PDA

View Full Version : موٹاپے سے نمٹنے کے ليے سخت اقدامات ضروري



تانیہ
03-03-2012, 12:25 AM
ماہرين کا کہنا ہے کہ اگر دنيا بھر ميں حکومتيں اپنے عوام ميں موٹاپے پر قابو پانا چاہتي ہيں تو انہيں ’فاسٹ فوڈ‘ پر ٹيکس کے نفاذ جيسے سخت اقدامات کرنا ہوں گے-

بين الاقوامي محققين کا، جن کے مضامين ’دي لينسٹ‘ نامي جريدے ميں شائع ہوئے ہيں، کہنا ہے کہ دنيا کا کوئي بھي ملک ابھي اس بحران پر قابو پانے ميں کامياب نہيں ہو سکا ہے-

محققين کا کہنا ہے کہ معاشرے ميں آنے والي تبديليوں کي وجہ سے لوگوں کے ليے صحتمندانہ طرزِ زندگي اپنانا مشکل ہوتا جا رہا ہے-

ان کے مطابق ذيابيطس اور مٹاپے سے متعلقہ ديگر بيماريوں پر بيشتر ممالک ميں صحتِ عامہ کے بجٹ کا دو سے چھ فيصد خرچ ہو رہا ہے اور اگر حالات ميں تبديلي نہ لائي گئي تو يہ اخراجات مزيد بڑھ سکتے ہيں-

محققين نے امريکہ اور برطانيہ کے ليے اپني پيشنگوئياں بھي شائع کي ہيں- يہ دونوں ممالک ترقي يافتہ دنيا ميں مٹاپے کے مسئلے سے سب سے زيادہ دوچار ہيں-

ماہرين کا کہنا ہے کہ برطانيہ ميں آبادي ميں موٹاپے کي شرح سنہ 2030 تک پچيس فيصد سے بڑھ کر چاليس فيصد تک جا پہنچے گي- اس کي وجہ سے اين ايچ ايس پر سالانہ دو ارب ڈالر کا اضافي بوجھ پڑے گا جو صحت کے بجٹ کا دو فيصد ہے-

امريکہ ميں اخراجات ميں اس سے کہيں زيادہ اضافہ ہو گا جہاں اس وقت تک ہر دوسرا شخص موٹاپے کا شکار ہو گا- اس وقت امريکہ ميں يہ شرح تينتيس فيصد کے لگ بھگ ہے-

محققين نے تسليم کيا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے ليے معاشرے ميں ايک فرد سے لے کر صنعتوں تک سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا-

تاہم انہوں نے کہا ہے کہ حکومتوں کو اس سلسلے ميں مرکزي کردار ادا کرتے ہوئے قانون سازي کرني چاہيے اور بہتر ماحول کے ليے براہِ راست اقدام کرنا چاہيے-

ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے ميں غير صحتمند خوراک پر ٹيکس کے نفاذ، فاسٹ فوڈ کے اشتہارات پر پابندي اور سکولوں ميں آگاہي کے پروگرام جيسے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہيں اور ان اقدامات سے نہ صرف اخراجات ميں کمي ہوگي بلکہ لوگوں کي صحت بھي بہتر ہوگي