PDA

View Full Version : کیپٹن راجہ محمد سرور شہید



علی عمران
11-22-2010, 12:27 PM
چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم
رسولِ پاک نے بانہوں میں لے لیا ہو گا
علی تمہاری شجاعت پہ جھومتے ہوں گے
حسین پاک نے ارشاد یہ کیا ہو گا
تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں
شام کے جھٹ پٹے میں ایک وجیہہ نوجوان چہل قدمی کرتے ہوئے گاؤں کے کنویں تک چلا آیا۔دیکھا کہ ایک تھکا ماندہ بزرگ کنویں کی منڈیر پر سر جھکائے بیٹھا ہے۔
“بابا! کیا بات ہے۔آپ یہاں اس طرح کیوں بیٹھے ہیں؟“نوجوان نے بوڑھے کے پاس رکتے ہوئے پوچھا۔
اس کی آواز میں ہمدردی جھلک رہی تھی۔
“بیٹا!بوڑھا آدمی ہوں۔چلتے چلتے تھک گیا ہوں۔ویسے بھی معذور ہوں“
بوڑھے کی بات سُن کر نوجوان کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا۔ دلی تکلیف کا احساس اس کے خوبصورت اور توانا چہرے کو زرد کر گیا۔
“بابا! آپ کو کہاں جانا ہے؟“ نوجوان نے اس کے میلے کچیلے کپڑوں پر نظر ڈالی۔
“مسجد تک جانا چاہتا ہوں بیٹا، رات وہیں پڑا رہوں گا صبح اپنے گھر چلا جاؤں گا جو یہاں سے دو گاؤں دور ہے۔“بوڑھے نے تھکے تھکے لہجے میں کہا۔
“کھانا کھایا آپ نے؟“نوجوان نے اسے غور سے دیکھا۔
“نہیں بیٹا۔پردیسی ہوں۔غریب ہوں،معذور ہوں۔“بوڑھے کا لہجہ بھرا گیا۔
نوجوان نے تڑپ کر آسمان کی طرف دیکھا۔پھر اس کا ہاتھ بوڑھے کے شانے پر آ گیا۔
“آئیے بابا! میرے ساتھ آئیے“اس نے بوڑھے کو کنویں کی منڈیر سے اٹھاتے ہوئے جلدی سے کہا۔
“کہاں بیٹا!“بوڑھا اٹھتے ہوئے بولا۔
“آپ آئیے تو۔“نوجوان نے اسے سہارا دے کر اپنے ساتھ چلاتے ہوئے کہا۔
نوجوان اس بوڑھے کو گھر لے آیا۔بے حد لذیذ کھانا کھلایا اور اپنے کمرے میں لے جا کر اپنے بستر پر لٹا دیا۔
“آپ یہاں آرام کریں بابا،صبح چلے جائیے گا۔“ اس نے بوڑھے کے بوسیدہ بدن اور میلے کپڑوں پر عمدہ کمبل اوڑھاتے ہوئے کہا۔ پھر بوڑھے کے جواب کا انتظار کئے بغیر باہر نکل گیا۔
گھر والے نوجوان کی انسانی ہمدردی پر اس لئے معترض نہ ہوئے کہ وہ اس کی عادات کے حُسن سے آشنا تھے۔جانتے تھے کہ وہ کسی بھی انسان یا حیوان کو تکلیف میں دیکھ کر حد سے گزر جاتا ہے اور جب تک اس کی اپنی تسلی نہ ہو جائے حسن سلوک کے زینوں پر قدم بہ قدم چڑھتا چلا جاتا ہے۔
صبح ہوئی نوجوان نے بوڑھے کو بڑے پیار سے جگایا۔ہاتھ منہ دھلوایا۔ناشتہ کرایا۔چُپکے سے سفر خرچ اس کی جیب میں ڈالا اور اسے گاؤں سے باہر چھوڑ آیا۔ وہ اپنا ہر کام جب تک خود تکمیل تک نہ پہنچا لیتا،اطمینان سے سو نہیں پاتا تھا۔
