PDA

View Full Version : شہادت و ہلاکت...سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیرخان



بےباک
03-12-2012, 07:04 PM
شہادت و ہلاکت...سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیرخان
آجکل ہمیں یہ دیکھ کر اور پڑھ کر سخت اَفسوس ہوتا ہے کہ چند نہایت ہی متبّرک اصطلاحات کو نہ صرف غلط طور پر استعمال کیا جاتا ہے بلکہ ان کو کلام الٰہی کے برخلاف،( جس میں نہایت صاف اور غیر مبہم طور پر ان کی تشریح کی گئی ہے) استعمال کیا جارہا ہے۔ ہماری تاریخ ایسی لاتعداد مشہور شخصیات سے بھری پڑی ہیں جو ایسے مقدّس اَلقاب کے مستحق تھے اور ان کو ہی یہ القاب دیے گئے تھے۔
ایک مخصوص مثال ہمارے معاشرہ میں اسکی یہ ہے کہ مقدّس قرآنی زبان کو غلط طریقہ سے استعمال کیا جاتا ہے، حقیقت و سچائی کو چھپا کر اس کے بدلہ اپنے مطلب و مقصد کے معنی و القاب توڑ مروڑ کر پیش کئے جاتے ہیں۔ اسکی تازہ مثال لفظ شہید کا استعمال سیاسی مقاصد کے لئے ہے ۔
کلام مجید میں پہلی سورة فاتحہ میں (آیت 5تا7 ) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ”اے پروردگار ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں، ہم کو سیدھے راستہ پر چلا، ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو اپنا فضل و کرم کرتا رہا“۔ آپ کو یہ علم ہونا چاہئے کہ جن لوگوں پراللہ تعالیٰ اپنا فضل و کرم کرتا ہے وہ اعلیٰ رتبہ رکھتے ہیں۔ آپ ان میں پیغمبروں، صدیقین، اور شہداء کو شامل کرسکتے ہیں۔ اس مقدّس القاب یا مرتبہ کواللہ تعالیٰ نے نہایت صاف اور غیرمبہم الفاظ میں بیان کیا ہے اور رسول اللہ نے نہایت سادہ اور صاف الفاظ میں اس کی تشریح کردی ہے۔ اسلام کے لاتعداد بہادر اور جرأت مند پیروکاروں نے اپنے اعمال و کردار سے اس کی عملی مثالیں چھوڑی ہیں اور آج بھی جب کافر یا مشرک ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں توافواج پاکستان کے جانباز اور دلیر جوانان و افسران حقیقی معنوں میں اپنی جان دے کر شہادت کا اعلیٰ رتبہ حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح شہید کی تعریف میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہے اور ہم بہ آسانی شہادت اور عام ہلاکت میں تفریق یا امتیاز کرسکتے ہیں۔
ہمارے پیارے رسول صلعم نے متعدد احادیث میں فرما یا ہے کہ تمام کاموں کی بنیاد ان کی نیت پر منحصر ہوتی ہے۔ آپ نے شہادت اور شہید کی صفات بھی بیان فرمائی ہیں۔ ان میں پیغمبراسلام کے مشن کی تکمیل کی جدّوجہد و خواہش، اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تشہیر اور اس میں کسی قسم کا ذاتی مقصد یا شہرت حاصل کرنا نہ ہو اور نہ ہی مالی فائدہ یا اقتدار کی ہوس و جستجو شامل ہو۔
اگر ان مقاصد کے حصول میں کوئی مسلمان اپنی جان قربان کردے تو اس کو شہادت کا مقدّس رتبہ ملتا ہے۔ اگر اس سے انحراف کیا گیا تو یہ اللہ اور اس کے پیغمبر کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے اور صرف سیاسی مقاصد کا حصول ہے۔
