PDA

View Full Version : دس ملین ڈالرز میں کھودا پہاڑ اور نکلا۔از۔ محمد احمد ترازی



گلاب خان
12-02-2010, 10:11 PM
بالآخرسابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے اقوام متحدہ کمیشن کی رپورٹ اردو کے مشہور محاورے”کھودیا پہاڑ نکلا چوہا“یا ”وہی ڈھاک کے تین پات“ کی مصداق نکلی،دس ملین ڈالرز( تقریباً 86کروڑ پاکستانی روپئے) کی ادائیگی اورنو ماہ کے انتظار کے بعد اقوام متحدہ کی جانب سے 65صفحات پر مشتمل ایک ایسی رپورٹ کا اجراءجس کی خاص خاص باتوں سے ایک عام پاکستانی بھی بخوبی آگاہ ہے،کو صدر اورحکومت کی جانب سے اپنی توقعات کے عین مطابق قرار دینا انتہائی اہم اور حیرت ناک ہے،اہم اِس لئے کہ ِاس رپورٹ سے صدر صاحب اور اُن کے خاندان کی بریت کا اظہار ہوتا ہے اور حیرت ناک اِس لئے کہ پاکستانی قوم کی خون پسینے کی کمائی کو عوام دوستی کے نعرے لگانے والی حکومت نے ایک ایسے کار لاحاصل میں پھونک ڈالا،جس کا نتیجہ سوائے صفر کے اور کچھ نہیں اور دوسال میں لاکھوں ڈالر کے اخراجات کے بعد قوم کو صرف یہ بتایاگیا کہ”پاکستانی پولیس نالائق ہے،سیکورٹی کا نظام ناقص تھا،قتل میں طالبان،القاعدہ اورپاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کردار کاجائزہ لیاجانا چاہیے،بے نظیرکی موت میں گاڑی کے لیورلگنے یا بیت اللہ محسود کے ملوث ہونے کے حکومتی دعوے سے قبل ازوقت ہیں،جس دورحکومت میں بے نظیربھٹو کا قتل ہوا تھا اُس دورکے حکمران اِس قتل کے ذمہ دارہیں،بم دھماکے کے بعد مناسب تحقیقات نہیں کی گئیں،جائے حادثہ سے ہزاروں شواہد مل سکتے تھے لیکن صرف23 شواہد اکھٹے کیے گئے،حادثہ کے بعد علاقہ کی دھلائی اور پوسٹ مارٹم نہ کرانا تحقیقات پر اثراندازہوا،بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پولیس اہلکاروں کی جانب سے درست اقدامات کرنے میں ناکامی جان بوجھ کرتھی،رحمان ملک جو کہ نجی طورپر بے نظیر بھٹو کی سکیورٹی کے ذمہ دارتھے،اِس سانحہ کے فوراً بعد گاڑی سمیت غائب ہوگئے،ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ صدر آصف زرداری یا اُن کے خاندان کا کوئی فرد اِس واقعے میں ملوث ہو سکتا ہے اور موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مجرموں کو کیفرکردارتک پہنچائے۔“