درمیانہ قد،سڈول جسم،متناسب اعضاء،موٹی موٹی آنکھوں، بارعب آواز، گندمی رنگ اور بھاری مونچھوں کے حامل اس جوان کا نام محمد سرور(شہید) تھا۔ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس کے بیشتر افراد فوج میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ایک طرح سے یہ فوجی خاندان تھا۔اپنے بڑوں کو فوج کی زندگی گزارتے دیکھ کر محمد سرور شہید بھی بچپن ہی سے خود کو سپاہیانہ اندازِ نشست و برخاست میں ڈھال چکے تھے۔وہ 10 نومبر 1910 کو موضع سنگوری تحصل گوجر خان ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔یہ علاقہ بارشوں کی کمی کے بعث زیادہ تر بنجر اور غیر آباد ہے۔ لوگوں کو زراعت کا موقع ہی نہیں ملتا کہ زمین کچھ اگلنے کے لئے تیار نہیں ہوتی اس لئے اکثریت فوج میں ملازم ہے۔
محمد سرور شہید عید کے دن پیدا ہوئے اور حسن اتفاق دیکھئے کہ ان کی شہادت جس دن واقع ہوئی وہ عید سے اگلا دن تھا۔
محمد سرور شہید کے گھرانے میں مذہب کو بنیادی اور کلی حیثیت حاصل تھی۔ اسی لئے ان کو ابتدائی تعلیم گاؤں کی مسجد میں دلوائی گئی۔ چھ برس کے ہوئے تو ان کے والد نے انہیں چک نمبر 229۔گ ب ضلع فیصل آباد (اُس وقت لائلپور) کے مقامی سکول میں داخل کروا دیا۔یہاں سے پانچ جماعتیں محمد سرور شہید نے بے حد امتیازی نمبروں سےپاس کیں۔1925 میں تاندلیہ نوالہ مڈل سکول سے آٹھویں جماعت پاس کی۔ 1927 میں میٹرک اول پوزیشن لے کر پاس کیا۔اس وقت ان کی عمر سترہ برس تھی۔
چونکہ شروع سے رحجان مذہب کی طرف زیادہ تھا۔ذمے داری اور فرض شناسی گھُٹی میں پڑی تھی۔طبیعت میں امن پسندی اور صلح جوئی کو بے حد دخل تھا۔گروہ بندی اور دنگے فساد سے ہمیشہ بچ کر رہے۔ انگریزوں کا دورِ حکومت تھا جب انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ مسلمانوں کی معاشی حالت اور معاشرتی حالت دگرگوں تھی۔ عیسائی حکومت اور اس کے حلیف ہندوؤں کا بڑا مقصد یہ تھا کہ اول تو مسلمانوں میں تعلیم عام نہ ہونے دی جائے اور اگر کوئی مسلمان پڑھ لکھ ہی جائے تو محض کلرک بن سکے یا چپراسی بن کر زندگی گزار دے۔
ان نامساعد حالات میں محمد سرور شہید کے دل میں ایک ہی آرزو کی جوت جل رہی تھی کہ وہ ایک فوجی، ایک سپاہی بن کر زندگی گزاریں۔ کلرکی یا دفتری ماحول ان کی طبیعت سے میل نہ کھاتے تھے۔ یہ لگن ان کے عزائم کو جلا بخشتی رہی اور ایک دن آیا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو کر رہے۔
محمد سرور شہید کا گھرانہ ایک معزز راچپوت گھرانہ تھا۔ ان کے والد جناب محمد حیات خاں فوج میں حوالدار تھے۔ نیکی، خدا ترسی اور سخاوت ان کی پہچان تھے۔ انگریز حکومت نے ان کو پہلی جنگِ عظیم میں بہادری سے بھرپور کارنامے سر انجام دینے پر 3 مربع زمین الاٹ کی تھی۔یہ زمین اس وقت کے ضلع لائلپور (حالیہ فیصل آباد) کے چک نمبر 229 گ ب تحصیل سمندری میں واقع تھی۔ وہ اس زمین کے حامل گاؤں کے زمیندار بھی رہے۔ پکے سچے مسلمان اور انصاف پسند نمبردار کے طور پر محمد حیات خاں کا نام آج بھی علاقے میں فخر سے لیا جاتا ہے۔ 23 فروری 1932 کو محمد سرور شہید کے والد جناب محمد حیات خاں کا انتقال ہوا تو انہوں نے پسماندگان میں چار بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی۔ان کی اولاد میں سب سے بڑے بیٹے کا نام محمد مرزا خاں تھا جو فوج سے دفعدار میجر کے عہدے پر ریٹائرڈ ہوئے۔ فرض شناسی، دلیری اور بے خوفی کے اعتراف میں انگریز حکومت نے انہیں ایک مربع زمین انعام میں دی۔
