PDA

View Full Version : تربیت اولاد اور والدین



تانیہ
03-03-2012, 12:13 AM
جب ماہانہ تعلیمی پراگریس رپورٹ میں استاد بچے میں کسی خامی یا کو تاہی کی نشاندہی کر کے والدین کی رائے دریا فت کرتاہے تو والدین شفقت کے ہا تھوں مجبور ہو کر اپنے بچے کے لئے معافی طلب کر تے ہیں اور اسے اسکو ل انتظامیہ کے کسی ایکشن سے بچانے کی پوری کو شش کرتے ہیں۔ ایک تا زہ ترین جائزے میں والدین کے اس فعل کو بچے کے مستقبل کے لئے مہلک قرار دیا گیاہے۔ سکو ل اساتذہ کی طر ف سے جاری کئے گئے اس جائزے میں والدین کو انتباہ کیا گیاہے کہ اگر وہ اپنے بچے کی زندگی میں قدر و منزلت کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں تو اپنے احساسات کو کچل کر بچے کے سکو ل ٹیچر کی ہدایات و سفارشات کی روشنی میں بہترین فیصلہ کریں نہ کہ بچے کی آسانی کو مدنظر رکھ کر حالات سے تصفیہ کرلیں۔ بچے کی تعلیم و تربیت طویل المیعاد سرمایہ کاری سے مشابہ ہے اس لئے والدین کو بچوں سے متعلق قلیل المعیاد فیصلوں سے ہر دم باز رہنا چاہیے۔
اس جا ئزے میں شامل ممتاز اساتذہ کرام نے متفقہ طور پر ایسے اصول وضع کئے ہیں جن سے ہمہ وقت واقفیت والدین کے لیے بہت ضروری ہے۔ اور جن کی بدولت بچوں کو زندگی میں سربلندی کے حصول کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔ یہاں ان اصولوں کا مختصر ذکر کیا جار ہا ہے۔

گھر کے کا م کاج کرنے والے بچے بہترین طالب علم واقع ہو تے ہیں
گھر کے کاموں میں دلچسپی لینے سے ان کی نو عیت پر گہرا ادراک حاصل ہو تاہے اور بچے کو اپنے گھر، مدرسے یا کنبے میں اپنی حیثیت کے تعین میں کچھ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کو گھرمیں چھوٹے موٹے کا م کرنے کے لئے دیا کریں۔ جائزے میں یہ بات خصوصاً نوٹ کی گئی ہے کہ ایسی دیہی طالبات زیادہ پر اعتماد معاملہ فہم، مقرر اور مفکر ہوتی ہیں جو گھر کے کا موں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔ ان میں بھینسوں کی دیکھ بھال، دستر خوان بچھانا اور اپنے کمرے کو آراستہ کرناوغیرہ شامل ہیں۔ گھر کے کاموں کے علا وہ اعلیٰ خاندانی اقدار و اطوار بھی بچے کی کا میا بی کی ضمانت ہیں۔

اپنے بچے سے بلند توقعات لا زماً وابستہ کیجئے
بچے کے ذہن میں اگر یہ بات ڈال دی جائے کہ اس سے شاندار کا میا بی کی امید رکھی جا رہی ہے تو وہ تعین شدہ معیار پر پورا اترنے کی سر توڑ کو شش کرے گا لیکن یہاں والدین کو اس امر کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ بچوں سے اپنی کسی آرزو کو پورا کرنے کی خاطر سخت گیر آمر کا روپ نہ دھاریں۔ توقعات ارفع اور ٹھوس ہو نا چاہئیں لیکن ان کی تکمیل یا عدم تکمیل کی ذمہ داری بچوں پر نہ ٹھونسی جائے۔

بچے کی غیر اطمینان بخش کارکر دگی پر گہری نظر رکھیں
امریکی محکمہ تعلیم کی رپورٹ کے مطابق سکولوں میں غیر اطمینان بخش کا رکردگی کے 90 فی صد معاملات کے تین کلیدی اسباب ہیں سکول سے مسلسل غیر حاضری، گھرمیں بچے کے پڑھنے کے لئے مختلف موضوعات پر مواد کی عدم دستیا بی اور بچے کی طویل ٹیلی ویژن بینی، بچوں میں اعلیٰ توقعات کے مظاہرے اور انہیں آداب سکھانے کے لئے ان اسباب کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔

بچے کو کتا ب پڑھ کر سنائیں
ہوم ورک کروانے میں کم از کم روزانہ ایک گھنٹہ اس کی مدد کریں اور اس سے سبق سنیں۔ بچے کو روزانہ دس منٹ کے لیے کچھ پڑھ کر سنانا مفید ہے۔ گھر میں بچے کے پڑھنے کے لئے وافر موادمہیا کیا جائے۔
سکول کے ایام میں ہفتے بھر میں روزانہ سکول کے اوقات کے بعد بچے کو ایک گھنٹہ آزادی سے کوئی نہ کوئی کا م کرنے دیں۔ اگر ہوم ورک نہ ہو تو بچے کو اپنے لئے کوئی دلچسپ کام کے انتخاب کا موقع دیں۔