دلچسپ بات یہ ہے کہ چلی کے سفیر ہیرالڈو منوزکی قیادت میں قائم تین رکنی کمیٹی نے جن لوگوں سے ملاقات کی اورجن افراد سے تفتیش کی ہے اُن سب نے ہی تقریباً وہ تمام باتیں دہرادیں جو وہ کمیشن کے پاکستان آنے سے قبل میڈیا کے سامنے آچکی تھیں،پاکستانی قوم اپنی ایک محبوب لیڈرسے محرومی اور اُن کی موت کی تحقیقات پر ایک کروڑ ڈالر ضائع کرنے کے بعد جس نتیجے کو ہاتھ میں لیے کھڑی ہے اُس میں ایسی کون سی انہونی بات ہے جو قوم کو پہلے سے معلوم نہیں تھی،ہاں اقوام متحدہ کے ذریعےاِس تحقیقات سے دنیا کے سامنے یہ ضرور آگیا کہ پاکستان ایک ایسا غیرمحفوظ ملک ہے،جہاں سیکورٹی کے انتظامات ناقص،پولیس کرپٹ اور نااہل ہے اور اسٹیبلشمنٹ اتنی طاقتور ہے کہ وہ کچھ بھی کرسکتی ہے،اب رہی یہ بات کہ بے نظیر کے قتل کی ذمہ دار پرویز مشرف حکومت پر ہے،تو اصول و قاعدہ یہی کہتا ہے کہ وہی حکومت اور حاکم وقت مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے جس کے دور حکومت میں سانحہ وقوع پزیر ہوتا ہے،لہٰذااِس لحاظ سے رپورٹ میں پرویز مشرف اور اُس کی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانا بھی کوئی نئی بات نہیں،یہی وہ معلوم اہم نقاط ہیں جن کی طرف اقوام متحدہ کے کمیشن نے توجہ دلائی ہے اور جس کیلئے ہماری حکومت نے قوم کے کروڑوں روپئے ضائع کردیئے،جبکہ عوام،میڈیا اور حکومتی ذمہ داران اِن نتائج کو بہت اچھی طرح جانتے تھے، لیکن خدا معلوم وہ کیا وجوہات تھیں کہ حکومت نے اِس واقعہ کی کرمنل انکوائری کرانے کے بجائے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹانے میں بہتری جانی اورجس کی وجہ سے بات گھوم پھرکر بات وہیں آکھڑی ہوئی”کہ بے نظیرکے قتل کی تحقیقات حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔“اسطرح ایک کروڑ ڈالر خرچ کرکے آج ہماری قوم وہیں آکھڑی ہوئی جہاں27دسمبر 2007کو تھی ۔

درحقیقت بے نظیر بھٹو قتل کیس کی اقوام متحدہ کی رپورٹ نے اُن بے شمار پاکستانیوں کو شدید مایوس کیا ہے جو یہ توقع لگائے بیٹھے تھے کہ بین الاقوامی ادارہ کسی بڑی سازش کو بے نقاب کرے گا،البتہ بعض حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ رپورٹ میں اُس پولیس افسر کی نشاندہی کردی گئی ہے جسے شامل تفتیش کر کے قاتلوں تک پہنچا جا سکتا ہے اور بے نظیر قتل کیس کا کھرا تلاش کیا جاسکتا ہے،بعض سیاسی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں بے نظیر کے قاتلوں اور منصوبہ سازوں کی براہ راست نشاندہی نہیں کی ہے،لیکن ایسے اشارے ضرور دیئے ہیں جو اِس معاملے میں اُس وقت کی فوجی قیادت کے کردار کو مشکوک کرتے ہیں،بعض تجزیہ نگا ر کہتے ہیں کہ نہ صرف اُس پولیس افسر کو شامل تفتیش کرنا ضروری ہے جس پر حقائق کو چھپانے کا الزام عائد کیا گیا ہے بلکہ رپورٹ میں واضح نشاندہی کے بعد اُس پولیس افسر کی زندگی کے حفاظت بھی ضروری ہوگئی ہے،کیونکہ بے نظیر بھٹو کی سکیورٹی میں شامل ایک اہم شخص خالد شہنشاہ پہلے ہی پراسرار حالات میں ہلاک کیا جا چکا ہے۔

مشہوردفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیر (ر)فاروق حمید کے مطابق” اب آصف علی زرداری پر یہ دباؤ بڑھ جائے گا کہ وہ اُن قاتلوں کا نام بتائیں جن کے بارے میں انہوں نے 30دسمبر 2007کو گڑھی خدا بخش میں بے نظیر بھٹو کی سوئم کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ وہ بے نظیر کے قاتلوں کو جانتے ہیں۔“اِس موقع پر انہوں نے مسلم لیگ ق کیلئے قاتل لیگ کی اصطلاح بھی استعمال کی،اُن کی اِس تقریر سے عام خیال یہی پیدا ہوا تھا کہ پیپلز پارٹی آنے والے وقت میں مسلم لیگ ق اور اُس کے سرپرست اعلیٰ پرویز مشرف سے بے نظیر بھٹوکے خون ناحق کا حساب لے گی،لیکن چشم فلک نے یہ حیرت ناک منظر بھی دیکھا کہ پیپلز پارٹی ہی کے دور حکومت میں پرویز مشرف (جنہیں آج بے نظیر بھٹو کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے ) کو بے نظیر کی زندگی کے تحفظ میں ناکامی کے باوجود انتہائی عزت و احترام اور مکمل پروٹوکول کے ساتھ گارڈ آف آنر کے سائے میں رخصت کیا گیا،ایک آمر وقت کے ساتھ اِس حسن سلوک پر عوامی حلقے اور خود پیپلز پارٹی کے وابستگان آج بھی ششدر اور انگشت بدنداں ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی رائے عامہ نے اقوام متحدہ کمیشن رپورٹ کو اِس وجہ سے بری طرح مسترد کردیا ہے کہ اِس میں کوئی نئی بات نہیں،تاہم پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور صدر مملکت جناب آصف علی زرداری اِس بات پر خوش ہیں کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ انہیں اور پیپلز پارٹی کو بے گناہ قرار دیتی ہے،جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ بے نظیر کی شہادت پر کسی نے بھی پیپلز پارٹی کی جانب انگلی نہیں اٹھائی کیوں کہ محترمہ بےنظیر بھٹو کی ذات خود پیپلز پارٹی تھی اوراُن کی ذات سے پارٹی کے ہر جیالے سمیت وطن عزیز کا ہر محب وطن فرد محبت اور عقیدت رکھتا تھا،تاہم کچھ انگلیاں خودآصف زرداری اور بے نظیر بھٹو کی حفاظت پر مامور رحمان ملک کی طرف ضرور اٹھی تھیں،جس کی وجہ اپنی لیڈر کی حفاظت کیلئے خاطر خواہ انتظامات کا نہ کرنا اور حادثے کے وقت وہاں سے غائب ہوجانا تھا،یہی وہ وجوہات ہیں جس کی وجہ سے رحمان ملک ایک عرصے سے عوامی تنقید کا نشانہ بنتے چلے آئے ہیں اوراسی وجہ سے کمیشن نے جہاں پرویز مشرف حکومت کو بے نظیر کی شہادت کا ذمہ دارقرار دیا،وہیں اُس ٹیم کو بھی مشکوک قرار دیا جو پیپلز پارٹی کی طرف سے محترمہ کی حفاظت پر مامور تھی۔

گو کہ اقوام متحدہ کے نام نہاد تلاش حقیقت کمیشن نے ہر چند کہ کسی حقیقت کا انکشاف نہیں کیا،لیکن جناب زرداری صاحب کیلئے مندرجہ بالا پہلو کے ساتھ یہ بات بھی خاص توجہ طلب ہے کہ حکومت کی طرف سے حفاظتی اقدامات کی ذمہ داری اُس وقت کے سیکرٹری داخلہ کمال شاہ کی تھی جبکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے جناب رحمان ملک کی،لیکن کیا اسے اتفاق سمجھا جائے گا کہ پیپلز پارٹی نے حکومت سنبھالتے ہی کمال شاہ کی مدت ملازمت میں دو سال کی توسیع کردی،جبکہ رحمان ملک آج وفاقی وزیر داخلہ ہیں،اقوام متحدہ کی رپورٹ میں تو اِس پر بھی شبہ کا اظہار کیا گیا ہے کہ بی بی کے آگے چلنے والی سیاہ مرسیڈیز حملہ ہوتے ہی غائب ہوگئی،جس میں جناب رحمان ملک،بابر اعوان اور فرحت اللہ بابرسوار تھے،آج یہ تینوں حضرات اہم حکومتی مناصب پر فائز ہیں،آج پیپلز پارٹی کے ذمہ داران اِس بات پر اطمینان کا اظہار کررہے ہیں کہ رپورٹ میں آصف زرداری اور بی بی کے خاندان کے کسی فرد کو حادثہ کا ذمہ دار قرار نہیں دیاگیا،لیکن یہ بات توجہ طلب ہے کہ جب ایک اخبار ی نمائندے نے نیویارک میں کمیشن کے چیئر مین مسٹر ہیرالڈو سے اِس حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے آصف زرداری سمیت کسی کو باعزت بری کیا،نہ کسی پر فرد جرم عائد کی،کیوں کہ یہ کمیشن کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا،ہیرالڈو مونیز کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کے بارے میں افواہیں بہت سنی ہیں،لیکن کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