راجہ محمد مرزا خاں سے چھوٹے محمد سردار خاں بھی فوج میں حوالدار تھے۔ ان سے چھوٹے اور تیسرے بیٹے کا نام راجہ محمد افسر خاں تھا جو فوج میں جانے کے بجائے زمینداری کر کے زندگی بسر کرتے رہے۔یہ اپنے علاقے کی یونین کے بے حد مقبول اور عزیز خلائق ممبر بھی رہے۔
کیپٹن راجہ محمد سرور شہید ، محمد حیات خاں کے چوتھے اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے جو نشانِ حیدر حاصٌ کر کے خاندان اور مملکتِ پاکستان کے لئے فخر و ناز کا باعث بنے۔
میٹرک کرنے کے بعد جب ان کا تعلق فوج سے قائم ہوا تو دل کی مراد بر آئی۔تن من سے اپنے فوجی شوق کو پورا کرنے کے لئے دن رات ایک کرنے والے محمد سرور شہید کو فوجی وردی سے عشق تھا مگر عجیب بات تھی کہ جونہی فوج سے رخصت پر گھر آتے تو فوجی وردی اتار کر سنبھال دیتے اور سادہ شلوار قمیض زیبِ تن کر لیتے۔نماز کے پابند تھے اس لئے جمعے کی نماز کا خاص اہتمام کرتے اور اس روز اسلاف کی روایات پر پوری طرح عمل کرنے کی سعی کرتے۔ یہ اہتمام یوں عام لوگوں کو متاثر کرتا کہ جمعے کی نماز کے لئے محمد سرور شہید چوغہ یا عبا پہن کر پڑھنے جاتے۔
مطالعے کے شوقین تھے اور اچھی خصوصاََ اسلامی اور اخلاقی موضوعات کی حامل کُتب ضرور پڑھتے تھے۔شاعروں میں ان کو علامہ اقبال سے بے حد محبت اور شغف تھا۔ اقبال کے بے شمار شعر انہیں زبانی یاد تھے۔ ان کے شاگردوں کو آج بھی ان کی سحر طراز گفتگو کے وہ حصے ازبر ہیں جن میں وہ ٹریننگ کے دوران اقبال اور دوسرے ممتاز شعراء کے کلام سے چار چاند لگا دیا کرتے تھے۔
محمد سرور شہید کی عادات احسن میں نماز، تلاوت قرآن پاک اور مطالعے کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔عصر کے بعد وہ اکثر چائے پیت مگر سُنت ابراہیمی کی خوبصورتی سے مزین ان کی عادت تھی کہ کبھی اکیلے چاہئے نہ پیتے۔ واقف یا نا واقف کوئی نہ کوئی شخص ضرور اپنے ساتھ چائے پر مدعو کر لیتے۔
سخاوت اور دوسرے انسانوں کے کام آنے کا جذبہ محمد سرور شہید کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔کسی کو تکلیف میں دیکھتے تو تڑپ اٹھتے۔ جب تک حتی الامکان اس کی تکلیف کو دور نہ کر لیتے چین نہ آتا۔ایک بڑھیا کو دینے کے لئے جیب میں ریزگاری نہ تھی تو اس سے باقاعدہ معافی مانگی۔ کچھ دور گئے تو دل بے تاب ہو اٹھا۔ گوارا نہ کیا کہ محض ریزگاری نہ ہونے کے باعث اللہ کے نام پر دینے سے انکار کر دیا۔ فوراََ واپس آئے۔ بڑھیا تلاش بسیار کے بعد ملی تو اسے اس کی طلب سے سوا پیش کیا۔ دوبارہ معافی مانگی اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے انہیں کسی کے کام آنے کی توفیق بخشی۔
