PDA

View Full Version : نینو ٹیکنولوجی کا رجحان



سید محمد عابد
03-13-2012, 06:12 PM
ٹیکنولوجی اور انسان کا ساتھ دنیا کی ابتدءسے ہے، یہ الگ بات ہے کہ ابتداءاور آج کی ٹیکنولوجی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ انسان نے درخت و دیگر اشیاءکو کاٹنے کے لئے کلہاڑی اور ایسے دیگر اوزار تیار کئے جو کہ انسان کی بنائی ہوئی ابتدائی ٹیکنولوجی تھی۔ آج دنیا جدید سے جدید تر ہوتی چلی جارہی ہے، سائنس اینڈ ٹیکنولوجی نے نہایت تیزی سے ترقی کی ہے اور نئی نئی چیزیں انسان کو مہیا کر دیں ہیں۔ انسان کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے ذریعے گھر میں بیٹھے بیٹھے ہزاروں سہولیات استعمال کر رہا ہے جبکہ دیگرخود ساختہ مشینوں کی بدولت کام منٹوں میں اور صرف ایک اشارے سے ہو جاتے ہیں۔

آج کے دور میںتیزی سے مقبول ہونے والی ٹیکنولوجی نینو ٹیکنولوجی ہے۔ نینو سے مراد ایسی اشیاءہیں جو ایک سوئی کی نوک سے تقریباً ایک ملین گنا چھوٹی ہوتی ہیں۔ نینو ٹیکنولوجی مادہ کی نینو اسکیل پر جوڑ توڑ کوکہتے ہیں۔ گزشتہ چند سال سے نینو ٹیکنولوجی نے جس رفتار سے ترقی کی ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نینو ٹیکنولوجی مستقبل میں کیا روپ دھارے گی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ بیسویں صدی کے آخری سالوں میں انفورمیشن ٹیکنولوجی ''آئی ٹی'' نے جو بڑا انقلاب پیدا کیا تھا، اکیسویں صدی میں نینو ٹیکنولوجی اس سے بڑا انقلاب لائے گی۔ ایسا انقلاب جو ہر صنعت اور زندگی کے ہر معاملے کو ایک نئی زمین پر لاکر کھڑا کرے گا۔ چند ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مستقبل میں نینو ٹیکنولوجی کی وجہ سے کئی سال تک چلنے والی بیٹریاں بنائی جا ئیں گی اور تین سے چار دن میں ختم ہوجانے والی بیٹریوں پر لوگوں کی توجہ ختم ہو جائے گی۔

اس جدید ٹیکنولوجی کے ذریعے جاندار خلیوں اور دوسرے ماددوں کو بے جان ایٹموں کے ساتھ جوڑ کر کئی چیزیں بنائی جارہی ہیں اور اس ٹیکنولوجی سے تیار کئے گئے سامان بازار میں آنے لگے ہیں۔کاسمیٹکس، کمپیوٹرز، کپڑے اور دوائیں تک نینو ٹیکنولوجی کے ذریعے بنائی جانے لگیں ہیں۔

نینو میں مادہ کا استعمال بہت ہی چھوٹی سطح پر ہوتا ہے۔ ایک نینو میٹر ایک میٹر کا اربواں حصہ ہوتا ہے، یعنی ہائیڈروجن کے دس ایٹم ایک کے بعد ایک جوڑیں تو وہ ایک نینو میٹر ہوگا۔ ایک ڈی این اے مالیکویل ڈھائی نینو میڑ ہوتا ہے۔ خون کا ایک خلیہ پانچ ہزار نینو میٹر کا ہوتا ہے اور انسان کے ایک اکیلے بال کی موٹائی 60 سے 70 ہزار نینو میٹر ہوتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ نینو انجینئرنگ میں کس طرح انتہائی چھوٹی سطح پر کام ہوتا ہے۔ نینو میں مادہ کا انتہائی چھوٹا سائز تو ہوتا ہی ہے اس کے صفات بھی بدل جاتے ہیں۔ تابنے کو نینو کے درجہ پر لانے پر وہ اتنا لچیلا ہوجاتا ہے کہ کمرے کی حرارت پر ہی اسے کھینچ کر عام تانبے کے مقابلے میں پچاس گنا لمبا تار بناسکتے ہیں۔

سائنس داں کا کہنا ہے کہ کچھ سالوں میں “مالیکیولر الیکٹرونکس“ بہت چھوٹے کمپیوٹر سرکیٹس اور سنسر بنانے لگے گی۔ سائنس دانوں نے اب ایسی مائکرواسکوپس بنالیں ہیں جن کی مدد سے وہ نہ صرف اٹیموں کو ایک دوسرے سے علیحدہ دیکھ سکتے ہیں بلکے سائنس دان ان ایٹموں کو ترتیب بھی دے سکتے ہیں۔

