PDA

View Full Version : لا علمی ہزار نعمت ہے



گلاب خان
12-02-2010, 10:00 PM
زرقا مفتی ۔لاہور
کسی زمانے میں میں مولانا روم کی ایک حکایت پڑھی تھی جس پر یہ عنوان خوب بیٹھتا ہے کہ "لا علمی ہزار نعمت ہے" ۔ اس حکایت میں ایک شخص کو جانوروں کی گفتگو سے آئندہ پیش آنے والے حالات کا علم ہو جاتا ہے اور وہ اپنے طور پر ان کی پیش بندی کر لیتا ہے۔ ایک روز اُسے اپنی موت کا بھی علم ہو جاتا ہے مگر اس پر اس کی کچھ پیش نہیں چلتی۔

پاکستان کے راہنما تو پہلے ہی اس بات کے قا ئل ہیں کہ لا علمی ہزار نعمت ہے ۔ وہ عوام کو ہر بات سے لا علم رکھنا پسند کرتے ہیں۔ جب کوئی راہنما حکومت سے باہر ہوتا ہے تو چلا چلا کر عوام کو خفیہ راز فراہم کرنےکا وعدہ کرتا ہے۔ مرحوم ذوالفقار علی بھٹونے عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے معاہدہ تاشقند کی تفصیلات بتانے کا وعدہ کیاتھا مگر اقتدار میں آتے ہی جان گئے کہ لا علمی ہزار نعمت ہے ۔ حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کو دبائے رکھا جو نجانے کیسے مشرف دور میں شائع ہو گئی۔ شریف برادران بھی خاموشی سے ایک خفیہ معاہدے کے تحت جلاوطن ہو گئے اور معاہدے کے وجود سے انکاری رہے تاہم وہ ہمیں بالکل لا علم نہ رکھ سکے ۔ مرحوم بے نظیر صاحبہ بھی مشرف صاحب اور چوہدری برادران سے خفیہ معاہدہ کرنے کے بعد وطن لوٹیں ۔ این آر او کے لئے بھی خفیہ ڈیل ہوئی ۔ یہ تو کچھ ایسی خفیہ باتیں ہیں جو اب خفیہ نہیں رہیں ۔

مگر بھلا ہو جولین اسانز کا کہ وکی لیکس کی شائع کردہ خفیہ سفارتی دستاویزات میں پاکستان کے متعلق بھی کافی مواد شامل ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ زرداری صاحب این پیٹرسن کو شہباز شریف کی شکایتیں لگاتے رہے ہیں کہ انہوں نے لشکرِ طیبہ کو پیشگی اطلاع فراہم کی کہ بینکوں میں ان کے کھاتے منجمد کئے جارہے ہیں۔ یقینا شریف برادران بھی ہالبروک صاحب کی خدمت میں جوابی شکایتی عرضداشتیں پیش کرتے رہے ہونگے تاکہ وہ اُنہیں جلد از جلدپاکستان کے تخت کا حقدار قرار دے دیں۔

عوام کو یہ بھی علم ہوا ہے کہ زرداری صاحب "گندے(بچے)" ہیں اور نواز شریف صاف ستھرے ہیں مگر صرف ظاہراً اندر سے وہ بہت خطرناک ہیں۔ نجانے انہوں نے خلیجی شہزادوں کو اپنا کونسا خطرناک روپ دکھایا ہے ہم تو اُنہیں معصوم ہی سمجھتے تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ کیانی صاحب حکومت سے اتنے بھی لاتعلق نہیں جتنے نظر آتے ہیں۔ وہ بھی زرادری صاحب سے نالاں ہیں اور اُنہیں رُخصت کرنے کےطریقے سوچتے رہتے ہیں۔یقینا یہ اطلاع کیانی صاحب کے لئے سود مند نہیں کیونکہ زرداری صاحب اُنہیں دی گئی توسیع واپس لے سکتے ہیں۔ کیانی صاحب کو بھی ماننا پڑے گا کہ لا علمی ہزار نعمت ہے۔

البتہ ایک اطلاع کیانی صاحب کے مفاد میں ہے کہ اکثر غیر ممالک کی حکومتیں پاکستان میں فوج کی حکمرانی سے مطمئن رہتی ہیں۔

کاش وکی لیکس ہمارے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور افسر شاہی کے بیرونِ ملک خفیہ اثاثہ جات کے بارے میں بھی معلومات شائع کر تی۔ کاش ہمارے پاس بھی کوئی ایسا ذریعہ ہوتا جو پاکستان کےلا پتہ شہریوں کی گمشدگی میں ملوث افراد یا اداروں کے متعلق معلومات فراہم کر سکتا۔ کاش کوئی پاک لیکس جیسا ادارہ ہوتا جو یہ اطلاعات فراہم کر سکتا کہ ذخیرہ اندوزی کے ذریعے مصنوعی مہنگائی پیدا کنے میں کونسے خفیہ ہاتھ ملوث ہیں۔ کاش ہمیں معلوم ہو سکتا کہ میثاقِ جمہوریت میں کیا کیا عہد و پیماں باندھے گئے تھے شراکتِ اقتدار کا کونسا فارمولا طے ہوا تھا۔ حزبِ اختلاف کس عہد کے تحت مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئےہے۔ مگر پھر یاد آتا ہے کہ لاعلمی ہزار نعمت ہے۔