دیکھئے کلام مجید میں لاتعدادجگہ شہید کو شہادت یا گواہ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے مثلاً سورہ بقرہ (آیت 143,133 )، سورہ نور(آیت6 )، سورہ ق (آیت 21 )، سورہ آلِ عمران(آیت 98 )، سورہ المائدہ ا(آیت 114 )، سورہ القصص (آیت 75 )۔ عربی لغات میں لفظ شہید پر تفصیلی بحث موجود ہے اور شہید اللہ تعالیٰ کے اسما ئے گرامی میں سے ایک اِسم ہے۔
شہید کی جہاں دوسری صفات بیان کی گئی ہیں وہاں ایک صفت یہ بھی ہے کہ (اللہ کی راہ میں ہلاک ہونے یا قتل ہونے والے) کو اس لئے شہید کہتے ہیں کہ جان فروشی کے صلے میں وہ یہ عزّت و شرف پائے گا کہ قیامت کے دن رسول اللہ صلعم کے ساتھ مل کر وہ بھی گزشتہ اُمّتوں کے بارے میں گواہی دے گا۔ حقیقت میں شہید کا اطلاق تو اس شخص پر ہوتا ہے جو اللہ کی راہ میں دشمنان اسلام سے لڑتا ہوا جان قربان کردے۔ لوگوں نے اس کے معانی میں وسعت پیدا کرکے اس زمرہ میں ان لوگوں کو بھی شامل کرلیا جو کسی اور وجہ سے مرجائیں یا ڈوب کر مرجائیں۔ عقل اس قسم کے لوگوں کو شہید کا مقدّس منصب دینا قبول نہیں کرتی ہے۔
قرآن مجید میں لفظ شہید بمعنی مقتول فی سبیل اللہ صرف ایک ہی مرتبہ بصورت جمع شہداء استعمال ہوا ہے۔ سورة النِسا، آیت 69 ، ”جس کسی نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی تو بلاشبہ وہ ان لوگون کا ساتھی ہو ا جن پر اللہ تعالیٰ نے رحم کیا یعنی انعام کیایعنی نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور نیکوکاروں کا۔ احادیث میں لفظ مقتول فی سبیل اللہ بکثرت آیا ہے مگر کلام مجید میں شہید (یعنی مقتول فی سبیل اللہ) ایک وضاحتی طریقہ سے بیان کیا گیا ہے مثلاً سورہ اٰلِ عمران آیت 157 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ، ”(دیکھو) اگر تم اللہ کی راہ میں قتل ہوگئے یا اپنی موت مرگئے تو اللہ کی طرف سے جو رحمت اور بخشش تمھارے حصّہ میں آئے گی وہ یقینا ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جس کی پونجی لوگ جمع کیا کرتے تھے“۔ اور آیت نمبر 69 1 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”اے پیغمبر جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں ان کی نسبت ایسا خیال نہ کرنا کہ وہ مرگئے ہیں، نہیں ، وہ زندہ ہیں اور وہ اپنے پروردگار کے حضور روزی پارہے ہیں“۔ اور سورہ محمد، آیت 4 تا6 تک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ”جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ہیں اللہ ان کے اعمال کو ضائع نہیں کریگا، ان کو راہ دکھائے گا اور ان کے احوال کو درست کریگا اور اُنھیں بہشت میں داخل کریگا جس سے ان کو روشناس کررکھا ہے“۔
اَحادیث کی کتابوں میں شہید کی اصطلاح خصوصی طور پر اس شخص کیلئے آئی ہے جو کفّار کے ساتھ جنگ کرکے اپنی جان دیدیتا ہے اور اس طرح اپنے ایمان پر سچائی کی مہر لگا دیتا ہے۔ احادیث میں ذکر ہے کہ ایسا شہید قبر میں منکر نکیر فرشتوں کے امتحان سے محفوظ رہتا ہے اور سے نہ ہی برزخ یعنی گناہوں سے پاک کرنے والی آگ سے گزرنا پڑے گا۔ شہدا جنت کے بلند ترین درجہ تک پہنچ جاتے ہیں جو عرش الٰہی سے قریب ترین ہے۔