ہمارے گھروں میں نینا ٹیکنولوجی سے کئی تبدیلیاں آئیں گی۔ بیس پچیس سال میں مضبوط اشیائ، پاور فل کمپیوٹروں اور ساتھ ساتھ مینوفیکچرینگ کی قیمت کم ہونے سے چھوٹے مگر اسمارٹ مٹیریل سے مکانات بنائے جائیں گے ۔ٹی وی کاغذ سے بھی پتلے، خود بخود صاف ہونے والے فرش، زلزلہ شدہ علاقے میں مضبوط اشیاءسے بنے گھراپنے آپ کو ٹھیک کرلیں گے۔ گھر میں موجود چیزیں ہمارے موڈ اور ضروریات کے مطابق تبدیل ہوسکیں گی۔ گھر کی تمام اشیاءمائیکرو ویو کے برابر مالیکیولر مینوفیکچرینگ سسٹم سے بنا سکیں گے۔ گاڑیوں میں حفاظتی اشیاءہوں گی، حادثہ کی صورت میں گاڑیاں خود کو درست کرلیں گی، ان کو چلانے کی ضرورت ختم ہوجائےگی اور وہ اپنا ایندھن بھی خود بنائیں گی، اور تو اور گاڑیاں ہوا میں خود اڑیں گی۔ ہوا میں معلق ننی منی مشین ہوں گی جو حادثے کے دوران آپ کے اردگرد پھیل کر آپ کو چوٹ لگنے سے بچائیں گی۔ نینوٹیکنولوجی کا زراعت کے حوالے سے بات کی جائے تو نینو مشین ہمارے سبزے کو نقصان دینے والے کیڑوں سے بچائیں گی۔ ان کیڑوں کو کھا جائیں گی جو نقصان دہ ہیں۔ گھانس کاٹنے والی مشین بھی چھپی نینومشین ہوں گی جبکہ ہم نابود ہوئے نباتات اور حیوانوں کو پھر سے لاسکیں گے اور اس ٹیکنولوجی سے ماحول کو بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

دنیا بھر میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی مشہور کمپنیز نے نینوٹیکنولوجی کے ذریعے مصنوعات بنانا شروع کر دی ہیں۔ حال ہی میں جانی مانی بین الاقوامی کمپنی انٹل نے اپنے جدید ترین مائیکرو پروسیسر متعارف کروائے ہیں جنہیں ’آئیوی برج‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ان مائیکرو چپس میں پہلی مرتبہ بائیس نینو میٹر مینوفیکچرنگ پراسیس استعمال کیا گیا ہے جس کے تحت موجودہ بتیس نینو میٹر پراسیس کے مقابلے میں زیادہ ٹرانسسٹر لگائے جا سکتے ہیں۔ انٹل کے مطابق ان پراسیسرز میں ٹرائی گیٹ تھری ڈی ٹرانسسٹر استعمال کئے جائیں گے جنہیں کم طاقت درکار ہوتی ہے۔ انٹل کی کاروباری حریف کمپنیاں آئی بی ایم اور اے ایم ڈی بھی اسی قسم کے پراسیسرز پر کام کر رہی ہیں۔ اگرچہ دنیا میں پہلی بائیس نینو میٹر چپ اے ایم ڈی نے سنہ 2008ء میں تیار کی تھی لیکن کمپنی نے اب تک اس چپ کی تجارتی بنیادوں پر تیاری کا اعلان نہیں کیا ہے۔

حال ہی میں پاکستان میں ٹیلی کوم سروسز فراہم کرنے والے ادارے یوفون نے مائیکرو سم کارڈ متعارف کئے ہیں۔ یہ سم کارڈ آئی فون 4، آئی پیڈ اور ان تمام دیگر مصنوعات میں استعمال کئے جا سکتے ہیں جو کے مائیکرو سم ٹیکنولوجی سے مزین ہیں۔ یہ سم کارڈز عام سم کے جیسے ہی ہیں اور انکی میموری بھی اتنی ہی ہے لیکن انکا حجم عام سم کارڈ سے کم ہے۔یوفون کی اس سہولت سے آئی فون یا دیگر مائیکروسم فونز استعمال کرنے والے صارفین کو بہت فائدہ ہوگا کیونکہ اس سے پہلے انہیں اپنی سم کو کاٹ کراستعمال کرنا پڑتا تھا جس سے سم ضائع ہونے کا احتمال بھی ہوتا تھا اور وہ سم کسی اور موبائل میں استعمال کے قابل بھی نہیں رہتی تھی۔

متعدد ماہرین کا کہنا ہے کہ نینو ٹیکنولوجی کے ذریعے دنیا انقلاب برپا کر سکتی ہے تاہم چند ماہرین ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ نینو ٹیکنولوجی کے مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں خاص طور پر نہایت ہی چھوٹے گرد کی اشیاءیا ’نینو ٹیوب پارٹکلز‘ جو سانس لیتے وقت انسان کے اندر جا سکتے ہیں۔ چند ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ٹیکنولوجی کی وجہ سے وائرس سے بھی چھوٹی مشینیں دنیا پر قبضہ کر کے اسے تباہ کر دیں گی تاہم ماہرین میں نینو ٹیکنولوجی کے مضر اثرات سے متعلق اختلافات پائے جاتے ہیں۔

تحریر: سید محمد عابد

http://smabid.technologytimes.pk/?p=728

http://www.technologytimes.pk/2012/03/13/%D9%86%DB%8C%D9%86%D9%88-%D9%B9%DB%8C%DA%A9%D9%86%D9%88%D9%84%D9%88%D8%AC%D B%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%B1%D8%AC%D8%AD%D8%A7%D9%86/

این اے ناصر
03-13-2012, 06:58 PM
شئیرنگ کاشکریہ۔