PDA

View Full Version : تحفظ حقوقِ وحیدہ شاہ



تانیہ
03-11-2012, 08:21 PM
-وحیدہ شاہ اگرجوڈو‘کراٹے کا مظاہرہ نہ بھی کرتیں تو بھی جیت جاتیں، کیونکہ ان کا تعلق حکمران جماعت سے ہے۔ بقول اقبال ؎ ’’چمن زادیم ازیک شاخساریم‘‘ لیکن شاید اتنی شہرت حاصل نہ ہوتی۔ اب دیکھیے ناں کہ ضمنی انتخابات میں دس افراد کامیاب ہوئے مگر ان میں سے 9 کے نام بہت کم لوگوں کو یاد رہ گئے ہوں گے۔ اخبارات میں بھی بس ایک دن نام آکر رہ گئے، مگرشاباش ہے وحیدہ شاہ کو، روزانہ نہ صرف اخبارات بلکہ ٹی وی چینلز پر بھی ان کا چرچا ہے۔ ان کو باربار دکھایا جارہا ہے اور ان کی جسارت سے بچہ بچہ واقف ہوگیا ہے۔ ہر کوئی ان کو دیکھنے کا مشتاق ہے، حتیٰ کہ عدالت ِعظمیٰ بھی۔ غنیمت ہے کہ محترمہ وحیدہ شاہ نے صرف خواتین پر ہاتھ اٹھایا، ورنہ وہاں مرد بھی تھے۔ لیکن یہ انتظامی ’’کروبیاں‘‘ تو طاعت کے لیے سرجھکائے کھڑے تھے۔ ان کو ٹنڈومحمدخان میں رہنا تھا۔ ورنہ کہیں دوردراز کے تھانے میں تبادلہ ہوجاتا، اور سندھ میں کہیں بھی جاتے پیپلز پارٹی کی حکومت سے باہر تو نہ نکل پاتے۔ اطاعت کرنے کے اپنے فائدے ہیں، خاص طور پرکسی منتخب نمائندے اور وڈیرے یا وڈیری کی اطاعت کے۔ ورنہ تو جو تھپڑ الیکشن کمیشن کی اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسر اور ان کی ساتھی کے منہ پر پڑے وہ کسی کو بھی پڑسکتے تھے۔ جمہوری طاقت پشت پر ہو تو کسی کی بھی دھنائی کی جاسکتی ہے۔ ویسے دورِآمریت میں بھی ایک وفاقی وزیرکے ہتھ چھٹ صاحبزادے ہوٹل میں کسی بیرے اور ایئرپورٹ پر اپنے سے آگے لائن میں لگے کسی شخص کو سبق سکھا چکے ہیں۔ یہ ضروری بھی ہے۔ ایک عام آدمی مقتدر طبقے کے کسی فرد سے آگے کیسے کھڑا ہوسکتا ہے! سابق وفاقی وزیر قانون جناب وصی ظفر اب نجانے کہاں ہیں جن کی گالیاں بھی آن ریکارڈ تھیں۔ یہ عین جمہوری فعل تھا جس میں عوام سے کچھ نہیں چھپایا جاتا۔ اسی لیے تو جنرل پرویزمشرف کا دعویٰ تھا کہ پاکستان کو ان سے بہتر جمہوریت کسی نے نہیں دی۔ موجودہ حکومت اس کے برعکس دعویٰ کرسکتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وحیدہ شاہ کا قصور صرف اتنا ہے کہ انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کے ’’تھپڑول‘‘ (بروزن چھترول) کی منظرکشی ہورہی ہے اور کیمرہ سب کچھ دکھا رہا ہے۔ یہ ان کی سادگی تھی اور منظر دکھانے والوں کی زیادتی جنہوں نے چادر اور چہار دیواری کا تقدس پامال کیا۔ ریکارڈنگ نہ ہوتی تو کسی کو پتا بھی نہ چلتا کہ کون پٹا اور کس نے پیٹ ڈالا۔ مخالفین بغیر ثبوت کے واویلاکرتے رہ جاتے۔ ایسے کتنے ہی واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ ہر تھانے میں چھترول ہوتی ہے۔ مگر شور وہیں مچتا ہے جہاں ایسا منظرکیمرے کی گرفت میں آجائے۔ یہ پولیس اہلکاروں کی نالائقی کی سزا ہوتی ہے کہ انہوں نے کسی کو اس کا موقع ہی کیوں دیا۔ اب تو سنا ہے کہ ایسا کام کرنے سے پہلے پولیس والے پورا اطمینان کرلیتے ہیں کہ کوئی ’’شبیر‘‘ دیکھ تو نہیں رہا۔ وحیدہ شاہ کو بھی کیمرے کی اس شرارت کا علم ہوتا تو وہ اپنا کام دیکھ بھال کر کرتیں، یا کسی اورکو خدمت کا موقع دیتیں۔ اس صورت حال پر سب سے اچھا تبصرہ سندھ کی وزیراطلاعات محترمہ شازیہ مری کا ہے۔ ان کی وزارت کا تعلق چونکہ ہمارے شعبے سے ہے اس لیے ہم ان کے بیان کی توصیف ہی کریں گے۔ گزشتہ منگل کو انہوں نے کراچی میں شعبہ صحافت کی طالبات کے لیے ایک امریکی ادارے کے تعاون سے منعقدہ ورک شاپ سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’وحیدہ شاہ خاتون ہیں اس لیے ذرائع ابلاغ ان کو بدنام کرنے سے گریزکریں۔‘‘ ان کی بات دل کو لگتی ہے۔ واقعی خواتین کا احترام کرنا چاہیے خواہ وہ کچھ بھی کرلیں۔ لیکن ایک سوال یونہی ذہن میں آگیا: کیا وحیدہ شاہ کے ہاتھوں پٹنے اور پٹ کر اپنی بے بسی پر رونے والی خواتین نہیں ہیں؟ کیا تھپڑ کھانے والی ان خواتین کا جگہ جگہ مذاق نہیں بنے گا؟ ان کے شوہروں اور بچوں پر یہ مناظر دیکھ کر کیا گزرتی ہوگی! لیکن الیکشن کمیشن کی متعین کردہ ان خواتین کا تعلق پیپلزپارٹی سے کہاں ہے! بدنام تو صرف وہ ہوتی یا ہوتے ہیں جن کا تعلق حکومت سے ہو۔ لیکن کیسی عجیب بات ہے کہ پورا حکمران طبقہ بدنام ہوکر نام کمارہا ہے۔ اور اس اشتہار کو حرزِجاں بنالیا ہے کہ ’’داغ تو اچھے ہوتے ہیں‘‘۔ ہماری وزیراطلاعات محترمہ شازیہ مری نے یہ بھی درست فرمایا کہ آخر مرد بھی تو ایسی حرکتیں کرتے رہے ہیں، ایک پریزائیڈنگ افسرکو اغواء کرکے تین دن تک اس پر تشدد کیا گیا اور پھرکہیں پھینک دیا گیا۔ بات تو ٹھیک ہے، وحیدہ شاہ نے تو ’’قصہ زمیں برسرزمین‘‘ نمٹادیا، کسی کو اٹھوایا نہیں، ورنہ وہ کچھ بھی کرسکتی تھیں۔ اس مہربانی کا اعتراف کرنا چاہیے۔ تاہم اگلے دن انہوں نے ایک برقع پوش خاتون کو ساتھ بٹھاکر ان سے جو پریس کانفرنس کروائی کیا یہ بوکھلاہٹ کی انتہا تھی یا بدنامی سے گریزکی ایک سعیٔ لاحاصل؟ ان برقع پوش خاتون کو صحافیوں نے مذکورہ اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسر تسلیم کرنے ہی سے انکارکردیا اور بعد میں یہ بات ثابت ہوگئی۔ کل کلاں کو کوئی اور بھی برقعہ پہن کر بیٹھ جائے گا اور اس سے یہ کہلوادیا جائے گا کہ وہ ہی ہیلری کلنٹن ہے۔ خود موصوفہ بھی جمعہ کو عدالت ِعظمیٰ میں برقعہ اوڑھ کر پیش ہوئیں۔ انہوں نے بڑے قاضی صاحب (جماعت اسلامی والے نہیں) کو متاثر کرنے کے لیے کہا کہ ’’جناب! میرے تو وکیل بھی آپ ہیں اور جج بھی‘‘۔ جج صاحب نے متاثر ہونے کے بجائے یہ تبصرہ کیا کہ ’’بی بی! پولنگ اسٹیشن میں تو آپ ہی وکیل بھی تھیں، پولیس بھی اور جج بھی‘‘۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے محترمہ شیری رحمن نے تحفظ حقوقِ نسواں کا جو بل پیش کیا تھا، کیا وہ صرف اپنی خواتین کے لیے تھا؟ یا اس میں تھپڑکھانے والی خواتین کے تحفظ کا بھی ذکر ہے؟ چیف الیکشن کمشنر تو اسی بات پر ناراض ہیں کہ وحیدہ شاہ کے نتائج کیوں روک لیے گئے۔ اس سے ظاہر ہے کہ الیکشن کمیشن کو خود اپنے متعین کردہ اہلکاروں کے تحفظ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ مار کھانے والی اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسر کے پاس مجسٹریٹ کے اختیارات تھے لیکن اب تک کس نے استعمال کیے جو وہ کرتیں! اور آخرکار انہیں رہنا تو مگرمچھوں کے درمیان ہی ہے۔ ہمیں انتظار ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری اور لاشریک چیئرمین جناب آصف علی زرداری کب وحیدہ شاہ کی پکڑ کریں گے۔ اب تک تو زبانی مذمت بھی نہیں کی گئی۔

