چادر اوڑھ کر حضرت نظام الدین اولیاؒ کے مزار پر ننگے پاﺅں عقیدت سے جاتے دیکھا ہے اگر یہ سب مسلم اقلیتوں کو خوش کرنے کےلئے ہے تو بھی درست ہے اور ڈپلومیسی کا حصہ ہے پھر پاکستان کے اندر معیوب کیوں ہے....؟
بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا ہے کہ ہماری سپیکر نے اردو میں تقریر نہیں کی۔ بہت سے لوگوں کو ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ قومی اسمبلی کی کارروائی بھی انگریزی میں ہوتی ہے۔ سرکاری دفاتر میں خط و کتابت بھی انگریزی میں ہوتی ہے۔ بعض وزیر بھی انگریزی میں تقریر کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ پاکستان میں اردو پرائمری سے ہی پڑھائی جاتی ہے جو سیاسی لیڈر اردو میں دھواں دھار تقریر نہیں کر سکتا اسے عوام قبول ہی نہیں کرتے۔ نہ ووٹ دیتے ہیں۔ اسی لئے ہر لیڈر کو اردو سیکھنی پڑتی ہے.... محترم قارئین! ذرا باہر نکل کر ساری مارکیٹوں اور سارے بازاروں کا ایک جائزہ لیں آپ کو معلوم ہو گا کہ دکانوں کے سب بورڈ، سائن بورڈ، بل بورڈ انگریزی میں ہوں گے۔ حتیٰ کہ نیم خواندہ اور ناخواندہ دکاندار بھی انگریزی میں ہی بورڈ لکھواتے ہیں۔ سڑکیں دیکھیں چوراہے دیکھ لیں غلامی کی چھاپ آپ کو ہر جگہ نظر آئے گی۔ میں نے بہت سے ملک دیکھے ہیں۔جن کے ا ندر داخل ہوتے ہی آپ کو لگتا ہے آپ ایک نئے ملک میں ہیں۔تمام عرب ممالک میں بورڈ وغیرہ عربی میں ہوتے ہیں خاص خاص اشارے انگریزی میں سیاحوں کےلئے لکھ دیتے ہیں۔ چین ، جاپان کوریا، انڈونیشیا، ملائشیا، فرانس ، جرمنی، ایران ا ور ترکیہ اور بہت سے ملک بورڈز اپنی اپنی زبان میں لکھتے ہیں۔انگریزی حرف مجبوری کے وقت بولتے ہیں۔ یہ انگریزی سے اجتناب نہیں ہے یہ اپنی زبان اور اپنی قومیت کا احترام ہے۔ یہاں تو لوگ بچوں کی شادی کے کارڈز بھی انگریزی میں لکھتے ہیں۔
روزانہ کسی چینل پر امریکہ کی غلامی یا معیشت کی غلامی کا شور امنڈ رہا ہوتا ہے اور وہ بھی اپنا غصہ انگریزی میں نکالتے ہیں۔ اگر آپ کا ذہن غلام ہے اگر زبان غلام ہے۔ اگر آپکی ثقافت غلام ہے تو پھر آپ معیشت اور اقتصادیات کی غلامی کیسے دور کر سکتے ہیں۔
انڈیا میں سب لوگ اردو سمجھتے ہیں مگر ہمارے لیڈر وہاں جا کربھی اپنی انگریزی دانی کا رعب جھاڑتے ہیں۔ اپنے سٹاف سے کہتے ہیں کہ انگریزی میں تقریر لکھ کر لائیں۔ ایسی باتیں میں کئی بار پہلے بھی لکھ چکی ہوں۔ جب تک ذہن آزاد نہ ہوں۔ ملک آزاد نہیں ہوتے۔
میں انگریزی کے خلاف نہیں ہوں۔ یہ عالمی رابطے کی زبان ہے.... مگر اپنی زبان کے ساتھ لونڈیوں والا سلوک کیوں؟ مجھے افسوس ہے کہ میں شریمتی میرا کماری جی سے بالمشافہ گفتگو نہیں کر سکی اور نہ انہیں خراج پیش کر سکی (اسکی وجہ یہ ہے کہ راقمہ کو اسلام آباد یا لاہور کی کسی تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا تھا) میں نے سارے پروگرام ٹی وی پر دیکھے۔ اگر میں ان سے مل سکتی تو ضرور کہتی کہ آپ ایک کامیاب سفارتکار ہیں۔ ہمیں یاد دلاکر جا رہی ہیں کہ اردو ہماری قومی زبان ہے اور اس کی مٹھاس نے ایک عالم کو فتح کر رکھا ہے۔ جو قوم اپنی زبان میں اپنا ما فی ا لضمیر نہیں بیان کر سکتی وہ نسیان کی بیماری میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ محترم قارئین! اقربا پروری کے دور میں ہم آپ کو اپنے ہی شعر سناتے ہیں
روتی رہے گی ہر دم قومی زباں ہماری
لاچار و بے اماں ہے قومی زباں ہماری
افرنگ کی زباں سے یہ دل جلائیں تیرا
حق اپنا مانگتی ہے یہ بوڑھی ماں ہماری!

بشری رحمن

بےباک
03-05-2012, 09:59 AM
بہت خؤب تانیہ جی
اردو زبان پر ہم نے خود ہی ظلم ڈھایا ہے ، ہم نے خود ہی اس زبان کو ہر موقع پر پیچھے چھوڑا ھے ۔
کتنا تلخ سچ بشری رحمن صاحبہ نے لکھا ، جس طرح ہم نام کے مسلمان ہیں ، اسی طرح ہم کردار کے لحاظ سے بھی انحطاطی کا شکار ہیں ،
جب ہمارے حکمران ہی اردو بولنے اور اس کی ترویج کے لیے رکاوٹ ہیں تو اس کا نفاذ کیسے ہو سکتا ھے ،

محمدمعروف
03-06-2012, 09:08 PM
اردو کی اہمیت اور ضرورت کو اجاگر کرتی ہو ئی بہت مفید تحریر ہے ۔

این اے ناصر
03-06-2012, 09:11 PM
شئیرنگ کاشکریہ۔