محمد سرور شہید کی ساری زندگی عبادت اور سخاوت سے عبارت ہے۔ چھپ چھپ کر دوسروں کے کام آنا ان کو بے حد مرغوب تھا۔ نمود و نمائش گھبراتے ہی نہیں ڈرتے تھے کہ اللہ اس پر گرفت نہ کر لے۔اپنے سے کمتر لوگوں، خصوصاََ اپنے سٹاف اوت ملازموں کے حق میں ان کی دریا دلی، ذمے داری کے احساس اور پیار و محبت کے واقعات کا ایک انبار ہے جو ان کی یادوں میں اشکبار بے شمار لوگوں کی باتوں میں محفوظ ہے۔ان کے اردلی نے ان کی محبت اور شفقت کے بے شمار واقعات میں سے چند ایک کا ذکر کرتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں بتایا کہ ایک بار کیپٹن صاحب نے مرغی کھانے کی خواہش ظاہر کی۔ میں جب مرغی پکا کر لایا تو انہوں نے دریافت کیا۔
“جوان! اپنے لئے بھی مرغی کا سالن رکھا ہے یا نہیں؟“
“صاحب! آپ کھائیے۔ میں بعد میں کھا لوں گا۔“میں نے جواب دیا۔
“یعنی تم میرے بعد میرا بچا ہوا کھاؤ گے؟“کیپٹن* صاحب نے درشتی سے کہا۔
“صاحب! اس میں کیا حرج ہے؟“میں نے آہستہ سے کہا۔
“حرج ہے جوان۔“ کیپٹن صاحب نے اسی لہجے میں کہا۔“اللہ جب مجھ سے پوچھے گا کہ تم نے اپنے بچے کھچے کو میرے بندوں پر تقسیم کیا تو میں کیا جواب دوں گا؟“
یہ کہہ کر کیپٹن صاحب نے اپنے سے پہلے میرے لئے سالن الگ کیا اور میرے حوالے کرتے ہوئے کہا۔“اسے جا کر کھاؤ یا کسی کو دے دو مگر میرے سامنے سے لے جاؤ۔“
اردلی نے جب یہ واقعہ سنایا تو آخری الفاظ پر وہ بچوں کی طرح ہچکیاں لے کر رو رہا تھا۔ اس نے مزید بتایا۔
“کیپٹن صاحب ہر دو تین ماہ کے بعد مجھے زبردستی چھٹی پر گھر بھیجتے۔سفر خرچ کے لئے روپیہ پیسہ،گھر والوں کے لئے کپڑا لتا اور دیگر سوغاتیں ہمراہ کرتے اور جب چھٹی سے واپس آتا تو بے حد خوش ہوتے۔“
نمود و نمائش سے پرہیز کے عادی محمد سرور شہید اگر کسی انسان کے کام آتے تو اسے پوشیدہ رکھتے تھے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اللہ کے راستے میں کوئی نیکی کرتے اور اس کی تشہیر کرتے۔ان کے ملازموں اور اردلی کا کہنا ہے کہ وہ اکثر کسی مسجد، مدرسے یا کسی اور مد میں اللہ کے راستے پر خرچ کرتے تو کبھی اپنا نام ظاہر نہ کرتے۔اول تو رسید ہی نہ لیتے اور اگر ضروری ہوتا تو کوئی فرضی نام ظاہر کیا جاتا۔ایسے بیشتر کام وہ اپنے ہاتھ سے نہ کرتے بلکہ رقم یا جنس ہم ملازموں کے ہاتھ متعلقہ ادارے یا فرد تک بھجواتے اور اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی سخت تاکید کر دیتے۔
درویش صفت محمد سرور شہید کو کھانے میں تکلف قطعاََ پسند نہ تھا۔جو پکتا کھا لیتے۔ ہاں فرمائش کر کے بھی کبھی کبھی پسند کی شے بنواتے تاہم اکثر وہی کھا پی لیتے جو پیش کیا جاتا۔کبھی کسی کھانے کو ناپسند نہ کرتے نہ اس میں کوئی نقص نکالتے۔زندگی بھر لہو و لعب سے بچ کر رہے۔رقص و سرود، بدکاری اور شراب و شباب ان کی زندگی میں کبھی جگہ نہ بنا پائے۔جس رینک کے وہ آفیسر تھے وہاں شراب و شباب ایک عام شے ہوا کرتی ہے مگر محمد سرور شہید نے ہمیشہ ایسی محفلوں اور تقریبات سے گریز کیا جن میں حرام کاری اور بدمستی کے امکانات ہو سکتے تھے۔
ان کی سالانہ اے سی آر میں ان کو ہمیشہ “غیر سوشل“ لکھا گیا۔مطلب یہ تھا کہ وہ شراب و شباب کی محفلوں میں شرکت نہیں کرتے تھے۔ اس بات کا علم جب کیپٹن محمد سرور شہید کو ہوا تو انہوں نے بڑی خوش دلی سے کہا۔