والدین بچے کے سکول سے نا طہ جو ڑے رکھیں
والدین کا یہ حق ہے اور ذمہ داری بھی کہ وہ بچے کی سکول بیتی میں گہری دلچسپی لیں اور بچے کے استاد سے مسلسل رابطہ برقرار رکھیں اس کے ساتھ ساتھ بچے کو سیر پرلے جایا جائے اور کبھی کبھار اعلیٰ تعلیم کے کالج یا یونیورسٹی کے داخلہ فارم پُر کروانے کاکام بھی بچے سے کروایا جائے۔جائزے میں شامل ایک استاد نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موقع ملنے پر بچوں کے ساتھ جماعت میں آکر بیٹھیں۔ اس سے والدین کو نہ صرف نصاب تعلیم سے آگاہی حاصل ہوگی بلکہ وہ طریقہ تعلیم اور اساتذہ کے مقاصد سے بھی بہر ہ مند ہو سکیں گے۔

محض اعلیٰ نمبر یا گریڈ سے بچہ اعلیٰ شرف کا مالک نہیں ہو تا
بچہ تعلیم میں کمزور ہو تو والدین بضد رہتے ہیں کہ اسے سکول میں کھیل و تفریح کا موقع نہ دیا جائے اور ہر وقت نصابی سر گرمیوں میں الجھائے رکھاجائے۔ اکثر غیر نصابی سر گرمیاں بھی زندگی میں درکا ر سرفرازی کے لئے بڑی ممدومعاون ثابت ہوتی ہیں اس سلسلے میں سکاﺅٹنگ، مذہبی تفریحات ا ور کھیلوں میں شرکت بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ قائدانہ صلا حیت اور معاملہ فہمی کلاس کے اندر پیدا نہیں ہوتی بلکہ یہ بیرونی ذرائع سے بچے کے اندر منتقل ہوتی ہے۔ بعض اوقات تخلیقی فکر ان بچوں میں پروان چڑھتی ہے جو کلا س میں اعلیٰ گریڈحاصل نہیں کر پاتے۔ اس لئے ضروری ہے کہ بچوں میں انفرادی صلا حیتوں اور دلچسپیوں کو ابھر نے کا پورا موقع دیا جائے۔

محض ذہانت کو بچے میں بہترین خو بی گر داننادرست نہیں
اکثر بچے اعلیٰ گریڈ کے حصول کے لیے تعلیمی نصاب کے منتخب مطالعہ پر اکتفا کرتے ہیں۔ یہ روش بچے کے مستقبل کے لیے اچھی نہیں ہے بچے کو سکول میں محنت سے پڑھنے کی عادت ڈالی جائے اس طر ح اس کے نمبر کم کیوں نہ ہو جا ئیں لیکن اعلیٰ تعلیم اور منزلت کے لئے اس کی اہمیت مستند ہے۔ بچوں میں محنت و مشقت کا جذبہ ابھارنے کے لئے انہیں اپنا کام اطمینان بخش طریقے سے ختم کرنے کا موقع دیا جائے اور اس کا صلہ حوصلہ افزائی اور مناسب انعام و اکرام سے دیا جائے۔

بچوں کو تفریح اور آرام کے لیے منا سب وقت دیا جائے :
نصابی اور غیر نصابی سر گرمیوں کی وجہ سے بچوں میں ذہنی کھچاﺅ پیدا ہو جا تا ہے۔ وہ ڈرے سہمے رہتے ہیں اور انہیں سر درد، معدے میں گڑ بڑ اور نیند نہ آنے کی شکایات رہنے لگتی ہیں۔ حساس بچے ذہنی دباﺅ میں خصوصاً مبتلا رہتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ بچوں کو گھر اور سکول کی روایتی کھیلوں سے الگ کر کے غیر روایتی سادہ کھیلوں کے ذریعے تفریح کا موقع فراہم کیا جائے اس طرح ان میں مقابلہ اور کھچاﺅ کیفیا ت کم ہو جائیں گی اور وہ اپنے آپ کو ترو تا زہ محسو س کریں گے۔

بچے میں مذہبی اعتقادات اور اخلا قیات کی مسلسل نشوو نما
بچے موت کے تصور سے بہت خوف زدہ رہتے ہیں۔ اس کے تدارک کے لیے مذہبی اخلا قیات کا سہا را لیا جا سکتا ہے۔ بچے کو زندگی اور موت کی حقیقت سے روشناس کرانے اور اسے کا ئنات کے اسرار و رمو ز سے آگاہ کرنے کے لیے مذہبی تعلیمات کے اسباق کا مسلسل انتظام کیا جائے اس طر یقے سے بچے میں روایتی ہیجان پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے۔ اور اسے زندگی میں اخلاقیات کی اہمیت اور توازن سے بھی آشنا کیا جا سکتا ہے۔ بچے کے سامنے کسی دوسرے مذہب یا اس کے پیرو کا روں کی توہین یا تضحیک کی جائے اور نہ علاقائی اور نسلی تعصبات کی بحث کے ذریعے اس میں متشدد و نظریات پروان چڑھائے جائیں کیونکہ اس سے بچے کا ہیجانی نظام پراگندہ ہو سکتاہے اور بچہ بڑ ا ہو کر قوم نسل اورملک کا امن و امان تباہ کرنے کی راہ پر گامزن ہو سکتاہے۔

(ظہور ملتانی)