اطہر علی ہاشمی

بےباک
03-12-2012, 12:12 AM
http://i1.tribune.com.pk/wp-content/uploads/2012/03/347507-WaheedaShahPHOTOFILEEXPRESSTRIBUNE-1331274291-791-640x480.jpg

http://i1.tribune.com.pk/wp-content/uploads/2012/02/342446-wahidaexpress-1330343673-557-640x480.jpg

ابوبکر
03-13-2012, 11:52 AM
ٹنڈومحمد خان کے ضمنی الیکشن میں کامیاب ہونے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار وحیدہ شاہ کو اپنا ہی تھپڑ پڑ گیا۔ الیکشن کے دوران پریذائیڈنگ آفیسرز کو تھپڑ مارنے پر الیکشن کمیشن نے ٹنڈو محمد خان کا ضمنی الیکشن کالعدم قرار دیتے ہوئے وحیدہ شاہ کو دو سال کے لیے نااہل قرار دے دیا ہے۔وحیدہ شاہ کا تھپڑ جن خواتین کو پڑا تھا ۔انہوں نے تو تھپڑمار خاتون کو معاف کر دیا ہے لیکن میڈیا ، سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وحیدہ شاہ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔اس کا کریڈٹ جیو نیوز کو جاتا ہے جس نے وحیدہ شاہ کے تھپڑ کی گونج کو کم نہیں ہونے دیا۔تھپڑ مارنے کے مناظر بار بار دکھائے جاتے رہے ۔مجھے یقین ہے پچھلے عام الیکشن میں اگر میڈیا اور الیکشن کمیشن اتنے ہی آزاد ہوتے تو اسپیکر سندھ اسمبلی نثار کھوڑو کو لاڑکانہ کے ایک پولنگ اسٹیشن میں غنویٰ بھٹو کی موجودگی میں پڑنے والے تھپڑ کا بھی اسی طرح نوٹس لیا جاتا ۔دیر آید درست آید۔کیا یہ سمجھ لینا چاہیے کہ عدم برداشت ، عدم مساوات اور عدم انصاف کا دور گزرگیا ؟ عام آدمی کو دن رات پڑنے والے تھپیڑوں کا رخ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے موڑ دیا گیا ؟ اب جو الیکشن آئیں گے تو کیا دھونس ، دھاندلی، ووٹوں کی خریدو فروخت جیسے واقعات نہیں ہوں گے ؟ اور کوئی سیاسی جماعت یا کوئی امیدوار ایسا کرے گا تو اس کا انجام بھی وحیدہ شاہ جیسا ہو گا ؟ نہیں تو اپنی تو وہ مثال ہے بقول جون ایلیا

http://jang.net/data/blog_images/3-7-2012_6712_l.JPG

عشق میں اُن کے طمانچے کھائے ہیں .... دیکھ لو سرخی میرے رخسار کی

این اے ناصر
03-13-2012, 01:39 PM
بہت ہی افسوس ناک واقعہ ہے۔ یہ توہمارے لیڈروں کاحال ہے۔ پتہ نہیں کب جاگے گااس قوم کاضمیر!