“اگر بدکاری اور شراب نوشی سے انسان سوشل ہو جاتا ہے تو میں غیر سوشل ہی بھلا۔“
محمد سرور شہید چاہتے تو ان کی شادی ان کی پسند سے بھی ہو سکتی تھی مگر انہوں نے تو اس طرح کا کبھی خیال بھی نہ کیا۔عشق محبت اگر ان کی زندگی میں تھے تو وہ شادی سے پہلے ان کو اپنے کام سے تھا اور شادی کے بعد ان کی محبت کا محور ان کی بیوی اور بچے تھے۔ان کی شادی ان کے خاندان میں ایک نیک سیرت،سلیقہ شعار،خوش اخلاق خاتون محترمہ کرم جان سے ہوئی۔شادی کی تقریب بے حد سادہ اور اسلامی روایات کی منہ بولتی تصویر تھی جو 15 مارچ 1936 کو ان کے آبائی گاؤں سنگوری میں منعقد ہوئی۔ان کی بیوی کیپٹن صاحب کی زندگی میں اور بعد میں بھی برقعے کی سٹی سے پابند رہیں۔پردہ ان کی روایات کا بہترین امین ہے۔
کبڈی اور فٹبال محمد سرور شہید کے پسندیدہ کھیل تھے۔فوج میں بھی فٹ بال کھیلتے رہے۔ان کی ٹیم نے جولائی 1943 میں ایف شنسی کپ جیتا۔اس کے علاوہ ان کو نشانہ بازی اور گھوڑ دوڑ سے بھی بے حد شغف تھا۔چھٹیوں میں گھر آتے تو اکثر دوستوں کے ساتھ شکار پر نکل جاتے۔ بھائیوں کے ساتھ کھیت میں ہل چلاتے۔گاؤں والوں کے مسائل سنتے۔ ان کے جھگڑے قضئے نبٹاتے۔فیصلے کرتے۔باہم رنجشیں دور کرواتے۔صلح صفائی کروا کر بے حد خوش ہوتے۔ ان کی زندگی گہما گہمی،محبت،پیار بانٹنے اور دعائیں سمیٹنے کی ایک ایسی مسلسل داستان ہے جس کا اختتام شاید کبھی نہیں ہو گا کہ وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔یادوں میں تابندہ ہیں۔
محمد سرور شہید 1929 میں بلوچ رجمنٹ میں ایک سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہوئے اور پہلا فوجی کورس کرنے کے لئے اولڈ بلوچ سنٹر کراچی چلے گئے۔اگلے دو سال تک شمال مغربی سرحدی صوبے میں خدمات سر انجام دیں۔1941 میں اسی رجمنٹ میں محمد سرور شہید حوالدار ہو چکے تھے۔ اس دوران انہوں نے درائیونگ کا کورس کر لیا۔1941 میں وہ رائل انڈین آرمی میں جونئیر کمشنڈ آفیسر منتخب ہوئے اور وی سی او سکول آف رائل انڈین سروس کور میں انسٹرکٹر کی خدمات سر انجام دینے لگے۔1942 میں ان کو ہنگامی کمشن میں منتخب کیا گیا۔ ٹریننگ کورس کے بعد انڈین ملٹری اکیڈمی ڈیرہ دون سے 19 مارچ 1944 کو سیکنڈ لیفٹیننٹ ہو کر نکلے۔27 اپریل 1944 کو یہ لیفٹیننٹ بنا دئیے گئے۔1945 میں دوسری جنگِ عظیم کا خاتمہ ہوا تو 1946 تک محمد سرور شہید پنجاب رجمنٹ میں متعین رہے۔1946 میں ان کو پنجاب رجمنٹ (سیکنڈ) میں بھیج دیا گیا یکم فروری 1947 کی تاریخ محمد سرور شہید کی زندگی میں بے حد اہم تھی۔اس تاریخ کو انہیں فل کیپٹن کا عہدہ دیا گیا۔
