PDA

View Full Version : میں اپنے آئینہ ء دل کے روبرو بیٹھا



بہزاد حسن شہاب
03-11-2012, 01:37 AM
میں اپنے آئینہ ء دل کے روبرو بیٹھا
خود اپنی شکل کو تکتا ہوں ہوبہو بیٹھا

مئے نظارہ کی خاطر اس انجمن میں تری
لئے ہوئے میں رہا آنکھ کا سبو بیٹھا

اب آنسوؤں کی رواں نہر پر دل ِ خستہ
شب ِ فراق میں اٹھ کر کرے وضو بیٹھا

کوئی نہیں ہے سزا وار ِ خلوت ِ غم ِ جاں
میں اپنے آپ سے کرتا ہوں گفتگو بیٹھا

افق میں ڈوب کے سورج جگر سے ابھرا ہے
چراغ ِزخم کے درپن میں آ لہو بیٹھا

نگارخانہ ء عالم پہ کیوں نظر رکھوں
شہاب خانہ ء دل میں جو میرے ہُو بیٹھا

بہزاد حسن شہاب

معزز حضرات گذشتہ دو برس مختلف ماہرین کے بلاگز ، سخنوروں سے شاعری اور اصول شاعری کے بارے جتنا پڑھا فاروق درویش جیسے اساتذہ سے جو کچھ سیکھا اس کے بعد چند نظمیں اور اب یہ ایک غزل لکھ سکا ہوں اور یہ میری پہلی غزل ہے ۔ آپ حضرات کی سچی اور کھری رائے میرے لئے بہت اہم اور مدد گار ہو گی ۔ شکریہ

سیما
03-11-2012, 03:20 AM
السلام علیکم بھائ
آپ نے بہت ہی اچھا لکھا سچی بات تو یہ مجھے بہت سمجھ نہیں ہے ۔ شعایری کی مگر پھر بھی مجھے اچھا لگا جو آپ نے لکھا ۔ جن کو سمجھ آتی ہو
وہ تو اور بھی سمجھکر آپکو جواب دینگے ویسے میرے ھیال میں اپ نے زبردست لکھا ہے شکریہ

میں اپنے آئینہ ء دل کے روبرو بیٹھا
خود اپنی شکل کو تکتا ہوں ہوبہو بیٹھا

این اے ناصر
03-31-2012, 12:43 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