حدیث میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شہید کے زخم جو اسکو جہاد میں لگتے ہیں روز جزا تازہ ہوجائینگے اور چمکیں گے اور ان میں سے مشک کی خوشبو آئے گی۔جنت کے رہنے والوں میں سے کوئی بھی زمین پر واپس نہیں آسکے گا لیکن ان مخصوص مراعات کی وجہ سے جو اسے شہادت کی وجہ سے حاصل ہونگی وہ خواہش کرے گا کہ دنیا میں آکر دس مرتبہ پھر شہید ہو۔ شہدا شہادت کے ساتھ ہی تمام گناہوں سے سزا سے بری کردیئے جاتے ہیں۔ بعض روایات میں تو وہ ہمیں دوسرے آدمیوں کی شفاعت کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ تو پہلے ہی سے پاک ہیں اس لئے تمام مسلمانوں میں صرف وہی ایسے ہیں جن کو دفن سے پہلے غسل نہیں دیا جاتا۔ شہادت کی اس قدر فضیلت ہے کہ بعض روایات کے مطابق رسول اللہ صلعم اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ نے اس کی خواہش کی تھی۔ شام کے شہر حُمص میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ کا بہت ہی خوبصورت مزار ہے۔ یہ ترکوں نے بنوایا تھا۔ اس پر چاندی کا پیارا کام ہے۔ میں اپنے چند رفقائے کار کے ساتھ تقریباً سولہ، سترہ سال پیشتر سرکاری دورہ پر ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے گیا تھا۔ ہمارے عزیز دوست اور سابق سفیر ڈاکٹر افضال اکبر خان وہاں سفیر تھے۔ ہم حَمص بھی گئے تھے اور یہ اعلیٰ مزار دیکھا تھا ، اسکے باہر ایک 25، 30 فِٹ اونچی چوکور کالم ہے اس پر عربی میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ کا قول درج تھا، ”اللہ پاک میرا پورا بدن تلواروں، تیروں کے زخموں سے پُر ہے مگر میں کتنا بدقسمت ہوں کہ مجھے شہادت نصیب نہیں ہوئی“۔ شہید کا رتبہ اتنا بلند ہے کہ کارگل جھڑپ کے دوران ہندو لیڈروں اور ذرائع ابلاغ نے اپنے ہلاک ہونے والوں کو بھی شہید کہنا شروع کردیا تھا۔
میں نے یہ کالم اس لئے تحریر کیا ہے کہ عوام کوشہادت اور شہید کے بارہ میں صحیح معلومات پیش کرسکوں۔ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے اَب ہر مرنے والا شہید کہلانے لگا ہے خواہ کوئی کار کے حادثہ میں، جہاز کے حادثہ میں یا تخریبی کارروائی کے نتیجہ میں مرجائے تو لوگ اس کو شہید کہنے لگتے ہیں۔ ایسے مرنے والوں کا رتبہ ممکن ہے کہ دوسرے لوگوں سے بہتر ہو مگر یہ اصل معنوں میں شہید نہیں کہلاسکتے۔ اور ہمارے یہاں تو مجرموں اور سزایافتہ لوگوں کو بھی یہ لقب دے کر اس اہم اور مقدّس لقب کی سخت توہین کی جاتی ہے۔جب ان کو غسل دیدیا گیا کپڑے اتار کرکفن میں لپٹ دیا تو پھر شہید کے خاص بابرکت نشانات ختم کر دیے تو پھر وہ کہاں شہید رہے۔ خدا کیلئے ایسے مقدّس لقب کے تقدس کو پامال نہ کیجئے۔ شہید کے بارہ میں تفصیلات اردو دائرہ معارف اسلامیہ، دانش گاہ پنجاب، لاہور، جلد۱۱ میں موجود ہیں۔
بشکریہ جنگ ،12مارچ2012

بےباک
03-26-2012, 07:02 PM
جو شہید نہیں ہوا...سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیرخان
انگریزی روزنامہ دی نیوز میں ہر اتوار کو کراچی کے ایک بنکر جناب سیلم انصار کا ایک نہایت ہی دلچسپ کا لم بعنوان، ”تاریخ کے اوراق“Pages from history)) شا ئع ہوتا ہے۔ یہ کالم ان کے نہایت قیمتی کتب خانہ میں موجود قدیم تاریخی کتابوں کے اقتباسات پر مبنی ہوتا ہے۔ اس میں نہایت اہم اور مصدّقہ تاریخی معلومات ہوتی ہیں اور ہمیں یہ علم ہوتا ہے کہ سو،ڈیڑھ سو سال پہلے ہمارے برصغیر میں کس طرح کی سیاست ہوتی تھی، انگریز کس طرح حکومت کرتے تھے، کس طرح سازشیں کرتے اور کسطرح”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ کی پالیسی پر عمل پیرا ہو کر نہ صرف ہندوستان کے دوسرے صوبوں میں بلکہ صوبہ سرحد جیسے مشکل ترین علاقہ کو جہاں بہادر جنگجوپٹھان بستے ہیں کو بھی اپنے زیرنگیں کرلیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغانستان و صوبہ سرحد کے غیّور بہادر قبائلیوں کی بہادری کے سنہری واقعات سے ان کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ ان کے ہاں تو یہ ضرب المثل مشہور ہے کہ:
کسے کہ کشتہ نہ شد از قبیلہٴ مانیست
(یعنی وہ جو شہید نہیں ہوا وہ ہمارے قبیلہ میں سے نہیں )
میں اس موضوع پر اسلئے متوجہ ہوا کہ چند ہفتہ پیشتر برادرم سلیم اَنصار نے آفریدی غیّور اور بہادر پٹھان عجب خان کے حالات پر جناب پروفیسر محمد علی وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی کی مشہور کتاب، ”اور پھرپٹھان قتل کرتا ہے“ (And then the Pathan murders) سے اقتباسات شائع کئے تھے۔ ہم سب کیلئے عجب خان آفریدی ایک تصوراتی ہیرو ہیں۔ ان کے بارے میں لاتعداد قصّے، کہانیاں شائع ہوئیں اور ایک فلم بھی بنائی گئی تھی جو خاصی مقبول ہوئی تھی۔ دیکھئے یہ وہی غیّور پٹھان قوم ہے جس کے بچّے دنیا میں آنے کے بعد مولوی صاحب کی آواز ِ نماز سننے سے بہت پہلے ماں کے پیٹ میں گولیوں کی آواز سنتا ہے اور یہ وہی غیّور و باغیرت پٹھان ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خود کو اس وقت بہت پرسکون سمجھتا ہے جب وہ جنگ کررہا ہو۔
دیکھئے عجب خان کا قصّہ یوں بیان کیا گیا ہے کہ تیراہ کے شیردل نامی شخص کے دو بیٹے تھے ایک کا نام شہزادہ خان اور دوسرے کا نام عجب خان تھا اور یہ لوگ کوہاٹ شہر سے کچھ میل دور ”جواکی“ نامی گاؤں میں رہتے تھے۔ کوہا ٹ میں مقیم انگریز گیریزن کبھی بھی پٹھانوں کو زیر نہیں کرسکی تھی اور مسلسل جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں۔ انگریزوں نے اس پر قابو پانے کے لئے آس پاس کے دیہاتوں کا گھیراوٴ کیا اور گھر گھر تلاشی لی۔ اُنھوں نے پٹھانی روایات کو نظر انداز کیا اور خواتین کو بھی گھروں سے نکال کر گھروں کی تلاشی لی۔ عجب خان اور شہزادہ خان گاؤں سے باہر تھے جب وہ آئے تو یہ جان کر کہ خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی گئی ہے ان کا خون کھول گیا۔ یہ 1923ء میں اپریل کے ماہ کا واقعہ ہے۔ کوہاٹ کا ڈپٹی کمشنر کرنل سی․ای بُرُوس تھا۔ 