کشمیر کو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تنازع بنا دینے کا غلیظ کام انگریزی حکومت نے ہندوؤں کے ساتھ ملی بھگت کے نتیجے میں انجام دیا۔بے شمار چھوٹی موٹی جھڑپوں کے بعد جولائی 1948 میں دشمن نے کشمیر میں ایک اہم چوکی پر قبضہ کرنے کے بعد پیش قدمی کا منصوبہ بنایا۔سیکنڈ پنجاب رجمنٹ کو جوابی کاروائی کے لئے کشمیر جانے کا حکم دیا گیا۔محمد سرور شہید اس وقت اپنی ٹریننگ میں مصروف تھے اور ٹریننگ ختم ہونے سے پہلے انہیں رجمنٹ کے ساتھ کشمیر جانے کی اجازت نہ دی جا سکتی تھی مگر ان کے کمانڈنگ آفیسر نے ان کی جوش اور ولولے سے بھرپور گفتگو سنی تو انہیں محاذ پر جانے کی اجازت دے دی۔
رمضان کا مبارک مہینہ تھا بیوی بچوں سے ملنے کے لئے صرف دو دن کی چھٹی منظور ہوئی۔محمد سرور شہید نے گاؤں پہنچ کر ایک ایک شخص سے فرداََ، فرداََ ملاقات کی۔مندرا سٹیشن سے جب وہ رخصت ہوئے تو پورا گاؤں ان کو الواداع کہنے کے لئے موجود تھا۔محمد سرور شہید یہاں سے مری میں اپنی یونٹ سے جا ملے۔ ان کی ڈیوٹی بحیثیت سگنل آفیسر کے لگائی گئی۔
کشمیر میں محاذِ جنگ پر پہنچے تو اوڑی کے مقام پر ایک پہاڑی دشمن کے قبضے میں تھی۔پہاڑی اس قدر صحیح مقام پر تھی کہ دشمن پاک فوج کی تمام نقل و حرکت سے پوری طرح با خبر رہتا تھا۔کوئی پیش قدمی اس کی نگاہوں سے اوجھل نہ تھی۔ ضروری تھا کہ دشمن کے قبضے سے اس پہاڑی کو آزاد کرایا جائے یا اسے اس پہاڑی سے ہٹا دیا جائے۔ایک دن کمانڈر نے اپنے جوانوں کو اکٹھا کیا اور کہا۔
“یہ پہاڑی ہمارے لئے ایک چیلنج بن چکی ہے۔کوئی لمحہ نہیں گزرتا کہ ہم دشمن کی نظروں میں نہ ہوں۔وقت کا تقاضا ہے کہ کمپنی کی کمان کسی ایسے نوجوان کے سپرد کی جائے جو اس مہم کو سر کر سکتا ہو یعنی اس پہاڑی سے مکار دشمن کو نیست و نابود کر سکتا ہو۔جو جوان اس مہم کا بیڑا اٹھا سکتا ہو، آگے آ جائے۔“
پوری کمپنی پر سناٹا چھا گیا۔ ہر شخص جانتا تھا کہ یہ موت کے منہ میں جانے والی بات ہے۔موت کے خوف سے کوئی بھی سہما ہوا نہیں تھا مگر کامیابی کے چانسز اتنے کم تھے کہ کسی کو بھی ہاں کہنے کی جرات نہ ہو رہی تھی۔
تب ایک نوجوان آگے بڑھا۔ اس کے“یس سر“ نے فضا کا سینہ دہلا دیا۔اردگرد کی ہر شے نے اسے حیرت،پھر فخر سے دیکھا۔
“میں اس مہم کا بیڑا اٹھاتا ہوں سر“
ایک دھماکہ تھا جس نے سوچ میں ڈوبے ہر فوجی کو چونکا کر رکھ دیا۔
کمانڈر نے چمکتی آنکھوں،تنے ہوئے سینے اور عزم کے کوہِ گراں محمد سرور شہید کی طرف بڑے ناز سے دیکھا اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“یو کین ڈو اٹ کیپٹن۔“بے اختیار اس کے ہونتوں سے نکلا اور محمد سرور شہید کا سینہ جذبہ جہاد سے پھول گیا۔
یہ 27 جولائی 1948 کی رات کا آخری پہر تھا جب محمد سرور شہید نے اپنے جوانوں کے ساتھ ٹارگٹ کی طرف پیش قدمی شروع کی۔دشمن حسبِ معمول ساری کاروائی پر نگاہ رکھے ہوئے تھا۔توپوں کے گولے برس رہے تھے۔مشین گنوں سے فائرنگ جاری تھی۔دونوں طرف سے ہر ہر حربہ آزمایا جا رہا تھا۔
