PDA

View Full Version : پیکر ِ گل شعلہء خوشبو سے جلتے ہیں غزل



سیدہ سارا غزل
03-07-2012, 03:07 PM
رات بھر تاریکیوں پر مسکرائے ہیں چراغ
صبح ِ دم لیکن اجالوں نے بجھائے ہیں چراغ

قریہء غم میں چراغاں کا ہے منظر خواب سا
دل کی دیواروں پہ یادوں نے سجائے ہیں چراغ

زعفراں کی کھیتیوں پر جس طرح آئے بہار
سینہء پرخوں میں ایسے جگمگائے ہیں چراغ

شہسوار ِ آرزو کی برق رفتاری سے آج
دور تک گرد ِ سفر میں تھرتھرائے ہیں چراغ

چشم ِ حیرت سے انہیں کو دیکھتی ہے کائنات
وقت کے دریا میں جو ہم نے بہائے ہیں چراغ

ہم نے صحرا کے سفر کو جگمگانے کے لئے
چاند اور سورج کی مٹی سے بنائے ہیں چراغ

پیکر ِ گل شعلہء خوشبو سے جلتے ہیں غزل
ہم سمجھتے ہیں ہواؤں نے جلائے ہیں چراغ

سیدہ سارا غزل ہاشمی

این اے ناصر
03-07-2012, 03:38 PM
قریہء غم میں چراغاں کا ہے منظر خواب سا
دل کی دیواروں پہ یادوں نے سجائے ہیں چراغ


واہ واہ، بہت خوب ۔ مجھے اپ کی شاعری بہت اچھی لگتی ہے۔

سیدہ سارا غزل
03-07-2012, 04:33 PM
قریہء غم میں چراغاں کا ہے منظر خواب سا
دل کی دیواروں پہ یادوں نے سجائے ہیں چراغ


واہ واہ، بہت خوب ۔ مجھے اپ کی شاعری بہت اچھی لگتی ہے۔


بہت شکریہ سر ناصر شاہین۔ مولی کریم سلامت رکھے