14 اِپریل 1923 ء کو کرنل بروس نے چیف کمشنر سرجان میفی کو بتلایا کہ میجر ایلس کی بیوی رات کو قتل کردی گئی ہے اور اس کی بیٹی مولی ایلس کو اغوا کرلیا گیا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ میجر کا گھر برگیڈیر کے گھر فلیگ اسٹاف ہاؤس سے ملحقہ تھا۔ بعد میں علم ہوا کہ جوں ہی شہزادہ خان اور عجب خان میجر ایلس کے گھر میں داخل ہوئے بیڈروم میں پہنچے تو مسز ایلس نے منع کرنے کے باوجود شور مچانا شروع کردیا اور شہزادہ خان نے مجبوراً اسکے سینہ میں چھری گھونپ دی، عجب خان نے 18 سالہ مِس ایلس کو اُٹھایا اور گھر سے باہر لاکر کندھے پر ڈالا اور طویل فاصلہ طے کرکے قبائلی علاقہ میں لے گیا۔ اس کارروائی میں تین دوسرے بہادرجوانوں نے عجب خان کا ساتھ دیا تھا۔ یہ تیراہ کے علاقہ غیر میں چلے گئے۔ یہ وہی تیرہ کی وادی ہے جہاں سے سردار دوست محمد خان دہلی آکر اورنگزیب کی فوج میں بھرتی ہوئے تھے اور پھر بھوپال کے قریب رائے سین کے قلعہ کے قلعہ دار بنے تھے اور اورنگزیب کے انتقال کے بعد بھوپال کی رانی کملاپتی کی دعوت پر بھوپال کی حکومت سنبھال لی تھی اور اس طرح یہ پٹھانوں کی حکومت تقریبا240 سال قائم ر ہی اور 1948 میں ختم ہوئی۔ جنرل علی قلی خان (جن کو نظر انداز کرکے نواز شریف نے بیوقوفی سے بدکردار مشرف کو آرمی چیف بنایا اور دس سال خمیازہ بھگتا) کے دادا الحاج خان بہادر محمد قلی خان اس وقت کرم ایجنسی میں پولیٹیکل ایجنٹ تھے، چیف کمشنر کی درخواست پر وہ، ایک ملازم مغل باز خان کے ساتھ تیراہ گئے اور پشاور میڈیکل مشن کی ایک ڈاکٹر مسز اسٹار، جس کو پٹھان ستارا بی بی کہتے تھے وہ بھی دیکھ بھال کو چلی گئی۔ جب یہ مشن روانہ ہوا تو میرے عزیز دوست پروفیسر ڈاکٹر محمدیوسف بنگش کے والد ڈاکٹر عبدالرحیم خان بنگش (جو انگلینڈ سے ڈگری یافتہ تھے) بھی شامل ہوگئے، مس ایلس کی بازیابی کے بعد ڈاکٹر عبدالرحیم خان بنگش اور ڈاکٹر اسٹار المعروف ستارہ بی بی نے اس کا طبی معائنہ کیا اور اس کو اَچھی ذہنی اور جسمانی حالت میں پایا۔ مس ایلس نے بتلایا کہ عجب خان نے اس سے معافی مانگی تھی کہ اس کو یہ قدم اُٹھانا پڑا تھا یہ ان کی پٹھانی روایت کے سخت خلاف تھا مگر چونکہ اس کی والدہ اور دوسری خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی تھی اس لئے اس کو نہایت مجبوری اور افسوس کے ساتھ یہ قدم اُٹھانا پڑا تھا۔ جنرل علی قلی خان نے یہ بھی بتلایا ہے کہ جب ان کے دادا اور دوسرے لوگ تیراہ کی وادی میں گئے تو ان کو وہاں کے مشہور بہادر اور قابل احترام جناب فقیرایپی نے اپنے مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنے پاس ٹھہرایا تھا۔ یہ پیر فقیرایپی بے حد مشہور تھے۔ جب میں کالج ا سٹوڈنٹ تھا ہم اخبارات میں ان کے بارے میں خبریں پڑھا کرتے تھے۔