اب جبکہ بلی تھیلے سے باہر آچکی ہے اور کروڑوں روپے کے اخراجات سے اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ جو اِس وقت قوم کے سامنے ہے،میں کوئی نئی بات اور نیا انکشاف نہیں بلکہ وہی باتیں دہرائی گئی ہیں جو پہلے سے میڈیا میں گردش کرتی رہی ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر رپورٹ میں اُن اہم باتوں مثلاً یہ کہ ”یہ ہولناک واقعہ27 دسمبر2007ءکو پیش آیا، اُس وقت سے لے کر آج، دوسال ساڑھے تین ماہ تک صدرمملکت آصف زرداری یا اُن کے کسی عزیز نے قتل کے اتنے بڑے واقعہ کی ایف آئی آر کیوں درج نہیں کرائی.....؟ رپورٹ میں اِس بات کی نشاندہی بھی نہیں کی گئی کہ بے نظیر بھٹو ہجو م کے درمیان گاڑی میں آرام سے بیٹھی ہوئی تھیں،انہیں کس بات نے مجبور کیاکہ وہ گاڑی کی چھت سے سر نکال کر باہر کی طرف دیکھیں.....؟رپورٹ میں اِس بات کا ذکر ہی نہیں کیاگیا اِس سانحہ کے بعد بے نظیر کو ہسپتال لے جانے والی گاڑی کے پہیے کس طرح اچانک پنکچر ہوگئے تھے.....؟ رپورٹ میں اِس بات کا بھی جائزہ بھی نہیں لیاگیا کہ بے نظیر بھٹو کی اِس المناک شہادت سے کس کس کو کیا کیا فائدہ حاصل ہوا.....؟ رپورٹ میں بعض اعلیٰ شخصیات پر رکاوٹ ڈالنے کا الزام تو لگایا گیا ،لیکن اِس کے باوجوداُن کے نام صیغہ راز میں کیوں رکھے گئے....؟ اِس کے ساتھ یہ بات بھی قابل توجہ تھی کہ پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں بریگیڈئر(ر)جاوید اقبال چیمہ،سابق سیکرٹری خارجہ سید کمال شاہ اورسابق سی سی پی او راولپنڈی سعود عزیز سمیت رپورٹ میں مذکور ہر مشکوک شخص کو مراعات سے نواز ا.....؟“پر یا تو توجہ ہی نہیں دی گئی یا پھر انہیں جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا جومحترمہ کی شہادت کے بعد سے مسلسل سوالیہ نشان بنی ہوئی ہیں،بے نظیر بھٹو کے قتل سے جڑی یہ وہ پراسرار کڑیاں ہیں جن کے حوالے سے چہ مگوئیاں آج بھی زبان زد عام ہیں اور اُس وقت تک جاری رہیں گی جب تک کہ اصل حقائق سامنے نہیں آجاتے۔