دُنیا کی واحد سُپر پاور امریکہ نے بھی اپنے سفارتی اہلکاروں کے ذریعے پیشگی اطلاعات کے انتظامات کر رکھے ہیں جن کے بل پر وہ غیر ممالک کے لئے اپنی پالیسیاں مرتب کرتا ہے۔ پاکستان جیسے بیشتر ممالک کے حکومتی ارکان اور اکابرین کے بہت سے راز امریکی اہلکاروں کے پاس محفوظ ہیں۔ ان خفیہ دستاویزات کے پٹارے کو جولین اسانز نے انٹرنیٹ جیسے چوراہے پرپھوڑ کر ہرکس و ناکس کو امریہے کے خلاف ہرزہ سرائی کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ سب کو معلوم ہو گیا کہ امریکہ سفارتی آداب کا کتنا پاس رکھتا ہے اور اس کے اہلکار سفارتی ذمہ داریوں کی آڑ میں کون کون سی خفیہ خدمات انجام دیتے ہیں۔

امریکہ اپنےوقار اور اپنی ساکھ کو قائم رکھنے کے لئے یقینا جولین اسانز کے خلاف تادیبی کاروائی کرے گا۔

جولین اسانز کے متعلق مشہور ہے کہ وہ دو راتیں ایک مقام پر بسر نہیں کرتا اور ہمیشہ سفر میں رہتا ہے۔ وہ اپنی ویب سائٹ کے معلوماتی ذخیرے کو آئس لینڈ جیسے کسی ملک میں منتقل کرنے کے لئے کوشاں ہے جہاں اسے دوسرے ممالک کی تادیبی کاروائیوں سے تحفظ مل سکے ۔

اب اُسے اپنے لئے بھی کسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش ہے کیونکہ سوئس حکام نے انٹرل پول کے ذریعے اس کی تلاش کے لئے "ریڈ نوٹس " جاری کردیا ہے۔

انٹر نیٹ پر جولین اسانز کے مذہب کے متعلق معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ اُس کا تعلق آسٹریلیا سے ہے اور بچپن میں اپنی والدہ کے ہمراہ مختلف شہروں میں رہائش تبدیل کرتا رہا ہے۔ وہ ہیکنگ کے الزام میں بھی ملوث ہوا مگر کچھ جُرمانے کی ادائیگی کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ اب تک اس کی قائم کردہ ویب سائٹ نے امریکہ کے متعلق ہی زیادہ معلومات فراہم کی ہیں۔ پہلے تو جنگی قوانین کی خلاف ورزیوں پر مشتمل راز افشا کئے گئے اور اب سفارتی آداب کی خلاف ورزیوں کا پول کھولا گیا۔

دُنیا کےبیشتر ممالک اور اُن کی حکومتوں نے جولین اسانز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے او ر وکی لیکس کی اطلاعات کو مجرمانہ قرار دیا ہے۔ بہت سے ممالک او ر اور ان کے سربراہان اس نفسیاتی خوف میں مبتلا ہیں کہ آئندہ کونسا راز کھلنے والا ہے۔

جولین اسانز نے ایک مشہورجریدے فوربز کے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ اگلے برس وہ امریکہ کے بڑے بینک میں ہونے والی مالی بےقاعدگیوں کے متعلق معلومات شائع کرے گا ۔ امریکی معیشت پہلے ہی جمود کا شکار ہے اور بہت سے امریکی بنک دیوالیہ ہو چکے ہیں ایک بڑے امریکی بنک کا سکینڈل سامنے آنے پر امریکی معیشت کو ایک ناقابلِ برداشت جھٹکا لگنے کا امکان ہے ۔ یقینا امریکی عہدیدار بھی اس مقولے کے قائل ہو گئے ہونگے کہ لا علمی ہزار نعمت ہے۔

جولین اسانز کے مستقبل کا حال تو شاید کوئی نجومی ہی بتاسکتا ہے۔ مگر میراذاتی خیال ہے کہ جولین اسانز بھی اسامہ بن لادن کی طرح کبھی امریکہ کے شکنجے میں نہیں پھنسے گا ۔

بہت سے حلقوں میں یہ قیاس ٓرائیاں جاری ہیں کہ وکی لیکس امریکی اور اسرائیلی خفیہ اداروں کا پروردہ ہے ۔ اسی لئے عراق جنگ سے متعلق لاکھوں خفیہ دستاویزات جار ی کرنے کے باوجود وہ امریکی غضب کا شکار نہیں بنا۔ امریکی قانون ساز اداروں نےایساکوئی قانون بھی وضع نہیں کیا جس کے تحت وکی لیکس کی سرگرمیوں کو خلافِ قانون قرار دیا جاسکے۔ اگروکی لیکس امریکی حمایت کے بغیر کام رہا ہوتا تو اب تک امریکہ اقوام میں متحدہ کے ذریعے ایک نیا بین القوامی قانون متعارف کروا چکا ہوتا جس کے تحت وکی لیکس کی اشاعت پر پابندی لگا دی جاتی۔

لیکن مستقبل قریب میں بھی ایسے کسی قانون کومتعارف کروانے کا عندیہ نہیں دیا گیا۔ ا س لئے ہم روایتی طور پر وکی لیکس کو امریکی خفیہ اداروں کی سازش قرار دینے میں حق بجانب ہیں۔

بےباک
12-07-2010, 10:40 AM
بہت ہی خوب لکھا زرقا مفتی نے ،
شکریہ آپ نے یہاں شیئیر کیا