عجب خان کی بہادری اور کارنامے نے انگریزی حکومت کی بنیادیں ہلادی تھیں۔ بات صرف ہندوستان تک ہی نہیں رہی بلکہ انگلستان اور امریکہ میں بھی اخباری سرخیاں بن گئیں۔ ڈاکٹر ولما ہیٹن اور ممتاز ناصر نے اپنی کتاب ”عجب خان“ میں لکھا ہے کہ کس طرح نیویارک ٹائمز میں عجب خان کو طویل قامت، چوڑا، وحشی قبائلی لکھا گیا اور بتایا گیا کہ ان وحشی قبائلیوں کا کام صرف شکار کرنا، لڑنا، لوٹنا، مارنا وغیرہ ہے اور ساتھ میں یہ بھی شیخی ماری کہ انگریز ڈاکٹرنی نے مس ایلس کو رہا کرایا ہے۔ قبائلیوں کو نیم وحشی، جنگلی لوگوں سے تشبیہ دی گئی۔ نہ ہی انگریزی اور نہ ہی امریکی اخبارات نے آفریدی خواتین کی بے عزّتی کا ذکر کیا۔
یہ واقعہ اس لئے بیان کررہاہوں کہ اس بارے میں ایک نہایت ہی اہم واقعہ آجتک عوام کی نظروں سے نہیں گزرا۔ وہ یہ کہ جب میرے عزیز دوست پروفیسر محمد یوسف بنگش امریکہ سے لندن میں رہائش پذیر ہوگئے تو ان کو علم ہوا کہ مس ایلس لندن کے قریب ہی ایک علاقہ فارنہم میں قیام پذیر تھیں۔ پروفیسر بنگش سے ان سے رابطہ قائم کرکے بتلایا کہ وہ ڈاکٹر عبدالرحیم خان کے صاحبزادے ہیں جنھوں نے ان کی رہائی میں مدد کی تھی۔ تقریبا 1973 میں مس ایلس نے اپنے گھر ایک پارٹی کی جو کہ اس واقعہ کی پچاس سالہ جوبلی منانے کے لئے تھی۔ مس ایلس نے تقریباً بیس، پچیس مہمانوں کو دعوت دی۔ یہ سب وہ انگریز تھے جو اس زمانہ میں صوبہ سرحد (کوہاٹ، وزیرستان، پشاور وغیرہ) میں ملازم تھے اور سب انگریز تھے۔ انھوں نے پروفیسر بنگش اور ان کی بیگم کو بھی بلایا تھا۔ پروفیسر بنگش نے بتایا کہ مس ایلس کہیں کام سے گئی تھیں اور آدھے گھنٹہ تاخیر سے واپس آئیں اور معذرت کی۔ انھوں نے سب کو اشیائے خور ونوش پیش کیں اور پچاس سال پہلے کے واقعہ میں بتلایا کہ ان کو 13 اپریل 1923ء کو کنٹونمنٹ سے اغوا کیا گیا تھا اور ان کی والدہ کی سخت چیخ و پکار کے نتیجہ میں شہزادہ خان نے ان کو چھری مار دی تھی جو جان لیوا ثابت ہوئی، عجب خان ان کو نہایت احتیاط سے قبائلی علاقہ لے گیا اور اپنی والدہ اور دوسری خواتین کے حوالہ کردیا اور اس واقعہ پر معذرت بھی کی۔ اُس نے ان کے ساتھ بہن کا سلوک کیا، علیحدگی میں ملاقات کی کوشش نہیں کی اور جب بھی میرا آمنا سامنا ہوا تو ہمیشہ نگاہیں نیچی رکھیں۔ جب میں واپس کوہاٹ پہنچادی گئی تو ڈاکٹرمسز اسٹار نے معائنہ کیا اورمیں نے بتلایا کہ میرے ساتھ قطعی کسی قسم کی بدتمیزی یا دست درازی نہیں کی گئی، ڈاکٹر عبدالرحیم خان نے ظاہری معائنہ کیا اور مجھے بالکل تندرست و ٹھیک ٹھاک پایا۔ مجھے پھر فوراً لندن روانہ کردیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھے اپنی والدہ کی موت پر بہت افسوس تھا مگر مجھے کوہاٹ چھوڑنے کا بے حد افسوس تھا۔ مجھے یہ علاقہ، یہاں کے لوگ، ان کی محبت و خلوص بے حد پسند تھا۔ مجھے موسم پسند تھا۔ انگلستان کے مقابلہ میں ہم یہاں ایک جنّت میں رہ رہے تھے۔ انگلستان کا موسم اور عوام کی بے رُخی مجھے پسند نہ تھی۔
بشکریہ جنگ ۲٦ مارچ ۲۰١۲

انجم رشید
03-28-2012, 11:22 AM
السلام علیکم ۔
بے باک بھای بہت بہت شکریہ معلومات کا ۔
بھای آپ سے یا کیسی بھی اور یوزر سے التماس ہے کہ ایک مکمل مضمون لکھ دیں شہادت پر شہادت کے دجات اور اقسام پر کیوں کہ بہت سی غلط فہمیاں پای جاتی ہیں نوازش ہوگی ۔
فی امان اللہ
وسلام

این اے ناصر
03-28-2012, 01:54 PM
شئیرنگ کاشکریہ۔