مجاہدین اسلام کو نیچے سے اوپر پیش قدمی کرنا تھی جبکہ دشمن اوپر پہاڑی مورچوں میں محفوظ اور اس حالت میں تھا کہ اپنا آپ 100 فیصد بچا کر مجاہدین کو نقصان پہنچا سکے۔محمد سرور شہید کا جذبہ جہاد دیدنی تھا۔وہ اپنے جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے آگے آگے تھے۔فائرنگ کرتے ہوئے وہ جہاں دشمن پر حملہ کر رہے تھے اس کی فائرنگ اور بمباری کا جواب دے رہے تھے وہیں اپنے جوانوں کی آڑ اور ڈھال بھی بنے ہوئے تھے۔اپنے آفیسر کو اس جانثاری کا مظاہرہ کرتے دیکھ کر ان کے جوانوں میں برق سی دوڑ گئی۔وہ دائیں بائیں پھیل کر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنتے چلے گئے۔پھر ان کے جسم جوش و جذبے سے تڑخنے لگتے جب محمد سرور شہید ان کا حوصلہ بڑھانے کو نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے ایک ایک قدم پر دشمن کے لئے قہر بن جاتے۔
ایک بار جو محمد سرور شہید نے نعرہ تکبیر بلند کیا تو جواب میں ایک فلک شگاف دھاڑ “اللہ اکبر“ کی شکل میں ان کے کانوں تک پہنچی۔انہوں نے پلٹ کر دیکھا۔اللہ اکبر کا اختتام ایک ہچکی پر ہوا تھا۔
ان کی نظریں اپنے برین گنر فرمان علی پر جم گئیں جو ان کے نعرے کا جواب دے کر جامِ شہادت ہونٹوں سے لگا چکا تھا۔ان کو سیلوٹ کرنے کے علاوہ مزید وقت نہ مل سکا۔
دشمن کے حملے میں ایک بار پھر شدت پیدا ہو چکی تھی۔ کئی جوان اس بار موت سے گلے مل گئے مگر ساتھیوں کی تعداد میں آنے والی کمی نے محمد سرور شہید اور دوسرے جوانوں کے جوش میں دو چند اضافہ کر دیا۔محمد سرور شہید نے اپنی گن سنبھالی اور دیوانہ وار دشمن کے مورچے کی طرف فائرنگ کرتے ہوئے بڑھتے چلے گئے۔
چند گز دور دشمن اپنے مورچے سے ان پر بم اور گولیاں برسائے جا رہا تھا اور اس لئے بھی اب تک مطمئن تھا کہ اس کے مورچے کے ارد گرد خار دار تاریں لگی تھیں۔یہ دیکھ کر محمد سرور شہید کی پیش قدمی میں ذرا سی کمی آئی۔اس نئی صورتحال کے لئے دماغ تیزی سے مصروفِ خیال تھا۔کیا کیا جاتا کہ دشمن کا یہ حفاظتی حصار برباد ہو کر رہ جاتا۔
اسی وقت ایک گولی نے محمد سرور شہید کا دایاں شانہ ادھیڑ دیا۔تکلیف کا احساس تو اسے ہوتا جسے زخم کی پرواہ ہوتی۔وہاں تو زخموں سے زیادہ گولیوں پر نگاہ تھی کہ دشمن کے سینے میں کتنی اتریں اور کتنی اسے مجروح کر گئیں۔
محمد سرور شہید نے ایک پل میں فیصلہ کیا۔
“جوانوں میرے پیچھے آؤ۔“انہوں نے دھاڑ کر کہا اور دو تین جستوں میں خار دار باڑ کے نزدیک جا پہنچے۔دشمن کا ہدف اب صرف محمد سرور شہید تھے۔ان کے زخم کا منہ کھل چکا تھا۔خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔دشمن کی گولیاں ان کے دائیں بائیں سے اور سر کے اوپر سے گزر رہی تھیں مگر ان کے چہرے پر خوف نام کی شے کا کوئی شائبہ بھی نہ تھا۔
انہوں نے گن کندھے پر ڈالی اور خار دار تار کو کاٹنے لگے۔ وہ چاہتے تھے کہ اپنے اور دشمن کے درمیان حائل یہ آخری دیوار بھی گرا دیں۔پھر اس کے بعد دشمن کو شاید بھاگنے کا راستہ بھی نہ مل پاتا۔
آخری تار کٹنے کو تھی کہ دشمن کی فائرنگ نے محمد سرور شہید کا سینہ چھلنی کر دیا۔