بہرحال حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ رپورٹ بے معنی اور اِس کے معین مفہوم کی بنیاد پہلے سے زیر گردش معلومات کا زخیرہ ہے، حسب توقع اقوام متحدہ کی کمیشن کی جاری کردہ رپورٹ سے بے نظیرکے قتل کے حقیقی محرکات اور اِس کے ذمہ داروں کا تعین کرنے میں کوئی مدد نہیں مل سکی ہے،اِس رپورٹ نے اِس کے علاوہ کسی اہم بات کی طرف اشارہ نہیں کیا کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویزمشرف کی حکومت بے نظیربھٹو کی حفاظت کی ذمہ داری میں ناکام رہی اور حکومت کے پاس بے نظیربھٹو کی زندگی کو لاحق خطرات کے پیش نظر کوئی مناسب حفاظتی منصوبہ نہیں تھا،اسی کے ساتھ کمیشن نے راولپنڈی پولیس کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات پربھی عدم اطمینان کا اظہار کے ساتھ بے نظیربھٹو کے حفاظتی انتظام کے سلسلے میں پیپلزپارٹی کے سیکورٹی انچارج کے انتظامات کو بھی ناکافی قراردیاہے،اِس لحاظ سے اقوام متحدہ کی رپورٹ سے کم ازکم ایک بات تو ثابت ہوگئی کہ پاکستانی پولیس تفتیشی اداروں اورانٹیلی جنس ایجنسیوں نے جان بوجھ کر غیرذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور بے نظیربھٹو کے قتل کے حقیقی محرکات اور اُس کے حقیقی ذمہ داروں پرپردہ ڈالا،یہ انکشاف اہل پاکستان کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے،ہاں اقوام متحدہ کمیشن کی رپورٹ میں موجودہ حکمرانوں کے لیے صرف ایک ہی بات منفی ہے اور وہ یہ کہ موجودہ حکومت نے بے نظیربھٹو کے قتل کی حقیقی تحقیقات نہیں کیں،بے نظیربھٹو کے خون کے نتیجے میں برسراقتدار آنے والی حکومت نے بے نظیر کے حقیقی قاتلوں تک پہنچنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ اگرصرف اِس سوال کا جواب ہی تلاش کرلیاجائے تویہ مسئلہ حل ہوسکتاہے،جبکہ خود صدر آصف زرداری یہ کہتے ہیں کہ وہ قاتلوں سے بخوبی واقف ہیں،لیکن اِس کے باوجود انہوں نے تمام ذمہ داری اقوام متحدہ کے کمیشن پرڈال دی،جو یہ بھی نہیں بتاسکا کہ اِس قتل کے اصل محرکات اور اسباب کیا تھے۔

اِس کی وجہ یہ ہے کہ کمیشن کا کام صرف تحقیقات اور حالات کے تعین تک محدود تھا اور مجرموں کی تلاش اُس کی ذمہ داری نہیں تھی،لیکن اِس کے باوجود اگر اس رپورٹ سے کچھ افراد اور ادارے سامنے آ گئے ہیں تو یہ موجودہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تحقیقات کا دائرہ آگے بڑھائے اور ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرے،تاکہ اِس بات کا تعین کیا جاسکے کہ جن اداروں کا نام لیا گیا اُن کے کون کون سے افراد غفلت اور غیر ذمہ داری کے مرتکب ہوئے ہیں،کس کے حکم پر ایسا کیا گیا اور وہ کون ہے جو اِس راہ میں رکاوٹ بنا؟ اِس المناک سانحہ کے حوالے سے مکمل تحقیقات اور اِس میں ملوث افراد کو قانون کی گرفت میں لانا اسلئے بھی ضروری ہے کہ ماضی میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان،حسین شہید سہروردی اور جنرل ضیاءالحق سمیت اعلیٰ فوجی حکام کی شہادت کے پس پردہ عوامل اور اصل وجوہات کو آج تک قوم کے سامنے نہیں لایا جاسکا،اسلئے بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باب میں بھی یہی خدشہ تھا کہ شائد قوم کو اسباب اور افراد کا علم نہیں ہو سکے گا،لیکن اِس رپورٹ کے اجراءکے بعد عوام یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ موجودہ حکومت جلد از جلدایسا موثر،ٹھوس اور نتیجہ خیز لائحہ عمل اختیار کرے گی جس سے محترمہ کے اصل قاتلوں کی نشاندہی ہو سکے گی اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لا کرنمونہ عبرت بنایا جاسکے گا، لیکن اگراب بھی حکومت نے ایسا نہیں کیا تو بی بی سی کے مطابق ”اقوام متحدہ نے اِس رپورٹ کا گز میدان میں رکھ دیا ہے،اب دو ہی راستے ہیں یا تو حکومت اِس گز سے بارودی سرنگوں سے اَٹا میدان ناپ لے یا پھر گردن نپوانے “ کیلئے تیار رہے ۔