ایک جھٹکے سے انہوں نے آخری تار کو دو حصوں میں بانٹا اور مسکراتے ہوئے گن شانے سے اتار لی۔ان کی آنکھوں میں ایک بار تیز چمک لہرائی۔ہاتھوں کی گرفت گن پر مضبوط ہوئی۔ٹریگر پر انگلی دباؤ بڑھا۔دشمن پر آخری برسٹ کے ساتھ ہونتوں سے “اللہ اکبر“ کے الفاظ ادا کرتے ہوئے اور مسکراتے ہوئے محمد سرور شہید نے اپنے رب کے حضور لبیک کہہ دیا۔
اپنے کمانڈر کو شہید ہوتے دیکھ کر جوانوں پر دیوانگی طاری ہو گئی۔وہ جسم و جان سے لاپراہ ہو کر نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے ہوئے آگے بڑھے اور دشمن پر یوں ٹوٹ پڑے کہ وہ حراساں، حیران اور بیگانہ حواس ہو کر مورچے سے بھاگ نکلا۔
چند لمحے نہ گزرے تھے کہ صبح کے سورج نے اپنی تابناک کرنوں کی روشنی میں اس پہاڑی پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے دیکھا۔ اس نے سر اٹھایا اور محمد سرور شہید کے جسدِ خاکی کو اپنی آمد کا سیلوٹ پیش کیا۔
اوڑی پر پاک فوج کا قبضہ ہو چکا تھا۔
محمد سرور شہید کو “تل پترا“ کے مقام پر اس زمین کے حوالے کر دیا گیا جو شہداء کو ماں کی آغوش کی طرح سنبھالے رکھتی ہے۔ اسے اذن نہیں ہے کہ شہداء کے جسم کو بال کی نوک کے برابر بھی نقصان پہنچا دے۔
جنرل اسکندر مرزا کا دور تھا جب 23 مارچ 1957 کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر اس نے کیپٹن محمد سرور شہید کے اس زندہ جاوید کارنامے پر انہیں نشانِ حید دینے کا اعلان کیا مگر یہ اعزاز دینے کی تقریب فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں کے دورِ حکومت میں 27 اکتوبر کو منعقد ہوئی۔یہ انقلابِ ایوب کی پہلی سالگرہ کا دن تھا۔
تقریب راولپنڈی میں منعقد ہوئی جہاں کیپٹن محمد سرور شہید کت عظیم الشان کارناموں اور زندگی سے انتخاب کردہ چیدہ چیدہ واقعات کا تذکرہ کیا گیا۔ ان کی سیرت کے روشن گوشوں کو سامنے لایا گیا۔ ان نیکیوں کا احترام سے ذکر کیا گیا جن کو وہ اپنی زندگی میں کبھی بھی سامنے لانے سے گریزاں رہے۔ ان کی بیگم محترمہ کرم جان کو کیپٹن محمد سرور شہید کا نشانِ حیدر دیا گیا۔پاکستان کی عسکری تاریخ کا پہلا اور سب سے بڑا اعزاز نشانِ حیدر جو آنے والی نسلوں کو ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا کہ شہید کی موت، قوم کی حیات ہوتی ہے۔
جنرل ایوب خاں نے اپنے خطاب میں یہ گونجدار اور فخریہ الفاظ کہے۔
“میں کیپٹن محمد سرور شہید کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہوں جنہوں نے سب سے پہلا نشانِ حیدر حاصل کر کے پاکستان کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔انہوں نے اپنی قربانی سے پان،اپنی فوج اور اپنی بٹالین کا نام ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا ہے۔بے شک ان کی قربانی پر ہم سب کو فخر ہے۔ آئیے! ہم سب مل کر عہد کریں کہ اس سنہری کارنامے کی یاد ہمیشہ تازہ رکھیں گے۔

تانیہ
11-22-2010, 03:52 PM
بہت شکریہ خوبصورت شیئرنگ کے لیئے

انجینئرفانی
10-07-2012, 07:18 AM
بہت خوب

pervaz khan
10-07-2012, 01:51 PM
خوبصورت شیئرنگ کے لیئے بہت شکریہ